صدقۃ الفطرکے احکام ومسائل
تحریر:عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی سعودی عرب
زكاةالفِطْرکی تعریف:
لغت میں زکاۃ سے مراد طہارۃ ہے اسی طرح نماء(بڑھوتری) اور برکت پربھی اس کا اطلاق ہوتاہے۔اورفطرروزہ توڑنے کوکہتےہیں ،زکاۃ الفطر کا دوسرانام صدقۃ الفطر بھی ہے ۔ نیز اسے عام زبان میں فطرانہ کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔
اور شریعت میں زکاۃ الفطرسے مراد وہ مال ہے جسے مسلمان رمضان کےبعد روزہ توڑنے کی وجہ سے ادا کرتاہے۔
صدقۃالفطرکاحکم :
صدقۃ الفطرہرچھوٹا ، بڑا مرد،عورت مسلمان پر واجب ہے ، اس سلسلے میں مختلف روایتیں ہیں :
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں: "فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر من رمضان على كل نفس من المسلمين... حرٍّ أو عبدٍ، أو رجلٍ، أو امرأةٍ، صغيرٍ، أو كبيرٍ"۔ " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی وجہ سے زکاۃ الفطرہر مسلمان نفس پر۔۔۔۔۔ آزاد ہویاغلام مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہویابڑا فرض کیاہے "۔( صحیح بخاری /1507 ، صحیح مسلم /984)۔
صدقۃ الفطرکی حکمت :
صدقہ فطرکی چند حکمتیں ہیں :
1 - حالت روزہ میں سرزد ہونے والی بعض لغو اور اور بیہودہ قسم کی باتیں اورغلطیوں سے پاکی ۔
2- مساکین وفقراء کی مدد ، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے: "فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث، وطعمة للمساكين"۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے" ۔(ابوداوود/1609، وابن ماجۃ /1827، والدارقطني /2/138 ، والحاكم /1/568, شیخ البانی نے حسن قراردیاہے)۔
3 - وقت متعین پر مستحقین تک صدقہ پہونچاکر اجر وثواب کا حصول ۔
4 - اللہ کا شکر کہ اس نے بحسن وخوبی روزہ رکھنے کی توفیق عطافرمائی ۔
صدقۃ الفطرکا وقت :
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے : - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم-: "أمر بزكاة الفِطر أن تؤدَّى قبل خروج الناس إلى الصلاة" " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاہےکہ صدقہ فطر لوگوں کے عیدگاہ نکلنے سے قبل اداکیاجائے" ۔( صحیح بخاری /1503 ، صحیح مسلم /986)۔
اس روایت میں صراحت ہے کہ صدقۃ الفطرعیدگاہ کے لئے نکلنے سے قبل ادا کرنا ضروی ہے ، اگر کسی نے نماز کے بعد نکالا تووہ مقبول ہے ورنہ وہ عام صدقہ ہوگا، جیساکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے :" فَرَضَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - زَكَاةَ الفِطرِ طُهرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعمَةً لِلمَسَاكِينِ، مَنْ أدَّاهَا قَبلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقبُولَةٌ، وَمَنْ أدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ"۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا"۔(ابوداوود/1609، وابن ماجۃ /1827، والدارقطني /2/138 ، والحاكم /1/568, شیخ البانی نے حسن قراردیاہے)۔
