- شمولیت
- ستمبر 13، 2026
- پیغامات
- 6
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 2
شکر الہی کے چند واقعات
تحریر ۔ شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری
1. نبی ﷺ کا راتوں کو قیام کرنا
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
*كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا؟*
’’نبی ﷺ رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟‘‘
حوالہ: صحیح البخاری: 4837، صحیح مسلم: 2820۔
سبق: حقیقی شکر صرف ’’الحمدللہ‘‘ کہنا نہیں بلکہ نعمت کے بدلے اطاعت اور عبادت میں اضافہ کرنا ہے۔
2. حضرت سلیمانؑ کا شکر
چیونٹی کی بات سن کر حضرت سلیمانؑ مسکرائے اور فوراً اللہ سے دعا کی:
*رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ*
’’اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔‘‘
(النمل: 19)
سبق: نعمت ملے تو صرف نعمت کو نہ دیکھیں، نعمت دینے والے کو یاد کریں۔
3. آلِ داؤد کو شکر کا حکم
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا
’’اے داؤد کے گھر والو! شکر کے طور پر عمل کرو۔‘‘
(سبأ: 13)
سبق: قرآن نے شکر کو صرف ایک قول نہیں بلکہ عمل قرار دیا۔ آنکھ، کان، زبان، مال، وقت اور صحت—سب کو اللہ کی اطاعت میں لگانا شکر ہے۔
4. تین بنی اسرائیلی اور نعمتوں کا امتحان
تین آدمی تھے: ایک برص والا، ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ نے ان کی بیماری دور کردی اور انہیں مال عطا کیا۔ کچھ عرصے بعد فرشتہ ان کے پاس ان کی سابقہ حالت میں آیا اور ان کی پرانی حالت یاد دلائی۔
نابینا شخص نے کہا:
قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ
’’میں نابینا تھا، اللہ نے مجھے بینائی عطا فرمائی؛ آپ جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں چھوڑ دیں۔‘‘
اس کے برعکس دوسرے دونوں نے نعمت کا انکار کردیا۔ آخرکار اللہ نے سچے شخص کو سچا قرار دیا اور دوسرے دونوں کو جھوٹا قرار دیا۔
حوالہ: صحیح البخاری: 3464، صحیح مسلم: 2964۔
سبق: شکر کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی سابقہ حالت اور اللہ کا فضل نہ بھولے۔
5. نبی ﷺ کی حضرت معاذؓ کو شکر کی دعا
رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
*يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَلَا تَنْسَ أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ*
’’اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ لہٰذا ہر نماز کے بعد یہ کہنا نہ بھولنا: اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔‘‘
حوالہ: سنن ابی داود: 1522، سنن النسائی: 1303۔ صحیح۔
سبق: شکر بھی اللہ کی توفیق کا محتاج ہے؛ اس لیے مومن شکر کی توفیق بھی اللہ ہی سے مانگتا ہے۔
6. نبی ﷺ کا بارش کو اللہ کی نعمت قرار دینا
حضرت زید بن خالد جہنیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بارش کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ...
’’میرے بندوں میں سے کچھ نے مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے صبح کی اور کچھ نے کفر کرتے ہوئے۔‘‘
جنہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی وہ اللہ پر ایمان رکھنے والے قرار دیے گئے، جبکہ جنہوں نے اسے ستاروں کی طرف منسوب کیا وہ ناشکری کی طرف گئے۔
حوالہ: صحیح البخاری: 846، صحیح مسلم: 71۔
سبق: نعمت کے ظاہری اسباب کو ماننا درست ہے، مگر اصل منعم اللہ تعالیٰ ہے۔
7. نبی ﷺ کا کھانے کے بعد شکر
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَىٰ عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا*
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے اس وقت راضی ہوتا ہے جب وہ ایک لقمہ کھائے تو اس پر اللہ کی حمد کرے، یا ایک گھونٹ پئے تو اس پر اللہ کی حمد کرے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم: 2734۔
سبق: شکر کے لیے بڑی نعمت کا انتظار نہ کریں؛ ایک لقمہ اور ایک گھونٹ بھی شکر کا سبب ہے۔
8. حضرت ابو ہریرہؓ اور بھوک کا واقعہ
حضرت ابو ہریرہؓ کو ایک مرتبہ شدید بھوک لگی۔ وہ راستے میں صحابہؓ سے قرآن کی آیات کے بارے میں پوچھتے ہوئے گزر رہے تھے تاکہ کوئی انہیں کھانے کے لیے بلا لے۔ بالآخر نبی ﷺ نے انہیں دیکھا، ان کی کیفیت سمجھی اور اپنے ساتھ لے گئے، پھر دودھ پلایا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہؓ نے فاقہ، بھوک اور تنگی کے زمانے کو یاد رکھا اور بعد کی خوش حالی کو اللہ کا فضل سمجھا۔
حوالہ: صحیح البخاری: 6452۔
سبق: جس شخص نے تنگی دیکھی ہو، اسے کشادگی ملنے پر اللہ کا شکر اور بندوں کے ساتھ سخاوت کرنی چاہیے۔
9. نبی ﷺ کا حضرت عائشہؓ کے ساتھ سادہ زندگی گزارنا
