ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 897
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
شیعہ کے اس اعتراض کا رد کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ارادہ کیا تھا
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على عبده ورسوله محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
شیعہ کی جانب سے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک نہایت سنگین دعویٰ پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے، نعوذ باللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، اور اسی سبب اللہ تعالیٰ نے سورہ احزاب کی یہ آیت نازل فرمائی:
«﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾»
ترجمہ: ’’اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو ایذا پہنچاؤ، اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی ازواج سے نکاح کرو۔ بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔‘‘ [الأحزاب: 53]
اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے جذباتی دعووں یا محض تاریخی حکایات پر اعتماد کافی نہیں، بلکہ اصول حدیث کے مطابق سند اور رواۃ کی تحقیق ضروری ہے۔ چنانچہ جب اس روایت کے طرق کا جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ الزام کسی صحیح اور قابل اعتماد سند سے ثابت نہیں۔
اولاً: اس اثر کی سندیں ضعیف اور ناقابل حجت ہیں
یہ واقعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تین طریقوں سے منقول ہے، لیکن ان میں سے کوئی طریق صحیح نہیں۔ بعض تابعین سے بھی اس کا ذکر منقول ہے، مگر وہ بھی شرعی یا حدیثی حجت نہیں۔
پہلا طریق: عکرمہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما
ابن ابی حاتم نے محمد بن حمید رازی کے طریق سے روایت کیا ہے:
«ثنا مِهْران ابن أبي عمر، ثنا سفيان الثوري، عن داود بن أبي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رجل من أصحاب النبي: لو قد مات رسول الله لتزوجت عائشة، أو أم سلمة، فأنزل الله: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾»
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا: ’’اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں عائشہ یا ام سلمہ سے نکاح کر لوں گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو ایذا پہنچاؤ اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی ازواج سے نکاح کرو، بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔‘‘
[ابن أبي حاتم في تفسيره، كما في تخريج أحاديث الكشاف لابن حجر 3/128؛ والبيهقي، السنن الكبرى 7/96]
یہ سند ضعیف ہے، اور اس میں دو بنیادی علتیں ہیں۔
پہلی علت: مہران بن ابی عمر
مہران بن ابی عمر کو متعدد ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ليس بالقوي، غير أنه مضطرب في حديثه عن سفيان خاصة»
ترجمہ: ’’وہ قوی نہیں ہے، خصوصا سفیان سے اس کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے۔‘‘ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 8/301] [2]
اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«كان عنده غلط كثير في حديث سفيان»
ترجمہ: ’’اس کے پاس سفیان کی حدیث کے بارے میں بہت سی غلطیاں تھیں۔‘‘ [الجرح والتعديل 8/301]
اور زیر بحث روایت میں یہی مہران، سفیان ثوری سے روایت کر رہا ہے۔ لہٰذا جس مقام پر راوی کی سفیان سے روایت ہی محل اضطراب قرار دی گئی ہو، وہاں اس طریق کو بنیاد بنا کر کسی صحابی پر ایسا سنگین الزام عائد کرنا اصول حدیث کے خلاف ہے۔
دوسری علت: محمد بن حمید رازی
اس سند کا دوسرا بنیادی مسئلہ محمد بن حمید رازی ہے، جس پر ائمہ جرح نے سخت کلام کیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فيه نظر»
