• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شوہر کی وفات کے بعد عدت نہ گزارنے کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
909
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
شوہر کی وفات کے بعد عدت نہ گزارنے کا حکم


فتاوى عبر الأثير (( 17 ))
​

السؤال: أبي توفي في سنة 2011، وله زوجتان لم تجلسا في العدة، فهل تجلسان الآن؟

میرے والد کا انتقال سنہ 2011ء میں ہوا تھا۔ ان کی دو بیویاں تھیں، لیکن ان دونوں نے عدت نہیں گزاری۔ کیا اب ان کے لیے عدت گزارنا ضروری ہے؟

الجواب: إذا كان سبب عدم التزام زوجتي أبيك بأحكام العدة، لأن خبر وفاته أتى متأخرا بعد انقضاء زمن العدة، وهي أربعة أشهر وعشرة، فلا عدة عليهن عندئذ، ولا شيء عليهما.

اگر آپ کے والد کی دونوں بیویوں نے عدت کے احکام پر اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ انہیں آپ کے والد کی وفات کی خبر اتنی تاخیر سے پہنچی کہ عدت کی مدت، یعنی چار ماہ اور دس دن، گزر چکی تھی، تو ایسی صورت میں اب ان پر عدت لازم نہیں ہے اور نہ ہی ان کے ذمے کوئی چیز ہے۔

وإن وقع ذلك منهما مخالفة بغير عذر، فإنهما قد ارتكبتا معصية، وعليهما المبادرة بالتوبة إلى الله والاستغفار، وليس عليهما غير ذلك، ولا يلزمهما قضاء العدة، وهو قول جماهير أهل العلم، هذا والله تعالى أعلم.

اور اگر ان دونوں نے کسی عذر کے بغیر شرعی حکم کی مخالفت کرتے ہوئے عدت نہیں گزاری، تو یقینا انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ ایسی صورت میں ان دونوں پر لازم ہے کہ جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔


اس کے علاوہ ان پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی اب ان کے لیے عدت کی قضا لازم ہے۔ اہل علم کی اکثریت کا یہی قول ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔
 
Top