Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
83- بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ:
باب: کسریٰ ( شاہ ایران ) اور قیصر ( شاہ روم ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا
حدیث نمبر: 4424
ہم سے اسحاق بن رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (شاہ فارس) کسریٰ کے پاس اپنا خط عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو دے کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے گورنر کو دے دیں (جو کسریٰ کا عالم تھا) کسریٰ نے جب آپ کا خط مبارک پڑھا تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 4425
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ جمل کے موقع پر وہ جملہ میرے کام آ گیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں ارادہ کر چکا تھا کہ اصحاب جمل، عائشہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے لشکر کے ساتھ شریک ہو کر (علی رضی اللہ عنہ کی) فوج سے لڑوں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت و تاج بنایا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو۔
حدیث نمبر: 4426
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے یاد ہے جب میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ سفیان نے ایک مرتبہ ( «مع الغلمان» کے بجائے) «مع الصبيان.» بیان کیا۔
حدیث نمبر: 4427
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے یاد ہے، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