ترجمہ: ’’اس کے بارے میں کلام ہے۔‘‘ [التاريخ الكبير 1/69]
امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ليس بثقة»
ترجمہ: ’’وہ ثقہ نہیں ہے۔‘‘ [الأباطيل والمناكير 2/190؛ تاريخ بغداد 3/60]
یعقوب بن شیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«كثير المناكير»
ترجمہ: ’’وہ بہت سی منکر روایات بیان کرتا ہے۔‘‘ [الأباطيل والمناكير 2/190؛ تاريخ بغداد 3/60]
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«منكر الحديث»
ترجمہ: ’’وہ منکر الحدیث ہے۔‘‘ [سير أعلام النبلاء 11/503]
اور ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«محمد بن حميد، كثير المناكير، وقد اتُهم بالكذب، فلا يُلتفت إلى تفرده بما يخالف الثقات»
ترجمہ: ’’محمد بن حمید بہت سی منکر روایات بیان کرتا ہے، اور اس پر جھوٹ کا الزام بھی لگایا گیا ہے؛ لہٰذا جب وہ ثقہ راویوں کے خلاف کسی بات کو منفرد طور پر بیان کرے تو اس کی منفرد روایت کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔‘‘ [فتح الباري 5/70؛ المجروحين 2/303]
ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«كان ممن ينفرد عن الثقات بالأشياء المقلوبات، ولا سيما إذا حدث عن شيوخ بلده»
ترجمہ: ’’وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ راویوں سے الٹی پلٹی باتیں منفرد طور پر روایت کرتا تھا، خصوصا جب اپنے شہر کے شیوخ سے روایت کرتا۔‘‘ [التقريب لابن حجر، رقم 5834]
پس اس پہلے طریق کی حالت یہ ہے کہ ایک طرف مہران کی سفیان سے روایت میں اضطراب ہے، اور دوسری طرف محمد بن حمید رازی خود سخت مجروح راوی ہے۔ ایسی سند سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی الزام ثابت کرنا علمی دیانت کے منافی ہے۔
دوسرا طریق: ابو صالح عن ابن عباس رضی اللہ عنہما
ابن بشکوال نے محمد بن مروان، عن الکلبی، عن ابی صالح، عن ابن عباس کے طریق سے یہ روایت نقل کی ہے:
«فلما ضرب عليهن الحجاب قال رجل من قريش -وهو طلحة بن عبد الله-: أننهَى أن ندخل على بنات عمنا ونكلمهن إلا من وراء حجاب؟! أما والله لو قد مات النبي لأَتَزَوجن عائشة؛ فنزلت هذه الآية: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾»
ترجمہ: ’’جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے پردہ مقرر کر دیا گیا تو قریش کے ایک شخص، جسے طلحہ بن عبد اللہ کہا گیا ہے، نے کہا: کیا ہمیں اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ ہم اپنی چچا زاد عورتوں کے پاس جائیں اور ان سے گفتگو کریں، مگر پردے کے پیچھے سے؟ اللہ کی قسم! اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں عائشہ سے نکاح کروں گا۔‘‘ پس یہ آیت نازل ہوئی۔
[ابن بشكوال، غوامض الأسماء المبهمة 2/711]
لیکن یہ روایت موضوع قرار دی گئی ہے، کیونکہ اس میں دو ایسے راوی ہیں جن پر کذب اور ترک حدیث کی جرح منقول ہے۔
پہلا کذاب: محمد بن السائب الکلبی
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ الکلبی نے خود کہا:
«كل شيء أحدث عن أبي صالح فهو كذب»
ترجمہ: ’’ابو صالح سے میں جو کچھ بیان کرتا ہوں وہ جھوٹ ہے۔‘‘ [الكامل لابن عدي 7/276]
اور ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«الناس مجتمعون على ترك حديثه، لا يُشتغل به، هو ذاهب الحديث»
ترجمہ: ’’لوگ اس کی حدیث کو ترک کرنے پر متفق ہیں؛ اس کے ساتھ مشغول ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، اس کی حدیث ساقط ہے۔‘‘ [الجرح والتعديل 7/271]
مزید برآں ابن حبان نے اس کے مذہبی انحراف کے بارے میں بھی سخت کلام کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
«وكان الكلبي سَبَئِيًّا، من أصحاب عبد الله بن سبأ، من أولئك الذين يقولون: إن عليًّا لم يمت، وإنه راجع إلى الدنيا قبل قيام الساعة فيملؤها عدلًا كما ملئت جورًا، وإن رأوا سحابة قالوا: أمير المؤمنين فيها»
