• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیحین کی غر المحجلین حدیث میں ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کا ادراج

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اسلام علیکم،
صحیح البخاری کی کتاب الوضوء کی دوسری حدیث میں امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ:
136 حدثنا يحيى بن بكير قال حدثنا الليث عن خالد عن سعيد بن أبي هلال عن نعيم المجمر قال رقيت مع أبي هريرة على ظهر المسجد فتوضأ فقال إني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول إن أمتي يدعون يوم القيامة غرا محجلين من آثار الوضوء فمن استطاع منكم أن يطيل غرته فليفعل
(صحیح البخاری مع فتح الباری ص 284)
ہائی لائٹ کردہ الفاظ کے متعلق علماء کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کا ادراج ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیۃ اور ان کے تلمیذ ابن القیم:
حادی الارواح (1/147) میں فرماتے ہیں: واما قوله(( فمن استطاع منكم ان يطيل غرته فليفعل)) فهذه الزيادة مدرجة في الحديث من كلام أبي هريرة لا من النبي صلى الله عليه وسلم بين ذلك غير واحد من الحفاظ .
وفي مسند أحمد في هذا الحديث قال نعيم :فلا أدري قوله من استطاع منكم أن يطيل غرته فليفعل من كلام النبي صلى الله عليه وسلم أو شيء قاله أبو هريرة من عنده...
وكان شيخنا يقول هذه اللفظة لا يمكن أن تكون من كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن الغرة لا تكون في اليد ..لا تكون إلا في الوجه وإطالته غير ممكنة إذا دخل في الرأس فلا تسمى تلك غرة)ا.هـ

اور نونیۃ (2/542) میں فرماتے ہیں:
كذاك أهل الفقه مختلفون في هذا وفيه عندهم قولان
والراجح الأقوى انتهاء وضوئنا للمرفقين كذلك الكعبان
هذا الذي حدد الرحمن في القر آن لا تعدل عن القرآن
واحفظ حدود الرب لا تتعدها وكذلك لا تجنح إلى النقصان
وانظر إلى فعل الرسول تجده قد أبدى المراد وجاء بالتبيان
ومن استطاع يطيل غرته فمو قوف على الراوي هو الفوقاني
فأبو هريرة قال ذا من كيسه فغدا يميزه أولو العرفان
ونعيم الراوي له قد شك في رفع الحديث كذا روى الشيباني
وإطالة الغرة ليس بممكن أبدا وذا في غاية التبيان....ا.هـ

جس روایت میں نعیم المجمر نے اپنے شک کا اظہار کیا ہے وہ مسند احمد (2/334و523) میں موجود ہے جیسا کہ سلسلۃ الضعیفۃ میں بھی مذکور ہے (1030)۔ احمد الغماری نے اس ادراج کا جواب دینے کی کوشش کی ہے جیسے کہ اس لنک میں موجود ہے (http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=128514) لیکن شیخ البانی کا سلسلۃ الضعیفہ میں کلام کافی مدلل ہے اور احمد الغماری کے دلائل بھی صحیح نہیں ہیں۔
شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ نے بھی اس کلام کو ابو ہریرۃ کا کلام قرار دیا ہے، لیکن کسی نے ان سے پوچھا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ابو ہریرہ اسے مرفوعا روایت کرتے ہیں تو انہوں نے جو جواب دیا وہ اس لنک میں ہے
http://islamancient.com/play.php?catsmktba=20913
اب اس ادراج کا کیا حکم ہے؟ اس سے صحیحین کی صحت پر کچھ اثر پڑتا ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو یہ جو ابن القیم نے کہا کہ یطیل الغر ممکن نہیں اس کا کیا جواب ہے؟ وضوء کی جگہ کے بڑھانے کا کیا حکم ہے؟
جزاک اللہ خیرا۔
 
Top