• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کی سیرت کا مختصر و جلی تذکرہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
900
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
المُخْتَصَرْ الجَلِي بِسِيرَةِ شَيخِنَا تُرْكِي البِنْعَلِي

شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کی سیرت کا مختصر و جلی تذکرہ
​

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وأصحابه أجمعين، ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين، أما بعد!

علماء کرام کے حالات و سوانح سے واقف ہونا، ان کے علمی آثار کا تحفظ کرنا، ان کی خدمات دینیہ کا تعارف کرانا اور ان کے علم کو محفوظ رکھنا ان اہم امور میں سے ہے جن کی اہل علم نے ہمیشہ سے نگہداشت کی ہے؛ کیونکہ اس میں علم کی حفاظت، اس کے آثار کی صیانت، اہل علم کے بعد بھی ان کے علمی فیوض سے استفادے کا دوام اور لوگوں کو علماء کے مراتب و منازل سے آگاہ کرنا مضمر ہے۔

اور شاگرد پر اپنے شیخ کا یہ حق ہے کہ وہ ان کے علم کی خدمت کرے، اس کی اشاعت و حفاظت کا اہتمام کرے اور ان کے علمی آثار کو ضائع ہونے سے بچائے۔ چنانچہ کتنے ہی علماء ایسے گزرے ہیں جن کا علم ان کے تلامذہ کی غفلت و کوتاہی کے سبب پوشیدہ رہ گیا اور جن کے علمی آثار زمانے کی گرد میں گم ہوگئے۔

اسی حقیقت کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول میں اشارہ ہے: «اللَّيْثُ أَفْقَهُ مِنْ مَالِكٍ إِلاَّ أَنَّ أَصْحَابَه لَمْ يَقُوْمُوا بِهِ» یعنی لیث بن سعد، امام مالک سے زیادہ فقیہ تھے، مگر ان کے اصحاب نے ان کے علم کا حق ادا نہ کیا۔ [سير أعلام النبلاء، ج : ٨، ص : ١٥٦]

یہی وہ امر ہے جس کی طرف بہت سے سلف نے بعض اہل علم کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: «ضيّعه تلاميذه» یعنی اس کے شاگردوں نے اسے ضائع کر دیا۔

لہٰذا ہم پر یہ لازم ہے کہ اپنے شیوخ کے علم کی نشر و اشاعت، اس کی نگہداشت اور حفاظت کا اہتمام کریں۔ اور شیخ کے علم کی خدمت کی بہترین صورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کا، ان کے علم کا اور ان کے شیوخ کا تعارف کرایا جائے، تاکہ لوگ ان کے مقام و مرتبہ سے واقف ہوں، ان کی قدر و منزلت بجا لائیں، ان کے نقش قدم کی پیروی کریں، اور اس کے ذریعے اہل علم و عمل کے خلاف اہل بدعت اور دین سے منحرف لوگوں کی جانب سے کی جانے والی طعن و تشنیع کا سدّباب ہو۔

اور چونکہ ہمارے محبوب شیخ ابو سفیان السلمی ہمارے ان شیوخ میں سے ہیں جن کا ہم پر احسان اور فضل سب سے زیادہ ہے، نیز وہ ان ربانی علماء میں سے ہیں جو طواغیت کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے تھے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔

اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کہ یہ سوانحی و علمی تذکرہ مرتب کیا جائے؛ تاکہ ان کے علمی مقام سے واقفیت حاصل ہو اور ان کے آثار سے استفادے کی راہیں کھلیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر یہ مختصر تذکرہ مرتب کیا گیا ہے، جس میں شیخ ترکی بن مبارک البنعلی، المکنّٰی بأبی سفیان السلمی رحمہ اللہ کے حسب بیان حالات زندگی، نشوونما، طلب علم، اساتذہ، علمی اسفار، تصانیف، تلامذہ، عملی مناصب اور پیش آمدہ آزمائشوں کا ذکر کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم نافع، عمل صالح، اتباع کتاب و سنت اور علماء کے حقوق کی صحیح ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں افراط و تفریط، غلو اور بے جا تعصب سے محفوظ رکھے۔

شیخ رحمہ اللہ کا اسم گرامی اور جائے ولادت

آپ کا نام ترکی بن مبارک بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن احمد بن مبارک بن محمد بن مقبل بن محمد بن علی بن مقبل آل بن علی بن عتبہ بن ناصرہ بن خفاف بن امرؤ القیس بن بہثہ بن سلیم بن منصور بن عکرمہ بن خفصہ بن قیس عیلان بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہے۔ آپ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