ترجمہ: ’’کلبی سبئی تھا اور عبد اللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے تھا۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو کہتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ وفات نہیں پائے بلکہ قیامت قائم ہونے سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے اور اسے عدل سے بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی، اور جب وہ کسی بادل کو دیکھتے تو کہتے کہ امیر المؤمنین اسی میں ہیں۔‘‘ [المجروحين 2/253]
پس ایسے راوی کی منفرد روایت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف عقیدے یا تاریخ کا کوئی دعویٰ قائم کرنا نہایت بعید از اصول محدثین ہے۔
دوسرا: محمد بن مروان السدی الصغیر
محمد بن مروان السدی الصغیر کے بارے میں بھی ائمہ حدیث نے نہایت سخت جرح کی ہے۔
جریر بن عبد الحمید نے فرمایا:
«كذاب»
ترجمہ: ’’وہ کذاب ہے۔‘‘
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا:
«ليس ثقة»
ترجمہ: ’’وہ ثقہ نہیں ہے۔‘‘
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے فرمایا:
«ليس بشيء»
ترجمہ: ’’وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔‘‘
صالح بن محمد البغدادی نے فرمایا:
«كان ضعيفًا، وكان يضع الحديث»
ترجمہ: ’’وہ ضعیف تھا اور حدیث گھڑا کرتا تھا۔‘‘
ابو حاتم رحمہ اللہ نے فرمایا:
«ذاهب الحديث، متروك الحديث، لا يكتب حديثه البتة»
ترجمہ: ’’اس کی حدیث ساقط ہے، وہ متروک الحدیث ہے، اس کی حدیث بالکل نہیں لکھی جائے گی۔‘‘
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:
«لا يُكْتَبُ حديثُه البتة»
ترجمہ: ’’اس کی حدیث ہرگز نہیں لکھی جائے گی۔‘‘
امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«متروك الحديث»
ترجمہ: ’’وہ متروک الحدیث ہے۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
«ليس بثقة، ولا يُكتب حديثُه»
ترجمہ: ’’وہ ثقہ نہیں ہے اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔‘‘ [الجرح والتعديل 8/86؛ تهذيب الكمال 26/393]
اور ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«كان ممن يرْوِي الموضوعات عن الأثبات، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة الاعتبار، لا الاحتجاج به بحال من الأحوال»
ترجمہ: ’’وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ راویوں سے منسوب کرکے موضوع روایات بیان کرتا تھا۔ اس کی حدیث کو صرف اعتبار کے لیے بھی لکھا جا سکتا ہے، مگر کسی حال میں اس سے حجت قائم کرنا جائز نہیں۔‘‘ [المجروحين 2/286]
یہاں غور کرنا چاہیے کہ جس سند میں ایک طرف ایسا راوی ہو جس کے بارے میں ’’کذاب‘‘ اور ’’یضع الحدیث‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہوں اور دوسری طرف کلبی جیسے سخت مجروح راوی کا واسطہ ہو، اس روایت کو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلاف دلیل بنانا اصول روایت کے سراسر خلاف ہے۔
تیسرا طریق: جویبر بن سعید کی روایت
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اس قصے کو جویبر بن سعید کی تفسیر کی طرف منسوب کیا ہے۔ وہ لباب النقول میں لکھتے ہیں:
«وأخرج جويبر عن ابن عباس أن رجلًا أتى بعض أزواج النبي فكلمها، وهو ابن عمها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تقومن هذا المقام بعد يومك هذا، فقال: يا رسول الله، إنها ابنة عمي، والله ما قلت لها منكرًا، ولا قالت لي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قد عرفت ذلك؛ إنه ليس أحد أغير من الله، وإنه ليس أحد أغير مني، فمضى، ثم قال: يمنعني من كلام ابنة عمي؟ لأتزوجنها من بعدُ، فأنزل الله هذه الآية. قال ابن عباس: فأعتق ذلك الرجل رقبة، وحمل على عشرة أبعرة في سبيل الله، وحج ماشيًا؛ توبة من كلمته»
