• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرک کے ہوتے ہوئے عبادت کی کثرت محض فریب ہے: شیخ عبدالعزیز الراجحی کی تنبیہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
895
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
شرک کے ہوتے ہوئے عبادت کی کثرت محض فریب ہے: شیخ عبدالعزیز الراجحی کی تنبیہ

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد!

شرک وہ ہلاکت خیز اور تباہ کن مرض ہے جو بظاہر عبادت کی کثرت کے باوجود انسان کے دین کی بنیاد کو منہدم کردیتا ہے۔ مشرک کا سب سے بڑا دھوکا یہی ہے کہ وہ اپنے ظاہری اعمال کی کثرت کو دیکھ کر اپنے حال کو درست سمجھ بیٹھتا ہے، حالانکہ اگر عبادت میں شرک داخل ہوگیا تو اصل عبادت ہی جڑ سے تباہ ہوگئی۔ یہاں کسی قسم کی نرمی، تاویل یا خودفریبی کی گنجائش نہیں۔

شیخ عبدالعزیز الراجحی نے اسی حقیقت کو نہایت واضح اور فیصلہ کن الفاظ میں بیان فرمایا:

11877.jpg

11876.jpg

«فإذا عرفت أن العبادة إذا دخلها الشرك بطلت وصار صاحبها من أهل النار كان لابد أن تميز التوحيد من الشرك والعبادة الصحيحة من العبادة الفاسدة» یعنی جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ عبادت میں شرک داخل ہوجائے تو عبادت باطل ہوجاتی ہے اور اس کا مرتکب اہل جہنم میں ہوجاتا ہے، تو تمہارے لیے ضروری ہے کہ توحید کو شرک سے اور صحیح عبادت کو فاسد عبادت سے ممتاز کرو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے لوگ فریب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: فلاں شخص نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، قرآن پڑھتا ہے، ذکر کرتا ہے، حج کرتا ہے، صدقہ دیتا ہے، لہٰذا اس کے شرکیہ اعمال کو زیادہ سختی سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ سوچ کتاب و سنت کے بنیادی اصول سے ناواقفیت اور گمراہی کی واضح علامت ہے۔ عبادت کی کثرت شرک کے جرم کو دھو نہیں سکتی، اور جو اس کثرت کے پیچھے چھپ کر شرک کو ہلکا کرتا ہے وہ خود کو اور دوسروں کو دھوکا دے رہا ہے۔

شیخ عبدالعزیز الراجحی نے نماز اور طہارت کی مثال دے کر نہایت بلیغ اصول بیان کیا:

«أن الصلاة لا تسمى صلاة إلا مع الطهارة، فإذا لم يتطهر لم يعد مصليا» یعنی نماز، طہارت کے بغیر نماز نہیں کہلاتی؛ اگر آدمی طہارت حاصل نہ کرے تو وہ نماز پڑھنے والا شمار نہیں ہوتا۔ پھر اسی اصول کو شرک پر منطبق کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «فلذلك فإن الشرك إذا دخل العبادة أفسدها» لہٰذا جب شرک عبادت میں داخل ہوجائے تو اسے فاسد کردیتا ہے۔

یہاں اہل توحید کے لیے نصیحت ہے کہ جس طرح کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں محض نماز کی ظاہری حرکات کرکے یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے صحیح نماز ادا کردی، اسی طرح شرک سے آلودہ عبادت کے بارے میں محض ظاہری کثرت عبادت کی بنیاد پر صحت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

مشرک کی ظاہری نیکیوں سے دھوکا کھانا خطرناک گمراہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بارے میں فرمایا: ﴿أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَیہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال برباد ہوگئے اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ شرک اعمال کے لیے نہایت تباہ کن جرم ہے۔ اسی لیے توحید کے معاملے میں مصلحتوں، رسم و رواج، اکثریت، شخصیات کی شہرت یا آبائی معمولات کو معیار بنانا انتہائی گمراہ کن ہے۔ حق کا معیار قرآن و سنت ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اسے غیر اللہ کے لیے پھیر دینا توحید کی بنیاد کو منہدم کرنے والا سنگین جرم ہے۔

آج بعض لوگ شرک کے معاملے میں ایسی عجیب نرمی اختیار کرتے ہیں کہ عبادات میں غیر اللہ کو شریک کرنے کے واضح مظاہر بھی دیکھتے ہیں، مگر پھر تاویلوں کے انبار لگا کر حقیقت سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ محض محبت ہے، کبھی اسے ثقافتی روایت کہتے ہیں، کبھی بزرگوں سے عقیدت کا نام دیتے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کو چھیڑنے ہی سے گریز کرتے ہیں۔

یہ رویہ توحید کی عظمت سے ناواقفیت اور حق سے فرار ہے۔ عبادت اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے۔ کسی مخلوق کے لیے عبادت کی کوئی صورت اختیار کرنا توحید کے منافی ہے اور شرک ہے۔ جو اس حقیقت کو چھپاتا یا نرم بناتا ہے وہ خود شرک کی قباحت میں شریک ہو رہا ہے۔

شیخ عبدالعزیز الراجحی کا اصول سامنے رکھیں: «وإذا عبد الإنسان ربه ثم أشرك بطلت العبادة وفسدت، وصار من أهل الشرك والأوثان» جب انسان اپنے رب کی عبادت کرے، پھر شرک کرے تو اس کی عبادت باطل اور فاسد ہوجاتی ہے۔اور وہ اہل شرک اور بت پرستی کرنے والوں میں شامل ہوجاتا ہے۔

پس شرک کے ساتھ عبادت کا ظاہری لباس دھوکا ہے۔ کتنے ہی لوگ عبادت کا لباس پہن کر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، مگر توحید کے باب میں بے احتیاطی کے سبب وہ اہل شرک اور بت پرستی کرنے والوں میں سے ہیں۔ نماز، روزہ، تلاوت اور صدقات اپنی جگہ عظیم اعمال ہیں، مگر ان سب کی بنیاد توحید ہے۔ اگر بنیاد ہی خراب ہو تو عمارت کی ظاہری آرائش انسان کو دھوکا تو دے سکتی ہے، عمارت کو مضبوط نہیں کرسکتی۔

اسی لیے اہل سنت کے ائمہ نے عقیدہ توحید کو سب سے مقدم رکھا۔ جو شخص لوگوں کو توحید کی دعوت دیتا ہے، اسے شرک کی قباحت بھی بلا جھجک واضح کرنی چاہیے۔ شرک کے خلاف خاموشی، شرک کو معمولی بنا کر پیش کرنا، یا محض لوگوں کی ناراضی کے خوف سے توحید کے مسائل کو چھپانا، دعوت توحید کی روح کے خلاف اور خیانت ہے۔

لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ توحید کو جانے، شرک کی حقیقت کو سمجھے، عبادات کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرے، اور ہر اس قول و فعل سے بچے جس میں غیر اللہ کے لیے عبادت کی کوئی صورت پائی جاتی ہو۔ اس معاملے میں کوئی نرمی، کوئی تاویل اور کوئی مجاملہ قبول نہیں۔

واللہ أعلم، وصلى اللہ على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمين۔
 
Top