الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
صحيح البخاري - مولانا محمد داؤد راز رحمہ اللہ - جلد ٥ - احادیث ٣٧٧٦سے ٤٨٣٥
29- بَابُ غَزْوَةُ الرَّجِيعِ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبِئْرِ مَعُونَةَ: باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان
وَحَدِيثِ عَضَلٍ وَالْقَارَةِ وَعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ، وَخُبَيْبٍ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ أَنَّهَا بَعْدَ أُحُدٍ. اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان اور عضل اور قارہ کا قصہ اور عاصم بن ثابت اور خبیب اور ان کے ساتھیوں کا قصہ۔ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ ہم سے عاصم بن عمر نے بیان کیا کہ غزوہ رجیع غزوہ احد کے بعد پیش آیا۔
حدیث نمبر: 4086
حَدَّثَنِيإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَاهِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْمَعْمَرٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْعَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لَحْيَانَ، فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَامٍ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى أَتَوْا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنْ الْمَدِينَةِ، فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَتَبِعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ، فَلَمَّا انْتَهَى عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ، وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ، فَقَالُوا: لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ بِالنَّبْلِ وَبَقِيَ خُبَيْبٌ وَزَيْدٌ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، فَلَمَّا أَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا: هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ عَلَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَلَمْ يَفْعَلْ فَقَتَلُوهُ، وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدٍ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ، قَالَتْ: فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَ ذَاكَ مِنِّي وَفِي يَدِهِ الْمُوسَى، فَقَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَاكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَكَانَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ، فَخَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ، فَقَالَ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، ثُمَّ قَالَ: مَا أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ، وَكَانَ عَاصِمٌ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ". مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاسوسی کے لیے ایک جماعت (مکہ، قریش کی خبر لانے کے لیے) بھیجی اور اس کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا ہیں۔ یہ جماعت روانہ ہوئی اور جب عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچی تو قبیلہ ہذیل کے ایک قبیلے کو جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا، ان کا علم ہو گیا اور قبیلہ کے تقریباً سو تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے نشانات قدم کو تلاش کرتے ہوئے چلے۔ آخر ایک ایسی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں صحابہ کی اس جماعت نے پڑاؤ کیا تھا۔ وہاں ان کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو صحابہ مدینہ سے لائے تھے۔ قبیلہ والوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجور (کی گھٹلی) ہے اب انہوں نے پھر تلاش شروع کی اور صحابہ کو پا لیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو صحابہ کی اس جماعت نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر پناہ لی۔ قبیلہ والوں نے وہاں پہنچ کر ٹیلہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور صحابہ سے کہا کہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہتھیار ڈال دیئے تو ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ اس پر عاصم رضی اللہ عنہ بولے کہ میں تو کسی کافر کی حفاظت و امن میں خود کو کسی صورت میں بھی نہیں دے سکتا۔ اے اللہ! ہمارے ساتھ پیش آنے والے حالات کی خبر اپنے نبی کو پہنچا دے۔ چنانچہ ان صحابہ نے ان سے قتال کیا اور عاصم اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ ان کے تیروں سے شہید ہو گئے۔ خبیب، زید اور ایک اور صحابی ان کے حملوں سے ابھی محفوظ تھے۔ قبیلہ والوں نے پھر حفاظت و امان کا یقین دلایا۔ یہ حضرات ان کی یقین دہانی پر اتر آئے۔ پھر جب قبیلہ والوں نے انہیں پوری طرح اپنے قبضے میں لے لیا تو ان کی کمان کی تانت اتار کر ان صحابہ کو انہیں سے باندھ دیا۔ تیسرے صحابہ جو خبیب اور زید کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ پہلے تو قبیلہ والوں نے انہیں گھسیٹا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے زور لگاتے رہے لیکن جب وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے تو انہیں وہیں قتل کر دیا اور خبیب اور زید کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر انہیں مکہ میں لا کر بیچ دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا۔ وہ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی کی حیثیت سے رہے۔ جس وقت ان سب کا خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل پر اتفاق ہو چکا تو اتفاق سے انہیں دنوں حارث کی ایک لڑکی (زینب) سے انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا اور انہوں نے ان کو استرہ بھی دے دیا تھا۔ ان کا بیان تھا کہ میرا لڑکا میری غفلت میں خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ میں نے جو اسے اس حالت میں دیکھا تو بہت گھبرائی۔ انہوں نے میری گھبراہٹ کو جان لیا، استرہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، کیا تمہیں اس کا خطرہ ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ ان شاءاللہ میں ہرگز ایسا نہیں کر سکتا۔ ان کا بیان تھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر قیدی میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ اس وقت مکہ میں کسی طرح کا پھل موجود نہیں تھا جبکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی تھے، تو وہ اللہ کی بھیجی ہوئی روزی تھی۔ پھر حارث کے بیٹے قتل کرنے کے لیے انہیں لے کر حرم کے حدود سے باہر گئے۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو (انہوں نے اجازت دے دی اور)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے فرمایا کہ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو اور زیادہ نماز پڑھتا۔ خبیب رضی اللہ عنہ ہی پہلے وہ شخص ہیں جن سے قتل سے پہلے دو رکعت نماز کا طریقہ چلا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے لیے بددعا کی، اے اللہ! انہیں ایک ایک کر کے ہلاک کر دے اور یہ اشعار پڑھے جب کہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر اللہ کی راہ میں مجھے قتل کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ چاہے گا تو جسم کے ایک ایک کٹے ہوئے ٹکڑے میں برکت دے گا۔ پھر عقبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر انہیں شہید کر دیا اور قریش نے عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کے لیے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی بھی حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے قریش کے ایک بہت بڑے، سردار کو بدر کی لڑائی میں قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی ایک فوج کو بادل کی طرح ان کے اوپر بھیجا اور ان بھڑوں نے ان کی لاش کو قریش کے آدمیوں سے محفوظ رکھا اور قریش کے بھیجے ہوئے یہ لوگ (ان کے پاس نہ پھٹک سکے) کچھ نہ کر سکے۔
حدیث نمبر: 4087
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، عَنْعَمْرٍو، سَمِعَجَابِرًا، يَقُولُ: "الَّذِي قَتَلَ خُبَيْبًا هُوَ أَبُو سِرْوَعَةَ". ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر سے سنا کہ خبیب رضی اللہ عنہ کو ابوسروعہ (عقبہ بن عامر) نے قتل کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4088
حَدَّثَنَاأَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ رَجُلًا لِحَاجَةٍ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فَعَرَضَ لَهُمْ حَيَّانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، رِعْلٌ، وَذَكْوَانُ عِنْدَ بِئْرٍ يُقَالُ لَهَا: بِئْرُ مَعُونَةَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: وَاللَّهِ مَا إِيَّاكُمْ أَرَدْنَا إِنَّمَا نَحْنُ مُجْتَازُونَ فِي حَاجَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُمْ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَسَأَلَ رَجُلٌ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبَعْدَ الرُّكُوعِ أَوْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ: لَا بَلْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ. ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر صحابہ کی ایک جماعت تبلیغ اسلام کے لیے بھیجی تھی۔ انہیں قاری کہا جاتا تھا۔ راستے میں بنو سلیم کے دو قبیلے رعل اور ذکوان نے ایک کنویں کے قریب ان کے ساتھ مزاحمت کی۔ یہ کنواں بئرمعونہ کے نام سے مشہور تھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم تمہارے خلاف، یہاں لڑنے نہیں آئے بلکہ ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک ضرورت پر مامور کیا گیا ہے۔ لیکن کفار کے ان قبیلوں نے تمام صحابہ کو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں ان کے لیے ایک مہینہ تک بددعا کرتے رہے۔ اسی دن سے دعا قنوت کی ابتداء ہوئی، ورنہ اس سے پہلے ہم دعا قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے اور عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ ایک صاحب (عاصم احول) نے انس رضی اللہ عنہ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا کہ یہ دعا رکوع کے بعد پڑھی جائے گی یا قرآت قرآن سے فارغ ہونے کے بعد؟ (رکوع سے پہلے) انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ قرآت قرآن سے فارغ ہونے کے بعد(رکوع سے پہلے)۔
حدیث نمبر: 4089
حَدَّثَنَامُسْلِمٌ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، حَدَّثَنَاقَتَادَةُ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: "قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ". ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک قنوت پڑھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے چند قبائل (رعل و ذکوان وغیرہ) کے لیے بددعا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4090
حَدَّثَنِيعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَايَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَاسَعِيدٌ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَدُوٍّ، فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ وَغَدَرُوا بِهِمْ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو فِي الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لَحْيَانَ. قَالَ أَنَسٌ: فَقَرَأْنَا فِيهِمْ قُرْآنًا، ثُمَّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لِحْيَانَ، زَادَخَلِيفَةُ: حَدَّثَنَايَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَاسَعِيدٌ، عَنْقَتَادَةَ، حَدَّثَنَاأَنَسٌ: أَنَّ أُولَئِكَ السَّبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا كِتَابًا، نَحْوَهُ. مجھ سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دشمنوں کے مقابل مدد چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاری صحابہ کو ان کی کمک کے لیے روانہ کیا۔ ہم ان حضرات کو قاری کہا کرتے تھے۔ اپنی زندگی میں معاش کے لیے دن میں لکڑیاں جمع کرتے تھے اور رات میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب یہ حضرات بئرمعونہ پر پہنچے تو ان قبیلے والوں نے انہیں دھوکا دیا اور انہیں شہید کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز میں ایک مہینے تک بددعا کی۔ عرب کے انہیں چند قبائل رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان صحابہ کے بارے میں قرآن میں (آیت نازل ہوئی اور) ہم اس کی تلاوت کرتے تھے۔ پھر وہ آیت منسوخ ہو گئی(آیت کا ترجمہ) ہماری طرف سے ہماری قوم (مسلمانوں) کو خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس آ گئے ہیں۔ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہمیں بھی (اپنی نعمتوں سے) اس نے خوش رکھا ہے۔ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں، عرب کے چند قبائل یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے بددعا کی تھی۔ خلیفہ بن خیاط (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ستر صحابہ قبیلہ انصار سے تھے اور انہیں بئرمعونہ کے پاس شہید کر دیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 4091
حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاهَمَّامٌ، عَنْإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَنَسٌ،"أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ أَخٌ لِأُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَاكِبًا، وَكَانَ رَئِيسَ الْمُشْرِكِينَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ خَيَّرَ بَيْنَ ثَلَاثِ خِصَالٍ، فَقَالَ: يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَلِي أَهْلُ الْمَدَرِ أَوْ أَكُونُ خَلِيفَتَكَ أَوْ أَغْزُوكَ بِأَهْلِ غَطَفَانَ بِأَلْفٍ وَأَلْفٍ، فَطُعِنَ عَامِرٌ فِي بَيْتِ أُمِّ فُلَانٍ، فَقَالَ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَكْرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ آلِ فُلَانٍ، ائْتُونِي بِفَرَسِي فَمَاتَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ أَعْرَجُ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: كُونَا قَرِيبًا حَتَّى آتِيَهُمْ فَإِنْ آمَنُونِي كُنْتُمْ وَإِنْ قَتَلُونِي أَتَيْتُمْ أَصْحَابَكُمْ، فَقَالَ: أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ، فَأَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ، قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسِبُهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقُتِلُوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْنَا، ثُمَّ كَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ إِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَبَنِي لَحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ٰ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں، ام سلیم (انس کی والدہ) کے بھائی کو بھی ان ستر سواروں کے ساتھ بھیجا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مشرکوں کے سردار عامر بن طفیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے(شرارت اور تکبر سے) تین صورتیں رکھی تھیں۔ اس نے کہا کہ یا تو یہ کیجئے کہ دیہاتی آبادی پر آپ کی حکومت ہو اور شہری آبادی پر میری ہو یا پھر مجھے آپ کا جانشیں مقرر کیا جائے ورنہ پھر میں ہزاروں غطفانیوں کو لے کر آپ پر چڑھائی کر دوں گا۔ (اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی) اور ام فلاں کے گھر میں وہ مرض طاعون میں گرفتار ہوا۔ کہنے لگا کہ اس فلاں کی عورت کے گھر کے جوان اونٹ کی طرح مجھے بھی غدود نکل آیا ہے۔ میرا گھوڑا لاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر ہی مر گیا۔ بہرحال ام سلیم کے بھائی حرام بن ملحان ایک اور صحابی جو لنگڑے تھے اور تیسرے صحابی جن کا تعلق بنی فلاں سے تھا، آگے بڑھے۔ حرام نے (اپنے دونوں ساتھیوں سے بنو عامر تک پہنچ کر پہلے ہی) کہہ دیا کہ تم دونوں میرے قریب ہی کہیں رہنا۔ میں ان کے پاس پہلے جاتا ہوں اگر انہوں نے مجھے امن دے دیا تو تم لوگ قریب ہی ہو اور اگر انہوں نے قتل کر دیا تو آپ حضرات اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔ چنانچہ قبیلہ میں پہنچ کر انہوں نے ان سے کہا، کیا تم مجھے امان دیتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام تمہیں پہنچا دوں؟ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام انہیں پہنچانے لگے تو قبیلہ والوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے آ کر ان پر نیزہ سے وار کیا۔ ہمام نے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ نیزہ آر پار ہو گیا تھا۔ حرام کی زبان سے اس وقت نکلا اللہ اکبر، کعبہ کے رب کی قسم! میں نے تو اپنی مراد حاصل کر لی۔ اس کے بعد ان میں سے ایک صحابی کو بھی مشرکین نے پکڑ لیا (جو حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور انہیں بھی شہید کر دیا) پھر اس مہم کے تمام صحابہ کو شہید کر دیا۔ صرف لنگڑے صحابی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے۔ ان شہداء کی شان میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی، بعد میں وہ آیت منسوخ ہو گئی (آیت یہ تھی) «إنا قد لقينا ربنا فرضي عنا وأرضانا.» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ کے لیے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی تیس دن تک صبح کی نماز میں بددعا کی۔
