• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیعہ کا کفریہ عقیدہ ۔ علی راضی اللہ اور نبی صلی اللہ وسلم کا مقام برابر ہے

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,632
پوائنٹ
791
خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں ،
کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ،کا نبی کریم ﷺ کے ہاں ایسا مقام تھا ،کہ اللہ کے محبوب ہر وقت ان کا تذکرہ
فرماتے رہتے۔
کوئی بھی بات ہو تی ،اپنے ساتھ ان دونوں عظیم ہستیوں کی معیت کا حوالہ دے کر انکی اہمیت اور ان سے اپنی محبت کا
اظہار فرماتے ؛

صحیح بخاری جو آپ کی پسندیدہ کتاب ہے ،اس میں موجود ہے
عن ابن ابي مليكة انه سمع ابن عباس يقول:‏‏‏‏ " وضع عمر على سريره فتكنفه الناس يدعون ويصلون قبل ان يرفع وانا فيهم فلم يرعني إلا رجل آخذ منكبي فإذا علي بن ابي طالب فترحم على عمر وقال:‏‏‏‏ ما خلفت احدا احب إلي ان القى الله بمثل عمله منك ، وايم الله إن كنت لاظن ان يجعلك الله مع صاحبيك وحسبت إني كنت كثيرا اسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول:‏‏‏‏ " ذهبت انا وابو بكر ، وعمر ودخلت انا وابو بكر ، وعمر وخرجت انا وابو بكر ، وعمر ".

ابن ابی ملیکہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو (شہادت کے بعد) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے (اللہ سے) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے، نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا رحمت کی اور (ان کی نعش کو مخاطب کر کے) کہا: آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے تو (پہلے سے) یقین تھا کہ (اے عمر پیارے )اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ”میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے۔“(رضی اللہ عنہم اجمعین )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا یقین ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جناب ابن عباس رضی اللہ عنہماکے اس مقام پر یہ الفاظ تقیہ نہیں ہیں
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,632
پوائنٹ
791
چونکہ بات صحیح بخاری کی ہو رہی ہے ،،،اس صحیح بخاری سے ایک حدیث ۔۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مقام عالی شان ۔۔پر پیش ہے



إن عائشة رضي الله عنها قالت:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما:‏‏‏‏ " يا عائش هذا جبريل يقرئك السلام " فقلت:‏‏‏‏ وعليه السلام ورحمة الله وبركاته ، ترى ما لا ارى ، تريد رسول الله صلى الله عليه وسلم ".

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا ”اے عائش یہ جبرائیل علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور آپ کو سلام کہتے ہیں“ میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیز ملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی (آپ کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی)۔
صلى الله عليه وعلى ازواجه و ذريته اجمعين
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
صحابی نے آپ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ (اي الناس احب إليك ) سب لوگوں سے بڑھ کر آپ کا پیا راکون ؟
فرمایا سب سے اولیں تو سیدہ عائشہ اور ان کےوالد گرامی ۔ابو بکرصدیق ۔ہیں،انکے بعد یہ مقام بے مثال ۔فاروق۔ کیلئے ہے
لیکن یہی بات جب امی عائشہ سے معلوم کی گئی کہ سُئِلْتُ : أيُّ الناسِ كان أَحَبَّ إلى رسولِ اللهِ - صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم - ؟ ! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کون زیادہ محبوب تھا؟ .فرمایا قالت : فاطمةُ، فاطمہ اور پوچھا گیا کہ فقيل :مِنَالرجالِ ؟ ! مردوں میں کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبوب تھا فرمایا قالت : زوجُهاان کے شوہر (یعنی حضرت علی)
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
(۱) اس کا حوالہ دے دیں ،
(۲)۔۔سُئِلْتُ۔۔کا جواب ۔۔۔قالت ۔۔۔نہیں آنا چاہیئے
(۳) (مِنَالرجالِ) کی سمجھ نہیں آئی۔۔اس کا مطلب کیا ؟

عن عائشةَ رضيَ اللَّهُ عنها أنَّها سُئلتْ أيُّ النَّاسِ كانَ أحبَّ إلى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ قالت فاطمةُ فقيلَ منَ الرِّجالِ قالت زوجُها
الراوي: عائشة أم المؤمنين المحدث: ابن حجر العسقلاني - المصدر: تخريج مشكاة المصابيح - الصفحة أو الرقم: 5/451
خلاصة حكم المحدث: [حسن كما قال في المقدمة]
 
Top