• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شریعت دشمن حکمران اور خذلانِ الٰہی — شیخ ابن عثیمین کی گواہی

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
928
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
شریعت دشمن حکمران اور خذلانِ الٰہی — شیخ ابن عثیمین کی گواہی
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں:

فكثير من حكام المسلمين لا يرضون أن يحكموا بكتاب الله وسنة رسوله ﷺ، وكثير من حكام المسلمين يلاحقون المؤمنين بالله ورسوله وكثير من أسواق المسلمين تشرب فيها الخمور، وتعاقر فيها النساء، وكثير من حكام المسلمين لهم موالاة ظاهرة مع أعداء الله. فهل يمكن أن يكون النصر لهؤلاء؟! بل قد يكون هؤلاء أحق بالخذلان من الكفار الخلص؛ لأن الكفار كفار، لكن هؤلاء ينتمون إلى الإسلام وهم لا يؤمنون بالإسلام حقيقة

مسلمانوں کے بہت سے حکمران ایسے ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق حکومت کرنا پسند نہیں کرتے۔ اور بہت سے حکمران ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والوں کا تعاقب کرتے ہیں (یعنی ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں)۔ مسلمانوں کی بہت سی مارکیٹوں میں شرابیں پی جاتی ہیں، عورتوں سے فحاشی کی جاتی ہے۔ اور بہت سے حکمرانوں کی اللہ کے دشمنوں کے ساتھ کھلی دوستی ہے۔ تو کیا ایسے لوگوں کو نصرت مل سکتی ہے؟! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خالص کفار سے بھی زیادہ خذلان (رسوائی و ذلت) کے مستحق ہیں، کیونکہ کفار تو کفار ہیں، لیکن یہ لوگ بظاہر اسلام سے نسبت رکھتے ہیں، مگر حقیقت میں اسلام پر ایمان نہیں رکھتے۔


[شرح العقيدة السفارينية - الدرة المضية في عقد أهل الفرقة المرضية، ص : ٦١٨-٦١٩]

IMG-20250702-WA0000.jpg

IMG-20250702-WA0001.jpg

شیخ ابن عثیمین نے جس فساد، گمراہی اور دین دشمنی کی نشاندہی کی ہے، وہ صرف ان کے زمانے تک محدود نہ تھی، بلکہ آج کے بیشتر مسلم ممالک کے حکمران اس سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔

شیخ ابن عثیمین موجودہ حکمرانوں کی حقیقت بیان فرماتے ہیں "فكثير من حكام المسلمين لا يرضون أن يحكموا بكتاب الله وسنة رسوله ﷺ" آج کے حکمران صرف اسلامی شریعت کو مسترد ہی نہیں کرتے، بلکہ ان کے نظام حکومت، آئین، اور قانون سازی براہ راست مغرب، امریکہ، اور اقوام متحدہ جیسے طاغوتی اداروں سے کشکول لے کر بنائے جاتے ہیں۔

ان کے نزدیک شریعت ایک بے وقعت اور "غیر مہذب" نظام ہے جس سے انہیں "عالمی برادری" میں شرمندگی ہوتی ہے۔ آج کے حکمرانوں نے اپنی پیشانیاں اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف، اور مغرب کے قوانین کے سامنے جھکا رکھی ہیں۔

اسی لیے جو مسلمان شریعت کے نفاذ کی بات کرے، اسے "انتہا پسند"، "دہشت گرد"، اور "ریڈ لسٹ" میں ڈال دیا جاتا ہے، وہ ان کے لیے سب سے بڑا مجرم ہے! ان کا اصل دشمن کوئی ہندو، یہودی یا عیسائی نہیں، بلکہ سچے مومن، اور اہل توحید ہیں۔ اسی لیے شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں "يلاحقون المؤمنين بالله ورسوله" یعنی یہ حکمرانوں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والوں کا تعاقب کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

شیخ ابن عثیمین کا یہ فرمان "تشرب فيها الخمور، وتعاقر فيها النساء" آج موسمِ ریاض جیسے شیطانی فیسٹیول پر پوری طرح صادق آتا ہے، آج وہاں فحاشی کے اڈے، گانے بجانے کے فیسٹیول، مخلوط محافل، بے حیائی کے میلے یہ سب کچھ ان حکمرانوں کی سرپرستی میں جاری ہیں! اسی طرح دبئی میں حکومت نے شراب نوشی کو عام کیا ہے بلکہ شراب کی فروخت کے لیے عائد ٹیکس کی ادائیگی کی شرط اور شراب کی فروخت سے متعلق دکانوں اور بازاروں کے لیے لائسنسنگ فیس ختم کر اسے بڑھاوا بھی دیا۔ شیخ ابن عثیمین کا یہ فرمان ایسے حکمرانوں کے چہرے سے نقاب ہٹاتا ہے۔

پھر شیخ ابن عثیمین بیان کرتے ہیں "لهم موالاة ظاهرة مع أعداء الله" یہ جملہ موجودہ حکمرانوں کی عقیدہ الولاء والبراء سے دشمنی و مخالفت کو واضح کرتا ہے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات! ہندو قوم پرست مودی کے ساتھ دوست اور امریکہ و یورپ کے ایجنڈوں کی پیروی بلکہ مکمل اطاعت کی ہیں۔ ان کے دل اللہ کے دشمنوں کے لیے محبت سے بھرے ہوئے ہیں، اور وہ مسلمانوں کو ذلیل کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں گنواتے۔

"فهل يمكن أن يكون النصر لهؤلاء؟!" کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ کی مدد ان خائن، منافق، اسلام دشمن حکمرانوں کو نصیب ہو؟ ہرگز نہیں! بلکہ جس طرح اللہ نے فرعون، ہامان، اور نمرود کو ذلیل کیا، اسی طرح ان متکبر و منافق حکمرانوں کو بھی دنیا و آخرت میں ذلت نصیب ہوگی، ان شاء اللہ۔

شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ "قد يكون هؤلاء أحق بالخذلان من الكفار الخلص" یعنی یہ حکمرانوں خالص کفار سے بھی زیادہ ذلت و رسوائی کے مستحق ہیں کیونکہ "الكفار كفار، لكن هؤلاء ينتمون إلى الإسلام وهم لا يؤمنون بالإسلام حقيقة" کفار تو کفر پر اصرار کرتے ہیں، لیکن یہ اسلام کے پردے میں کفر کی ترویج کرتے ہیں، یہ اپنی نسبت اسلام کی جانب کرتے ہیں لیکن حقیقتاً منافقین کے وارث، اور کافروں سے بدتر ہیں!

موجودہ حکمرانوں کی حکومت و نظام میں نہ قرآن کی حکمرانی ہے، نہ سنت کا احترام بلکہ یہ حکمران اسلام دشمن ایجنڈوں کے محافظ، طاغوتی نظاموں کے وفادار، اور دینِ حق کے دشمن بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ انہیں عزت ملی، نہ قوم میں یکجہتی، نہ دشمنوں پر غلبہ۔ جب تک امت ایسے حکمرانوں کو برداشت کرتی رہے گی، ذلت و غلامی ان کا بھی مقدر بنی رہے گی۔
 
Top