• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہید کی بیوہ سے نکاح کرنے والے شخص کے لیے شادی کے وظیفے کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
916
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
شہید کی بیوہ سے نکاح کرنے والے شخص کے لیے شادی کے وظیفے کا حکم


فتاوى عبر الأثير (( 20 ))
​

السؤال: أخ تزوج من أرملة شهيد، فهل منحة الزواج التي يأخذها من حقه أم من حق أرملة الشهيد؟ وهل له الحق أن يعطي زوجته الأولى منها؟

ایک شخص نے ایک شہید کی بیوہ سے نکاح کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شادی کے لیے اسے جو مالی وظیفہ دیا جاتا ہے، کیا وہ اس کا اپنا حق ہے یا شہید کی بیوہ کا؟ اور کیا اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس رقم میں سے اپنی پہلی بیوی کو بھی کچھ دے؟

الجواب: أما منحة الزواج فهي عطية يعطيها الإمام للمجاهد الذي يبغي النكاح تشجيعاً له على المهر، وهي من حق الزوج يتملكها، والذي نعرفه أن المهر إذا كان أقل من تلك المنحة فيظل الباقي منها من جملة ماله ولا يرده لبيت المال، وبالتالي فله أن يصرف على زوجته الأولى من ذلك المال بالمعروف… والله أعلم.

جہاں تک شادی کے وظیفے کا تعلق ہے تو یہ وہ عطیہ ہے جو امام اس مجاہد کو دیتا ہے جو نکاح کرنا چاہتا ہو، تاکہ مہر کی ادائیگی میں اس کی مدد اور حوصلہ افزائی ہو۔ یہ رقم شوہر کا حق ہے اور وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔


ہمارے علم کے مطابق، اگر مہر کی رقم اس وظیفے سے کم ہو تو باقی بچ جانے والی رقم بھی اس کے اپنے مال میں شمار ہوگی اور اسے بیت المال میں واپس کرنا لازم نہیں ہوگا۔
لہٰذا اس شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ اس مال میں سے اپنی پہلی بیوی پر بھی معروف طریقے کے مطابق خرچ کرے۔

واللہ اعلم۔
 
Top