حدیث نمبر: 4092
حَدَّثَنِيحِبَّانُ، أَخْبَرَنَاعَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَامَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِيثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍأَنَّهُ، سَمِعَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ وَكَانَ خَالَهُ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، قَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا فَنَضَحَهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ". مجھ سے حبان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، ان کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب حرام بن ملحان کو جو ان کے ماموں تھے بئرمعونہ کے موقع پر زخمی کیا گیا تو زخم پر سے خون کو ہاتھ میں لے کر انہوں نے اپنے چہرہ اور سر پر لگا لیا اور کہا کعبہ کے رب کی قسم! میری مراد حاصل ہو گئی۔
حدیث نمبر: 4093
حَدَّثَنَاعُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاأَبُو أُسَامَةَ، عَنْهِشَامٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخُرُوجِ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْأَذَى، فَقَالَ لَهُ: أَقِمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنِّي لَأَرْجُو ذَلِكَ"، قَالَتْ: فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا فَنَادَاهُ، فَقَالَ: "أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ، فَقَالَ: "أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصُّحْبَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصُّحْبَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ، فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ، فَرَكِبَا فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِثَوْرٍ فَتَوَارَيَا فِيهِ، فَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلَامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ وَيُصْبِحُ فَيَدَّلِجُ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ يَسْرَحُ فَلَا يَفْطُنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ، فَلَمَّا خَرَجَ خَرَجَ مَعَهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمَا الْمَدِينَةَ فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ. وَعَنْ أَبِي أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: فَأَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الَّذِينَ بِبِئْرِ مَعُونَةَ وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ قَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ: مَنْ هَذَا ؟ فَأَشَارَ إِلَى قَتِيلٍ، فَقَالَ لَهُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ، حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ وُضِعَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ فَنَعَاهُمْ، فَقَالَ: "إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ أُصِيبُوا وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ، فَقَالُوا رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا"، فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ وَأُصِيبَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ عُرْوَةُ بْنُ أَسْماءَ بْنِ الصَّلْتِ فَسُمِّيَ عُرْوَةُ بِهِ وَمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو سُمِّيَ بِهِ مُنْذِرًا. ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب مکہ میں مشرک لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سخت تکلیف دینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی یہیں ٹھہرے رہو۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھی (اللہ تعالیٰ سے) اپنے لیے ہجرت کی اجازت کے امیدوار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مجھے اس کی امید ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ انتظار کرنے لگے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ظہر کے وقت (ہمارے گھر) تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارا اور فرمایا کہ تخلیہ کر لو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صرف میری دونوں لڑکیاں یہاں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے مجھے بھی ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مجھے بھی ساتھ چلنے کی سعادت حاصل ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں اور میں نے انہیں ہجرت ہی کی نیت سے تیار کر رکھا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک اونٹنی جس کا نام الجدعا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ دونوں بزرگ سوار ہو کر روانہ ہوئے اور یہ غار ثور پہاڑی کا تھا اس میں جا کر دونوں پوشیدہ ہو گئے۔ عامر بن فہیرہ جو عبداللہ بن طفیل بن سنجرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدہ کی طرف سے بھائی تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک دودھ دینے والی اونٹنی تھی تو عامر بن فہیرہ صبح و شام (عام مویشیوں کے ساتھ) اسے چرانے لے جاتے اور رات کے آخری حصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے۔ (غار ثور میں ان حضرات کی خوراک اسی کا دودھ تھی) اور پھر اسے چرانے کے لیے لے کر روانہ ہو جاتے۔ اس طرح کوئی چرواہا اس پر آگاہ نہ ہو سکا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ غار سے نکل کر روانہ ہوئے تو پیچھے پیچھے عامر بن فہیرہ بھی پہنچے تھے۔ آخر دونوں حضرات مدینہ پہنچ گئے۔ بئرمعونہ کے حادثہ میں عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو گئے تھے۔ ابواسامہ سے روایت ہے، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ جب بئرمعونہ کے حادثہ میں قاری صحابہ شہید کئے گئے اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ قید کئے گئے تو عامر بن طفیل نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے ایک لاش کی طرف اشارہ کیا۔ عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ یہ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ شہید ہو جانے کے بعد ان کی لاش آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ میں نے اوپر نظر اٹھائی تو لاش آسمان و زمین کے درمیان لٹک رہی تھی۔ پھر وہ زمین پر رکھ دی گئی۔ ان شہداء کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکو جبرائیل علیہ السلام نے باذن خدا بتا دیا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شہادت کی خبر صحابہ کو دی اور فرمایا کہ تمہارے ساتھی شہید کر دیئے گئے ہیں اور شہادت کے بعد انہوں نے اپنے رب کے حضور میں عرض کیا کہ اے ہمارے رب! ہمارے(مسلمان) بھائیوں کو اس کی اطلاع دیدے کہ ہم تیرے پاس پہنچ کر کس طرح خوش ہیں اور تو بھی ہم سے راضی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید کے ذریعہ) مسلمانوں کو اس کی اطلاع دے دی۔ اسی حادثہ میں عروہ بن اسماء بن صلت رضی اللہ عنہما بھی شہید ہوئے تھے(پھر زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے جب پیدا ہوئے) تو ان کا نام عروہ، انہیں عروہ ابن اسماء رضی اللہ عنہما کے نام پر رکھا گیا۔ منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ اس حادثہ میں شہید ہوئے تھے۔ (اور زبیر رضی اللہ عنہ کے دوسرے صاحب زادے کا نام) منذر انہیں کے نام پر رکھا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 4094
حَدَّثَنَامُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَاعَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَاسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْأَبِي مِجْلَزٍ، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَيَقُولُ: عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ". ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سلیمان تیمی نے خبر دی، انہیں ابومجلز (لاحق بن حمید) نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ اس دعائے قنوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رعل اور ذکوان نامی قبائل کے لیے بددعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمفرماتے تھے کہ قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 4095
حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَامَالِكٌ، عَنْإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: "دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا يَعْنِي أَصْحَابَهُ بِبِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا حِينَ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَلَحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَنَسٌ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ بَلِّغُوا قَوْمَنَا فَقَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ". ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے آپ کے معزز اصحاب (قاریوں) کو بئرمعونہ میں شہید کر دیا تھا۔ تیس دن تک صبح کی نماز میں بددعا کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل رعل، بنو لحیان اور عصیہ کے لیے ان نمازوں میں بددعا کرتے تھے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر انہی اصحاب کے بارے میں جو بئرمعونہ میں شہید کر دیئے گئے تھے، قرآن مجید کی آیت نازل کی۔ ہم اس آیت کی تلاوت کیا کرتے تھے لیکن بعد میں وہ آیت منسوخ ہو گئی (اس آیت کا ترجمہ یہ ہے) ہماری قوم کو خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آ ملے ہیں۔ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہم بھی اس سے راضی ہیں۔
حدیث نمبر: 4096
حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَاعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، قَالَ: سَأَلْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عنه عَنْ الْقُنُوتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ ؟ قَالَ: قَبْلَهُ، قُلْتُ: فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ: بَعْدَهُ، قَالَ: كَذَبَ، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا، أَنَّهُ كَانَ بَعَثَ نَاسًا يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ وَهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ قِبَلَهُمْ، فَظَهَرَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ. ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن احول بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں قنوت کے بارے میں پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے کہا کہ رکوع سے پہلے۔ میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے آپ ہی کا نام لے کر مجھے بتایا کہ قنوت رکوع کے بعد۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہوں نے غلط کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینے تک قنوت پڑھی۔ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو جو قاریوں کے نام سے مشہور تھی جو ستر کی تعداد میں تھے، مشرکین کے بعض قبائل کے یہاں بھیجا تھا۔ مشرکین کے ان قبائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صحابہ کے بارے میں پہلے حفظ و امان کا یقین دلایا تھا لیکن بعد میں یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کی اس جماعت پر غالب آ گئے (اور غداری کی اور انہیں شہید کر دیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر رکوع کے بعد ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی اور اس میں ان مشرکین کے لیے بددعا کی تھی۔
30- بَابُ غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهْيَ الأَحْزَابُ: باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے
قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: كَانَتْ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ. موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ غزوہ خندق شوال 4 ھ میں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 4097
حَدَّثَنَايَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِينَافِعٌ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،"أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ، وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ". ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر پیش کیا(تاکہ لڑنے والوں میں انہیں بھی بھرتی کر لیا جائے) اس وقت وہ چودہ سال کے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت نہیں دی۔ لیکن غزوہ خندق کے موقع پر جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منظور فرما لیا۔ اس وقت وہ پندرہ سال کی عمر کے تھے۔
حدیث نمبر: 4098
حَدَّثَنِيقُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْأَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ، وَهُمْ يَحْفِرُونَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ". ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق میں تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی ہم اپنے کاندھوں پر اٹھا اٹھا کر نکال رہے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره، فاغفر للمهاجرين والأنصار» اے اللہ! آخرت کی زندگی ہی بس آرام کی زندگی ہے۔ پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
حدیث نمبر: 4099
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَامُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَاأَبُو إِسْحَاقَ، عَنْحُمَيْدٍ، سَمِعْتُأَنَسًارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوعِ، قَالَ: "اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ"، فَقَالُوا مُجِيبِينَ لَهُ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا. ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ مہاجرین اور انصار سردی میں صبح سویرے ہی خندق کھود رہے ہیں۔ ان کے پاس غلام نہیں تھے کہ ان کے بجائے وہ اس کام کو انجام دیتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس مشقت اور بھوک کو دیکھا تو دعا کی «اللهم إن العيش عيش الآخرة. فاغفر للأنصار والمهاجره» اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے۔ پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے جواب میں کہا «نحن الذين بايعوا محمدا *** على الجهاد ما بقينا أبدا» ہم ہی ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد کرنے کے لیے بیعت کی ہے۔ جب تک ہماری جان میں جان ہے۔
حدیث نمبر: 4100
حَدَّثَنَاأَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْعَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَعَلَ المُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحِفْرُونَ الَخْندَقَ حَوْلَ الَمَدِيِنَةِ، وَيَنْقلُونَ التُّرَابَ عَلى مُتونِهمْ وَهُمْ يَقُولونَ: نَحْنُ الًّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الإِسْلامِ مَا بَقِينَا أَبَدَا قَالَ: يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُجِيبُهُمْ: "اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ، قَالَ: يُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ كَفِّي مِنَ الشَّعِيرِ فَيُصْنَعُ لَهُمْ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ تُوضَعُ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ وَهِيَ بَشِعَةٌ فِي الْحَلْقِ وَلَهَا رِيحٌ مُنْتِنٌ. ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ کے گرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے اور مٹی اپنی پیٹھ پر اٹھانے لگے۔ اس وقت وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا *** على الأسلام ما بقينا أبدا» ہم نے ہی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے اسلام پر بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی«اللهم إنه لا خير إلا خير الآخرة. فبارك في الأنصار والمهاجره» اے اللہ! خیر تو صرف آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار اور مہاجرین کو تو برکت عطا فرما۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مٹھی جَو آتا اور ان صحابہ کے لیے ایسے روغن میں جس کا مزہ بھی بگڑ چکا ہوتا ملا کر پکا دیا جاتا۔ یہی کھانا ان صحابہ کے سامنے رکھ دیا جاتا۔ صحابہ بھوکے ہوتے۔ یہ ان کے حلق میں چپکتا اور اس میں بدبو ہوتی۔ گویا اس وقت ان کی خوراک کا بھی یہ حال تھا۔