ترجمہ: ’’جویبر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج کے پاس آیا اور ان سے گفتگو کی، جبکہ وہ ان کا چچا زاد تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’آج کے بعد تم اس مقام پر کھڑے نہ ہونا۔‘ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو میری چچا زاد ہیں، اللہ کی قسم! میں نے اس سے کوئی نامناسب بات نہیں کی اور نہ اس نے مجھ سے کوئی نامناسب بات کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میں یہ بات جانتا ہوں؛ بے شک اللہ سے بڑھ کر غیرت والا کوئی نہیں، اور مجھ سے بڑھ کر غیرت والا بھی کوئی نہیں۔‘ وہ شخص چلا گیا، پھر کہنے لگا: کیا مجھے اپنی چچا زاد سے گفتگو کرنے سے روکا جاتا ہے؟ میں تو اس کے بعد اس سے ضرور نکاح کروں گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس شخص نے اپنی اس بات سے توبہ کرتے ہوئے ایک غلام آزاد کیا، اللہ کی راہ میں دس اونٹ بھیجے اور پیدل حج کیا۔‘‘
[لباب النقول ص163]
لیکن یہاں بھی روایت کی سند موجود نہیں۔ علامہ سیوطی نے اسے جویبر کی تفسیر کی طرف منسوب کیا ہے، مگر کوئی متصل سند ذکر نہیں کی۔
اور صرف یہ بات بھی کافی ہے کہ یہ روایت جویبر بن سعید سے منقول ہے، جو محدثین کے نزدیک متروک ہے۔
علی بن مدینی رحمہ اللہ نے اسے سخت ضعیف قرار دیا، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا:
«ليس بشيء»
ترجمہ: ’’وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔‘‘
اور نسائی و دارقطنی رحمہما اللہ نے بھی اسے متروک قرار دیا۔ [تاريخ بغداد 8/180؛ الضعفاء والمتروكون للنسائي ص104؛ وللدارقطني ص147]
لہٰذا یہ تیسرا طریق بھی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی دلیل فراہم نہیں کرتا۔
تابعین سے منقول اقوال کی حقیقت
اب ان اقوال کی طرف آئیے جو بعض تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم سے منقول ہیں۔ ان میں بھی کوئی ایسی صحیح مرفوع روایت موجود نہیں جو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلاف حجت بن سکے۔
ابو امامہ اسعد بن سہل بن حنیف
ابو امامہ اسعد بن سہل بن حنیف نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا، مگر اہل علم کے نزدیک ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع ثابت نہیں۔
ابن سعد نے روایت کیا:
«أخبرنا محمد بن عمر، عن عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن إبراهيم بن عقبة قال: وحدثني عبد السلام بن موسى بن جبير، عن أبيه، عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال في قوله: ﴿إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ﴾ قال: إن تكلموا به فتقولوا: نتزوج فلانة، لبعض أزواج النبي، أو تخفوا ذلك في أنفسكم، فلا تنطقوا به يعلمه الله»
ترجمہ: ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ﴾ کے بارے میں کہا: ’’اگر تم اس معاملے کو زبان پر لاؤ اور کہو کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں سے نکاح کریں گے، یا اسے اپنے دلوں میں چھپاؤ اور زبان پر نہ لاؤ، اللہ اسے جانتا ہے۔‘‘
[ابن سعد، الطبقات 8/201]
یہ قول بذات خود بھی حجت نہیں، کیونکہ یہ صحابی کا مرفوع قول نہیں بلکہ ایک تابعی کی تفسیر ہے۔ پھر سند بھی صحیح نہیں، کیونکہ اس میں محمد بن عمر الواقدی موجود ہے۔
واقدی متروک ہے؛ امام بخاری و مسلم نے اسے ترک کیا اور امام احمد وغیرہ سے اس کے بارے میں سخت جرح منقول ہے۔ [تهذيب الكمال 26/188]
ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم
یہ صغار تابعین میں سے ہیں۔ ابن سعد نے ان سے روایت کیا:
«أخبرنا محمد بن عمر، حدثني عبد الله بن جعفر، عن ابن أبي عون، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم في قوله: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا﴾ قال: نزلت في طلحة بن عبيد الله؛ لأنه قال: إذا توفي رسول الله تزوجت عائشة»
