ساجد کمبوہ
رکن
- شمولیت
- اگست 13، 2011
- پیغامات
- 132
- ری ایکشن اسکور
- 172
- پوائنٹ
- 82
حدیث اول:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ» — حدیث (صحیح)
ترجمہ: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال اور اولاد ہے، اور میرا باپ چاہتا ہے کہ میرا سارا مال لے لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تُو اور تیرا مال، دونوں تیرے باپ کے ہیں۔“
حدیث دوم:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ» — حدیث (صحیح)
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اولاد اپنے والد کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکتی، سوائے اس صورت کے کہ وہ اسے غلام کی حیثیت میں پائے، پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔“
حوالہ و تخریج
یہ دونوں نصوص باپ کے حق کو ایک ایسے زاویے سے پیش کرتی ہیں جو ماں کے حق کے بیان سے مختلف ہے: جہاں ماں کا حق نرمی، شفقت اور جسمانی مشقت کی بنا پر تین گنا زیادہ بیان ہوا، وہاں باپ کا حق مالی و وجودی تعلق کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے۔ پہلی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے یہ اصول قائم فرمایا کہ بیٹا اور اس کا مال، اصولاً باپ ہی کا متصور ہوتا ہے — یہ اس گہرے وجودی تعلق کی نشاندہی ہے جو باپ اور اولاد کے مابین ہے: باپ ہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے بیٹے کا وجود اور اس کی کمائی کی صلاحیت وجود میں آئی۔
دوسری حدیث اسی حقیقت کو ایک اور انداز میں بیان کرتی ہے: خواہ اولاد کتنی ہی خدمت، احسان اور قربانی کیوں نہ کرے، وہ کبھی والد کے احسان کا پورا بدلہ نہیں چکا سکتی، سوائے اس نادر صورت کے جس میں وہ اسے غلامی سے خرید کر آزاد کر دے — اور یہ مثال دراصل ایک شدت پر مبنی تمثیل ہے جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ باپ کا احسان بنیادی طور پر ناقابلِ تلافی ہے، کیونکہ وہ خود وجود کا سبب ہے، اور کوئی نتیجہ اپنے سبب کے برابر نہیں ہو سکتا۔
فقہی و اصولی فوائد
جدید معاشی نظام میں جہاں مالی خودمختاری اور ذاتی ملکیت کا تصور نہایت مضبوط ہو چکا ہے، وہاں یہ حدیث ایک متوازن یاد دہانی ہے کہ خاندانی تعلقات کو خالصتاً قانونی یا معاشی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ آج کل بعض اولاد اپنے والدین سے مالی معاملات میں وہی سختی برتتی ہیں جو وہ کسی اجنبی کاروباری فریق سے برتتیں — یہ رویہ نبوی تعلیم کی روح کے خلاف ہے۔ دوسری طرف، بعض والدین اس حدیث کا سہارا لے کر اولاد پر ناروا مالی دباؤ ڈالتے ہیں، جو جمہور فقہاء کی تشریح کی روشنی میں درست نہیں۔ دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے، باہمی افہام و تفہیم اور اعتدال ہی مطلوب ہے۔
۸۔ خلاصۂ ہدایت
۱۔ باپ اور بیٹے کا تعلق محض معاشرتی نہیں بلکہ وجودی ہے، اور بیٹے کا مال بھی اسی تعلق کے دائرے میں آتا ہے۔
۲۔ باپ کا حق مالی ضرورت کی حد تک ہے، مطلق قبضے کی حد تک نہیں — یہی راجح فقہی موقف ہے۔
۳۔ اولاد کبھی بھی باپ کے احسان کا مکمل بدلہ نہیں چکا سکتی، اسی لیے احسان جتلانے سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
۴۔ خاندانی مالی معاملات میں محبت اور اعتدال کو قانونی سختی پر مقدم رکھا جائے۔