آپ کی کنیت ابو سفیان السُّلمی ہے، جو بنو سلیم کی طرف نسبت ہے۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن بنو سلیم پر فخر کرتے ہوئے فرمایا: «أنا ابنُ العواتِكِ من سُلَيمٍ» میں بنو سلیم کی عواتک (خواتین) کی نسل سے ہوں۔ [أخرجه الطبراني في المعجم الكبير. ج : ٧. ص : ١٦٨]

شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کی ولادت سنہ ۱۴۰۴ھ میں یوم عرفہ کے دن ہوئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ یوم عرفہ سال کے تمام دنوں میں سب سے افضل دن ہے۔

آپ رحمہ اللہ کی نشوونما اور طلب علم

ہمارے شیخ نے بحرین کے علاقے محرق میں اپنے محلے کے حلقہ ہائے حفظ قرآن میں نشوونما پائی۔ اس کے بعد مسجد سلطان بن سلامہ میں اپنے ایک شیخ سے علم تجوید حاصل کیا، پھر بسیتین کی جنوبی مسجد میں اپنے ایک دوسرے شیخ کے زیر تعلیم رہ کر تجوید کی تعلیم مکمل کی۔ اسی طرح آپ نے اپنے شیخ علی ابو زید کے سامنے بھی قراءت کی۔

آپ نے ابتدائی اور ثانوی درجات سے پہلے کی تعلیم مدرسہ ایمان میں حاصل کی، جو ایک نجی دینی مدرسہ تھا۔ اس کے بعد مدرسہ ہدایہ کے شعبہ ادبیات میں ثانوی تعلیم حاصل کی۔

پھر آپ دبئی کے کلیۃ الدراسات الاسلامیۃ والعربیۃ میں داخل ہوئے اور وہاں ڈیڑھ سال تعلیم حاصل کی۔ تاہم اماراتی حکومت نے شارجہ شہر میں آپ کے گھر پر چھاپہ مارا اور آپ کو ابو ظہبی کی سیاسی جیلوں میں گرفتار کر لیا۔ کچھ مدت کے بعد آپ کو بحرین واپس بھیج دیا گیا۔

اس صورت حال کے باعث آپ کو مجبورا بیروت کے کلیۃ الإمام الأوزاعي میں تعلیم حاصل کرنا پڑی، جہاں سے آپ نے فراغت حاصل کی۔ اسی طرح آپ نے معہد البحرین للعلوم الشرعیۃ میں بھی تعلیم حاصل کی اور وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔

ہمارے شیخ ترکی البنعلی نے متعدد شیوخ اور علماء سے علم حاصل کیا، جن میں نمایاں حضرات یہ ہیں:
  • علامہ عبد اللہ بن عبد الرحمن بن جبرین رحمہ اللہ۔
  • شیخ علامہ ابو محمد المقدسی۔
  • شیخ فقیہ صفاء الضوی العدوی۔
  • شیخ محدث عامر صبری التمیمی۔
  • شیخ عمر بن مسعود الحدوشی۔
ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء و مشائخ سے آپ نے استفادہ کیا۔ مزید برآں، آپ نے بحرین اور بیرون بحرین منعقد ہونے والے سیکڑوں شرعی دوروں میں شرکت کی۔

شیخ رحمہ اللہ کے علمی و دعوتی اسفار

ہمارے شیخ کے علمی و دعوتی اسفار بکثرت ہیں۔ آپ نے بلاد حرمین کا سفر کیا، جہاں علامہ ابن جبرین رحمہ اللہ، محدث عبد اللہ السعد، فاضل شیخ سعید بن زعیر اور دیگر اہل علم سے ملاقات کی۔

اسی طرح آپ نے کویت، متحدہ عرب امارات اور یمن کا سفر کیا، جہاں فاضل شیخ عوض بانجار اور دیگر علماء سے ملاقات ہوئی۔

پھر عراق اور لبنان تشریف لے گئے، جہاں علامہ زہیر الشاویش سے ملاقات کی۔ اسی طرح شام، مصر اور تیونس کا سفر کیا، جہاں تیونس میں فاضل شیخ خطیب الادریسی اور دیگر علماء سے ملاقات ہوئی۔

مزید برآں، آپ نے لیبیا اور مراکش کا سفر کیا، جہاں علامہ محمد بوخبزہ، علامہ عمر الحدوشی، شیخ حسن الکتانی اور دیگر علماء سے ملاقات کی۔

ان کے علاوہ بھی آپ نے متعدد دیگر ممالک کے اسفار کیے، جن کی تفصیل اس مقام پر مذکور نہیں ہے۔