حدیث نمبر: 4101
حَدَّثَنَاخَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَاعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُجَابِرًارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: "إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَاءُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: هَذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: "أَنَا نَازِلٌ"، ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ، وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ، فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ أَوْ أَهْيَمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي إِلَى الْبَيْتِ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا كَانَ فِي ذَلِكَ صَبْرٌ، فَعِنْدَكِ شَيْءٌ، قَالَتْ: عِنْدِي شَعِيرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحَتِ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَجِينُ قَدِ انْكَسَرَ وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ، فَقُلْتُ: طُعَيِّمٌ لِي فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ، قَالَ: "كَمْ هُوَ"، فَذَكَرْتُ لَهُ، قَالَ: "كَثِيرٌ طَيِّبٌ"، قَالَ: "قُلْ لَهَا لَا تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ وَلَا الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّورِ حَتَّى آتِيَ"، فَقَالَ: قُومُوا فَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ: وَيْحَكِ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ، قَالَتْ: هَلْ سَأَلَكَ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: "ادْخُلُوا وَلَا تَضَاغَطُوا فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّورَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ وَيُقَرِّبُ إِلَى أَصْحَابِهِ، ثُمَّ يَنْزِعُ فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَغْرِفُ حَتَّى شَبِعُوا وَبَقِيَ بَقِيَّةٌ، قَالَ: "كُلِي هَذَا وَأَهْدِي فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ". ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ایمن حبشی نے بیان کیا کہ میں جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی (جس پر کدال اور پھاوڑے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اس لیے خندق کی کھدائی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی) صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اندر اترتا ہوں۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور اس وقت (بھوک کی شدت کی وجہ سے) آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر اس سے مارا۔ چٹان (ایک ہی ضرب میں) بالو کے ڈھیر کی طرح بہہ گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئیے۔ (گھر آ کر) میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (فاقوں کی وجہ سے) اس حالت میں دیکھا کہ صبر نہ ہو سکا۔ کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں کچھ جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ۔ میں نے بکری کے بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو پیسے۔ پھر گوشت کو ہم نے چولھے پر ہانڈی میں رکھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولھے پر پکنے کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا گھر کھانے کے لیے مختصر کھانا تیار ہے۔ یا رسول اللہ! آپ اپنے ساتھ ایک دو آدمیوں کو لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کتنا ہے؟ میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہے اور نہایت عمدہ و طیب ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہہ دو کہ چولھے سے ہانڈی نہ اتاریں اور نہ تنور سے روٹی نکالیں میں ابھی آ رہا ہوں۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ سب لوگ چلیں۔ چنانچہ تمام انصار و مہاجرین تیار ہو گئے۔ جب جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے انہوں نے کہا اب کیا ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمتو تمام مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کچھ پوچھا بھی تھا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اندر داخل ہو جاؤ لیکن اژدہام نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روٹی کا چورا کرنے لگے اور گوشت اس پر ڈالنے لگے۔ ہانڈی اور تنور دونوں ڈھکے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور صحابہ کے قریب کر دیا۔ پھر آپ نے گوشت اور روٹی نکالی۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روٹی چورا کرتے جاتے اور گوشت اس میں ڈالتے جاتے۔ یہاں تک کہ تمام صحابہ شکم سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے) فرمایا کہ اب یہ کھانا تم خود کھاؤ اور لوگوں کے یہاں ہدیہ میں بھیجو کیونکہ لوگ آج کل فاقہ میں مبتلا ہیں۔
حدیث نمبر: 4102
حَدَّثَنِيعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَاأَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَاحَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَاسَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ، فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي وَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ، فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ، فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِهَلّكُمْ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ"، فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي، فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ، فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ: "ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعِي وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا وَهُمْ أَلْفٌ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ أَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ. مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم کو حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی، کہا ہم کو سعید بن میناء نے خبر دی، کہا میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے معلوم کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوک میں مبتلا ہیں۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی بھوکے ہیں۔ میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائیں جس میں ایک صاع جَو تھے۔ گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو کو چکی میں پیسا۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا تو وہ بھی جَو پیس چکی تھیں۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں کر کے ہانڈی میں رکھ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا۔ چنانچہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کر لیا ہے اور ایک صاع جَو پیس لیے ہیں جو ہمارے پاس تھے۔ اس لیے آپ دو ایک صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بلند آواز سے فرمایا کہ اے اہل خندق! جابر (رضی اللہ عنہ) نے تمہارے لیے کھانا تیار کروایا ہے۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک میں آ نہ جاؤں ہانڈی چولھے پر سے نہ اتارنا اور تب آٹے کی روٹی پکانی شروع کرنا۔ میں اپنے گھر آیا۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کر دیا تھا۔ آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنے لعاب دہن کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کی۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعاب کی آمیزش کی اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب روٹی پکانے والی کو بلاؤ۔ وہ میرے سامنے روٹی پکائے اور گوشت ہانڈی سے نکالے لیکن چولھے سے ہانڈی نہ اتارنا۔ صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی۔ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے (شکم سیر ہو کر) کھایا اور کھانا بچ بھی گیا۔ جب تمام لوگ واپس ہو گئے تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 4103
حَدَّثَنِيعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَاعَبْدَةُ، عَنْهِشَامٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ سورة الأحزاب آية 10، قَالَتْ: "كَانَ ذَاكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ. مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ (آیت) «إذا جاؤوكم من فوقكم ومن أسفل منكم وإذ زاغت الأبصار وبلغت القلوب الحناجر» جب مشرکین تمہارے بالائی علاقہ سے اور تمہارے نشیبی علاقہ سے تم پر چڑھ آئے تھے اور جب مارے ڈر کے آنکھیں چکا چوند ہو گئی تھیں اور دل حلق تک آ گئے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آیت غزوہ خندق کے متعلق نازل ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَامُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْأَبِي إِسْحَاقَ، عَنْالْبَرَاءِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ، يَقُولُ: "وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا"، وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا. ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق میں (خندق کی کھدائی کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے۔ «أبينا أبينا» (ہم ان کی نہیں مانتے۔ ہم ان کی نہیں مانتے) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی۔
حدیث نمبر: 4105
حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْشُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِيالْحَكَمُ، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ". ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پروا ہوا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہوا سے ہلاک کر دی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنِيأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَاشُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِيإِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبِي، عَنْأَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ، يَقُولُ: "اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا"، قَالَ: ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا. مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے (سینے سے پیٹ تک) گھنے بالوں (کی ایک لکیر) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنِيعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "أَوَّلُ يَوْمٍ شَهِدْتُهُ يَوْمُ الْخَنْدَقِ". مجھ سے عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سب سے پہلا غزوہ جس میں میں نے شرکت کی وہ غزوہ خندق ہے۔
حدیث نمبر: 4108
حَدَّثَنِيإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَاهِشَامٌ، عَنْمَعْمَرٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْسَالِمٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيابْنُ طَاوُسٍ، عَنْعِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ، قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ، فَقَالَتْ: الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ، فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ، قَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ، قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ: فَهَلَّا أَجَبْتَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ، قَالَ حَبِيبٌ: حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ. قَالَمَحْمُودٌ: عَنْعَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَنَوْسَاتُهَا. مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں معمر بن راشد نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔ یقیناً ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی (جواب دینے کو تیار ہوا) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے (صبر کرنے والوں کے لیے) جنت میں تیار کر رکھی ہیں۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ‘ آفت میں نہیں پڑے۔ محمود نے عبدالرزاق سے («نسواتها.» کے بجائے لفظ) «ونوساتها.» بیان کیا (جس کے معنی چوٹی کے ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں)۔
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَاأَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، عَنْأَبِي إِسْحَاقَ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: "نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا". ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق سبیعی نے ‘ ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر (جب کفار کا لشکر ناکام واپس ہو گیا) فرمایا کہ اب ہم ان سے لڑیں گے۔ آئندہ وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہ آ سکیں گے۔
حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَاإِسْرَائِيلُ، سَمِعْتُأَبَا إِسْحَاقَ، يَقُولُ: سَمِعْتُسُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ عَنْهُ: "الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ". ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابواسحاق سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ جب عرب کے قبائل (جو غزوہ خندق کے موقع پر مدینہ چڑھ کر آئے تھے) ناکام واپس ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ہم ان سے جنگ کریں گے ‘ وہ ہم پر چڑھ کر نہ آ سکیں گے بلکہ ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ، حَدَّثَنَارَوْحٌ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، عَنْمُحَمَّدٍ، عَنْعُبَيْدَةَ، عَنْعَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "مَلَأَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ". ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے ‘ ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کہ جس طرح ان کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ (نماز عصر) نہیں پڑھنے دی اور سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ بھی ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔
حدیث نمبر: 4112
حَدَّثَنَاالْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، عَنْيَحْيَى، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا"، فَنَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا، فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ. ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد(لڑ کر) واپس ہوئے۔ وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سورج غروب ہونے کو ہے اور میں عصر کی نماز اب تک نہیں پڑھ سکا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! نماز تو میں بھی نہ پڑھ سکا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کیا۔ ہم نے بھی وضو کیا ‘ پھر عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 4113
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَاسُفْيَانُ، عَنْابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُجَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: "مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: "مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟"فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: "مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟"فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ". ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔
حدیث نمبر: 4114
حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَااللَّيْثُ، عَنْسَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ". ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اپنے بندے کی مدد کی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اور احزاب (یعنی افواج کفار) کو تنہا بھگا دیا پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہو سکتی۔
حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَامُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَاالْفَزَارِيُّ،وَعَبْدَةُ، عَنْإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ. ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو فزاری اور عبدہ نے خبر دی ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب (افواج کفار) کے لیے (غزوہ خندق کے موقع پر) بددعا کی اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! جلدی حساب لینے والے! کفار کے لشکر کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے۔ یا اللہ! ان کی طاقت کو متزلزل کر دے۔