۵۔ نصوص کے ظاہری الفاظ کو ہمیشہ دیگر نصوص اور فقہی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے، تاکہ افراط و تفریط سے بچا جا سکے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ» — حدیث (صحیح)
ترجمہ: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس مال اور اولاد ہے، اور میرا باپ چاہتا ہے کہ میرا سارا مال لے لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تُو اور تیرا مال، دونوں تیرے باپ کے ہیں۔“
حدیث دوم:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ» — حدیث (صحیح)
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اولاد اپنے والد کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکتی، سوائے اس صورت کے کہ وہ اسے غلام کی حیثیت میں پائے، پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔“
حوالہ و تخریج
- حدیث اول: سنن ابنِ ماجہ (حدیث ۲۲۹۱)۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل (حدیث ۸۳۸) میں اس کی سند کو "صحیح، رجالہ ثقات علی شرط البخاری" قرار دیا، اور علامہ بوصیری نے بھی الزوائد میں اسی کی تائید کی۔ اس کے ہم معنی شواہد حضرت ابنِ مسعود، عائشہ، سمرہ بن جندب، ابنِ عمر، انس اور عمر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں، جن سے یہ روایت مزید تقویت پکڑتی ہے۔ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے ایک ملتی جلتی روایت ابنِ ماجہ (۲۲۹۲) اور ابوداؤد (۳۵۳۰) میں بھی موجود ہے، جس میں یہ اضافہ بھی ہے: «إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ» (تمہاری اولاد تمہاری کمائی میں سب سے پاکیزہ ہے، لہٰذا ان کے مال سے کھاؤ)۔
- حدیث دوم: صحیح مسلم (کتاب العتق، حدیث ۱۵۱۰)، سند سہیل بن ابی صالح عن ابیہ عن ابی ہریرہ۔ اس کی صحت پر اہلِ علم کا اتفاق ہے۔
- يَجْتَاحَ: جڑ سے اکھاڑ دینا، پوری طرح ختم کر دینا؛ یہاں مراد ہے کہ باپ بیٹے کا سارا مال لے کر اسے مفلس کر دے۔
- لَا يَجْزِي: بدلہ نہیں دے سکتا، حق ادا نہیں کر سکتا۔
- يَجِدَهُ مَمْلُوكًا: اسے (والد کو) غلام کی حالت میں پائے (جیسا کہ زمانۂ رقیت میں ممکن تھا)۔
- فَيُعْتِقَهُ: خرید کر آزاد کر دے — اہلِ علم کے نزدیک محض خریدنے ہی سے آزادی خودبخود واقع ہو جاتی ہے، الگ سے آزاد کرنے کے صیغے کی ضرورت نہیں۔
یہ دونوں نصوص باپ کے حق کو ایک ایسے زاویے سے پیش کرتی ہیں جو ماں کے حق کے بیان سے مختلف ہے: جہاں ماں کا حق نرمی، شفقت اور جسمانی مشقت کی بنا پر تین گنا زیادہ بیان ہوا، وہاں باپ کا حق مالی و وجودی تعلق کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے۔ پہلی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے یہ اصول قائم فرمایا کہ بیٹا اور اس کا مال، اصولاً باپ ہی کا متصور ہوتا ہے — یہ اس گہرے وجودی تعلق کی نشاندہی ہے جو باپ اور اولاد کے مابین ہے: باپ ہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے بیٹے کا وجود اور اس کی کمائی کی صلاحیت وجود میں آئی۔
دوسری حدیث اسی حقیقت کو ایک اور انداز میں بیان کرتی ہے: خواہ اولاد کتنی ہی خدمت، احسان اور قربانی کیوں نہ کرے، وہ کبھی والد کے احسان کا پورا بدلہ نہیں چکا سکتی، سوائے اس نادر صورت کے جس میں وہ اسے غلامی سے خرید کر آزاد کر دے — اور یہ مثال دراصل ایک شدت پر مبنی تمثیل ہے جس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ باپ کا احسان بنیادی طور پر ناقابلِ تلافی ہے، کیونکہ وہ خود وجود کا سبب ہے، اور کوئی نتیجہ اپنے سبب کے برابر نہیں ہو سکتا۔
