• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیعت ، سباعیت کے آئینے میں / شیعہ اور عبد الله بن سبا کے مشترکہ عقائد

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
بہرام


عربوں کی ادبی تاریخ --- رینلڈ اے نکلسن --- شیعت ، سباعیت کے آئینے میں / شیعہ اور عبد الله بن سبا کے مشترکہ عقائد

Abdulláh b. Sabá (properly, Saba'), was a native of Ṣan'á in Yemen, and is said to have been a Jew. In 'Uthmán's time he turned Moslem and became, apparently, a travelling missionary. "He went from place to place," says the historian, "seeking to lead the Moslems into error." We hear of him in the Ḥijáz, then in Baṣra and Kúfa, then in Syria. Finally he settled in Egypt, where he preached the doctrine of palingenesis (raj'a). "It is strange indeed," he exclaimed, "that any one should believe in the Doctrine of Ibn Sabá. return of Jesus (as Messias), and deny the return of Muḥammad, which God has announced (Kor. xxviii, 85). Furthermore, there are a thousand Prophets, every one of whom has an executor (waṣí), and the executor of Muḥammad is 'Alí. Muḥammad is the last of the Prophets, and 'Alí is the last of the executors." Ibn Sabá, therefore, regarded Abú Bakr, 'Umar, and 'Uthmán as usurpers. He set on foot a widespread conspiracy in favour of 'Alí, and carried on a secret correspondence with the disaffected in various provinces of the Empire.

(A Literary History of the Arabs, p. 215 , Reynold A. Nicholson)

ترجمہ : عبد الله بن سبا (جس کا صحیح تلفظ سباع ہے) یمن کے شہر صنعاء کا باشندہ تھا اور در اصل یہودی تھا - عثمان (رضی الله عنہ) کے عہدِ خلافت میں اسلام لایا اور بظاھر ایک گشتی مبلغ بن گیا - طبری کہتا ہے کہ اس نے مختلف شہروں کا سفر کیا اور اس کا مقصد مسلمانوں کو گمراہ کرنا تھا - انجامِ کار اس نے مصر میں سکونت اختیار کر لی - یہاں اس نے مسلمانوں کو "رجعت" کی تعلیم دینا شروع کر دی - یعنی اس نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ بات صداقت سے کس قدر بعید ہے کہ ایک مسلمان اس بات پر تو ایمان رکھتا ہے کہ مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) دوبارہ دنیا میں آئیں گے لیکن محمد (صلی الله علیہ وسلم) کی رجعت کا انکار کرتا ہے ، حالانکہ الله نے قرآن میں (القصص:٨٥) میں اعلان فرمایا ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے - علاوہ ازیں ایک لاکھ انبیاء ایسے گزرے ہیں جن میں ہر نبی کا ایک وصی تھا ، لٰہذا علی (رضی الله عنہ) محمد (صلی الله علیہ وسلم) کے وصی ہیں - جس طرح محمد (صلی الله علیہ وسلم) خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح علی (رضی الله عنہ) خاتم الاوصیاء ہیں - بن سباع (نعوذبالله) ابو بکر (رضی الله عنہ) ، عمر (رضی الله عنہ) اور عثمان (رضی الله عنہ) کو غاصب قرار دیتا تھا - اس نے علی (رضی الله عنہ) کی حمایت میں سازشوں کا جال بچھا دیا اور اسلامی سلطنت کے مختلف صوبوں میں جو لوگ عثمان (رضی الله عنہ) کے خلاف تھے ، ان سے خفیہ مراسلت کا سلسلہ شروع کر دیا -


yahoodiiiii.jpg
 
Top