lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
علی بہرام
بہرام
الخلافت - اس کا عروج ، انحطاط اور زوال --- ولیم میؤر --- شیعت ، یہودیت کے آئینے میں / عبد الله بن سبا اور شیعت
ولیم میؤر عبد الله بن سبا کے عقائد پر روشنی ڈالتے ہوے رقمطراز ہیں کہ:
Ibn Aamir had been now three years governor of Bussorah, when Ibn Saba (or, as he is commonly called Ibn Sauda), a Jew from the south of Arabia, appeared there, and professed the desire to embrace Islam. It soon appeared that he was steeped in disaffection towards the existing government,----a firebrand of sedition; as such he was expelled successively from Bussorah, Kufa, and Syria, but not before he had given a dangerous impulse to the already discontented classes there. At last, he found a safe retreat in Egypt, where he became the setter forth of strange and starting doctrines. Mahomet was to come again, even as the Messiah was,. Meanwhile Aly was his legate. Othman was a usurper, and his Governors a set of godless tyrants. Impiety and wrong were rampant everywhere; truth and Justice could be restored no otherwise than by the overthrow of this wicked dynasty.
(The Caliphate: Its Rise, Decline, and Fall, Sir William Muir, p. 229, 230)
ترجمہ : ٣٢ ھ میں جبکہ ابن عامر بصرے کا گورنر تھا ، عبد الله بن سبا نے (جسے عام طور پر ابن سوداء کہتے تھے) بصرے میں آ کر اسلام قبول کیا ، لیکن بہت جلد یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ وہ دراصل حکومتِ وقت کے خلاف شدید باغیانہ خیالات رکھتا تھا - بلکہ اس کی ذات مجسم بغاوت تھی - چنانچہ ان ہی باغیانہ خیالات کی وجہ سے اسے بصرہ ، کوفہ اور دمشق سے پے در پے جلا وطن کیا گیا - انجام کار مصر میں اسے گوشئہ عافیت میسر آ گیا اور یہاں بیٹھ کر اس نے عجیب و غریب ، بلکہ ہو شربا اور سراسر اسلام کے خلاف عقائد کی اشاعت شروع کی - مثلاً: (١) عیسیٰ علیہ السلام کی طرح محمد صلی الله علیہ وسلم بھی دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے - (٢) فی الحال علی رضی الله عنہ محمد صلی الله علیہ وسلم کے وصی ، وارث یا جانشین ہیں - (٣) عثمان رضی الله عنہ (نعوذبالله) غاصب ہیں - اس لئے جب تک ان کی حکومت کا قلع قمع نہیں کیا جائے گا اس وقت تک صداقت اور عدالت کا قیام ناممکن ہیں -
بہرام
الخلافت - اس کا عروج ، انحطاط اور زوال --- ولیم میؤر --- شیعت ، یہودیت کے آئینے میں / عبد الله بن سبا اور شیعت
ولیم میؤر عبد الله بن سبا کے عقائد پر روشنی ڈالتے ہوے رقمطراز ہیں کہ:
Ibn Aamir had been now three years governor of Bussorah, when Ibn Saba (or, as he is commonly called Ibn Sauda), a Jew from the south of Arabia, appeared there, and professed the desire to embrace Islam. It soon appeared that he was steeped in disaffection towards the existing government,----a firebrand of sedition; as such he was expelled successively from Bussorah, Kufa, and Syria, but not before he had given a dangerous impulse to the already discontented classes there. At last, he found a safe retreat in Egypt, where he became the setter forth of strange and starting doctrines. Mahomet was to come again, even as the Messiah was,. Meanwhile Aly was his legate. Othman was a usurper, and his Governors a set of godless tyrants. Impiety and wrong were rampant everywhere; truth and Justice could be restored no otherwise than by the overthrow of this wicked dynasty.
(The Caliphate: Its Rise, Decline, and Fall, Sir William Muir, p. 229, 230)
ترجمہ : ٣٢ ھ میں جبکہ ابن عامر بصرے کا گورنر تھا ، عبد الله بن سبا نے (جسے عام طور پر ابن سوداء کہتے تھے) بصرے میں آ کر اسلام قبول کیا ، لیکن بہت جلد یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ وہ دراصل حکومتِ وقت کے خلاف شدید باغیانہ خیالات رکھتا تھا - بلکہ اس کی ذات مجسم بغاوت تھی - چنانچہ ان ہی باغیانہ خیالات کی وجہ سے اسے بصرہ ، کوفہ اور دمشق سے پے در پے جلا وطن کیا گیا - انجام کار مصر میں اسے گوشئہ عافیت میسر آ گیا اور یہاں بیٹھ کر اس نے عجیب و غریب ، بلکہ ہو شربا اور سراسر اسلام کے خلاف عقائد کی اشاعت شروع کی - مثلاً: (١) عیسیٰ علیہ السلام کی طرح محمد صلی الله علیہ وسلم بھی دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے - (٢) فی الحال علی رضی الله عنہ محمد صلی الله علیہ وسلم کے وصی ، وارث یا جانشین ہیں - (٣) عثمان رضی الله عنہ (نعوذبالله) غاصب ہیں - اس لئے جب تک ان کی حکومت کا قلع قمع نہیں کیا جائے گا اس وقت تک صداقت اور عدالت کا قیام ناممکن ہیں -