• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شوہر کے ظلم و تشدد اور بیوی کو پہنچنے والی اذیت کا شرعی حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
935
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
شوہر کے ظلم و تشدد اور بیوی کو پہنچنے والی اذیت کا شرعی حکم


فتاوى عبر الأثير (( 28 ))​

السؤال: امرأة تتعرض للضرب الشديد، والشتم، والهجر من قبل زوجها، وعندما تنصحه بتحسين خلقه يقول لها: «إن لم يعجبك ما أفعل فاتركي الأولاد واذهبي عند أهلك»، فماذا تفعل؟

سوال: ایک عورت اپنے شوہر کی طرف سے شدید مارپیٹ، گالی گلوچ اور بے رخی کا سامنا کر رہی ہے۔ جب وہ اپنے شوہر کو اخلاق و برتاؤ بہتر بنانے کی نصیحت کرتی ہے تو وہ اس سے کہتا ہے: ’’اگر تمہیں میرا یہ رویہ پسند نہیں تو بچوں کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔‘‘ ایسی صورت میں وہ عورت کیا کرے؟

الجواب: نقول مستعينين بالله تعالى: إن حق الزوج على زوجته عظيم في الشرع، كالسمع والطاعة، والحفظ في الغيبة، ورعاية الذرية والبيت ونحو ذلك، والنصوص في ذلك كثيرة في الشريعة.

جواب: ہم اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شریعت میں شوہر کے اپنی بیوی پر بہت سے حقوق ہیں، مثلا جائز امور میں اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، اس کی غیر موجودگی میں اس کے حقوق اور امانتوں کی حفاظت کرنا، اولاد اور گھر کی دیکھ بھال کرنا، اور اس طرح کے دیگر امور۔ شریعت میں ان حقوق کے متعلق بہت سی نصوص موجود ہیں۔

فمتى ما أدت المرأة هذه الحقوق كان لزاماً على الزوج أن يحسن إلى زوجته، وأن يعاشرها بالمعروف كما قال تعالى: ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً﴾. وكما قال صلى الله عليه وسلم: «استوصوا بالنساء خيراً».

چنانچہ جب عورت اپنے یہ حقوق ادا کرتی ہے تو شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔ پھر اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے۔‘‘ (سورۃ النساء) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو۔‘‘

فليس من الديانة، ولا المروءة، أن يتكبر الرجل على امرأة ضعيفة الجانب، فيضربها بالنهار، ويأتيها بالليل.

پس یہ نہ دینداری کے شایان شان ہے اور نہ ہی مردانگی و شرافت کے کہ کوئی مرد ایک کمزور عورت پر اپنی بڑائی جتائے، دن کے وقت اسے مارے پیٹے اور رات کو اسی کے پاس جائے۔

فإن كرهها، فليتبع الأمر الإلهي في ذلك، قال تعالى: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾.

اگر شوہر اپنی بیوی کو ناپسند کرتا ہے تو اسے اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’پھر یا تو اچھے طریقے سے روک کر رکھنا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ)

وأذكر الأخت السائلة ـ عافانا الله وإياها ـ بالحديث الذي رواه الإمام مسلم في صحيحه، عن صهيب بن سنان رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عجباً لأمر المؤمن إن أمره كله خير، وليس ذاك لأحد إلا للمؤمن، إن أصابته سراء شكر فكان خيراً له، وإن أصابته ضراء صبر فكان خيراً له».

میں سوال کرنے والی بہن کو، اللہ تعالیٰ ہمیں اور اسے عافیت عطا فرمائے، اس حدیث کی یاد دہانی کراتا ہوں جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہوتا ہے، اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اسے خوش حالی حاصل ہو تو وہ شکر ادا کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے خیر بن جاتی ہے؛ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔‘‘

فعليها بالصبر والنصيحة بالمعروف، والدعاء والإلحاح فيه، والتضرع بين يدي الله سبحانه وتعالى، بأن يجبر كسرها، وأن يرفع عنها البلاء، ويهدي زوجها.

لہٰذا اس عورت کو چاہیے کہ صبر سے کام لے، اچھے انداز میں اپنے شوہر کو نصیحت کرے، کثرت سے دعا کرے اور دعا پر اصرار کرے، نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور عاجزی و زاری کرے کہ وہ اس کے ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے، اس سے مصیبت دور فرمائے اور اس کے شوہر کو ہدایت عطا کرے۔

فإن وجدت أن لا سبيل للبقاء مع هذا الزوج، وأنه مستمر في إلحاق الأذى بها، فلترفع الأمر لمحكمة الأسرة في الولاية التي تسكنها، ليتم الفصل في النزاع.

لیکن اگر اسے محسوس ہو کہ اس شوہر کے ساتھ رہنا ممکن نہیں رہا اور وہ مسلسل اسے اذیت پہنچا رہا ہے تو اسے چاہیے کہ (دار الاسلام کے) جس علاقے میں وہ رہتی ہے وہاں کی (شرعی) فیملی کورٹ سے رجوع کرے، تاکہ اس تنازعے کا فیصلہ کیا جا سکے۔

وقد نص القاضي ابن فرحون المالكي: «أن من حق المرأة طلب الطلاق عند الضرر البالغ، كضرب الزوج لها بلا مسوغ شرعي». وبالله التوفيق.

قاضی ابن فرحون مالکی رحمہ اللہ نے بھی صراحت کی ہے کہ عورت کو شدید نقصان پہنچنے کی صورت میں طلاق کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، مثلا شوہر کا کسی شرعی جواز کے بغیر اسے مارنا پیٹنا۔

اور اللہ تعالیٰ ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔
 
Top