• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ محمد نعیم یاسین کے ہاں دوستی اور دشمنی کی حقیقت

شمولیت
جولائی 25، 2013
پیغامات
445
ری ایکشن اسکور
339
پوائنٹ
65
شیخ محمد نعیم یاسین کے ہاں دوستی اور دشمنی کی حقیقت
''اِعْلَمْ أَنَّ الْوَلَایَۃَ مُشْتَقُ مِنَ الْوَلَاءِ وَ ھُوَ الدُّنُوُّ وَالقَرْبُ ، وَ الْوَلَایَۃَُ ضِدُّ الْعَدَوَاۃِ ، وَالْوَلِیُّ عَکْسَ الْعَدُوِِّ وَالْمُؤْمِنُونَ أَوْلِیَاءُ الرَّحْمٰنِ ، وَالْکَافِرُوْنَ أَوْلِیَاءُ الطَّاغُوْتِ وَالشَّیْطَانَ وَ مِنْ ھَذَا یَتَبَیَّنُ أَنَّ مُوَالَاۃَ الْکُفَّارِ یَعْنِی التَّقَّرُّبَ اِلَیْھِمْ وَ اِظھَارَ الْوُدِّ لَھُمْ بِالْأَقوَالِ وَ الأَفْعَالِ وَلنَّوَایَا.اِلٰی أَنْ قَالَ: وَیَدْخُلَ فِیْہِ مُعَاوَنَتُھُمْ وَالتَّآمُّرُ وَالتَّخْطِیْطُ مَعَھُمْ وَ تَنْفِیذُ مُخَطَّطَاتِھِمْ وَالدُّخُولُ فِی تَنْظِیْمَاتِھِمْ وَأَحْلَافِھِمْ وَالتَّجَسُّسُ مِنْ أَجْلِھِمْ وَنَقْلِ عَورَاتِ الْمُسْلِمِیْنَ وَأَسْرَارِ الأُمَّۃِ اِلَیْھِمْ وَالْقِتَالُ فِیْ صَفِّھِمْ [1]​
''خوب جان لیجیے ! بلاشبہ لفظ ''الْوَلَایَۃُ''، ''الوَلاء''سے مشتق )نکلا ہوا(ہے۔الوَلاء کامعنی ''نزدیکی اور قربت'' ہے۔یہ بھی جان لیجیے کہ لفظ ''الْوَلَایَۃ'' لفظ ''العَدَاوَۃُ''کا متضاد ہے(opposite)اسی طرح لفظ اَلْوَلِیّ لفظ ''العَدَاوَۃُ'' کا متضاد اور برعکس ہے۔اہل ایمان رحمن کے دوست اور قریبی ہیں ۔جبکہ اہل کفر طاغوت اور شیطان کے دوست اور قریبی ہیں ۔اس وضاحت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مَوَالَاۃُ الْکُفَّار )یعنی کافروں سے دوستی(کا مطلب یہ ہے کہ :
1۔ کافروں کی قربت اورنزدیکی حاصل کی جائے۔
2۔ کافروں کے لیے محبت کا اظہار کیا جائے وہ اظہار خواہ گفتار واقوال سے ہو،خواہ کردار واعمال سے ہو ، خواہ نیت وعزائم سے ہو۔''
فضیلۃ الشیخ محمد نعیم یاسین صاحب نے یہاں تک کہہ دیا کہ'' مَوَالَاۃُ الْکُفَّار'' میں یہ چیزیں بھی شامل وداخل ہیں :
3۔ کافروں کی معاونت کرنا ۔
4۔ کافروں کے احکامات کی بے چون وچرا بجاآوری کرنا۔
5۔ کافروں کے ساتھ مل کر حکمتِ عملی طے کرنا اور منصوبہ بندی کرنا۔
6۔ کافروں کے منصوبوں اور پروگراموں میں شامل ہونا۔
7۔ کافروں کے ساتھ باہمی معاہدوں میں شمولیت اختیار کرنا۔
8۔ کافروں کی خاطر جاسوسی اور) مختلف افراد وشخصیات کی (تلاشی میں حصہ لینا۔
9۔ مسلمانوں کے درپردہ معاملات ان کے سپرد کردینا۔
10 مسلمانوں کے خفیہ جنگی راز اورمعلومات کافروں کو فراہم کرنا اور
11 کافروں کے اتحاد میں شامل ہوکر مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شمولیت اور شرکت اختیار کرنا ''( یہ تمام چیزیں اور شقیں کافروں سے دوستی کی مدد میں آتی ہیں ۔ )
لفظ المُوالَاۃِ اور التَّوَلِّی میں ایک دقیق فرق:
یہاں ایک بڑا لطیف علمی نکتہ بھی سمجھنے کے قابل ہے ۔وہ یہ کہ عربی زبان میں دوستی کے لیے ایک لفظ ''المُوَالَاۃ'' استعمال ہوتا ہے اور ایک لفظ ''التَّوَلِّی''مستمعل ہے۔لفظ الموالاۃ تو قربت ،نزدیکی ،پیروی ،مدد ،تعاون ،محبت،دوستی اور غلامی وغیرہ کے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن لفظ ''التَّوَلِّی'' بطورخاص صرف اور صرف دومعانی Ýپیروی اور Ïنصرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہی وہ معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں وارد ہوا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں فرمایا :
﴿كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ﴾ (الحج:4)
''اس (شیطان)پر (اللہ کا فیصلہ )لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اس کی پیروی کرے گا وہ اسے گمراہ کردے گا اوراسے آگ ک عذاب کی طرف لے جائے گا''
مذکورہ آیت کریمہ میں (مَنْ تَوَلَّاہُ)کامعنی یہ ہے کہ ''جو اس کی پیروی کرے گا ''لفظ ''التَّوَلِّی''کا دوسرا مخصوص معنی ''مدد ونصرت ''اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے فرمان میں وارد ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾(الممتحنۃ9:)
''اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی (مدد وتعاون )سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس نکالے دیے اور دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی جو لوگ اس قسم کے کافروں کی مدد ونصرت کریں گے وہ (پکے ٹھکے)ظالم لوگ ہوں گے''
مذکورہ آیت کریمہ میں بھی ﴿أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾کامعنی یہ ہے کہ ''تم ان کی مدد ونصرت کرواور جو شخص بھی ان کی مدد ونصرت کرے گا تویہی لوگ ظالم ہوں گے ''
اسی طرح قرآن مجید میں ایک مقام پر ''التَّوَلِّی''مددونصرت کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اﷲُ عَلَیْہِمْ . . . . ﴾ )الممتحنۃ=13: (60
''(اے مسلمانو!)ایسی قوم کی مددونصرت نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے. . . .''