ترجمہ: ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اس آیت کے بارے میں کہا: ’’یہ آیت طلحہ بن عبید اللہ کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ انہوں نے کہا تھا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا جائیں گے تو میں عائشہ سے نکاح کر لوں گا۔‘‘
[الطبقات 8/201]
لیکن یہ بھی گزشتہ روایت ہی کی مانند ہے۔ یہ ایک تابعی کا قول ہے، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ حدیث۔ مزید یہ کہ اس کی سند میں واقدی موجود ہے، جس کی حالت بیان ہو چکی۔
لہٰذا اسے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلاف قطعی دلیل بنانا کسی طرح درست نہیں۔
عبد الرحمن بن زید بن اسلم
امام طبری نے ان سے نقل کیا:
«حدثني يونس قال: أخبرنا ابن وهب قال: قال ابن زيد في قوله: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ قال: ربما بلغ النبي أن الرجل يقول: لو أن النبي توفي تزوجت فلانة من بعده، قال: فكان ذلك يؤذي النبي»
ترجمہ: عبد الرحمن بن زید بن اسلم نے فرمایا: ’’کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچتی کہ کوئی شخص کہتا ہے: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں ان کے بعد فلاں سے نکاح کر لوں گا۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتی تھی۔‘‘
[تفسير الطبري 19/170]
یہ روایت بھی حجت نہیں؛ کیونکہ یہ عبد الرحمن بن زید کی طرف سے مرسل ہے، اور خود وہ حدیث میں ضعیف راوی ہیں۔
امام احمد، علی بن مدینی، ابو زرعہ، نسائی اور دارقطنی رحمہم اللہ نے انہیں ضعیف قرار دیا، جبکہ ابن معین رحمہ اللہ نے فرمایا:
«ليس بشيء»
ترجمہ: ’’وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔‘‘ [تهذيب الكمال 17/117]
پس اس روایت سے بھی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی تعیین ثابت نہیں ہوتی۔
قتادہ کی روایت
عبد الرزاق نے معمر کے واسطے سے قتادہ سے روایت کیا:
«أن رجلًا قال: لو قبض النبي لتزوجت فلانة، يعني عائشة، فأنزل الله تعالى: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾»
ترجمہ: ’’ایک شخص نے کہا: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں فلاں عورت سے، یعنی عائشہ سے، نکاح کر لوں گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‘‘
[تفسير عبد الرزاق، رقم 2372]
یہ روایت بھی منقطع ہے؛ کیونکہ قتادہ کی اکثر روایات بڑے تابعین سے ہیں۔
اور بالفرض یہ قتادہ ہی کا اپنا قول مان لیا جائے، تب بھی تابعی کا ایسا قول حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلاف حجت نہیں بن سکتا۔
ابن عطیہ رحمہ اللہ کی صریح تردید
اسی لیے امام ابن عطیہ رحمہ اللہ نے اس نسبت کو قبول نہیں کیا اور نہایت واضح الفاظ میں فرمایا:
«وهذا عندي لا يصح على طلحة، الله عاصِمُه منه»
ترجمہ: ’’میرے نزدیک یہ بات طلحہ کے بارے میں صحیح نہیں ہے؛ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے محفوظ رکھا ہے۔‘‘ [تفسير ابن عطية 4/396]
یہ جملہ اس مسئلے میں نہایت اہم ہے؛ کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اہل تفسیر میں بھی ایسے محقق اہل علم موجود تھے جنہوں نے اس نسبت کو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے حق میں صحیح تسلیم نہیں کیا۔
ثانیا: قصے میں مذکور طلحہ، عشرہ مبشرہ میں سے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نہیں
اس مسئلے کا دوسرا نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ اہل علم کی ایک جماعت نے صراحت کی ہے کہ اگر اس قصے کو کسی اصل کے ساتھ تسلیم بھی کیا جائے تو اس میں مذکور شخص عشرہ مبشرہ میں سے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نہیں۔
