• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم کی روایت نور دیکھا- نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ رَأَيْتُ نُورًا

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابٌ فِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ»، وَفِي قَوْلِهِ: «رَأَيْتُ نُورًا»)



صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان

(باب: آپﷺ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘)

443 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ»

حکم : صحیح

443 . یزید بن ابراہیم نے قتادہ سے ، انہوں نے عبد اللہ بن شقیق سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر سے روایت کی کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا؟ آپ نے جواب دیا :’’ وہ نو ر ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں!‘‘

http://mohaddis.com/View/Muslim/444


صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان

(باب: آپﷺ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘)

444 .
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عفَّانُ بْنُ مُسْلمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ كِلَاهمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتَ لِأَبِي ذرٍّ، لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: عَنْ أيِّ شيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدْ سَأَلْتُ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ نُورًا»


حکم : صحیح

444 . ہشام او رہمام دونوں نے دو مختلف سندوں کے ساتھ قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبد اللہ بن شقیق سے ، انہوں نےکہا: میں نےابو ذر سے کہا: اگرمیں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے سوال کرتا ۔ ابو ذر نے کہا: تم ان کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ؟ عبد اللہ بن شقیق نے کہا : میں آپ ﷺ سے سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔ ابو ذر نے کہا: میں نے آپ سے (یہی) سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایاتھا:’’ میں نے نور دیکھا ۔‘‘

کتاب كشف المشكل من حديث الصحيحين میں ابن جوزی نے اس پر تبصرہ کیا ہے

وَفِي الحَدِيث السَّابِع عشر: سَأَلت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: هَل رَأَيْت رَبك؟ فَقَالَ: ” نور، أَنى اراه “. ذكر أَبُو بكر الْخلال فِي كتاب ” الْعِلَل ” عَن أَحْمد بن حَنْبَل أَنه سُئِلَ عَن هَذَا الحَدِيث فَقَالَ: مَا زلت مُنْكرا لهَذَا الحَدِيث وَمَا أَدْرِي مَا وَجهه. وَذكر أَبُو بكر مُحَمَّد بن إِسْحَق بن خُزَيْمَة فِي هَذَا الحَدِيث تضعيفا فَقَالَ: فِي الْقلب من صِحَة سَنَد هَذَا الْخَبَر شَيْء، لم أر أحدا من عُلَمَاء الْأَثر فطن لعِلَّة فِي إِسْنَاده، فَإِن عبد الله بن شَقِيق كَأَنَّهُ لم يكن يثبت أَبَا ذَر وَلَا يعرفهُ بِعَيْنِه واسْمه وَنسبه، لِأَن أَبَا مُوسَى مُحَمَّد ابْن الْمثنى حَدثنَا قَالَ: حَدثنَا معَاذ بن هِشَام قَالَ: حَدثنِي أبي عَن قَتَادَة عَن عبد الله بن شَقِيق قَالَ: أتيت الْمَدِينَة، فَإِذا رجل قَائِم على غَرَائِر سود يَقُول: أَلا ليبشر أَصْحَاب الْكُنُوز بكي فِي الجباه والجنوب فَقَالُوا: هَذَا أَبُو ذَر، فَكَأَنَّهُ لَا يُثبتهُ وَلَا يعلم أَنه أَبُو ذَر. وَقَالَ ابْن عقيل: قد أجمعنا على أَنه لَيْسَ بِنور، وخطأنا الْمَجُوس فِي قَوْلهم: هُوَ نور. فإثباته نورا مَجُوسِيَّة مَحْضَة، والأنوار أجسام. والبارئ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَيْسَ بجسم، وَالْمرَاد بِهَذَا الحَدِيث: ” حجابه النُّور ” وَكَذَلِكَ رُوِيَ فِي حَدِيث أبي مُوسَى، فَالْمَعْنى: كَيفَ أرَاهُ وحجابه النُّور، فَأَقَامَ الْمُضَاف مقَام الْمُضَاف إِلَيْهِ. قلت: من ثَبت رُؤْيَة رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم ربه عز وَجل فَإِنَّمَا ثَبت كَونهَا لَيْلَة الْمِعْرَاج، وَأَبُو ذَر أسلم بِمَكَّة قَدِيما قبل الْمِعْرَاج بِسنتَيْنِ ثمَّ رَجَعَ إِلَى بِلَاد قومه فَأَقَامَ بهَا حَتَّى مَضَت بدر وَأحد وَالْخَنْدَق، ثمَّ قدم الْمَدِينَة، فَيحْتَمل أَنه سَأَلَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حِين إِسْلَامه: هَل رَأَيْت رَبك، وَمَا كَانَ قد عرج بِهِ بعد، فَقَالَ: ” نور، أَنى أرَاهُ؟ ” أَي أَن النُّور يمْنَع من رُؤْيَته، وَقد قَالَ بعد الْمِعْرَاج فِيمَا رَوَاهُ عَنهُ ابْن عَبَّاس: ” رَأَيْت رَبِّي “.

