محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شوق شہادت
جنگ بدر میں جب مشرکین مکہ اسلام اور مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو رسول اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض
"جنت کی طرف اُٹھ کھڑے ہوجس کی چوڑائی سارے آسمان اور زمین ہیں۔"
یہ سن کر حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا (شہادت کے عوض) آسمانوں اور زمین کی چوڑائی کے برابر جنت ہے؟
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: نعم "ہاں"۔
حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ کہنے لگے:بخ بخ۔
رسول اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا: ما يحملك على قولك بخ بخ
"بخ بخ کہنے پر تجھے کس نے ابھارا"؟
حضرت عمیر بن حمام نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی میں نے یہ جنت کی اُمید میں کہا ہے۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
فإنك من أهلها
"تم جنت والوں میں سے ہو"۔
اس کے بعد حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ اپنے ترکش سے کھجوریں نکال کر کھانے لگے۔پھر شوق شہادت میں کہنے لگے۔
لئن أنا حييت حتى آكل تمراتي هذه إنها لحياة طويلة
"اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی ہی طویل زندگی ہو جائے گی"۔چنانچہ انہوں نے بقیہ ساری کھجوریں پھینک دیں اور آگے بڑھ کر مردانہ وار جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔(صحیح مسلم)
سنہرے اوراق از عبدالمالک مجاہد