صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم کی گستاخی کرنا حرام ہے
امام مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ (متوفی ۱۷۹ھ) فرماتے ہیں:
من يبغض أصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم فليس له في الفئ نصيب
’’جو شخص رسو ل اللہ ﷺ کے صحابی سے بغض رکھتا ہے تو فئ (مالِ غنیمت) میں سے اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘پھر آپ نے
سورۃ الحشر کی تین آیات (۸تا ۱۰) تلاوت کیں اور فرمایا:
اور وہ آیات یہ ہیں:
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (8) وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (9) وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (10)
فمن يبغضهم فلا حق له في فئ المسلمين
’’لہٰذا جو شخص ان (صحابہ رضی اللہ عنہم) سے بغض رکھتا ہے تو مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
(الطیوریات ج۱ص۸۹،۹۰ح۶۹وسندہ صحیح،حلیۃ الاولیاء ۶؍۳۲۷،نیز دیکھئے السنن الکبریٰ للبیہقی ج۶ص۳۷۲وسندہ صحیح)
فئ اس مالِ غنیمت کو کہتے ہیں جو مسلمانوں کو بغیر جنگ کے حاصل ہو جائے ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی کرنے والے لوگ اتنے بڑے گمراہ ہیں کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے مشہور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مالِ غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
(الحدیث :۵۱ص۳)