رسول الله سے سوال کیا کہ کیا اپ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا نور ہے کیسے دیکھتا اور اس کا ذکر ابو بکر الخلال نے کتاب العلل میں امام احمد کے حوالے سے کیا کہ ان سے اس حدیث پر سوال ہوا پس کہا میں اس کو منکر کہنے سے نہیں ہٹا اور … ابن خزیمہ نے اس حدیث کی تضعیف کی اور کہا اس خبر کی صحت پر دل میں کچھ ہے اور میں نہیں دیکھتا کہ محدثین سوائے اس کے کہ وہ اس کی اسناد پر طعن ہی کرتے رہے کیونکہ اس میں عبد الله بن شقیق ہے جو ابو ذر سے روایت کرنے میں مضبوط نہیں اور اس کو نام و نسب سے نہیں جانا جاتا کیونکہ ابو موسی نے روایت کیا حَدثنَا قَالَ: حَدثنَا معَاذ بن هِشَام قَالَ: حَدثنِي أبي عَن قَتَادَة کہ عبد الله بن شَقِيق نے کہا میں مدینہ پہنچا تو وہاں ایک شخص کو … کھڑے دیکھا … پس لوگوں نے کہا یہ ابو ذر ہیں.. کہ گویا کہ اس عبد الله کو پتا تک نہیں تھا کہ ابو ذر کون ہیں! اور ابن عقیل نے کہا ہمارا اجماع ہے کہ الله نور نہیں ہے اور مجوس نے اس قول میں غلطی کی کہ وہ نور ہے پس اس کا اثبات مجوسیت ہے اور اجسام منور ہوتے ہیں نہ کہ الله سبحانہ و تعالی اور یہ حدیث میں مراد ہے کہ نور اس کا حجاب ہے … اور میں ابن جوزی کہتا ہوں : اور جس کسی نے اس روایت کو ثابت کہا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا انہوں نے اس کو معراج کی رات میں ثابت کیا ہے اور ابی ذر مکہ میں ایمان لائے معراج سے دو سال پہلے پھر اپنی قوم کی طرف لوٹے ان کے ساتھ رہے یھاں تک کہ بدر اور احد اور خندق گزری پھر مدینہ پہنچے پس احتمال ہے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا ہو جب ایمان لائے ہوں کہ کیا اپ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ اور اس وقت اپ کو معراج نہیں ہوئی تھی پس رسول الله نے فرمایا نور ہے اس کو کیسے دیکھوں اور بے شک معراج کے بعد کہا جو ابن عباس نے روایت کیا ہے کہ میں نے اپنے رب کو دیکھا

صحیح مسلم میں ایک طرف تو معراج کی روایت میں کہیں نہیں کہ اپ صلی الله علیہ وسلم سدرہ المنتہی سے آگے گئے ہوں دوسری طرف علماء کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نور دیکھا جو حجاب عظمت تھا جو نوری ہے اور اس کی روشنی اس قدر تھی کہ آنکھ بشری سے کچھ دیکھ نہ سکے

اس تضاد کو شارح مسلم امام ابو عبداللہ مازری نے بیان کیا اور ان کے بعد سب لوگ شروحات میں بغیر سوچے نقل کرتے رہے – مازری کہتے ہیں

الضمير في أراه عائد على الله سبحانه وتعالى ومعناه أن النور منعني من الرؤية كما جرت العادة بإغشاء الأنوار الأبصار ومنعها من إدراك ما حالت بين الرائى وبينه وقوله صلى الله عليه وسلم (رأيت نورا) معناه رأيت النور فحسب ولم أر غيره



حدیث کے الفاظ أراه میں ضمیر اللہ تعالی کی طرف پلٹتی ہے ، یعنی میں اللہ کو کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ کیونکہ نور جو اس کا حجاب ہے وہ مجھے اللہ کو دیکھنے سے روک لیتا ہے ، جیسا کہ عادت جاری میں ہے کہ تیز روشنی نگاہ پر چھا جاتی ہے اور ادراک میں مانع ہوتی ہے دیکھنے والے کو سامنے والی چیز دکھائی نہیں دیتی ، اور رسول الله کا قول ہے میں نے نور دیکھا تو مطلب یہ ہے کہ میں نے صرف نور ہی دیکھا اور کچھ نہیں دیکھا