حدیث نمبر: 4116
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَاعَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَامُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْسَالِمٍ،وَنَافِعٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْغَزْوِ أَوِ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَقُولُ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ، عَابِدُونَ سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ". ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر اور نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوے، حج یا عمرے سے واپس آتے تو سب سے پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر یوں فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (یا اللہ!) ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی فوجوں کو اس نے اکیلے شکست دے دی۔
31- بَابُ مَرْجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَحْزَابِ وَمَخْرَجِهِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ وَمُحَاصَرَتِهِ إِيَّاهُمْ: باب: غزوہ احزاب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واپس لوٹنا اور بنو قریظہ پر چڑھائی کرنا اور ان کا محاصرہ کرنا
حدیث نمبر: 4117
حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَاابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْهِشَامٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ، وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ، وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ، قَالَ: "فَإِلَى أَيْنَ ؟"قَالَ: هَا هُنَا، وَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ. مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جوں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ابھی ہتھیار اتار دیئے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے۔ چلئے ان پر حملہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ ان پر اور انہوں نے(یہود کے قبیلہ) بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ پر چڑھائی کی۔
حدیث نمبر: 4118
حَدَّثَنَامُوسَى، حَدَّثَنَاجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِي غَنْمٍ مَوْكِبَ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ". ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے اب بھی وہ گردوغبار میں دیکھ رہا ہوں جو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سوار فرشتوں کی وجہ سے قبیلہ بنو غنم کی گلی میں اٹھا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے خلاف چڑھ کر گئے تھے۔
حدیث نمبر: 4119
حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَاجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: "لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ"، فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ. ہم سے محمد بن عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمان عصر کی نماز بنو قریظہ تک پہنچنے کے بعد ہی ادا کریں۔ بعض حضرات کی عصر کی نماز کا وقت راستے ہی میں ہو گیا۔ ان میں سے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تو کہا کہ ہم راستے میں نماز نہیں پڑھیں گے۔ (کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ میں نماز عصر پڑھنے کے لیے فرمایا ہے) اور بعض صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا منشا یہ نہیں تھا۔ (بلکہ جلدی جانا مقصد تھا) بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے کسی پر خفگی نہیں فرمائی۔
حدیث نمبر: 4120
حَدَّثَنَاابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَامُعْتَمِرٌ. ح وحَدَّثَنِيخَلِيفَةُ، حَدَّثَنَامُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُأَبِي، عَنْأَنَسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرَ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَا يُعْطِيكَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا، أَوْ كَمَا قَالَتْ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَكِ كَذَا، وَتَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ، حَتَّى أَعْطَاهَا حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ، أَوْ كَمَا قَالَ". ہم سے عبداللہ ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بطور ہدیہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے باغ میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چند کھجور کے درخت مقرر کر دیئے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہو گئے (تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایا کو واپس کر دیا) میرے گھر والوں نے بھی مجھے اس کھجور کو، تمام کی تمام یا اس کا کچھ حصہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی۔ اتنے میں وہ بھی آ گئیں اور کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہنے لگیں ‘ قطعاً نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ پھل تمہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرما چکے ہیں۔ یا اسی طرح کے الفاظ انہوں نے بیان کئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے بدلے میں اتنے لے لو۔ (اور ان کا مال انہیں واپس کر دو) لیکن وہ اب بھی یہی کہے جا رہی تھیں کہ قطعاً نہیں، خدا کی قسم! یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کا دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا (پھر انہوں نے مجھے چھوڑا) یا اسی طرح کے الفاظ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کئے۔
حدیث نمبر: 4121
حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَاغُنْدَرٌ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْسَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ: "قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ"، فَقَالَ: "هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ"، فَقَالَ: تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ، قَالَ: "قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ"وَرُبَّمَا قَالَ: "بِحُكْمِ الْمَلِكِ". مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے ابوامامہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بنو قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ (یعنی اللہ) کا حکم تھا۔
حدیث نمبر: 4122
حَدَّثَنَازَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَاهِشَامٌ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ: حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ وَهُوَ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ بَنِي مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَأَيْنَ"، فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ، فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ، وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ، قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ سَعْدًا قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ، مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ، فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا، فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ، فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص ‘ حسان بن عرفہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپ غزوہ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے۔ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے۔ اللہ کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ تک پہنچے (اور انہوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیئے جائیں ‘ ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔ ہشام نے بیان کیا کہ پھر مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں ان کے وطن سے نکالا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی اب ختم کر دی ہے۔ لیکن اگر قریش سے ہماری لڑائی کا کوئی بھی سلسلہ ابھی باقی ہو تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھنا۔ یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں اور اگر لڑائی کے سلسلے کو تو نے ختم ہی کر دیا ہے تو میرے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ اس دعا کے بعد سینے پر ان کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کے کچھ صحابہ کا بھی ایک خیمہ تھا۔ خون ان کی طرف بہہ کر آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا: اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف بہہ کر آ رہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ‘ ان کی وفات اسی میں ہوئی۔
حدیث نمبر: 4123
حَدَّثَنَاالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أَخْبَرَنَاشُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَدِيٌّأَنَّهُ، سَمِعَالْبَرَاءَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ: "اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ". ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو کر یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بجائے) «هاجهم» فرمایا جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حدیث نمبر: 4124
وَزَادَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْالشَّيْبَانِيِّ، عَنْعَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ. اور ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے یہ زیادہ کیا ہے ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل تمہاری مدد پر ہیں۔
32- بَابُ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ: باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان
وَهِيَ غَزْوَةُ مُحَارِبِ خَصَفَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَانَ فَنَزَلَ نَخْلًا وَهِيَ بَعْدَ خَيْبَرَ، لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبَرَ. یہ جنگ محارب قبیلے سے ہوئی تھی جو خصفہ کی اولاد تھے اور یہ خصفہ بنو ثعلبہ کی اولاد میں سے تھا۔ جو غطفان قبیلہ کی ایک شاخ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں مقام نخل پر پڑاؤ کیا تھا۔ یہ غزوہ خیبر کے بعد واقع ہوا کیونکہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے بعد حبش سے مدینہ آئے تھے (اور غزوہ ذات الرقاع میں ان کی شرکت روایتوں سے ثابت ہے)۔
حدیث نمبر: 4125
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ لِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَاعِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْيَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي غَزْوَةِ السَّابِعَةِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوْفَ بِذِي قَرَدٍ". اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ‘ انہیں عمران قطان نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی تھی۔
حدیث نمبر: 4126
وَقَالَبَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ: حَدَّثَنِيزِيَادُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْأَبِي مُوسَى، أَنَّجَابِرًاحَدَّثَهُمْ: "صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ يَوْمَ مُحَارِبٍ وَثَعْلَبَةَ". اور بکر بن سوادہ نے بیان کیا ‘ ان سے زیاد بن نافع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوموسیٰ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ محارب اور بنی ثعلبہ میں اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی تھی۔
حدیث نمبر: 4127
وَقَالَابْنُ إِسْحَاقَ، سَمِعْتُوَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، سَمِعْتُجَابِرًا: "خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ، فَلَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ فَلَمْ يَكُنْ قِتَالٌ وَأَخَافَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْخَوْفِ"، وَقَالَيَزِيدُ: عَنْسَلَمَةَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقَرَدِ. اور ابن اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ‘ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمغزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی اور چونکہ مسلمانوں پر کفار کے (اچانک حملے کا) خطرہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اور یزید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذوالقرد میں شریک تھا۔
حدیث نمبر: 4128
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَاأَبُو أُسَامَةَ، عَنْبُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِي بُرْدَةَ، عَنْأَبِي مُوسَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا، وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا، ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ". ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوامامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ (پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔
حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْمَالِكٍ، عَنْيَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْصَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ،عَمَّنْشَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ: "صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ"، ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ‘ ان سے یزید بن رومان نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ایک ایسے صحابی سے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھی تھی۔ اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ پہلے ایک جماعت نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ اس وقت دوسری جماعت (مسلمانوں کی) دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو جو آپ کے پیچھے صف میں کھڑی تھی ‘ ایک رکعت نماز خوف پڑھائی اور اس کے بعد آپ کھڑے رہے۔ اس جماعت نے اس عرصہ میں اپنی نماز پوری کر لی اور واپس آ کر دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی دوسری رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی اور (رکوع و سجدہ کے بعد) آپ قعدہ میں بیٹھے رہے۔ پھر ان لوگوں نے جب اپنی نماز (جو باقی رہ گئی تھی) پوری کر لی تو آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 4130
وَقَالَمُعَاذٌ: حَدَّثَنَاهِشَامٌ،عَنْأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ"، فَذَكَرَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ. تَابَعَهُ اللَّيْثُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ. اور معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے ابوزبیر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے۔ پھر انہوں نے نماز خوف کا ذکر کیا۔ امام مالک نے بیان کیا کہ نماز خوف کے سلسلے میں جتنی روایات میں نے سنی ہیں یہ روایت ان سب میں زیادہ بہتر ہے۔ معاذ بن ہشام کے ساتھ اس حدیث کو لیث بن سعد نے بھی ہشام بن سعد مدنی سے ‘ انہوں نے زید بن اسلم سے روایت کیا اور ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو انمار میں (نماز خوف) پڑھی تھی۔
حدیث نمبر: 4131
حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْصَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: "يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُ هَؤُلَاءِ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَهُ ثِنْتَانِ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ". ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے قاسم بن محمد نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ (نماز خوف میں) امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گی۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت دشمن کے مقابلہ پر کھڑی ہو گی۔ انہیں کی طرف منہ کیے ہوئے۔ امام اپنے ساتھ والی جماعت کو پہلے ایک رکعت نماز پڑھائے گا (ایک رکعت پڑھنے کے بعد پھر) یہ جماعت کھڑی ہو جائے گی اور خود (امام کے بغیر) اسی جگہ ایک رکوع اور دو سجدے کر کے دشمن کے مقابلہ پر جا کر کھڑی ہو جائے گی۔ جہاں دوسری جماعت پہلے سے موجود تھی۔ اس کے بعد امام دوسری جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائے گا۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہو جائیں گی اور یہ دوسری جماعت ایک رکوع اور دو سجدے خود کرے گی۔