مذکورہ آیت کریمہ میں (لاَ تَتَوَلَّوْا)کامعنی ہے کہ تم دوستی نہ کرو۔''
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں اپنا ایک خصوصی وصف بیان کیا ہے کہ میں مومنوں کا حامی ومددگار ہوں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿اللہُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ (البقرہ257:)
''ایمان لانے والوں کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ،وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف خود لے جاتا ہے اور کافروں کے مددگار شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ''
مذکورہ آیت میں بھی ﴿اَﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا﴾کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ان الفاظ کا معنی ہے کہ''اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ہیں ۔''لہٰذا اس آیت میں''وَلِیُّ'' کامعنی مددگار ہے ۔اس طرح مذکورہ آیت میں ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ﴾کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ان الفاظ کا معنی ہے ''وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے مددگار طاغوت ہیں ۔''اس آیت میں اولیاء کا معنی (زیادہ تعداد میں)مددگار''ہے۔علیٰ ہٰذا القیاس۔
اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی یہ لفظ مددگار کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿فَإِنَّ اللہَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ﴾ (التحریم:4)
''یقینا اس (رسول اللہﷺ) کا مددگار اور کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے ،جبریل ﷤ہے اور نیک اہل ایمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں''
مذکورہ آیت میں لفظ ''مَولَاہُ'' کامعنی ''اس کامددگار ''ہے۔
نیز قرآن مجید کے ایک اور مقام پربھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی یہ مددگار کے معنی میں ہی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَہُمْ﴾ (سورۂ محمد4:)
''(اللہ تعالیٰ نے کافروں کو سزائیں دیں )اس لیے کہ ایمان والوں کا مددگار اور کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اورکافروں کا کوئی بھی مددگارنہیں ہے''
مذکورہ آیت کریمہ میں بھی لفظ ''مَولیٰ''دودفعہ استعمال ہوا ہے ۔دونوں جگہ اس کامعنی ومددگار اور کارساز ہے ۔
یہ چند آیات بطور مثال ذکر کی گئی ہیں ان کے علاوہ جہاں جہاں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے اکثر وبیشتر اِسی معنی میں ہے ۔
مذکورہ بالا ساری گفتگو کالب ولباب یہ ہے کہ لفظ ''التَّوَلِّی''لفظ''المُوَالَاۃ''سے زیادہ خصوصیت کا حامل ہے۔ ''التَّوَلِّی'' کامطلب یہ ہے کہ ''عَلَی الاِطلَاق'' )غیر مشروط طور پر(پیروی اور فرمانبرداری کرتے جانا اورپوری پوری مدد ونصرت کرنا۔''مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ التَّوَلِّی اورالمُوَالَاۃکے درمیان عموم اور خصوص کی نسبت ہے ۔[2]
[1] الایمان لمحمد نعیم بن یاسین :111
[2] ''دوچیزوں کے درمیان عموم اور خصوص کی نسبت ''کامطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک چیز عام ہوتی ہے دوسری چیز اس عام میں سے ہی ہوتی ہے مگر وہ ایک خاص معنی ومفہوم اورمقام ومرتبہ رکھتی ہے ۔مثلاً نبوت عام ہے اور رسالت خاص ہے ۔ان کے درمیان بھی گویا عموم اور خصوص کی نسبت ہے ۔ہر نبی ،رسول نہیں ہوتا مگر ہر رسول، نبی ضرور ہوتا ہے ۔اسکی عام فہم یہ مثال بھی بن سکتی ہے کہ پاکستانی ہونا ایک عام نسبت ہے ۔مگر پاکستان کے چار صوبوں میں سے ایک صوبہ،پنجاب کی طرف نسبت کرکے پنجابی ہونا ایک خاص نسبت ہے ۔ہر پاکستانی پنجابی نہیں ہوتا مگر ہر پنجابی پاکستانی ضرور ہوتا ہے۔علیٰ ہٰذا القیاس المُوَالَاۃایک وسیع معنی کا حامل لفظ ہے اور التَّوَلِّی اس عام معنی میں سے ہی ایک مخصوص معنی رکھتاہے ۔لہٰذا المُوَالَاۃمیں'' التَّوَلِّی''کا معنی موجود ہے۔لیکن '' التَّوَلِّی''میں المُوَالَاۃکاسارا مفہوم اورمعنی موجود نہیں ۔اس لیے ان دونوں میں بھی عموم وخصوص کی نسبت ہے۔
 
Top