شیخ رحمہ اللہ کی تصنیفات و تالیفات

ہمارے شیخ کی متعدد تصنیفات ہیں؛ ان میں سے بعض طبع ہو کر شائع ہو چکی ہیں اور بعض ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئیں۔ ان کی نمایاں تصنیفات درج ذیل ہیں:

۱۔ الکناشۃ فی بعض خصائص عائشۃ : یہ کتاب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعض خصائص و فضائل کے بیان میں ہے۔

۲۔ فی الذب عن أم المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنہا : یہ کتاب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے دفاع اور ان کی ناموس و حرمت کے تحفظ کے موضوع پر ہے۔ اس پر شیخ علامہ عمر الحدوشی، شیخ محدث ذیاب الغامدی اور شیخ شاعر حفیظ بن عجب الدوسری نے تقاریظ و تقدیمات تحریر فرمائیں۔

۳۔ العتاب لمن تکلم بغیر لغة الکتاب : یہ کتاب عربی زبان کی فضیلت، اس کی اہمیت اور اسی زبان میں گفتگو کرنے کی پابندی کی ترغیب کے موضوع پر ہے۔ اس پر فضیلۃ الشیخ علامہ زہیر الشاویش رحمہ اللہ نے تقدیم تحریر فرمائی۔ نیز شیخ علامہ عمر الحدوشی نے اس پر تقریظ لکھی اور اس کی شرح و حاشیہ مرتب کیا، جس کا نام انہوں نے «إخبار الأصحاب بفوائد العتاب» رکھا۔

۴۔ الحلیۃ فی إعفاء اللحیۃ : یہ ایک مختصر رسالہ ہے، جس میں مردوں کے لیے داڑھی بڑھانے کے شرعی حکم اور اس کی ترغیب کو بیان کیا گیا ہے۔ اس پر شیخ علامہ محمد ابراہیم شقرہ حفظہ اللہ نے تقدیم تحریر فرمائی۔

۵۔ السلسبیل فی قلة سالکی السبیل : یہ کتاب غربت دین اور غربائے اہل حق کے موضوع پر ہے۔ اس پر شیخ ڈاکٹر ہانی السباعی حفظہ اللہ نے تقدیم تحریر فرمائی۔

۶۔ الأقوال المهدیة إلی العملیات الاستشهادیة : یہ رسالہ استشہادی کارروائیوں کے شرعی حکم اور اس مسئلے میں مخالفین کے رد کے موضوع پر ہے۔ اس پر ڈاکٹر حامد بن عبد اللہ العلی ہداه الله نے تقدیم تحریر فرمائی۔

۷۔ الإقلیـد فی ذم التقلید : یہ کتاب اتباع کی فضیلت، اس کی ترغیب، اور تقلید کی مذمت اور اس کی پابندی کے رد میں ہے۔ یہ تصنیف ابھی مکمل نہیں ہوئی اور نہ ہی اب تک طبع ہو کر شائع ہوئی ہے۔

۸۔ سیر أعلام السجناء : اس کتاب میں امت مسلمہ کے سلف اور خلف کے ان ممتاز اہل علم و شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ یہ کتاب ابھی نامکمل ہے اور اب تک شائع نہیں ہوئی۔

۹۔ تصنیف التنصیف : یہ مردوں کے لیے نصف پنڈلی تک لباس پہننے کی سنت کے موضوع پر ایک مختصر رسالہ ہے۔

۱۰۔ مختصر المقال فی حکم توفیر الشعر للرجال : یہ مردوں کے لیے بال بڑھانے کے شرعی حکم کے موضوع پر ایک مختصر رسالہ ہے۔

۱۱۔ کاتلوج الحیاۃ : یہ شریعت کی حاکمیت اور اس کے نفاذ کے موضوع پر ایک مختصر رسالہ ہے۔

۱۲۔ المجن فی الرد علی بشیر بن حسن : یہ بشیر بن حسن کے رد میں لکھی گئی ایک تصنیف ہے۔

ان کے علاوہ بھی متعدد کتابیں اور رسائل ہیں۔

شیخ رحمہ اللہ کے تلامذہ و شاگردان

ہمارے شیخ کے مشرق و مغرب میں بڑی تعداد میں شاگرد اور تلامذہ ہیں۔ ان میں بعض وہ ہیں جنہوں نے براہ راست ان سے تعلیم حاصل کی، بعض وہ ہیں جنہوں نے ان کے علمی دروس اور دورات میں شرکت کی، اور بعض وہ ہیں جنہوں نے ان سے اجازت روایت طلب کی اور انہوں نے انہیں اجازت روایت عطا فرمائی۔