حدیث نمبر: 4131 -
حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَايَحْيَى، عَنْشُعْبَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْصَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ‘ ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدیث نمبر: 4131 -
حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِيابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْيَحْيَى، سَمِعَالْقَاسِمَ، أَخْبَرَنِيصَالِحُ بْنُ خَوَّاتٍ، عَنْسَهْلٍ، حَدَّثَهُ قَوْلَهُ. مجھ سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابن حازم نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ انہوں نے قاسم سے سنا ‘ انہیں صالح بن خوات نے خبر دی ‘ انہوں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے ان کا قول بیان کیا۔
حدیث نمبر: 4132
حَدَّثَنَاأَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَاشُعَيْبٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيسَالِمٌ، أَنَّابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ، فَصَافَفْنَا لَهُمْ". ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نجد کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کے لیے گیا تھا۔ وہاں ہم دشمن کے آمنے سامنے ہوئے اور ان کے مقابلے میں صف بندی کی۔
حدیث نمبر: 4133
حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَايَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَامَعْمَرٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْأَبِيهِ: "أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ أُولَئِكَ، فَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ". ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کے ساتھ نماز (نماز خوف)پڑھی اور دوسری جماعت اس عرصہ میں دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ پھر یہ جماعت جب اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ (نماز پڑھ کر)چلی گئی تو دوسری جماعت آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی۔ اس کے بعد آپ نے اس جماعت کے ساتھ سلام پھیرا۔ آخر اس جماعت نے کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی اور پہلی جماعت نے بھی کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی۔
حدیث نمبر: 4134
حَدَّثَنَاأَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَاشُعَيْبٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِيسِنَانٌ،وَأَبُو سَلَمَةَ، أَنَّجَابِرًاأَخْبَرَ: "أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ". ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان سے سنان اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں لڑائی کے لیے گئے تھے۔
حدیث نمبر: 4135
حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَخِي، عَنْسُلَيْمَانَ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، عَنْسِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً، ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ: اللَّهُ"، فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے محمد بن ابی عتیق نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سنان بن ابی سنان دولی نے ‘ انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں غزوہ کے لیے گئے تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی واپس ہوئے۔ قیلولہ کا وقت ایک وادی میں آیا ‘ جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اتر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم درختوں کے سائے کے لیے پوری وادی میں پھیل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی تھوڑی دیر ہمیں سوئے ہوئے ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم جب خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوار (مجھ ہی پر) کھینچ لی تھی ‘ میں اس وقت سویا ہوا تھا ‘ میری آنکھ کھلی تو میری ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے مجھ سے کہا ‘ تمہیں میرے ہاتھ سے آج کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! اب دیکھو یہ بیٹھا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر کوئی سزا نہیں دی۔
حدیث نمبر: 4136
وَقَالَأَبَانُ: حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ: تَخَافُنِي ؟ قَالَ: "لَا"، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ: "اللَّهُ"، فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ: اسْمُ الرَّجُلِ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ وَقَاتَلَ فِيهَا مُحَارِبَ خَصَفَةَ. اور ابان نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ‘ ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں تھے۔ کہ ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے۔ وہ درخت ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کہ آپ وہاں آرام فرمائیں۔ بعد میں مشرکین میں سے ایک شخص آیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی۔ اس نے وہ تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ لی اور پوچھا ‘ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اس نے پوچھا آج میرے ہاتھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ! پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ڈانٹا دھمکایا اور نماز کی تکبیر کہی گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک جماعت کو دو رکعت نماز خوف پڑھائی جب وہ جماعت (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے) ہٹ گئی تو آپ نے دوسری جماعت کو بھی دو رکعت نماز پڑھائی۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت نماز ہوئی۔ لیکن مقتدیوں کی صرف دو دو رکعت اور مسدد نے بیان کیا ‘ ان سے ابوعوانہ نے ‘ ان سے ابوبسر نے کہ اس شخص کا نام (جس نے آپ پر تلوار کھینچی تھی) غورث بن حارث تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں قبیلہ محارب خصفہ سے جنگ کی تھی۔
حدیث نمبر: 4137
وَقَالَأَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْجَابِرٍ: "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ فَصَلَّى الْخَوْفَ". وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: "صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ صَلَاةَ الْخَوْفِ"، وَإِنَّمَا جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ خَيْبَرَ. اور ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف غزوہ نجد میں پڑھی تھی۔ یہ یاد رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (سب سے پہلے) غزوہ خیبر کے موقع پر حاضر ہوئے تھے۔
33- بَابُ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ وَهْيَ غَزْوَةُ الْمُرَيْسِيعِ: باب: غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع ( بھی کہلاتا ) ہے
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَذَلِكَ سَنَةَ سِتٍّ. وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: سَنَةَ أَرْبَعٍ. وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ: كَانَ حَدِيثُ الإِفْكِ فِي غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ. ابن اسحاق نے بیان کیا کہ یہ غزوہ 6 ھ میں ہوا تھا اور موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ 4 ھ میں اور نعمان بن راشد نے زہری سے بیان کیا کہ واقعہ افک غزوہ مریسیع میں پیش آیا تھا۔
حدیث نمبر: 4138
حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَاإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّفَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: "مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ". ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے ‘ انہیں محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے ابومحیریز نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اندر موجود تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے عزل کے متعلق ان سے سوال کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی المصطلق کے لیے نکلے۔ اس غزوہ میں ہمیں کچھ عرب کے قیدی ملے (جن میں عورتیں بھی تھیں) پھر اس سفر میں ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور بے عورت رہنا ہم پر مشکل ہو گیا۔ دوسری طرف ہم عزل کرنا چاہتے تھے (اس خوف سے کہ بچہ نہ پیدا ہو) ہمارا ارادہ یہی تھا کہ عزل کر لیں لیکن پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ آپ سے پوچھے بغیر عزل کرنا مناسب نہ ہو گا۔ چنانچہ ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم عزل نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ قیامت تک جو جان پیدا ہونے والی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔
حدیث نمبر: 4139
حَدَّثَنَامَحْمُودٌ، حَدَّثَنَاعَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَامَعْمَرٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ، فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ وَهُوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَاسْتَظَلَّ بِهَا، وَعَلَّقَ سَيْفَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ، وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْنَا فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاخْتَرَطَ سَيْفِي، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي مُخْتَرِطٌ صَلْتًا، قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ: اللَّهُ، فَشَامَهُ ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هَذَا"، قَالَ: وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے۔ دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لیے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار ٹکا دی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے۔ ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا۔ اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! (وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ) تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا اور دیکھ لو۔ یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔
34- بَابُ غَزْوَةُ أَنْمَارٍ: باب: غزوہ انمار کا بیان
حدیث نمبر: 4140
حَدَّثَنَاآدَمُ، حَدَّثَنَاابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَاعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: "رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُتَطَوِّعًا. ہم سے آدم ابن ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ‘ ان سے عثمان بن عبداللہ بن سراقہ نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ انمار میں دیکھا کہ نفل نماز آپ اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے پڑھ رہے تھے۔
35- بَابُ حَدِيثُ الإِفْكِ: باب: واقعہ افک کا بیان
وَالْأَفَكِ بِمَنْزِلَةِ النِّجْسِ، وَالنَّجَسِ يُقَالُ: إِفْكُهُمْ وَأَفْكُهُمْ فَمَنْ قَالَ: أَفَكَهُمْ، يَقُولُ: صَرَفَهُمْ عَنِ الْإِيمَانِ وَكَذَّبَهُمْ، كَمَا قَالَ: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ يُصْرَفُ عَنْهُ مَنْ صُرِفَ. لفظ «الإفك»«نجس» اور «النجس» کی طرح ہے۔ بولتے ہیں «إفكهم» (سورۃ الاحقاف میں) آیا ہے۔ «وذلك إفكهم» وہ بکسر ہمزہ ہے اور یہ بفتح ہمزہ و سکون فاء اور «إفكهم» یہ بفتحہ ہمزہ وفاء بھی ہے اور کاف کو بھی فتحہ پڑھا ہے تو ترجمہ یوں ہو گا اس نے ان کو ایمان سے پھیر دیا اور جھوٹا بنایا جیسے سورۃ والذاریات میں «يؤفك عنه من أفك» ہے یعنی قرآن سے وہی منحرف ہوتا ہے جو اللہ کے علم میں منحرف قرار پا چکا ہے۔
حدیث نمبر: 4141
حَدَّثَنَاعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَاإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْصَالِحٍ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ،وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ،وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا: أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ، وَأَثْبَتَ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ، قَالُوا: قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيُّهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَكُنْتُ أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ وَقَفَلَ دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ قَافِلِينَ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ، فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى رَحْلِي فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدٌ لِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ، فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ، قَالَتْ: وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يُرَحِّلُونِي فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ عَلَيْهِ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يَهْبُلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ، إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ خِفَّةَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَفَعُوهُ وَحَمَلُوهُ، وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ، فَبَعَثُوا الْجَمَلَ فَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا مِنْهُمْ دَاعٍ وَلَا مُجِيبٌ، فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ بِهِ وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي، وَكَانَ رَآنِي قَبْلَ الْحِجَابِ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَوَاللَّهِ مَا تَكَلَّمْنَا بِكَلِمَةٍ وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ، وَهَوَى حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ وَهُمْ نُزُولٌ، قَالَتْ: فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ الْإِفْكِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، قَالَ عُرْوَةُ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ وَيُتَحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ وَيَسْتَوْشِيهِ، وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا: لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ أَيْضًا إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ، وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى، وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، قَالَ عُرْوَةُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ: إِنَّهُ الَّذِي قَالَ: فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْتُ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الْإِفْكِ، لَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي، إِنَّمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُولُ: "كَيْفَ تِيكُمْ"، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَذَلِكَ يَرِيبُنِي وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ حِينَ نَقَهْتُ، فَخَرَجْتُ مَعَ أُمِّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا وَكُنَّا لَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا، قَالَتْ: وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي الْبَرِّيَّةِ قِبَلَ الْغَائِطِ، وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ ابْنَةُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ لَهَا: بِئْسَ مَا قُلْتِ، أَتَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا، فَقَالَتْ: أَيْ هَنْتَاهْ وَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ ؟ قَالَتْ: وَقُلْتُ مَا قَالَ، فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ، قَالَتْ: فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَى مَرَضِي، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: "كَيْفَ تِيكُمْ"، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ، قَالَتْ: وَأُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا، قَالَتْ: فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: يَا أُمَّتَاهُ مَاذَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ ؟ قَالَتْ: يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا كَثَّرْنَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوَلَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا ؟ قَالَتْ: فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِي، قَالَتْ: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَيَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ لَهُمْ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ أُسَامَةُ: أَهْلَكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ، قَالَتْ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ فَقَالَ: "أَيْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ ؟"قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ، غَيْرَ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا، فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ، قَالَتْ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي عَنْهُ أَذَاهُ فِي أَهْلِي، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي"، قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْذِرُكَ فَإِنْ كَانَ مِنْ الْأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنْ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ، قَالَتْ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ، قَالَتْ: وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، فَقَالَ لِسَعْدٍ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، وَلَوْ كَانَ مِنْ رَهْطِكَ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدٍ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ، قَالَتْ: فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ، وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ كُلَّهُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، قَالَتْ: وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي، وَقَدْ بَكَيْتُ لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمًا لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ حَتَّى إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي، فَبَيْنَا أَبَوَايَ جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي، قَالَتْ: فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، قَالَتْ: وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ مَا قِيلَ قَبْلَهَا وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَيْءٍ، قَالَتْ: فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ"، قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً، فَقُلْتُ لِأَبِي: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي فِيمَا قَالَ، فَقَالَ أَبِي: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ، قَالَتْ أُمِّي: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرًا: إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ، فَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي مِنْهُ بَرِيئَةٌ، لَتُصَدِّقُنِّي فَوَاللَّهِ لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ وَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي حِينَئِذٍ بَرِيئَةٌ، وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ مُنْزِلٌ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَى لَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ، وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا، فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَهُ وَلَا خَرَجَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِنَ الْعَرَقِ مِثْلُ الْجُمَانِ، وَهُوَ فِي يَوْمٍ شَاتٍ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَتْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ: "يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ"، قَالَتْ: فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ، فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ فَإِنِّي لَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي بَرَاءَتِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ، وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي، فَقَالَ لِزَيْنَبَ: "مَاذَا عَلِمْتِ أَوْ رَأَيْتِ ؟"فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ، قَالَتْ: وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ، ثُمَّ قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ مِنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ، قَالَتْ: ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب اہل افک (یعنی تہمت لگانے والوں) نے ان کے متعلق وہ سب کچھ کہا جو انہیں کہنا تھا (ابن شہاب نے بیان کیا کہ) تمام حضرات نے (جن چار حضرات کے نام انہوں نے روایت کے سلسلے میں لیے ہیں) مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا۔ یہ بھی تھا کہ ان میں سے بعض کو یہ قصہ زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھا اور عمدگی سے یہ قصہ بیان کرتا تھا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی روایت یاد رکھی جو اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یاد رکھی تھی۔ اگرچہ بعض لوگوں کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں روایت زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھی۔ پھر بھی ان میں باہم ایک کی روایت دوسرے کی روایت کی تصدیق کرتی ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے درمیان قرعہ ڈالا کرتے تھے اور جس کا نام آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک غزوہ کے موقع پر جب آپ نے قرعہ ڈالا تو میرا نام نکلا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روانہ ہوئی۔ یہ واقعہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ چنانچہ مجھے ہودج سمیت اٹھا کر سوار کر دیا جاتا اور اسی کے ساتھ اتارا جاتا۔ اس طرح ہم روانہ ہوئے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہو گئے تو واپس ہوئے۔ واپسی میں اب ہم مدینہ کے قریب تھے (اور ایک مقام پر پڑاؤ تھا) جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا رات کے وقت اعلان کیا۔ کوچ کا اعلان ہو چکا تھا تو میں کھڑی ہوئی اور تھوڑی دور چل کر لشکر کے حدود سے آگے نکل گئی۔ پھر قضائے حاجت سے فارغ ہو کر میں اپنی سواری کے پاس پہنچی۔ وہاں پہنچ کر جو میں نے اپنا سینہ ٹٹولا تو ظفار(یمن کا ایک شہر) کے مہرہ کا بنا ہوا میرا ہار غائب تھا۔ اب میں پھر واپس ہوئی اور اپنا ہار تلاش کرنے لگی۔ اس تلاش میں دیر ہو گئی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جو لوگ مجھے سوار کیا کرتے تھے وہ آئے اور میرے ہودج کو اٹھا کر انہوں نے میرے اونٹ پر رکھ دیا۔ جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے سمجھا کہ میں ہودج کے اندر ہی موجود ہوں۔ ان دنوں عورتیں بہت ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ ان کے جسم میں زیادہ گوشت نہیں ہوتا تھا کیونکہ بہت معمولی خوراک انہیں ملتی تھی۔ اس لیے اٹھانے والوں نے جب اٹھایا تو ہودج کے ہلکے پن میں انہیں کوئی فرق معلوم نہیں ہوا۔ یوں بھی اس وقت میں ایک کم عمر لڑکی تھی۔ غرض اونٹ کو اٹھا کر وہ بھی روانہ ہو گئے۔ جب لشکر گزر گیا تو مجھے بھی اپنا ہار مل گیا۔ میں ڈیرے پر آئی تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ نہ پکارنے والا نہ جواب دینے والا۔ اس لیے میں وہاں آئی جہاں میرا اصل ڈیرہ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ جلد ہی میرے نہ ہونے کا انہیں علم ہو جائے گا اور مجھے لینے کے لیے وہ واپس لوٹ آئیں گے۔ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی الذکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ (تاکہ لشکر کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو تو وہ اٹھا لیں) انہوں نے ایک سوئے انسان کا سایہ دیکھا اور جب (قریب آ کر) مجھے دیکھا تو پہچان گئے پردہ سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔ مجھے جب وہ پہچان گئے تو اناللہ پڑھنا شروع کیا اور ان کی آواز سے میں جاگ اٹھی اور فوراً اپنی چادر سے میں نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اللہ کی قسم! میں نے ان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور نہ سوا اناللہ کے میں نے ان کی زبان سے کوئی لفظ سنا۔ وہ سواری سے اتر گئے اور اسے انہوں نے بٹھا کر اس کی اگلی ٹانگ کو موڑ دیا (تاکہ بغیر کسی مدد کے ام المؤمنین اس پر سوار ہو سکیں) میں اٹھی اور اس پر سوار ہو گئی۔ اب وہ سواری کو آگے سے پکڑے ہوئے لے کر چلے۔ جب ہم لشکر کے قریب پہنچے تو ٹھیک دوپہر کا وقت تھا۔ لشکر پڑاؤ کئے ہوئے تھا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا۔ اصل میں تہمت کا بیڑا عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافق) نے اٹھا رکھا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ اس تہمت کا چرچا کرتا اور اس کی مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہوا کرتا۔ وہ اس کی تصدیق کرتا ‘ خوب غور اور توجہ سے سنتا اور پھیلانے کے لیے خوب کھود کرید کرتا۔ عروہ نے پہلی سند کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ حسان بن ثابت ‘ مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے سوا تہمت لگانے میں شریک کسی کا بھی نام نہیں لیا کہ مجھے ان کا علم ہوتا۔ اگرچہ اس میں شریک ہونے والے بہت سے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (کہ جن لوگوں نے تہمت لگائی ہے وہ بہت سے ہیں) لیکن اس معاملہ میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ اس پر بڑی خفگی کا اظہار کرتی تھیں۔ اگر ان کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جاتا ‘ آپ فرماتیں کہ یہ شعر حسان ہی نے کہا ہے کہ میرے والد اور میرے والد کے والد اور میری عزت ‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لیے تمہارے سامنے ڈھال بنی رہیں گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینہ پہنچ گئے اور وہاں پہنچتے ہی میں بیمار ہو گئی تو ایک مہینے تک بیمار ہی رہی۔ اس عرصہ میں لوگوں میں تہمت لگانے والوں کی افواہوں کا بڑا چرچا رہا لیکن میں ایک بات بھی نہیں سمجھ رہی تھی البتہ اپنے مرض کے دوران ایک چیز سے مجھے بڑا شبہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت و عنایت میں نہیں محسوس کرتی تھی جس کو پہلے جب بھی بیمار ہوتی میں دیکھ چکی تھی۔ آپ میرے پاس تشریف لاتے ‘ سلام کرتے اور دریافت فرماتے کیسی طبیعت ہے؟ صرف اتنا پوچھ کر واپس تشریف لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل سے مجھے شبہ ہوتا تھا۔ لیکن شر (جو پھیل چکا تھا) اس کا مجھے کوئی احساس نہیں تھا۔ مرض سے جب افاقہ ہوا تو میں ام مسطح کے ساتھ مناصع کی طرف گئی۔ مناصع (مدینہ کی آبادی سے باہر) ہمارے رفع حاجت کی جگہ تھی۔ ہم یہاں صرف رات کے وقت جاتے تھے۔ یہ اس سے پہلے کی بات ہے۔ جب بیت الخلاء ہمارے گھروں کے قریب بن گئے تھے۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ ابھی ہم عرب قدیم کے طریقے پر عمل کرتے اور میدان میں رفع حاجت کے لیے جایا کرتے تھے اور ہمیں اس سے تکلیف ہوتی تھی کہ بیت الخلاء ہمارے گھروں کے قریب بنائے جائیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ الغرض میں اور ام مسطح (رفع حاجت کے لیے) گئے۔ ام مسطح ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبد مناف کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ صخر بن عامر کی بیٹی ہیں اور وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں۔ انہی کے بیٹے مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر میں اور ام مسطح حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف واپس آ رہے تھے کہ ام مسطح اپنی چادر میں الجھ گئیں اور ان کی زبان سے نکلا کہ مسطح ذلیل ہو۔ میں نے کہا ‘ آپ نے بری بات زبان سے نکالی ‘ ایک ایسے شخص کو آپ برا کہہ رہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس پر کہا کیوں مسطح کی باتیں تم نے نہیں سنیں؟ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ بیان کیا ‘ پھر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں سنائیں۔ بیان کیا کہ ان باتوں کو سن کر میرا مرض اور بڑھ گیا۔ جب میں اپنے گھر واپس آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور سلام کے بعد دریافت فرمایا کہ کیسی طبیعت ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں گے؟ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ ان سے اس خبر کی تصدیق کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے (گھر جا کر) پوچھا کہ آخر لوگوں میں کس طرح کی افواہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ بیٹی! فکر نہ کر ‘ اللہ کی قسم! ایسا شاید ہی کہیں ہوا ہو کہ ایک خوبصورت عورت کسی ایسے شوہر کے ساتھ ہو جو اس سے محبت بھی رکھتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں اور پھر اس پر تہمتیں نہ لگائی گئی ہوں۔ اس کی عیب جوئی نہ کی گئی ہو۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے اس پر کہا کہ سبحان اللہ (میری سوکنوں سے اس کا کیا تعلق) اس کا تو عام لوگوں میں چرچا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ادھر پھر جو میں نے رونا شروع کیا تو رات بھر روتی رہی اسی طرح صبح ہو گئی اور میرے آنسو کسی طرح نہ تھمتے تھے اور نہ نیند ہی آتی تھی۔ بیان کیا کہ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنی بیوی کو علیحدہ کرنے کے متعلق مشورہ کرنے کے لیے بلایا کیونکہ اس سلسلے میں اب تک آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کے مطابق مشورہ دیا جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی (مراد خود اپنی ذات سے ہے) کی پاکیزگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے محبت کے متعلق جانتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ آپ کی بیوی میں مجھے خیر و بھلائی کے سوا اور کچھ معلوم نہیں ہے لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے اور عورتیں بھی ان کے علاوہ بہت ہیں۔ آپ ان کی باندی(بریرہ رضی اللہ عنہا) سے بھی دریافت فرما لیں وہ حقیقت حال بیان کر دے گی۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے تمہیں (عائشہ پر) شبہ ہوا ہو۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا۔ میں نے ان کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو بری ہو۔ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ایک نوعمر لڑکی ہیں ‘ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا اور منبر پر کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی (منافق) کا معاملہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے گروہ مسلمین! اس شخص کے بارے میں میری کون مدد کرے گا جس کی اذیتیں اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ گئی ہیں۔ اللہ کی قسم کہ میں نے اپنی بیوی میں خیر کے سوا اور کوئی چیز نہیں دیکھی اور نام بھی ان لوگوں نے ایک ایسے شخص (صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جو ام المؤمنین کو اپنے اونٹ پر لائے تھے) کا لیا ہے جس کے بارے میں بھی میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ وہ جب بھی میرے گھر آئے تو میرے ساتھ ہی آئے۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو اسہل کے ہم رشتہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا میں، یا رسول اللہ! آپ کی مدد کروں گا۔ اگر وہ شخص قبیلہ اوس کا ہوا تو میں اس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ ہمارے قبیلہ کا ہوا آپ کا اس کے متعلق بھی جو حکم ہو گا ہم بجا لائیں گے۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ اس پر قبیلہ خزرج کے ایک صحابی کھڑے ہوئے۔ حسان کی والدہ ان کی چچا زاد بہن تھیں یعنی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ وہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے بڑے صالح اور مخلصین میں تھے لیکن آج قبیلہ کی حمیت ان پر غالب آ گئی۔ انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے کہا: اللہ کی قسم! تم جھوٹے ہو ‘ تم اسے قتل نہیں کر سکتے، اور نہ تمہارے اندر اتنی طاقت ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلہ کا ہوتا تو تم اس کے قتل کا نام نہ لیتے۔ اس کے بعد اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے چچیرے بھائی تھے کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے کہا: اللہ کی قسم! تم جھوٹے ہو ‘ ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔ اب اس میں شبہ نہیں رہا کہ تم بھی منافق ہو ‘ تم منافقوں کی طرف سے مدافعت کرتے ہو۔ اتنے میں اوس و خزرج کے دونوں قبیلے بھڑک اٹھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپس ہی میں لڑ پڑیں گے۔ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہی تشریف فرما تھے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو خاموش کرانے لگے۔ سب حضرات چپ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اس روز پورا دن روتی رہی۔ نہ میرا آنسو تھمتا تھا اور نہ آنکھ لگتی تھی۔ بیان کیا کہ صبح کے وقت میرے والدین میرے پاس آئے۔ دو راتیں اور ایک دن میرا روتے ہوئے گزر گیا تھا۔ اس پورے عرصہ میں نہ میرا آنسو رکا اور نہ نیند آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ ابھی میرے والدین میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے اور میں روئے جا رہی تھی کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے انہیں اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں۔ بیان کیا کہ ہم ابھی اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ بیان کیا کہ جب سے مجھ پر تہمت لگائی گئی تھی ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ گزر گیا تھا اور میرے بارے میں آپ کو وحی کے ذریعہ کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ بیان کیا کہ بیٹھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا امابعد اے عائشہ! مجھے تمہارے بارے میں اس اس طرح کی خبریں ملی ہیں ‘ اگر تم واقعی اس معاملہ میں پاک و صاف ہو تو اللہ تمہاری پاکی خود بیان کر دے گا لیکن اگر تم نے کسی گناہ کا قصد کیا تھا تو اللہ کی مغفرت چاہو اور اس کے حضور میں توبہ کرو کیونکہ بندہ جب (اپنے گناہوں کا) اعتراف کر لیتا ہے اور پھر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کلام پورا کر چکے تو میرے آنسو اس طرح خشک ہو گئے کہ ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ میں نے پہلے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کلام کا جواب دیں۔ والد نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں کچھ نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے کیا کہنا چاہیے۔ پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ اس کا جواب دیں۔ والدہ نے بھی یہی کہا۔ اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے کیا کہنا چاہیے۔ اس لیے میں نے خود ہی عرض کیا۔ حالانکہ میں بہت کم عمر لڑکی تھی اور قرآن مجید بھی میں نے زیادہ نہیں پڑھا تھا کہ اللہ کی قسم! مجھے بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگوں نے اس طرح کی افوہوں پر کان دھرا اور بات آپ لوگوں کے دلوں میں اتر گئی اور آپ لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس تہمت سے بری ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اگر اور اس گناہ کا اقرار کر لوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس کی تصدیق کرنے لگ جائیں گے۔ پس اللہ کی قسم! میری اور لوگوں کی مثال یوسف علیہ السلام کے والد جیسی ہے۔ جب انہوں نے کہا تھا «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» (یوسف: 18) پس صبر جمیل بہتر ہے اور اللہ ہی کی مدد درکار ہے اس بارے میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو پھر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ خوب جانتا تھا کہ میں اس معاملہ میں قطعاً بری تھی اور وہ خود میری برات ظاہر کرے گا۔ کیونکہ میں واقعی بری تھی لیکن اللہ کی قسم! مجھے اس کا کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ قرآن مجید میں میرے معاملے کی صفائی اتارے گا کیونکہ میں اپنے کو اس سے بہت کمتر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ میں خود کوئی کلام فرمائے ‘ مجھے تو صرف اتنی امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ میری برات کر دے گا لیکن اللہ کی قسم! ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس سے اٹھے بھی نہیں تھے اور نہ اور کوئی گھر کا آدمی وہاں سے اٹھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور آپ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو وحی کی شدت میں طاری ہوتی تھی۔ موتیوں کی طرح پسینے کے قطرے آپ کے چہرے سے گرنے لگے۔ حالانکہ سردی کا موسم تھا۔ یہ اس وحی کی وجہ سے تھا جو آپ پر نازل ہو رہی تھی۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آپ کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ تبسم فرما رہے تھے۔ سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اللہ نے تمہاری برات نازل کر دی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میری والدہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے کہا ‘ نہیں اللہ کی قسم! میں آپ کے سامنے نہیں کھڑی ہوں گی۔ میں اللہ عزوجل کے سوا اور کسی کی حمد و ثنا نہیں کروں گی (کہ اسی نے میری برات نازل کی ہے) بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا «إن الذين جاءوا بالإفك» جو لوگ تہمت تراشی میں شریک ہوئے ہیں دس آیتیں اس سلسلہ میں نازل فرمائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے (سورۃ النور میں) یہ آیتیں میری برات کے لیے نازل فرمائیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (جو مسطح بن اثاثہ کے اخراجات ‘ ان سے قرابت اور ان کی محتاجی کی وجہ سے خود اٹھاتے تھے) نے کہا: اللہ کی قسم! مسطح نے جب عائشہ کے متعلق اس طرح کی تہمت تراشی میں حصہ لیا تو میں اس پر اب کبھی کچھ خرچ نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم» یعنی اہل فضل اور اہل ہمت قسم نہ کھائیں سے «غفور رحيم» تک (کیونکہ مسطح رضی اللہ عنہ یا دوسرے مومنین کی اس میں شرکت محض غلط فہمی کی بنا پر تھی)۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کہنے پر معاف کر دے اور مسطح کو جو کچھ دیا کرتے تھے ‘ اسے پھر دینے لگے اور کہا کہ اللہ کی قسم! اب اس وظیفہ کو میں کبھی بند نہیں کروں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی مشورہ کیا تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ عائشہ کے متعلق کیا معلومات ہیں تمہیں یا ان میں تم نے کیا چیز دیکھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو محفوظ رکھتی ہوں (کہ ان کی طرف خلاف واقعہ نسبت کروں) اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ زینب ہی تمام ازواج مطہرات میں میرے مقابل کی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے تقویٰ اور پاکبازی کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا۔ بیان کیا کہ البتہ ان کی بہن حمنہ نے غلط راستہ اختیار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئی تھیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ یہی تھی وہ تفصیل اس حدیث کی جو ان اکابر کی طرف سے مجھ تک پہنچی تھی۔ پھر عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! جن صحابی کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی تھی وہ (اپنے پر اس تہمت کو سن کر) کہتے ‘ سبحان اللہ ‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ میں نے آج تک کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اس واقعہ کے بعد وہ اللہ کے راستے میں شہید ہو گئے تھے۔
حدیث نمبر: 4142
حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّهِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، مِنْ حِفْظِهِ، أَخْبَرَنَامَعْمَرٌ، عَنْالزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبَلَغَكَ، أَنَّ عَلِيًّا كَانَ فِيمَنْ قَذَفَ عَائِشَةَ، قُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ قَدْ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِكَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِأَنَّعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ لَهُمَا: "كَانَ عَلِيٌّ مُسَلِّمًا فِي شَأْنِهَا فَرَاجَعُوهُ فَلَمْ يَرْجِعْ، وَقَالَ مُسَلِّمًا بِلَا شَكٍّ فِيهِ وَعَلَيْهِ كَانَ فِي أَصْلِ الْعَتِيقِ كَذَلِكَ". مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم (قریش) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف (یا زہری) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا«مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا (یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ جواب نہیں دیا اور پرانے نسخہ میں «مسلما» کا لفظ تھا)۔
حدیث نمبر: 4143
حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَاأَبُو عَوَانَةَ، عَنْحُصَيْنٍ، عَنْأَبِي وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِيأُمُّ رُومَانَوَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ أَنَا وَعَائِشَةُ إِذْ وَلَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ: فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ، فَقَالَتْ أُمُّ رُومَانَ: وَمَا ذَاكَ قَالَتِ ابْنِي فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَتْ: كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ، فَطَرَحْتُ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَغَطَّيْتُهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟"قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى بِنَافِضٍ، قَالَ: "فَلَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَعَدَتْ عَائِشَةُ فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنْ قُلْتُ لَا تَعْذِرُونِي مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ، قَالَتْ: وَانْصَرَفَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا، قَالَتْ: بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ وَلَا بِحَمْدِكَ. ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کر دیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ باتیں سنیں ہیں؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں۔ انہوں نے پوچھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ‘ انہوں نے بھی۔ یہ سنتے ہی وہ غش کھا کر گر پڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ میں نے ان پر ان کے کپڑے ڈال دیئے اور اچھی طرح ڈھک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جاڑے کے ساتھ بخار چڑھ گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً اس نے اس طوفان کی بات سن لی ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیٹھ کر کہا کہ اللہ کی قسم! اگر میں قسم کھاؤں کہ میں بےگناہ ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر کچھ کہوں تب بھی میرا عذر نہیں سنیں گے۔ میری اور آپ لوگوں کی یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی مثال ہے کہ انہوں نے کہا تھا «والله المستعان على ما تصفون» یعنی اللہ ان باتوں پر جو تم بناتے ہو مدد کرنے والا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ تقریر سن کر لوٹ گئے ‘ کچھ جواب نہیں دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی تلافی نازل کی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگیں بس میں اللہ ہی کا شکر ادا کرتی ہوں نہ آپ کا نہ کسی اور کا۔
حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنِييَحْيَى، حَدَّثَنَاوَكِيعٌ، عَنْنَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنْابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: "كَانَتْ تَقْرَأُ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ سورة النور آية 15 وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا. مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا (سورۃ النور کی آیت میں) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور (اس کی تفسیر میں) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
حدیث نمبر: 4145
حَدَّثَنَاعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَاعَبْدَةُ، عَنْهِشَامٍ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: "كَيْفَ بِنَسَبِي ؟"قَالَ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَاعُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ، سَمِعْتُهِشَامًا، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا. ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں برا نہ کہو ‘ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین قریش کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے نسب کا کیا ہو گا؟ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو ان سے اس طرح الگ کر لوں گا جیسے بال گندھے ہوئے آٹے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ اور محمد بن عقبہ (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے بیان کیا ‘ ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ہشام سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے میں بہت حصہ لیا تھا۔
حدیث نمبر: 4146
حَدَّثَنِيبِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْسُلَيْمَانَ، عَنْأَبِي الضُّحَى، عَنْمَسْرُوقٍ، قَالَ: "دَخَلْنَا عَلَىعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ وَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقُلْتُ لَهَا: لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النور آية 11 فَقَالَتْ: وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى، قَالَتْ لَهُ: إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں سلیمان نے ‘ انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود تھے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اپنے اشعار سنا رہے تھے۔ ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی ‘ وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا ‘ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے «والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم» اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہو گا۔ اس پر ام المؤمنین نے فرمایا کہ نابینا ہو جانے سے سخت عذاب اور کیا ہو گا (حسان رضی اللہ عنہ کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی) عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کیا کرتے تھے۔
36- بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ: باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ سورة الفتح آية 18 اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الفتح میں) ارشاد «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» بیشک اللہ تعالیٰ مومنین سے راضی ہو گیا جب انہوں نے آپ سے درخت کے نیچے بیعت کی۔
حدیث نمبر: 4147
حَدَّثَنَاخَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَاسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْزَيْدِ بْنِ خَالِدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: "أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟"قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: "قَالَ اللَّهُ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ اللَّهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي". ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ایک دن، رات کو بارش ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھانے کے بعد ہم سے خطاب کیا اور دریافت فرمایا کہ معلوم ہے تمہارے رب نے کیا کہا؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندوں نے اس حالت میں صبح کی کہ ان کا ایمان مجھ پر تھا اور کچھ نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ میرا انکار کئے ہوئے تھے۔ تو جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے رزق ‘ اللہ کی رحمت اور اللہ کے فضل سے ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ بارش فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 4148
حَدَّثَنَاهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَاهَمَّامٌ، عَنْقَتَادَةَ، أَنَّأَنَسًارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ قَالَ: "اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ". ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور سوا اس عمرے کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا ‘ تمام عمرے ذیقعدہ (کے مہینے) میں کئے۔ حدیبیہ کا عمرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذی قعدہ (کے مہینے) میں کرنے تشریف لے گئے پھر دوسرے سال (اس کی قضاء میں) آپ نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا اور ایک عمرہ جعرانہ سے آپ نے کیا تھا ‘ جہاں غزوہ حنین کی غنیمت آپ نے تقسیم کی تھی۔ یہ بھی ذی قعدہ میں کیا تھا اور ایک عمرہ حج کے ساتھ کیا (جو ذی الحجہ میں کیا تھا)۔
حدیث نمبر: 4149
حَدَّثَنَاسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَاعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْيَحْيَى، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّأَبَاهُحَدَّثَهُ، قَالَ: "انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ". ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے ‘ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے احرام باندھ لیا تھا لیکن میں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَاعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْإِسْرَائِيلَ، عَنْأَبِي إِسْحَاقَ، عَنْالْبَرَاءِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا". ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ‘ تم لوگ (سورۃ انا فتحنا میں) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی (کہ پانی ختم ہو گیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا پانی اس کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے کنویں کو یوں ہی رہنے دیا اور اس کے بعد جتنا ہم نے چاہا اس میں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔
حدیث نمبر: 4151
حَدَّثَنِيفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَاالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيّ، حَدَّثَنَازُهَيْرٌ، حَدَّثَنَاأَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: أَنْبَأَنَاالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ فَنَزَحُوهَا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى الْبِئْرَ وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ قَالَ: "ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا"، فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ: "دَعُوهَا سَاعَةً"، فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا. مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ‘ ہم سے حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ ہمیں براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ لوگ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک کنویں پر پڑاؤ ہوا لشکر نے اس کا (سارا)پانی کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے پاس تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ ایک ڈول میں اسی کنویں کا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ کنویں کو یوں ہی تھوڑی دیر کے لیے رہنے دو۔ اس کے بعد سارا لشکر خود بھی سیراب ہوتا رہا اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہاں سے انہوں نے کوچ کیا۔
حدیث نمبر: 4152
حَدَّثَنَايُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَاابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَاحُصَيْنٌ، عَنْسَالِمٍ، عَنْجَابِرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا لَكُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رَكْوَتِكَ، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ، قَالَ: فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً. ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ‘ کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے ایک چھاگل تھا ‘ اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا ‘ نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے۔ سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔(سالم کہتے ہیں کہ) میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہو جاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔
حدیث نمبر: 4153
حَدَّثَنَاالصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَايَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْسَعِيدٍ، عَنْقَتَادَةَ، قُلْتُلِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، بَلَغَنِي أَنَّجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ يَقُولُ: "كَانُوا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً"، فَقَالَ لِي سَعِيدٌ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ: "كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً الَّذِينَ بَايَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. تَابَعَهُأَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَاقُرَّةُ، عَنْقَتَادَةَ. ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا ‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ (حدیبیہ کی صلح کے موقع پر) صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ اس پر سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا اس موقع پر پندرہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیبیہ میں بیعت کی تھی۔ ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور محمد بن بشار نے بھی ابوداؤد طیالسی کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4154
حَدَّثَنَاعَلِيٌّ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، قَالَعَمْرٌو، سَمِعْتُجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ: "أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ"، وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لَأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ. تَابَعَهُالْأَعْمَشُ، سَمِعَسَالِمًا، سَمِعَجَابِرًاأَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ . ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھاتا۔ اس روایت کی متابعت اعمش نے کی، ان سے سالم نے سنا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ چودہ سو صحابہ غزوہ حدیبیہ میں تھے۔
حدیث نمبر: 4155
وَقَالَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَاأَبِي، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ. تَابَعَهُمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَاأَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ. اور عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ درخت والوں (بیعت رضوان کرنے والوں) کی تعداد تیرہ سو تھی۔ قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ اس روایت کی متابعت محمد بن بشار نے کی ‘ ان سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا اور ان سے شعبہ نے۔
حدیث نمبر: 4156
حَدَّثَنَاإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَاعِيسَى، عَنْإِسْمَاعِيلَ، عَنْقَيْسٍأَنَّهُ، سَمِعَمِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ: "يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا". ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ‘ انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہیں قیس بن ابی حازم نے اور انہوں نے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ اصحاب شجرہ (غزوہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں) میں سے تھے ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ پہلے صالحین قبض کئے جائیں گے۔ جو زیادہ صالح ہو گا اس کی روح سب سے پہلے اور جو اس کے بعد کے درجے کا ہو گا اس کی اس کے بعد پھر ردی اور بےکار کھجور اور جَو کی طرح بےکار لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی اللہ کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 4157 - 4158 حَدَّثَنَاعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْمَرْوَانَ، والْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَا: "خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا"، لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: لَا أَحْفَظُ مِنْ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ، فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ، أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ. ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔ میں نہیں شمار کر سکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا۔ اس لیے میں نہیں جانتا ‘ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی۔
حدیث نمبر: 4159 حَدَّثَنَاالْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْأَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ، عَنْابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: "أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ"، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. ہم سے حسن بن خلف نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر ورقاء بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے (عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا (یعنی احرام کی حالت میں) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔
حدیث نمبر: 4160 - 4161 حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: "خَرَجْتُ مَعَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ، فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ، فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا، وَلَا لَهُمْ زَرْعٌ وَلَا ضَرْعٌ وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ وَلَمْ يَمْضِ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلَأَهُمَا طَعَامًا، وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا، ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا، قَالَ عُمَرُ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا، فَافْتَتَحَاهُ ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ". ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے ‘ آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا ‘ مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہو گا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ اے امیرالمؤمنین! آپ نے اسے بہت دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ تیری ماں تجھے روئے ‘ اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 4162 حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَاشَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْفَزَارِيّ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: "لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا. مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعمرو شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے وہ درخت دیکھا تھا لیکن پھر بعد میں جب آیا تو میں اسے نہیں پہچان سکا۔ محمود نے بیان کیا کہ پھر بعد میں وہ درخت مجھے یاد نہیں رہا تھا۔
حدیث نمبر: 4163 حَدَّثَنَامَحْمُودٌ، حَدَّثَنَاعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْإِسْرَائِيلَ، عَنْطَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ: مَا هَذَا الْمَسْجِدُ ؟ قَالُوا: هَذِهِ الشَّجَرَةُ حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، فَأَتَيْتُسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنِيأَبِيأَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: "إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ". ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔ پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم لوگوں نے کیسے پہچان لیا (اس کے تلے مسجد بنا لی) تم ان سے زیادہ علم والے ٹھہرے۔
حدیث نمبر: 4164 حَدَّثَنَامُوسَى، حَدَّثَنَاأَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَاطَارِقٌ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّهُ: "كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا". ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے ‘ کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کون سا درخت تھا۔
حدیث نمبر: 4165 حَدَّثَنَاقَبِيصَةُ، حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، عَنْطَارِقٍ، قَالَ: ذُكِرَتْ عِنْدَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِالشَّجَرَةُ، فَضَحِكَ فَقَالَ: أَخْبَرَنِيأَبِي، وَكَانَ شَهِدَهَا. ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کی مجلس میں «الشجرة» کا ذکر ہوا تو وہ ہنسے اور کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس درخت کے تلے بیعت میں شریک تھے۔
حدیث نمبر: 4166 حَدَّثَنَاآدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ، قَالَ: "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ"، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى". ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی صدقہ لے کر حاضر ہوتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔ چنانچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! آل ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر اپنی رحمت نازل فرما۔
حدیث نمبر: 4167 حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيلُ، عَنْأَخِيهِ، عَنْسُلَيْمَانَ، عَنْعَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: "لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحَرَّةِ، وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، فَقَالَابْنُ زَيْدٍ: عَلَى مَا يُبَايِعُ ابْنُ حَنْظَلَةَ النَّاسَ ؟ قِيلَ لَهُ: عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَى ذَلِكَ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ شَهِدَ مَعَهُ الْحُدَيْبِيَةَ. ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے اور ان سے عباد بن تمیم نے بیان کیا کہ حرہ کی لڑائی میں لوگ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ عبداللہ بن زید نے پوچھا کہ ابن حنظلہ سے کس بات پر بیعت کی جا رہی ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ موت پر۔ ابن زید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میں کسی سے بھی موت پر بیعت نہیں کروں گا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔
حدیث نمبر: 4168 حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبِي، حَدَّثَنَاإِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: حَدَّثَنِيأَبِيوَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، قَالَ: "كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ، وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ ظِلٌّ نَسْتَظِلُّ فِيهِ". ہم سے یحییٰ بن یعلیٰ محاربی نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ وہ اصحاب شجرہ میں سے تھے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوئے تو دیواروں کا سایہ ابھی اتنا نہیں ہوا تھا کہ ہم اس میں آرام کر سکیں۔
حدیث نمبر: 4169 حَدَّثَنَاقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَاحَاتِمٌ، عَنْيَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُلِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ: "عَلَى الْمَوْتِ". ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔
حدیث نمبر: 4170 حَدَّثَنِيأَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْالْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ: طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ". مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر (درخت) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔
حدیث نمبر: 4171 حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ، حَدَّثَنَايَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَامُعَاوِيَةُ هُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْيَحْيَى، عَنْأَبِي قِلَابَةَ، أَنَّثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ: "بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ". ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔
حدیث نمبر: 4172 حَدَّثَنِيأَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَاعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَاشُعْبَةُ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1، قَالَ: الْحُدَيْبِيَةُ، قَالَ أَصْحَابُهُ: هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَمَا لَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5، قَالَ شُعْبَةُ: فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: أَمَّا إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ سورة الفتح آية 1، فَعَنْ أَنَسٍ، وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَعَنْ عِكْرِمَةَ". مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ (آیت) «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے (کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہو چکی ہیں) لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات» اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ«إنا فتحنا لك» بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد «هنيئا مريئا» (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