محدث میڈیا
رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,020
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 96
اگر انسان کے پاس استطاعت ہو تو گھوڑے کو شوق کے طور پر یا تجارت کی نیت سے پالنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الخَيْرُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ (صحيح البخاري، الجهاد والسير: 2849)
’’قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیرو برکت وابستہ رہے گی۔‘‘
مذکورہ بالا حدیث مبارکہ گھوڑوں پر جہاد کی ترغیب اور اللہ کے راستے میں انہیں تیار رکھنے کے بارے میں ہے، اس سے گھوڑوں کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے۔اگر جانور کے حقوق کا خیال رکھا جائے، اس کی پرورش میں اسراف اور فضول خرچی نہ کی جائے، اور دیگر حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بنے، اس وجہ سے نمازیں ضائع نہ ہوں ، تو گھوڑا پالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الخَيْرُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ (صحيح البخاري، الجهاد والسير: 2849)
’’قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیرو برکت وابستہ رہے گی۔‘‘
مذکورہ بالا حدیث مبارکہ گھوڑوں پر جہاد کی ترغیب اور اللہ کے راستے میں انہیں تیار رکھنے کے بارے میں ہے، اس سے گھوڑوں کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے۔اگر جانور کے حقوق کا خیال رکھا جائے، اس کی پرورش میں اسراف اور فضول خرچی نہ کی جائے، اور دیگر حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بنے، اس وجہ سے نمازیں ضائع نہ ہوں ، تو گھوڑا پالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.