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ کبھی کئی کئی ماہ گزر جاتے اور نبی ﷺ کے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا؛ ان کا کھانا بعض اوقات صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
حوالہ: صحیح البخاری: 6459، صحیح مسلم: 2972۔
اس کے باوجود نبی ﷺ اللہ کی نعمتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے، تھوڑی چیز کو بھی حقیر نہیں سمجھتے اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے۔
سبق: شکر کا تعلق نعمت کی مقدار سے نہیں، دل کی کیفیت سے ہے۔
10. حضرت ابو بکرؓ کی بیٹی اسماءؓ کا گھر اور شکر
حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ ان کے گھر میں کبھی کھانے کی چیز آتی تو وہ اسے محفوظ رکھنے کے بجائے خرچ کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ:
*أَنْفِقِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ*
’’خرچ کرو اور گن گن کر محفوظ نہ رکھو، ورنہ اللہ بھی تم پر اپنا فضل روک دے گا۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری: 1433، صحیح مسلم: 1029۔
سبق: اللہ کی نعمت کا شکر یہ بھی ہے کہ نعمت کو دوسروں تک پہنچایا جائے، خصوصاً مال کی نعمت کو صدقہ و خیرات میں استعمال کیا جائے۔
بیان کے لیے ایک جامع جملہ
ان تمام واقعات کا خلاصہ یہ ہے:
شکر یہ نہیں کہ نعمت ملنے پر صرف زبان سے ’’الحمدللہ‘‘ کہا جائے؛ بلکہ شکر یہ ہے کہ دل نعمت کو اللہ کا فضل سمجھے، زبان اللہ کی حمد کرے، اور انسان اپنی نعمت کو اللہ کی اطاعت اور اس کے بندوں کی خدمت میں استعمال کرے۔
اور سب سے خوبصورت مثال خود رسول اللہ ﷺ کی ہے:
*«أَفَلَا أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا»*
’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘
یہ جملہ شکرِ الٰہی کے پورے موضوع کا مرکزی عنوان بن سکتا ہے۔
تحریر ۔ شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری
1. نبی ﷺ کا راتوں کو قیام کرنا
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
*كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا؟*
’’نبی ﷺ رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟‘‘
حوالہ: صحیح البخاری: 4837، صحیح مسلم: 2820۔
سبق: حقیقی شکر صرف ’’الحمدللہ‘‘ کہنا نہیں بلکہ نعمت کے بدلے اطاعت اور عبادت میں اضافہ کرنا ہے۔
2. حضرت سلیمانؑ کا شکر
چیونٹی کی بات سن کر حضرت سلیمانؑ مسکرائے اور فوراً اللہ سے دعا کی:
*رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ*
’’اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔‘‘
(النمل: 19)
سبق: نعمت ملے تو صرف نعمت کو نہ دیکھیں، نعمت دینے والے کو یاد کریں۔
3. آلِ داؤد کو شکر کا حکم
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا
’’اے داؤد کے گھر والو! شکر کے طور پر عمل کرو۔‘‘
(سبأ: 13)
سبق: قرآن نے شکر کو صرف ایک قول نہیں بلکہ عمل قرار دیا۔ آنکھ، کان، زبان، مال، وقت اور صحت—سب کو اللہ کی اطاعت میں لگانا شکر ہے۔
4. تین بنی اسرائیلی اور نعمتوں کا امتحان
تین آدمی تھے: ایک برص والا، ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ نے ان کی بیماری دور کردی اور انہیں مال عطا کیا۔ کچھ عرصے بعد فرشتہ ان کے پاس ان کی سابقہ حالت میں آیا اور ان کی پرانی حالت یاد دلائی۔
نابینا شخص نے کہا:
قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ
’’میں نابینا تھا، اللہ نے مجھے بینائی عطا فرمائی؛ آپ جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں چھوڑ دیں۔‘‘
اس کے برعکس دوسرے دونوں نے نعمت کا انکار کردیا۔ آخرکار اللہ نے سچے شخص کو سچا قرار دیا اور دوسرے دونوں کو جھوٹا قرار دیا۔
حوالہ: صحیح البخاری: 3464، صحیح مسلم: 2964۔
سبق: شکر کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی سابقہ حالت اور اللہ کا فضل نہ بھولے۔
5. نبی ﷺ کی حضرت معاذؓ کو شکر کی دعا
رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
*يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَلَا تَنْسَ أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ*
’’اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ لہٰذا ہر نماز کے بعد یہ کہنا نہ بھولنا: اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔‘‘
حوالہ: سنن ابی داود: 1522، سنن النسائی: 1303۔ صحیح۔
سبق: شکر بھی اللہ کی توفیق کا محتاج ہے؛ اس لیے مومن شکر کی توفیق بھی اللہ ہی سے مانگتا ہے۔
6. نبی ﷺ کا بارش کو اللہ کی نعمت قرار دینا
حضرت زید بن خالد جہنیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بارش کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ...