بلکہ وہ ایک دوسرا شخص تھا: طلحہ بن عبید اللہ بن مسافع بن عیاض۔
ابن الاثیر رحمہ اللہ کی تصریح
ابن الاثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«سمي طلحة الخير أيضًا، كما سمي طلحة ابن عبيد الله، الذي من العشرة، وأشكل على الناس وقيل: إنه الذي نزل في أمره: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا﴾ وذلك أنه قال: لئن مات رسول الله لأتزوجن عائشة، فغلط لذلك جماعة من أهل التفسير، فظنوا أنه طلحة بن عبيد الله الذي من العشرة، لما رأوه طلحة بن عبيد الله التيمي القرشي، وهو صحابي»
ترجمہ: ’’اس کا نام بھی طلحہ الخیر تھا، جیسا کہ عشرہ مبشرہ میں سے طلحہ بن عبید اللہ کو بھی طلحہ الخیر کہا جاتا ہے۔ لوگوں پر معاملہ مشتبہ ہوگیا اور کہا گیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے کہا تھا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں عائشہ سے ضرور نکاح کروں گا۔ چنانچہ بعض اہل تفسیر سے اس معاملے میں غلطی ہوئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ وہی طلحہ بن عبید اللہ ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ وہ طلحہ بن عبید اللہ تیمی قرشی اور صحابی ہیں۔‘‘
[أسد الغابة 3/88]
یہاں معاملے کی اصل گرہ کھل جاتی ہے: محض نام اور نسب کے بعض اجزاء کے مشترک ہونے سے دو الگ اشخاص کو ایک سمجھ لینا علمی تحقیق نہیں۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی مزید وضاحت
علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وقد كنت في وقفة شديدة من صحة هذا الخبر؛ لأن طلحة أحد العشرة أجلُّ مقامًا من أن يصدر منه ذلك، حتى رأيت بعد ذلك أنه رجل آخر شاركه في اسمه واسم أبيه ونسبه»
ترجمہ: ’’میں اس خبر کی صحت کے بارے میں سخت تردد میں تھا؛ کیونکہ طلحہ، جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، اس سے کہیں بلند مقام رکھتے ہیں کہ ان سے ایسی بات صادر ہو۔ یہاں تک کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایک دوسرا شخص ہے جو ان کے نام، والد کے نام اور نسب میں ان کے ساتھ مشترک تھا۔‘‘
پھر وہ دونوں کے مکمل نسب بیان کرتے ہیں:
«فإن طلحة المشهور الذي هو أحد العشرة: (طلحة بن عبيد الله بن عثمان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم التيمي)، وطلحة صاحب القصة: (طلحة بن عبيد الله بن مُسافع بن عياض بن صخر بن عامر بن كعب بن سعد بن تيم التيمي)، قال أبو موسى في الذيل عن ابن شاهين في ترجمته: هو الذي نزل فيه: [ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ] {الأحزاب:53}، وذلك أنه قال: لئن مات رسول الله ق لأتزوجن عائشة، وقال: إن جماعة من المفسرين غلطوا، وظنوا أنه طلحة أحد العشرة»
ترجمہ: ’’چنانچہ مشہور طلحہ، جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، وہ ہیں: طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم التیمی۔ اور قصے میں مذکور طلحہ ہیں: طلحہ بن عبید اللہ بن مُسافع بن عیاض بن صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم التیمی۔‘‘ ابو موسیٰ نے الذیل میں ابن شاہین سے ان کے ترجمے میں نقل کیا ہے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں آیت: «﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ﴾» نازل ہوئی تھی، کیونکہ اس نے کہا تھا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں عائشہ سے ضرور نکاح کروں گا۔ پھر یہ بھی بیان کیا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے غلطی کی اور گمان کیا کہ یہ عشرہ مبشرہ میں سے طلحہ تھے۔‘‘
[الحاوي في الفتاوي 2/116]
اس تمام بحث کے بعد حقیقت یہ ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ واقعہ صحیح سند سے ثابت نہیں۔
