ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 823
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
شریعت الٰہیہ کے مقابلے میں وضعی قوانین و کفریہ دساتیر کا فتنہ- شیخ الانباری رحمہ اللہ کی وضاحت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
یہ ایک عظیم فتنہ اور خطرناک گمراہی ہے کہ اللہ رب العالمین کے نازل کردہ دین اور اس کی پاکیزہ شریعت کو چھوڑ کر انسانوں کے گھڑے ہوئے قوانین، جاہلی دساتیر اور طاغوتی نظاموں کو اختیار کیا جائے، پھر انہیں جائز، واجب الاطاعت یا قابل احترام سمجھا جائے۔ حالانکہ تشریع، حلال و حرام کا فیصلہ، اور بندوں کے لیے نظام و قانون مقرر کرنا صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کا حق ہے۔
آج کے دور میں بہت سے لوگ جمہوریت، پارلیمنٹ، آئین اور انسانی قانون سازی کے باطل نظاموں کو اسلام کے ساتھ جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہ توحید کے صریح خلاف اور اللہ تعالیٰ کے حق تشریع میں شرک ہے۔ اسی حقیقت کو شیخ ابو علی الانباری رحمہ اللہ نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا، اور ان لوگوں کا رد کیا جو اللہ کی شریعت کے مقابلے میں انسانی قوانین کو قبول کرتے یا ان کی حمایت کرتے ہیں۔
شیخ ابو علی الانباری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فلا يجوز لأحد غير الله عزوجل أن يضع تشريعا، فإذا جاءت لجنة كتابة الدستور ووضعوا دستورا، والإنسان وافق على هذا الدستور، إذا اتخذ من واضعي الدستور إلها؛ لأن الذي يضع التشريعات والقوانين إله، فإما أنه ربنا وإما أنه أعطى لنفسه خصوصية من خصوصيات الله عزوجل، ومن أقر بشرع الله عزوجل وعلى وأقرّ بالقانون، فقد جعل لنفسه إلهين، الله عزوجل في تشريعه، وهؤلاء في قوانينهم وفي دساتيرهم؛ ومن هنا يكون عمله فسقًا أكبرا مخرجًا من الملة
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کوئی تشریع (قانون سازی) کرے۔ پس جب دستور لکھنے والی کمیٹی آئے اور وہ کوئی آئین و دستور وضع کرے، اور انسان اس دستور کو قبول کر لے، تو گویا اس نے دستور بنانے والوں کو معبود بنا لیا؛ کیونکہ تشریعات اور قوانین بنانے والا ہی معبود ہوتا ہے۔ لہٰذا یا تو وہ ہمارا رب ہے، یا پھر اس نے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص صفات میں سے ایک صفت اختیار کر لی ہے۔ اور جو شخص اللہ کی شریعت کو بھی مانے اور ساتھ ہی ان کے قانون کو بھی تسلیم کرے، تو اس نے اپنے لیے دو معبود بنا لیے ایک اللہ تعالیٰ، اپنی شریعت میں؛ اور دوسرے یہ لوگ، اپنے قوانین اور دساتیر میں۔ اور اسی بنا پر اس کا یہ عمل فسق اکبر ہوگا، جو انسان کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔
[البراعة في تبيان شرك الطاعة، ص : ٣١]
شیخ الانباری رحمہ اللہ نے اس حقیقت کو بیان کیا کہ تشریع و تقنین، یعنی حلال و حرام مقرر کرنے اور بندوں پر قانون مقرر کرنے کا حق صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے خاص ہے۔ چنانچہ جو شخص یا جماعت اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے، وہ درحقیقت ربوبیت و الوہیت کے باب میں اللہ تعالیٰ سے نزاع کرتے ہے۔
شیخ الانباری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فلا يجوز لأحد غير الله أن يضع تشريعا" یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قانون بنائے۔ یہی عقیدہ قرآن مجید نے بیان کیا : ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ اور فرمایا: ﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ﴾ کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں وہ چیزیں مقرر کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
پس جو لوگ پارلیمنٹوں، اسمبلیوں اور جمہوری ایوانوں میں بیٹھ کر آئین و قوانین وضع کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے حق تشریع میں شریک بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ الانباری رحمہ اللہ نے فرمایا: "الذي يضع التشريعات والقوانين إله" جو تشریعات اور قوانین بناتا ہے وہ معبود بن بیٹھتا ہے۔
کیونکہ حاکمیت، تشریع، تحلیل و تحریم، اور قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، لہٰذا جو شخص اس مقام پر خود کو بٹھائے، وہ طاغوت ہے، خواہ وہ کسی اسمبلی کا رکن ہو، کسی دستور ساز کمیٹی کا حصہ ہو، یا کسی سیکولر آئین کا محافظ ہو۔
شیخ الانباری رحمہ اللہ نے مزید فرمایا: "فإما أنه ربنا وإما أنه أعطى لنفسه خصوصية من خصوصيات الله" یعنی یا تو وہ اپنے آپ کو رب بنا رہا ہے، یا پھر اللہ تعالیٰ کی خاص صفات میں سے ایک صفت اپنے لیے ثابت کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان پر لازم ہے کہ وہ ایسے کفریہ دساتیر، جاہلی قوانین، اور نظاموں سے براءت اختیار کریں جو شریعت الٰہیہ کے مقابلے میں کھڑے کیے گئے ہوں۔
آج بہت سے لوگ یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ کی شریعت کو بھی مانتے ہیں اور ملکی آئین کو بھی۔ شیخ الانباری رحمہ اللہ نے اسی باطل جمع کا رد کرتے ہوئے فرمایا: "ومن أقر بشرع الله وأقرّ بالقانون، فقد جعل لنفسه إلهين" جس نے اللہ کی شریعت کو بھی مانا اور انسانوں کے وضع کردہ قانون کو بھی تسلیم کیا، اس نے اپنے لیے دو معبود بنا لیے۔
یہی تو قدیم مشرکین کا طریقہ تھا کہ وہ اللہ کو بھی مانتے تھے مگر اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے۔ پس جو شخص اللہ کے نازل کردہ شریعت کے مقابلے میں انسانی قوانین کو جائز، قابل اتباع یا مساوی سمجھے، وہ شرک اکبر کا مرتکب ہے۔
اور شیخ رحمہ اللہ نے اس عمل کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا: "ومن هنا يكون عمله فسقًا أكبرًا مخرجًا من الملة" یہ عمل فسق اکبر ہے جو انسان کو ملت سے خارج کر دیتا ہے۔
لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ توحید کو سمجھیں، اللہ تعالیٰ کے حق تشریع کو پہچانیں، اور ان طاغوتی نظاموں، کفریہ دساتیر، اور جاہلی قوانین سے مکمل براءت اختیار کریں جو اللہ کے دین کے مقابلے میں کھڑے کیے گئے ہیں۔ اسی میں ایمان کی سلامتی اور توحید کی حفاظت ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں خالص توحید پر زندہ رکھے، طاغوت اور اس کے پیروکاروں سے براءت نصیب فرمائے، اور ہمیں اپنی شریعت کو مضبوطی سے تھامنے والوں میں شامل کرے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