- شمولیت
- اگست 25، 2014
- پیغامات
- 6,372
- ری ایکشن اسکور
- 2,632
- پوائنٹ
- 791
خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں ،
فرماتے رہتے۔
کوئی بھی بات ہو تی ،اپنے ساتھ ان دونوں عظیم ہستیوں کی معیت کا حوالہ دے کر انکی اہمیت اور ان سے اپنی محبت کا
اظہار فرماتے ؛
صحیح بخاری جو آپ کی پسندیدہ کتاب ہے ،اس میں موجود ہے
عن ابن ابي مليكة انه سمع ابن عباس يقول: " وضع عمر على سريره فتكنفه الناس يدعون ويصلون قبل ان يرفع وانا فيهم فلم يرعني إلا رجل آخذ منكبي فإذا علي بن ابي طالب فترحم على عمر وقال: ما خلفت احدا احب إلي ان القى الله بمثل عمله منك ، وايم الله إن كنت لاظن ان يجعلك الله مع صاحبيك وحسبت إني كنت كثيرا اسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " ذهبت انا وابو بكر ، وعمر ودخلت انا وابو بكر ، وعمر وخرجت انا وابو بكر ، وعمر ".
ابن ابی ملیکہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو (شہادت کے بعد) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے (اللہ سے) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے، نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا رحمت کی اور (ان کی نعش کو مخاطب کر کے) کہا: آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے تو (پہلے سے) یقین تھا کہ (اے عمر پیارے )اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ”میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے۔“(رضی اللہ عنہم اجمعین )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا یقین ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جناب ابن عباس رضی اللہ عنہماکے اس مقام پر یہ الفاظ تقیہ نہیں ہیں
Last edited: