• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شيعه اور بريليوں کی طرف سے۔۔۔

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
السلام عليکم!

بهائيو!

(شيعه اور بريليوں کی طرف سے)
١ـ غير الله کو وسيله قرار دينا کيسا هے؟

٢ـ بعض کہتے هيں که اياک نستعين کا مطلب وه نهيں جو تم ليتے هو بلکه اسکا مطلب هے که اصل مددگار فقط خدا هے باقی دورسرے بهی الله کی اجازت سے مدد کرتے هيں اس ليے غير الله سے مدد مانگنا شرک نهيں هے۔
٣ـ (بريلويون کی طرف سے)اگر خلافت فقط افضل کو ملتی هے تو سيدنا عمر رضي الله عنه و ارضاه نے شورٖى کيوں تشکيل دی (شورى کی ضرورت نهيں هونی چاهيے تهی) اس سے ثابت هوتا هے که افضل کے هوتے هوئے مفضول خليفه بن سکتا هے۔۔۔ دوسرا يه که يقينا يزيد سيدنا عبدالله ابن عمر سے افضل نهيں تها تو پهر سيّدنا امير ني يزيد کو خليفه کيوں منتخب کيا؟ اس سے بهی ثابت هوتا هے که افضل کے هوتے هوئے مفضول خليفه بن سکتا هے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
غیر اللہ سے ’’مدد مانگنا‘‘ شرک کیوں اور کیسے ؟

١۔ اگر میں اعتصام بھائ سے براہ راست بات چیت کرکے، ٹیلی فون کے ذریعہ یا اس ای میل کے ذریعہ درخواست کروں کے وہ مجھے (مثال کے طور پر) فلاں ملازمت دلانے میں مدد کریں تو میرا اعتصام بھائ سے مدد مانگنا شرک نہیں ہے۔

٢۔ فرض کیا کہ اعتصام بھائ نے ساری زندگی قدم قدم پر میری مدد کی۔ میں جب بھی کسی مشکل میں پڑا اور انہیں اس مشکل کی خبر ہوئی یا میں نے ان سے مدد طلب کی تو انہوں نے ہمیشہ میری مدد کی۔ میں ساری زندگی ان کا ممنون ہی رہا۔ حتیٰ کہ میری عادت ثانیہ بن گئی کہ مشکل وقت میں اعتصام بھائ کو مدد کے لئے پکارتا رہا اور وہ میری مدد کرتے رہے۔ اور وہ میرے لئے مربی، سرپرست، مددگار حتیٰ کہ پیر و مرشد کی حیثیت اختیار کرگئے۔

٣۔ اب جبکہ (تمثیلا") اعتصام بھائ کا انتقال ہوچکا ہے ۔ لیکن اب بھی جب میں کسی مشکل میں ہوتا ہوں تو مدد کے لئے ’’یا اعتصام بھائ ! میری مدد کیجئے، میں فلاں فلاں مشکل میں گرفتار ہوگیا ہوں۔ اس طرح کی مشکل میں آپ پہلے بھی میری مدد کرتے رہے ہیں اور اب بھی میری مدد کریں۔‘‘ لیکن میرے اس طرح اعتصام بھائ کو مدد کے لئے پکارنے پر ’’مولوی حضرات‘‘ کہتے ہیں کہ میں شرک کر رہا ہوں۔ کیونکہ غیر اللہ کو مدد کے لئے پکارنا شرک ہے۔

میں: لیکن پہلے بھی تو میں انہیں مدد کے لئے پکارتا تھا، تب تو آپ نے کبھی منع نہیں کیا، نہ ہی اعتصام بھائ سے مدد مانگنے کو شرک کہا۔ اب کیوں؟

مولوی صاحب: پہلے تو وہ زندہ سلامت تمہارے سامنے موجود تھے۔ لیکن آج تو وہ اس دنیا میں موجود نہین ہیں۔ آج جب تم ان سے مدد مانگتے ہو تو گویا تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ:

١۔ تم جہان کہیں بھی ان سے مدد مانگتے ہو، وہ تمہاری صدا کو سنتے ہیں۔ یہ صفت صرف اللہ کی ہے کہ وہ ہروقت، ہر جگہ اپنے ہر بندے کی پکار کو سنتا ہے۔ تم اللہ کی اس صفت میں اعتصام بھائ کو بھی ’’شریک ‘‘ کرکے ہی ان سے مدد طلب کرتے ہو۔ اسی لئے تمہارا یہ عمل شرک ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ اعتصام بھائ کتنے اچھے، نیک، اللہ والے اور زندگی میں تمہاری اور دوسروں کی مدد کرنے والے تھے۔ مگر اب کا انتقال پرملال ہوچکا ہے۔ وہ اب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ دنیا کے معاملات میں اب وہ دخل نہین دے سکتے، جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں دے سکتے تھے۔ یا اعتصم مدد کی طرح یا علی مدد، یا غوث پاک مدد، حتیٰ کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدد کہنا بھی شرک ہے۔ کیا سمجھے!

(نوٹ: نقل شرک، شرک نہ باشد)
 
Top