بلکہ جو روایات اس سلسلے میں پیش کی جاتی ہیں، ان میں کہیں سخت ضعیف راوی ہیں؛ کہیں متروک راوی ہیں؛ کہیں کذاب راوی ہیں؛ کہیں موضوع روایت کا حکم ہے؛ کہیں سند منقطع ہے؛ کہیں روایت مرسل ہے؛ اور کہیں صرف تابعی کا قول ہے، جسے صحابی کے خلاف حجت نہیں بنایا جا سکتا۔
لہٰذا کسی ایسے واقعے کو، جس کے طرق محدثین کے معیار پر قائم نہیں، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کے خلاف طعن اور الزام کا ذریعہ بنانا علمی تحقیق نہیں بلکہ ضعیف روایات سے استدلال ہے۔
مزید برآں، اہل علم کی ایک جماعت نے واضح کیا ہے کہ قصے میں مذکور شخص، اگر قصہ کسی اصل کے ساتھ مانا بھی جائے، تو عشرہ مبشرہ میں سے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ ایک دوسرا شخص ہے۔
اور بعض اہل علم نے اس واقعے کی اصل نسبت ہی کو رد کیا ہے۔ اسی لیے علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم میں اس مسئلے پر نہایت واضح کلام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان:
«﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾»
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
«أي: ما ينبغي ولا يحل ولا يجوز شيء من ذلك بوجه من الوجوه»
ترجمہ: ’’یعنی ان میں سے کوئی چیز کسی بھی صورت میں مناسب، حلال اور جائز نہیں۔‘‘
پھر فرماتے ہیں:
«ويقال: إن هذه الآية نزلت لما قال بعضهم وقد تكلم مع زوجة من زوجات النبي: لأتزوجن بها بعده؛ فأنزل الله الآية»
ترجمہ: ’’یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بعض لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ سے گفتگو کے بعد کہا: ’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس سے ضرور نکاح کروں گا۔‘ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‘‘
لیکن اس کے بعد علامہ قرطبی رحمہ اللہ اصل اصولی بات بیان کرتے ہیں:
«وقد حُكِيَ هذا القول عن بعض فضلاء الصحابة، وحاشاهم عن مثله، وإنما الكذب في نقله، وإنما يليق مثل هذا القول بالمنافقين الجهال»
ترجمہ: ’’یہ قول بعض فضلاء صحابہ کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے، حالانکہ وہ اس جیسی بات سے پاک ہیں۔ اصل خرابی اس کی نقل میں واقع ہونے والے کذب کی ہے۔ ایسی بات تو جاہل منافقین ہی کے شایان شان ہے۔‘‘
[المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم 4/150]
پس کسی روایت کا کسی کتاب میں موجود ہونا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ محدثین کا منہج یہ ہے کہ خبر کو سند، راویوں اور اتصال سند کے میزان پر پرکھا جائے۔ جب سند ہی ساقط ہو تو محض قصے کے متن کو بنیاد بنا کر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام عائد کرنا قابل قبول نہیں۔
اور خاص طور پر حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں معاملہ اور بھی زیادہ واضح ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی، عشرہ مبشرہ میں سے اور اہل اسلام کے نزدیک معروف فضائل کے حامل ہیں۔ لہٰذا ان کی طرف کسی سنگین قول کی نسبت کے لیے صحیح اور صریح دلیل درکار ہے، نہ کہ متروک، منقطع، مرسل اور مجروح طرق کا مجموعہ۔
والحاصل: شیعہ اعتراض کی بنیاد جس روایت پر رکھی جاتی ہے، وہ حدیثی اعتبار سے ثابت نہیں؛ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی طرف اس قول کی نسبت صحیح سند سے ثابت نہیں۔ بلکہ متعدد اہل علم نے اس نسبت کو رد کیا، اور بعض نے واضح کیا کہ قصے میں مذکور طلحہ ایک دوسرا شخص تھا۔ لہٰذا اس ضعیف تاریخی نقل کو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کا ذریعہ بنانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
والله أعلم بالصواب، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، والحمد للہ رب العالمین۔