فقہی و اصولی فوائد
- حدیثِ "أنت ومالك لأبيك" کے ظاہری الفاظ سے بعض اہلِ علم نے یہ سمجھا کہ باپ کو بیٹے کے مال میں مطلق تصرف کا حق حاصل ہے۔ تاہم جمہور فقہاء (امام ابوحنیفہ، مالک، شافعی رحمہم اللہ) کے نزدیک باپ کو بیٹے کے مال سے صرف اپنی ضرورت کے بقدر لینے کا حق ہے، مطلق قبضے کا نہیں — یہ اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ ظاہری الفاظ پر اکتفا کرنے کے بجائے دیگر نصوص اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں تطبیق ضروری ہے۔
- بعض متاخرین نے اس حدیث کو ضعیف یا منسوخ بھی کہا ہے (امام ابنِ حزم)، مگر اکثر محققین، بشمول حافظ ابنِ حجر اور علامہ البانی رحمہما اللہ، نے متعدد طرق کے مجموعے کی بنا پر اسے قوی اور قابلِ احتجاج قرار دیا ہے، بشرطیکہ اس کی تاویل جمہور کے مطابق کی جائے۔
- حدیثِ "لا یجزي ولد والدا" سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اولاد کی جانب سے کی گئی کوئی بھی خدمت، نفقہ یا احسان، والد کے حق کو "چکانے" کے درجے میں شمار نہیں ہوتا بلکہ محض ایک جزوی ادائیگی ہے — یہ اصول اولاد کو کبھی بھی خود کو "بری الذمہ" سمجھنے سے روکتا ہے۔
- اولاد کو یہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ باپ کی مالی ضروریات میں مدد کرنا احسان نہیں بلکہ ایک بنیادی فرض کا حصہ ہے، اور اسے کبھی احسان جتلانے کے انداز میں پیش نہ کیا جائے۔
- والدین، بالخصوص باپ، کو بھی اس حق کے استعمال میں اعتدال ملحوظ رکھنا چاہیے — نبوی تعلیم مطلق حق کا اعلان نہیں بلکہ باہمی تعلق کی گہرائی کا بیان ہے، جسے حسنِ تدبیر سے نبھایا جائے، نہ کہ زیادتی کی صورت میں۔
- بیٹوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ اپنی کسی بھی خدمت یا قربانی کو باپ کے حق کے مقابلے میں "کافی" نہ سمجھیں، بلکہ ہمیشہ مزید بہتری کی کوشش میں رہیں۔
جدید معاشی نظام میں جہاں مالی خودمختاری اور ذاتی ملکیت کا تصور نہایت مضبوط ہو چکا ہے، وہاں یہ حدیث ایک متوازن یاد دہانی ہے کہ خاندانی تعلقات کو خالصتاً قانونی یا معاشی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ آج کل بعض اولاد اپنے والدین سے مالی معاملات میں وہی سختی برتتی ہیں جو وہ کسی اجنبی کاروباری فریق سے برتتیں — یہ رویہ نبوی تعلیم کی روح کے خلاف ہے۔ دوسری طرف، بعض والدین اس حدیث کا سہارا لے کر اولاد پر ناروا مالی دباؤ ڈالتے ہیں، جو جمہور فقہاء کی تشریح کی روشنی میں درست نہیں۔ دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے، باہمی افہام و تفہیم اور اعتدال ہی مطلوب ہے۔
۸۔ خلاصۂ ہدایت
۱۔ باپ اور بیٹے کا تعلق محض معاشرتی نہیں بلکہ وجودی ہے، اور بیٹے کا مال بھی اسی تعلق کے دائرے میں آتا ہے۔
۲۔ باپ کا حق مالی ضرورت کی حد تک ہے، مطلق قبضے کی حد تک نہیں — یہی راجح فقہی موقف ہے۔
۳۔ اولاد کبھی بھی باپ کے احسان کا مکمل بدلہ نہیں چکا سکتی، اسی لیے احسان جتلانے سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
۴۔ خاندانی مالی معاملات میں محبت اور اعتدال کو قانونی سختی پر مقدم رکھا جائے۔
۵۔ نصوص کے ظاہری الفاظ کو ہمیشہ دیگر نصوص اور فقہی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے، تاکہ افراط و تفریط سے بچا جا سکے۔