• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صالحین کے غلو سے حکمران پرستی تک شرک کے دروازے غلو ہی سے کھلتے ہیں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
892
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
صالحین کے غلو سے حکمران پرستی تک شرک کے دروازے غلو ہی سے کھلتے ہیں

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علیٰ رسولہ الأمین، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد:

اسلام کے بنیادی عقائد میں یہ حقیقت کسی اشتباہ کی محتاج نہیں کہ توحید انسانیت کا اولین دین ہے اور شرک بعد میں پیدا ہونے والی گمراہی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے انسان اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم تھا، پھر شیطان نے انسان کو براہ راست بت پرستی کا حکم نہیں دیا، بلکہ پہلے غلو کا راستہ کھولا، پھر اسی غلو کو شرک تک پہنچانے کا ذریعہ بنایا۔


شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں: «كان الناس على دين أبيهم آدم موحدين لله عز وجل، إلى أن جاء وقت نوح عليه السلام» یعنی لوگ اپنے باپ آدم علیہ السلام کے دین پر اللہ تعالیٰ کے موحدین تھے، یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ آیا۔

پھر شیخ صالح الفوزان نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں شرک کے آغاز کا سبب بیان فرمایا: «وكان هناك رجال صالحون، هم المذكورون في الآية: ﴿لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَيَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾» یعنی وہاں کچھ صالحین تھے، جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے: اور اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا، اور نہ ود کو چھوڑنا، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔

پھر شیخ صالح الفوزان وضاحت فرماتے ہیں: «هذه أسماء رجال صالحين ماتوا في سنة واحدة، ففقدهم قومهم وحزنوا عليهم حزنا شديدا» یہ ایسے صالحین کے نام تھے جو ایک ہی سال میں فوت ہوگئے، قوم نے انہیں کھو دیا اور ان کی وفات پر شدید غمگین ہوئی۔

یہاں سے عبرت کا وہ باب شروع ہوتا ہے جسے غلو پسند لوگ عموما نظر انداز کردیتے ہیں۔ شیطان پہلے شرک نہیں، غلو پیش کرتا ہے۔ شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:

«فجاءهم الشيطان وقال صوروا صورهم وانصبوها في مجالسكم، من أجل أن تتذكروهم وتتذكروا عبادتهم، فتنشطوا على العبادة» شیطان ان کے پاس آیا اور کہا کہ ان صالحین کی تصویریں بناؤ اور اپنی مجلسوں میں نصب کرو، تاکہ تم انہیں اور ان کی عبادت کو یاد کرو اور عبادت کے لیے تمہیں نشاط حاصل ہو۔

غور کیجیے! شیطان نے ابتدا میں یہ نہیں کہا کہ ان صالحین کو اللہ کے برابر معبود بنا لو۔ بلکہ اس نے نیکی، محبت، یاد، تعظیم اور عبادت کی ترغیب کا پردہ استعمال کیا۔ پھر جب زمانہ گزرا اور علم کم ہوا تو وہی چیز شرک بن گئی۔

شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:

«ثم جاءهم مرة ثانية لما طال الوقت ألف سنة، طال الوقت ألف سنة، جاءهم الشيطان مرة ثانية لما جاء قوم جهال، فقال إن آبائكم ما نصبوا هذه الصور إلا ليعبدوها من دون الله، وبها كانوا يسقون المطر»

پھر جب ایک طویل زمانہ گزر گیا، تقریبا ایک ہزار سال، اور جاہل لوگوں کی ایک نسل آئی، تو شیطان دوبارہ ان کے پاس آیا۔ اس نے کہا: تمہارے آباؤ اجداد نے یہ تصویریں صرف اس لیے نصب کی تھیں کہ وہ ان کی اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، اور انہی کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے۔

اور بالآخر: «فعبدوها والعياذ بالله، عبدوا تلك الصور، ومن هذا الوقت حدث الشرك في الأرض» پس انہوں نے ان کی عبادت شروع کردی، اللہ کی پناہ! انہوں نے ان تصاویر ہی کی عبادت کی، اور اسی وقت سے زمین میں شرک پیدا ہوا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اہل توحید کو رک کر سوچنا چاہیے کہ غلو کبھی بے ضرر نہیں ہوتا۔ جو شخص آج کسی مخلوق کے بارے میں حد سے بڑھتا ہے، اسے غلو کی پہلی منزل ہی پر روکنا چاہیے؛ یہ انتظار کرنا کہ وہ کھلے طور پر شرک کرے تب اسے روکا جائے، شریعت کے مزاج سے ناواقفیت ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم اصول سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر صالحین کے بارے میں غلو انسان کو شرک تک پہنچا سکتا ہے تو حکمرانوں کے بارے میں غلو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ بلکہ آج کے دور میں یہی غلو حکمرانوں کے بارے میں اپنے انتہائی بھیانک روپ میں ظاہر ہورہا ہے۔

لوگ ان حکمرانوں کو بھی شرعی ولی امر قرار دے رہے ہیں، جو ما أنزل اللہ کے بغیر حکم چلاتے ہیں، وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں، اور طاغوت کے نظام کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ غلو محض سیاسی مصلحت نہیں، بلکہ حاکمیت میں اللہ تعالٰی کی توحید کا کھلا انکار ہے، اور شرک اکبر کی واضح شکل ہے۔

