• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شوہر کے لاپتا ہونے کی صورت میں بیوی کی عدت کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
921
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
شوہر کے لاپتا ہونے کی صورت میں بیوی کی عدت کا حکم


فتاوى عبر الأثير (( 21 ))
​

السؤال: أخ فقد منذ شهرين ولم تعرف زوجته عنه شيئًا، فمن الإخوة من يقول لها قد قتل، ومنهم من يقول إنه فُقد ولم يُقتل، وهي لا تدري ماذا تفعل، هل تجلس في العدة أم لا؟

ایک بھائی کو لاپتا ہوئے دو ماہ گزر چکے ہیں، اور اس کی بیوی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ بعض بھائی اسے کہتے ہیں کہ اس کا شوہر قتل ہو چکا ہے، جبکہ بعض دوسرے کہتے ہیں کہ وہ لاپتا ہوا ہے، اسے قتل نہیں کیا گیا۔ اب وہ عورت سمجھ نہیں پا رہی کہ کیا کرے؛ کیا وہ عدت گزارے یا نہیں؟

الجواب: بدايةً نُذكِّر هذه الأخت السائلة بوجوب الصبر، وفضل الصبر على أقدار الله عز وجل، فهذا هو طريق الجهاد، طريق محنة ومنحة، وطريق بلاء وتمكين. نُذكِّرها بفضيلة الصبر، وأن الله عز وجل أعد للصابرين ثوابًا عظيمًا بلا عدٍّ ولا حساب، قال تعالى: ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [الزمر: 10].

سب سے پہلے ہم سوال کرنے والی اس بہن کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اور اسے اللہ عزوجل کی تقدیر پر صبر کرنے کی فضیلت یاد دلاتے ہیں۔ یہی جہاد کا راستہ ہے؛ ایسا راستہ جس میں آزمائش بھی ہے اور انعام بھی، ابتلا بھی ہے اور غلبہ و اقتدار بھی۔

ہم اسے صبر کی فضیلت یاد دلاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے صبر کرنے والوں کے لیے بے شمار اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے، جس کی کوئی گنتی اور حساب نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ [الزمر: 10]

ويكفي محبة الله تعالى للصابرين ومعيةُ عز وجل لهم، كما يكفي كل من فقد حبيبه بما جاء في الصحيح من حديث أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يقول الله تعالى: «مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ، إِلَّا الْجَنَّةُ». فإن الصبر على فقد الأحبة الخُلَّص الأصفياء إنما هو طريق للجنة.

صبر کرنے والوں کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور اپنی خصوصی مدد و نصرت کے ساتھ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر اس شخص کے لیے بھی یہی بشارت کافی ہے جس نے اپنے کسی محبوب کو کھو دیا ہو۔ صحیح حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

«مَا لِعَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ، إِلَّا الْجَنَّةُ» ’’جب میں اپنے مومن بندے کے کسی محبوب کو دنیا والوں میں سے اٹھا لوں، پھر وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کرے، تو میرے پاس اس کے لیے جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں۔‘‘ چنانچہ اپنے مخلص اور محبوب لوگوں کی جدائی پر صبر کرنا جنت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

ثانياً: ننصح هذه الأخت بالرجوع إلى القاضي لينظر في الأمر ويفصل فيه، إذ إن المقام فيه مقام قضاء أكثر منه إفتاء، إذ هو بحاجة إلى النظر بالقرائن وشواهد الحال ليتم الحكم بناءً على ذلك… والله أعلم.

ثانیا: ہم اس بہن کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ قاضی سے رجوع کرے، تاکہ وہ اس معاملے کی تحقیق کرکے اس میں فیصلہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ فتویٰ دینے سے زیادہ عدالتی فیصلے سے متعلق ہے، کیونکہ اس میں قرائن اور حالات و واقعات کے شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ ان کی روشنی میں درست فیصلہ کیا جا سکے۔

واللہ اعلم۔
 
Top