’’میرے بندوں میں سے کچھ نے مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے صبح کی اور کچھ نے کفر کرتے ہوئے۔‘‘
جنہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی وہ اللہ پر ایمان رکھنے والے قرار دیے گئے، جبکہ جنہوں نے اسے ستاروں کی طرف منسوب کیا وہ ناشکری کی طرف گئے۔
حوالہ: صحیح البخاری: 846، صحیح مسلم: 71۔
سبق: نعمت کے ظاہری اسباب کو ماننا درست ہے، مگر اصل منعم اللہ تعالیٰ ہے۔
7. نبی ﷺ کا کھانے کے بعد شکر
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَىٰ عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا*
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے اس وقت راضی ہوتا ہے جب وہ ایک لقمہ کھائے تو اس پر اللہ کی حمد کرے، یا ایک گھونٹ پئے تو اس پر اللہ کی حمد کرے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم: 2734۔
سبق: شکر کے لیے بڑی نعمت کا انتظار نہ کریں؛ ایک لقمہ اور ایک گھونٹ بھی شکر کا سبب ہے۔
8. حضرت ابو ہریرہؓ اور بھوک کا واقعہ
حضرت ابو ہریرہؓ کو ایک مرتبہ شدید بھوک لگی۔ وہ راستے میں صحابہؓ سے قرآن کی آیات کے بارے میں پوچھتے ہوئے گزر رہے تھے تاکہ کوئی انہیں کھانے کے لیے بلا لے۔ بالآخر نبی ﷺ نے انہیں دیکھا، ان کی کیفیت سمجھی اور اپنے ساتھ لے گئے، پھر دودھ پلایا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہؓ نے فاقہ، بھوک اور تنگی کے زمانے کو یاد رکھا اور بعد کی خوش حالی کو اللہ کا فضل سمجھا۔
حوالہ: صحیح البخاری: 6452۔
سبق: جس شخص نے تنگی دیکھی ہو، اسے کشادگی ملنے پر اللہ کا شکر اور بندوں کے ساتھ سخاوت کرنی چاہیے۔
9. نبی ﷺ کا حضرت عائشہؓ کے ساتھ سادہ زندگی گزارنا
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ کبھی کئی کئی ماہ گزر جاتے اور نبی ﷺ کے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا؛ ان کا کھانا بعض اوقات صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا۔
حوالہ: صحیح البخاری: 6459، صحیح مسلم: 2972۔
اس کے باوجود نبی ﷺ اللہ کی نعمتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے، تھوڑی چیز کو بھی حقیر نہیں سمجھتے اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے۔
سبق: شکر کا تعلق نعمت کی مقدار سے نہیں، دل کی کیفیت سے ہے۔
10. حضرت ابو بکرؓ کی بیٹی اسماءؓ کا گھر اور شکر
حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ ان کے گھر میں کبھی کھانے کی چیز آتی تو وہ اسے محفوظ رکھنے کے بجائے خرچ کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ:
*أَنْفِقِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ*
’’خرچ کرو اور گن گن کر محفوظ نہ رکھو، ورنہ اللہ بھی تم پر اپنا فضل روک دے گا۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری: 1433، صحیح مسلم: 1029۔
سبق: اللہ کی نعمت کا شکر یہ بھی ہے کہ نعمت کو دوسروں تک پہنچایا جائے، خصوصاً مال کی نعمت کو صدقہ و خیرات میں استعمال کیا جائے۔
بیان کے لیے ایک جامع جملہ
ان تمام واقعات کا خلاصہ یہ ہے:
شکر یہ نہیں کہ نعمت ملنے پر صرف زبان سے ’’الحمدللہ‘‘ کہا جائے؛ بلکہ شکر یہ ہے کہ دل نعمت کو اللہ کا فضل سمجھے، زبان اللہ کی حمد کرے، اور انسان اپنی نعمت کو اللہ کی اطاعت اور اس کے بندوں کی خدمت میں استعمال کرے۔
اور سب سے خوبصورت مثال خود رسول اللہ ﷺ کی ہے:
*«أَفَلَا أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا»*
’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘
یہ جملہ شکرِ الٰہی کے پورے موضوع کا مرکزی عنوان بن سکتا ہے۔