• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شٹ اپ ایڈیٹس

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
نیب حکام نے ریلوے اراضی کیس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اشرف قاضی ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید الظفر اور میجر جنرل ریٹائرڈ حامد بٹ کو طلب کیا ۔ نیب ہیڈ کوارٹر آمد پرجاوید اشرف قاضی نے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکارکردیا اور " شٹ اپ ایڈیٹس " کہے کر چل دئیے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان ریلوے کی 140 ایکڑ اراضی 39 سالہ لیز بھی دے دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے حکم پر نیب حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ (بحوالہ روزنامہ دنیا)

واضح رہے کہ یہ وہی ایڈیٹ جاوید اشرف قاضی ہے، جس نے جنرل پرویزمشرف کے عہد میں بطور وفاقی وزیر تعلیم ، قرآن کے چالیس پارے والے بیان پر ”شہرت“ پائی تھی۔ واؤ کیا دور مشرف تھا جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر اور وزیر اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ ماننے والا اور وزیر تعلیم 30 پاروں والے قرآن کا منکر تھا تبھی تو اُسی دورمیں ایک طرف لال مسجد میں” 30 پاروں والے قرآن“ پڑھنے والی سینکڑوں بچیوں کو ”ایسے قرآن“ سمیت فاسفورس بم سے جلاکر راکھ کیا جارہا تھا تودوسری طرف وزیر اعظم شوکت عزیز (اس ”خوشی“ کو ”سیلیبریٹ“ کرنے) بیگم صاحبہ کے ہمراہ آئس کریم کھانے جارہے تھے
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
733
ری ایکشن اسکور
2,576
پوائنٹ
211
تبھی تو اُسی دورمیں ایک طرف لال مسجد میں” 30 پاروں والے قرآن“ پڑھنے والی سینکڑوں بچیوں کو ”ایسے قرآن“ سمیت فاسفورس بم سے جلاکر راکھ کیا جارہا تھا تودوسری طرف ۔۔۔
میری رائے میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ لال مسجد میں سینکڑوں بچیوں کو جلا کر راکھ کیا گیا۔ اس پورے واقعے میں شاید ایک ہی خاتون کا انتقال ہوا تھا۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
میری رائے میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ لال مسجد میں سینکڑوں بچیوں کو جلا کر راکھ کیا گیا۔ اس پورے واقعے میں شاید ایک ہی خاتون کا انتقال ہوا تھا۔
آپ کی رائے کب سے ثبوت کا درجہ رکھنے لگی ہے :(

اس وقت کے جملہ میڈیا اور اخبارات کی فائل اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ آپ کے مقابلہ میں سینکڑوں اخبار نویس ایسے ہیں جو سینکڑوں طالبات کی شہادت کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کے بیان میں فرق صرف کل تعداد کا ہے کہ وہ ”کتنی“ تھیں۔ کئی سو سے دوہزار تک کی تعداد رپورٹ ہوئی ہے۔ سینکڑوں سے کم تو کسی نے بھی نہیں کہا۔ آپ کو ان بچیوں کا ”درد“ شاید اس لئے نہیں ہے کہ ان میں ”آپ کی کوئی بچی“ شامل نہیں تھی۔

اس دھاگہ کے اصل نکات پر بھی لگتا ہے آپ کو کوئی ”اعتراض“ ہی نہیں ہے کہ ہمارے اوپر ایسے ”حکمران“ کیوں مسلط ہوتے ہیں جو قرآن کے تیس کی بجائے چالیس پاروں پر ایمان رکھتے ہوں۔

اگر کوئی بات بری لگے تو پیشگی معذرت، لیکن آپ کا تبصرہ کچھ ایسا ہی ”بچکانہ“ تھا کہ میں یہ سب کچھ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔
 
Top