شیطان نے شرک کو نیکی کے پردے میں داخل کیا، اور آج اسے اطاعت اولی الامر کے جھوٹے نعرے کے پردے میں داخل کر رہا ہے۔ آج کے دور کے شیاطین بہت چالاکی سے ان طاغوتی حکمرانوں سے محبت کرواتے ہیں، ان کی اطاعت کرواتے ہیں، انہیں شرعی ولی امر مانواتے ہیں، چاہے وہ قرآن و سنت کے خلاف وضعی قوانین نافذ کریں۔

وہ شیاطین تحاکم الی طاغوت کی طرف بلاتے ہیں کہ طاغوتی عدالتوں میں جاؤ جو اللہ کے قانون کے بجائے انسانوں کے بنائے قوانین پر فیصلہ کرتی ہیں۔ ان کے وضعی قوانین کو تسلیم کرو، کیونکہ یہ طاغوتی حکمران ہی ولی امر ہیں اور فتنہ سے بچنا ضروری ہے۔

اسلام نے کسی حکمران کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرے، یا شریعت کے مقابلے میں اپنی خواہش، دستور، قانون یا کسی انسانی نظام کو مصدر تشریع بنائے۔

یہ سب ضلالت شرک اکبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا: «إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ» حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ اور فرمایا: «وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ» اور جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں۔

پس موجودہ دور کے طاغوتی حکمرانوں کو شرعی ولی امر قرار دینا حاکمیت میں اللہ سبحانہ و تعالٰی کی توحید کا انکار ہے، اور تحاکم الی طاغوت کا ارتکاب کھلا شرک ہے۔ وضعی قوانین کو تسلیم کرنا اللہ کے دین سے بغاوت ہے، اور جاہلیت کی طرف لوٹنا ہے۔

قوم نوح کی داستان میں انتہائی اہم سبق موجود ہے کہ شرک ہمیشہ ابتدا ہی میں بت پرستی کے کھلے عنوان کے ساتھ نہیں آتا۔ پہلے کہا جاتا ہے یہ تو صرف صالحین کی یاد ہے۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تو صرف ان کی تعظیم ہے۔ پھر کہا جاتا ہے یہ اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ پھر کہا جاتا ہے ان کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ پھر انسان ان سے فریاد شروع کردیتا ہے۔

آج بھی پہلے کہا جاتا ہے حکمرانوں سے محبت کرو۔ پھر کہا جاتا ہے ان کی اطاعت کرو۔ پھر کہا جاتا ہے وہ شرعی ولی امر ہیں۔ پھر کہا جاتا ہے ان کے وضعی قوانین کو مانو۔ پھر کہا جاتا ہے تحاکم الی طاغوت کرو۔ بالآخر عبادت کے وہ اعمال جو صرف اللہ کا حق ہیں یعنی حکم، قانون سازی، اور مطلق اطاعت وہ مخلوق کے لیے انجام دیے جانے لگتے ہیں۔

لہٰذا جو شخص شرک کے اسباب سے خبردار کرنے والوں کو وہابی، خارجی، تکفیری، حکمرانوں کا دشمن، یا فتنہ انگیز کہہ کر خاموش کرانا چاہتا ہے، اسے پہلے قوم نوح کا واقعہ پڑھنا چاہیے، اور پھر اللہ کے اس فرمان پر غور کرنا چاہیے: «أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ» کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ اور یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟

وضعی قوانین جاہلیت کے احکام ہیں، اور ان کو تسلیم کرنا جاہلیت کی طرف لوٹنا ہے۔ جو شخص حکم بغیر ما أنزل اللہ کے مرتکب کو شرعی ولی امر قرار دے اور اس کی اطاعت کرے، وہ طاغوت کی عبادت کر رہا ہے، چاہے وہ کتنی ہی مصلحت کی بات کرے۔ وضعی قوانین کو تسلیم کرنا اللہ کے دین سے خروج ہے۔ موجودہ دور میں یہ شرک سب سے زیادہ ہو رہا ہے، اور لوگ اسے اطاعت اولی الامر کا نام دے کر جواز فراہم کر رہے ہیں۔

اس لیے صالحین یا حکمرانوں کی محبت کے نام پر حدود شریعت سے تجاوز کرنا کوئی معمولی لغزش نہیں؛ بلکہ یہ وہ خطرناک راستہ ہے جس کے آخری سرے پر انسان عبادت الٰہی چھوڑ کر مخلوق کی عبادت میں مبتلا ہوسکتا ہے، اور طاغوت کو ولی امر بنا کر اللہ کے دین سے باہر نکل سکتا ہے۔ یہی آج کا سب سے بڑا شرک ہے، اور اس کے خلاف کھل کر بولنا توحید کا تقاضہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خالص توحید پر قائم رکھے، شرک جلی و خفی سے محفوظ فرمائے، صالحین کی محبت عطا فرمائے مگر غلو سے بچائے، حکمرانوں کی محبت میں حدود شریعت سے تجاوز سے بچائے، تحاکم الی طاغوت اور وضعی قوانین کی تسلیم سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں کتاب و سنت کے مطابق حق کو حق سمجھ کر اس کی اتباع اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمين، وصلى اللہ على نبينا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعين۔
 
Top