ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 857
- ری ایکشن اسکور
- 228
- پوائنٹ
- 111
شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ کے ’’فراڈ‘‘ کی حقیقت
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
مدخلیوں کا ہمیشہ سے ایک وطیرہ رہا ہے کہ وہ طواغیت کے ساتھ وفاداری کو "دین" کا حصہ سمجھتے ہیں، اور جو بھی سلفی علماء ان طاغوتی نظاموں اور کفری حکومتوں کے خلاف صدائے حق بلند کرتے ہیں، ان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی کچھ انہوں نے شیخ بن باز و علامہ ابن عثیمین کے شاگرد فضیلۃ الشیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ کے ساتھ کیا۔
2004 میں امریکی فیڈرل پراسیکیوٹرز اور ایف بی آئی نے شیخ احمد موسیٰ جبریل کے خلاف قانونی کارروائی کی اور انہیں 42 الزامات میں ملوث قرار دیا گیا جس میں ان پر ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرنے، ٹیکس چوری، اور اسلحہ رکھنے جیسے الزامات بھی تھے۔ جس کے سبب مدخلیوں نے سب سے گھٹیا الزام یہ لگایا کہ شیخ نے کافروں کو ٹیکس نہیں دیا لہذا شیخ احمد موسی جبریل فراڈ ہو گئے!!! اللہ اکبر
جبکہ فضیلۃ الشیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ کا اقدام دراصل شریعت کے عین مطابق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ کے کفار کو، جب وہ ظلم و استحصال کرتے تھے، مالی نقصان پہنچایا، ان کے قافلے لوٹے، ان کے وسائل پر حملہ کیا۔ کیا یہ "فراڈ" تھا؟ نعوذ باللہ!
علامہ ابو بكر الجصاص الحنفی (ت ٣٧٠هـ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَكَذَلِكَ حُكْمُ مَنْ يَأْخُذُ أَمْوَالَ النَّاسِ مِنْ الْمُتَسَلِّطِينَ الظَّلَمَةِ وَآخِذِي الضَّرَائِبِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ الْمُسْلِمِينَ قِتَالُهُمْ وَقَتْلُهُمْ إذَا كَانُوا مُمْتَنِعِينَ وَهَؤُلَاءِ أَعْظَمُ جُرْمًا مِنْ آكِلِي الرِّبَا لِانْتِهَاكِهِمْ حُرْمَةَ النَّهْيِ وَحُرْمَةَ الْمُسْلِمِينَ جَمِيعًا وَآكِلُ الرِّبَا إنَّمَا انْتَهَكَ حُرْمَةَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَخْذِ الرِّبَا وَلَمْ يَنْتَهِكْ لِمَنْ يُعْطِيهِ ذَلِكَ حُرْمَةً لِأَنَّهُ أَعْطَاهُ بِطِيبَةِ نَفْسِهِ وَآخِذُو الضَّرَائِبِ فِي مَعْنَى قُطَّاعِ الطَّرِيقِ الْمُنْتَهِكِينَ لِحُرْمَةِ نَهْيِ اللَّهِ تَعَالَى وَحُرْمَةِ الْمُسْلِمِينَ إذْ كَانُوا يَأْخُذُونَهُ جَبْرًا وَقَهْرًا لَا عَلَى تَأْوِيلٍ وَلَا شُبْهَةٍ فَجَائِزٌ لِمَنْ عَلِمَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إصْرَارَ هَؤُلَاءِ عَلَى مَا هُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَخْذِ أَمْوَالِ النَّاسِ عَلَى وَجْهِ الضَّرِيبَةِ أَنْ يَقْتُلَهُمْ كَيْفَ أَمْكَنَهُ قَتْلُهُمْ وَكَذَلِكَ أَتْبَاعُهُمْ وَأَعْوَانُهُمْ الَّذِينَ بِهِمْ يَقُومُونَ عَلَى أَخْذِ الْأَمْوَالِ
اسی طرح ان لوگوں کا حکم بھی یہی ہے جو ظالم حکمرانوں کے کارندے بن کر لوگوں کے مال زبردستی چھینتے ہیں، اور جو لوگ لوگوں پر ناجائز ٹیکس (محصولات) وصول کرتے ہیں۔ ان (ٹیکس لینے والوں) سے لڑنا اور انہیں قتل کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے، جب تک وہ (ظلم و زبردستی سے) باز نہ آئیں۔ یہ لوگ (یعنی ٹیکس لینے والے) سود کھانے والوں سے بھی بڑا جرم کرتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ کی حرمت کی اور تمام مسلمانوں کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ جب کہ سود خور صرف اللہ کی حرمت کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور وہ بھی اس شخص کے ساتھ جو اپنی رضا و خوشی سے سود دیتا ہے۔ جبکہ ٹیکس لینے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ کے حکم کی حرمت اور مسلمانوں کی عزت پامال کرتے ہیں، کیونکہ وہ لوگوں سے مال زبردستی اور جبر سے لیتے ہیں، نہ کہ کسی تاویل یا شبہے کے تحت۔ لہٰذا جو مسلمان یہ جان لے کہ یہ لوگ مسلسل اسی ظلم پر قائم ہیں کہ وہ لوگوں سے زبردستی ٹیکس لیتے ہیں، تو اس کے لیے جائز ہے کہ جہاں بھی اور جیسے بھی ممکن ہو، ان کو قتل کرے۔ اسی طرح ان کے پیروکار اور مددگار، جو ان کے ساتھ مل کر یہ کام انجام دیتے ہیں (یعنی زبردستی لوگوں سے مال لیتے ہیں)، وہ بھی اسی حکم میں داخل ہیں۔
[أحكام القرآن للجصاص، ج : ٢، ص : ١٩٢-١٩٣]
علامہ جصاص رحمہ اللہ کہتے ہیں: "من يأخذ أموال الناس من المتسلطين الظلمة وآخذي الضرائب" یعنی جو لوگ عوام کے مال کو زبردستی اور جبر سے لیتے ہیں، وہ دراصل ظالم متسلطین کے نمائندے ہیں یہ طاغوتی، جبری، اور کفری ریاستوں کے دلال اور نمک خوار ہیں۔ ان کا کام عوام کی محنت کی کمائی کو لوٹ کر کفر، ظلم، فحاشی، استعمار، اور استبداد کو پالنا ہے۔ ایسے حکومتی کارندے، ٹیکس آفیسر، ٹیکس کلیکٹر، اور ان کے ادارے اگر زبردستی ٹیکس لیتے ہیں اور باز نہیں آتے تو ان کے خلاف قتل و قتال واجب ہے "واجب علی کل المسلمین قتالھم و قتلھم"
یہ لوگ سود خوروں سے بھی بدتر مجرم ہیں "ھٰؤلاء أعظم جرمًا من آکلی الربا" سود خور اگرچہ حرام کا مرتکب ہوتا ہے، لیکن وہ ایسا ایک معاہدہ کی بنیاد پر کرتا ہے (چاہے باطل ہی ہو)، جبکہ ٹیکس لینے والا بزورِ طاقت، بندوق اور سزا کے ذریعہ مسلمانوں کا مال چھینتا ہے۔ سود خور اللہ کی حرمت پامال کرتا ہے، لیکن مسلمانوں سے ٹیکس لینے والا اللہ اور پوری امت مسلمہ کی حرمت کو روندتا ہے۔
علامہ الجصاص کے نزدیک ٹیکس لینے والا شخص "ڈاکو، لٹیرا، اور قزاق" کے برابر ہے بلکہ یہ لوگ "راہزن" کے حکم میں ہیں "فی معنی قطاع الطریق" جس طرح قاطع طریق کا قتل ضروری ہوتا ہے، اسی طرح ان کا بھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ نے جرم کیا کہ انہوں نے امریکہ جیسے ظالم طاغوتی نظام کو ٹیکس نہیں دیا؟ تو سنو اے مدخلیوں جس عالم نے طاغوتی حکومت کو اپنا مال دینے سے انکار کیا، وہ خائن یا مجرم نہیں بلکہ مجاہد اور حریت کا علمبردار ہے! جس نے اس ظلم کو قبول نہ کیا، وہ چور نہیں بلکہ باطل نظام کا انکار کرنے والا سچا مسلمان ہے!
اور تم جو طواغیت کے ٹکڑوں پر پلتے ہو، ظالم حکمرانوں کی قصیدہ خوانی کرتے ہو، اور ان کے خلاف زبان کھولنے والوں کو "خارجی، تکفیری" کہتے ہو۔ تم اصل میں "فقہی و اخلاقی دیوالیہ پن" کے شکار ہو۔
شیخ احمد موسی جبریل حفظہ اللہ نے نہ صرف شریعت کے مطابق عمل کیا بلکہ صبر، علم، اور استقامت کے ساتھ قید و آزمائش کو بھی گلے لگایا، ان پر "فراڈ" کا الزام مدخلی کفر زدہ ذہنیت کا مظہر ہے، جو طاغوت کی وفاداری کو دینداری سمجھتے ہیں۔
مدخلیوں کا یہ الزام نہ صرف علمی خیانت ہے بلکہ جہالت، ذلت اور غلامانہ ذہنیت کی انتہا ہے۔ شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ نے کفار کو ٹیکس نہ دے کر شریعت کے حکم پر عمل کیا، نہ کہ کسی "فراڈ" کا ارتکاب۔ ایسے ہی سلفی علماء پر امت کو فخر ہے، نہ کہ ان مدخلی پٹھوؤں پر جو طواغیت کی گود میں پل کر شیخ احمد موسیٰ جبریل جیسے کبار سلفی علماء کے خلاف بھونکتے ہیں۔