بحث اس میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کیا سدرہ المنتہی سے بھی آگے حجاب عظمت تک پہنچ گئے تھے ؟

کیونکہ ابو ذر رضی الله عنہ کے قول سے یہی ثابت ہوتا ہے اگر یہ صحیح ہے

یعنی علماء کے ایک گروہ کے نزدیک رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اصلی آنکھ سے بعض کہتے ہیں دیکھا قلبی آنکھ سے اور بعض کہتے ہیں سدرہ المنتہی سے آگے جانا ہی نہیں ہوا تو کب دیکھا

@عدیل سلفی
@خضر حیات کیا کہیں گے آپ یہاں
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
جہاں دیکھنے کا اثبات ہے ، اس سے مراد ہے کہ نور دیکھا ۔
جہاں نفی ہے ، اس کا مطلب اللہ کو نہیں دیکھا ،
گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو نہیں ، بلکہ نور کو دیکھا ، اور مزید دیکھ نہیں پائے ۔
اس میں اسی قسم کا خفیف اختلاف لگتا ہے ، کوئی جوہری اختلاف نہیں ۔
واللہ اعلم ۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
120
پوائنٹ
90
جوہری ختلاف اصطلاح کا اکثر استعمال دیکھا ہے اس کے معنی کیا ہیں۔
اگر اس کا انگلش میں ترجمہ کیا جائے تو میرے خیال میں Nuclear dispute ہوگا۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
120
پوائنٹ
90
جہاں دیکھنے کا اثبات ہے ، اس سے مراد ہے کہ نور دیکھا ۔
جہاں نفی ہے ، اس کا مطلب اللہ کو نہیں دیکھا ،
گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو نہیں ، بلکہ نور کو دیکھا ، اور مزید دیکھ نہیں پائے ۔
اس میں اسی قسم کا خفیف اختلاف لگتا ہے ، کوئی جوہری اختلاف نہیں ۔
واللہ اعلم ۔
السلام علیکم
محترم خضر صاحب
قران مجید میں اللہ کو زمین و آسمان کا نور ہی کہا گیا ہے ۔ تو نور کو دیکھنا اللہ رب العزت کو دیکھنا نہیں شمار ہوگا۔؟ جب اللہ نور ہے اور نور کو دیکھا تو اللہ کو دیکھا۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
120
پوائنٹ
90
1. ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ ... الأنعام: ١٠٣﴾ کہ ’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں۔‘‘
تفسیر ابن کثیر میں اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مکتوب ہے: (لا تدركه في الدنیا وإن کانت تراه في الآخرة) کہ ’’دنیا میں یہ آنکھیں اللہ کو نہیں دیکھ سکتیں اگر چہ آخرت میں دیکھیں گی۔‘‘
2. ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ... الشوریٰ: ٥١﴾ کہ ’’کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے رو برو بات کریں، اس کی بات یا تو وحی(اشارہ)کے طور پر ہوتی ہے یا پردے کے پیچھے سے ۔‘‘
3. سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے رؤیت کاسوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَنْ تَرَانِي ... الأعراف: ١٤٣ ﴾ کہ ’’تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔

ایک بات اور ذہن میں آئی ہے وہ یہ کہ دنیا میں یہ آنکھیں رب کو نہیں دیکھ سکتیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت اس ارضی دنیا میں موجود ہی نہیں تھے۔وہ تو اس مقام پر تھے جہاں ہم آخرت میں پہنچیں گے۔معراج تو ایک معجزہ تھا۔اگر ہر چیز کو زمینی اصولوں پر قیاس کیا جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روشنی سے زیادہ رفتار سے سفر کیا۔ اور اصول دنیا کے مطابق روشنی کی رفتا ر میں سفر کرنے سے جسم منتشر ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حسیات دنیاوی نہیں تھی۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
السلام علیکم
محترم خضر صاحب
قران مجید میں اللہ کو زمین و آسمان کا نور ہی کہا گیا ہے ۔ تو نور کو دیکھنا اللہ رب العزت کو دیکھنا نہیں شمار ہوگا۔؟ جب اللہ نور ہے اور نور کو دیکھا تو اللہ کو دیکھا۔
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دس لائٹیں جل رہی ہوں ، ان میں سے ایک کو آپ دیکھ لیں ، تو اس سے مرادیہ تو نہیں کہ باقی نو کو بھی آپ نے دیکھا ہے ۔ حالانکہ ہے تو سب ہی روشنی ۔
بہت بڑی لائٹ جل رہی ہو ، اس کو دیکھیں تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ، روشنی اس قدر تیز ہوتی ہے کہ صرف روشنی محسوس ہوتی ہے ، جو چیز روشنی دے رہی ہے ، اس کی ساخت و جسامت کا اندازہ نہین ہوتا ۔ یہ دنیاوی روشنی اور نور ہے ۔ خالق و مالک کا نور یا اس کی ذات بابرکات کی کیا شان ہوگی ، انسانی عقل اس کا ادراک کر ہی نہیں سکتی ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
اس طرح کے موضوعات کو اس انداز سے زیر بحث لانا ہی خطرے سے خالی نہیں ، ایک میرے جیسے سادہ مسلمان کے لیے ایمان بالغیب کا ادنی درجہ بھی حسی و مشاہداتی موشگافیوں کی معراج سے اعلی و ارفع اور اسلم و احوط محسوس ہوتا ہے ۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
120
پوائنٹ
90
محترم خضر حیات صاحب
السلام علیکم
میرے ذہن میں یہ بات آئی تھی کہ قران و حدیث میں دنیاوی آنکھوں سے دیکھنے کو ناممکن قرار دیاہے ۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رب العزت سے ملاقات کی تو اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ عالم دوسرا تھا ۔ یہ ایک قیاس تھا کہ وہاں حسیات کچھ اور ہوں گی۔
آئندہ احتیاط کروں گا ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,471
پوائنٹ
791
اگر ہر چیز کو زمینی اصولوں پر قیاس کیا جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روشنی سے زیادہ رفتار سے سفر کیا۔
ایک رات میں سات آسمانوں سے پرے کا سفر اور واپسی تک رات باقی رہنا ، صرف معجزہ اور اللہ کا کام ہی ہوسکتا ہے ؛
کیونکہ موجودہ سائنسی اندازے کے مطابق نظر آنے والی کائنات نظام شمسی کہلاتی ہے ، اور
یہ نظام شمسی (Solar System) کا حصہ ہے۔ نظام شمسی کے وسط میں سورج واقع ہے جس کےگرد سیارے اور سیارچے خاص راستوں پر گھومتے ہیں، ان راستوں کو سیاروں کے مدار کہا جاتا ہے۔ ستارے (Star) اور سیارے (Planet) میں فرق یہ ہے کہ ستارہ خود روشن ہوتا ہے جبکہ سیارہ خود روشن نہیں ہوتا اور دوسرے ستاروں سے آنے والی روشنی کو منعکس کرنے کی وجہ سے روشن نظر آتا ہےمثلاً سورج ایک ستارہ ہے جس کے اندر ہر وقت ہونے والے ایٹمی دھماکوں سے روشنی پیدا ہوتی ہے جو اسے روشن رکھتی ہےاور زمین ایک سیارہ ہے کیوں کہ اس کی اپنی روشنی نہیں ہے بلکہ یہ سورج سے آنے والی روشنی کو منعکس کرتی ہے۔ستاروں کے مجموعے کو کہکشاں (Galaxy) کہا جاتا ہے۔ کہکشاں میں ستاروں کی تعداد اربوں ہو سکتی ہے۔
ہماری زمین کا قطر تقریبًا 12٫756 کلومیٹر ہے۔ جبکہ یہ سورج کے گرد ایک لاکھ سات ہزارکلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔غور کریں کہ خالقِ کائنات نے کیسا زبردست نظام بنایا ہے کہ اس قدر تیز رفتاری کے باوجود زمین پر موجود مخلوقات کو اس کی حرکت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں زمین کو ایک سال لگتا ہے اور اس عرصے میں وہ تقریبًا چھیانوے کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھیے کہ جتنی دیر میں آپ آنکھ جھپکتے ہیں اتنی دیر میں زمین ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر جاتی ہے۔ ہوائی جہاز اور زمین کی رفتار کا موازنہ کرنے سےمعلوم ہو گا کہ جتنا فاصلہ زمین ایک سیکنڈ میں طے کرتی ہے، ہوائی جہاز وہ فاصلہ ایک گھنٹے میں بھی طے نہیں کر پاتا۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,471
پوائنٹ
791
ہماری زمین کا قطر تقریبًا 12٫756 کلومیٹر ہے۔ جبکہ یہ سورج کے گرد ایک لاکھ سات ہزارکلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ اور ایک سال میں سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کرتی ہے ،
غور کریں کہ
زمین جو آنکھ جھپکتے جتنی دیر میں ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر جاتی ہے
اور سورج کے گرد چکر پورا کرنے میں ایک سال لگاتی ہے ،
جبکہ نبی کریم ﷺ اس سے کہیں زیادہ فاصلہ چند گھنٹوں میں دوبار کرلیا ،
 
Top