ان کے شاگردوں میں شیوخ، ممتاز اہل علم اور پختہ کار طلبہ علم بھی شامل ہیں۔ تاہم وہ ان کے نام ذکر کرنا پسند نہیں کرتے، اس اندیشے سے کہ کہیں ان پر اپنے احسان کا اظہار نہ ہو جائے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بہترین شیوخ کے بہترین شاگردوں میں شامل فرمائے۔ اور ہر طالب علم کا حق ہے کہ وہ اس بات پر شرف و افتخار محسوس کرے کہ ہمارے شیخ بھی اس کے شیوخ میں سے ایک ہیں۔

اور ہم اہل تجہّم و ارجاء کے سامنے یہ بات پوری قوت سے کہتے اور بلند آواز سے پکارتے ہیں کہ یہ ہیں ہمارے شیخ! پس تم میں سے ہر ایک ہمیں اپنے شیخ کا نام بتائے!

شیخ رحمہ اللہ کی ملازمتیں اور وہ مناصب جن پر فائز رہے

شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ سوق المحرق کی ایک مسجد میں بطور امام خدمات انجام دیتے رہے، پھر مسجد العمال میں امامت کا فریضہ انجام دیا۔ بعد ازاں انہیں منصبِ امامت سے معزول کر دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ انہوں نے علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ کے اس فتویٰ کو، جس میں مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد و نصرت کرنے والے شخص کے شرعی حکم پر گفتگو کی گئی تھی، مسجد میں بطور امام قائم کردہ فتاویٰ کے گوشے میں آویزاں کر دیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے مدرسہ عمر بن عبدالعزیز، شہر حالہ میں بطور مدرس بھی تدریسی خدمات انجام دیں، لیکن ان کے منہج اور دعوت کی وجہ سے بہت جلد انہیں وہاں سے بھی سبکدوش کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شیخ بعض شرعی افتائی ہیئتوں اور اداروں کے رکن بھی رہے۔

شیخ رحمہ اللہ کو پیش آنے والی بعض آزمائشیں

ہمارے شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کو بحرین اور بیرون بحرین متعدد مرتبہ گرفتار کیا گیا، یہاں تک کہ وہ طاغوتوں کے گلوں میں اٹکے ہوئے کانٹے کی مانند بن گئے، اور ان میں سے بعض گرفتاریوں کے دوران انہیں مختلف قسم کی تعذیب اور اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح ایک مدت تک انہیں سفر کرنے سے بھی روک دیا گیا، اور انہیں متحدہ عرب امارات، کویت، مصر، قطر اور دیگر ممالک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ یہ پابندیاں محض ان کے منہج، دعوت اور حق بات کو کھل کر بیان کرنے کی وجہ سے تھیں۔

ہمارے شیخ کو جن عظیم آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا، ان میں سے ایک ان کے مخالفین کی جانب سے ان پر جھوٹ، افترا اور بہتان باندھنا بھی تھا۔ مرتدین اور اہل بدعت جو اپنے مذہب کی نصرت کے لیے جھوٹ کو جائز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے شیخ کو ہر قسم کی خامی اور نقص سے متصف کیا اور ہر عیب ان کی طرف منسوب کر دیا۔ حسبنا اللہ ونعم الوكيل۔

ان کے بارے میں اس سلسلے میں یہی بات کافی ہے کہ اہل علم اور حق پر عمل کرنے والوں کے ساتھ مجرموں کا یہی طریقہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ﴾ ’’آپ سے وہی کچھ کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا جا چکا ہے۔ بے شک آپ کا رب بڑی مغفرت والا اور دردناک عذاب والا ہے۔‘‘ [سورۃ فصلت: ۴۳]

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ﴾ ’’یقینا ہم تمہیں ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں کافی ہیں۔‘‘ [سورۃ الحجر: ۹۵]

اور اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ ’’پس عنقریب اللہ ان کے مقابلے میں تمہارے لیے کافی ہوگا، اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔‘‘ [سورۃ البقرۃ: ۱۳۷]

الحمد للہ، یہ شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کے حالات و سوانح کا وہ مختصر تذکرہ ہے جسے ان کے شاگرد ابو اسامہ الغریب محمد بن شوقی بن محمد بن محمود نے مرتب کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کی شہادت کو قبول فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کی نصرت و سربلندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی راہ میں شہادت کا شرف عطا فرمائے، اور ہمیں حق پر ثابت قدم رکھتے ہوئے ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top