عید سے ایک دو دن پہلے بھی اد اکرنا جائز ہے, جیسا کہ امام بخاری نے نافع سے روایت کیاہے کہ: " كان ابن عمر يُعطي عن الصغير والكبير، حتى وإن كان يعطي عن بَنِيَّ، وكان يُعطيها الذين يقبلونها، وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين"۔"عبد اللہ بن عمر (صدقہ فطر) چھوٹے بڑے سب کی طرف سے دیتےتھے ، یہاں تک کے میرے بچوں کی طرف سےبھی دیتے، اوران لوگوں کو دیتےتھے جو اسے قبول کرتے ، اورلوگ ایک یا دودن پہلے نکالتے"۔(صحیح بخاری /1440)۔
کم ازکم عید الفطر سے تین روز قبل صدقۃ الفطر نکالنے کی دلیل :
کچھ لوگوں میں تشدد کی بناپریہ عام ہے کہ وہ صدقہ فطرکوعیدسے چندروزقبل نکالنےکو ناجائز تصورکرتےہیں جبکہ اس کا ثبوت ملتاہے کہ عیدسے تین روزقبل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمیں بیت المال میں فطرانہ کے مال موجودتھے جیساکہ ابوہریرہ رضی اللہ علہ کی روایت میں ہے : وكَّلَني رسولُ اللَّهِ ﷺ بحِفْظِ زَكَاةِ رمضانَ، فَأَتَاني آتٍ، فَجعل يحْثُو مِنَ الطَّعام، فَأخَذْتُهُ فقُلتُ: لأرَفَعَنَّك إِلى رسُول اللَّه ﷺ، قَالَ: إِنِّي مُحتَاجٌ، وعليَّ عَيالٌ، وَبِي حاجةٌ شديدَةٌ، فَخَلَّيْتُ عنْهُ، فَأَصْبحْتُ، فَقَال رسُولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيْهِ وآلهِ وسَلَّمَ: يَا أَبا هُريرة، مَا فَعلَ أَسِيرُكَ الْبارِحةَ؟ قُلْتُ: يَا رسُول اللَّهِ شَكَا حَاجَةً وعِيَالًا، فَرحِمْتُهُ، فَخَلَّيْتُ سبِيلَهُ. فَقَالَ: أَما إِنَّهُ قَدْ كَذَبك وسيعُودُ فَعرفْتُ أَنَّهُ سيعُودُ لِقَوْلِ رسُولِ اللَّهِ ﷺ فَرصدْتُهُ. فَجَاءَ يحثُو مِنَ الطَّعامِ، فَقُلْتُ: لأَرْفَعنَّكَ إِلى رسولُ اللَّهِ ﷺ، قالَ: دعْني فَإِنِّي مُحْتاجٌ، وعلَيَّ عِيالٌ لاَ أَعُودُ، فرحِمْتُهُ فَخَلَّيتُ سبِيلَهُ، فَأَصبحتُ، فَقَال لي رسُولُ اللَّهِ ﷺ: يَا أَبا هُريْرةَ، مَا فَعل أَسِيرُكَ الْبارِحةَ؟ قُلْتُ: يَا رسُول اللَّهِ شَكَا حَاجَةً وَعِيالًا فَرحِمْتُهُ، فَخَلَّيتُ سبِيلَهُ، فَقَال: إِنَّهُ قَدْ كَذَبكَ وسيَعُودُ. فرصدْتُهُ الثَّالِثَةَ. فَجاءَ يحْثُو مِنَ الطَّعام، فَأَخَذْتهُ، فقلتُ: لأَرْفَعنَّك إِلى رسولِ اللَّهِ ﷺ، وهذا آخِرُ ثَلاثٍ مَرَّاتٍ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّكَ لاَ تَعُودُ، ثُمَّ تَعُودُ، فَقَالَ: دعْني فَإِنِّي أُعلِّمُكَ كَلِماتٍ ينْفَعُكَ اللَّه بهَا، قلتُ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: إِذا أَويْتَ إِلى فِراشِكَ فَاقْرأْ آيةَ الْكُرسِيِّ، فَإِنَّهُ لَن يزَالَ عليْكَ مِنَ اللَّهِ حافِظٌ، وَلاَ يقْربُكَ شيْطَانٌ حتَّى تُصْبِحِ، فَخَلَّيْتُ سبِيلَهُ فَأَصْبحْتُ، فقَالَ لي رسُولُ اللَّهِ ﷺ: ما فَعلَ أَسِيرُكَ الْبارِحةَ؟ فقُلتُ: يَا رَسُول اللَّهِ زَعم أَنَّهُ يُعلِّمُني كَلِماتٍ ينْفَعُني اللَّه بهَا، فَخَلَّيْتُ سبِيلَه. قَالَ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: قَالَ لي: إِذا أَويْتَ إِلى فِراشِكَ فَاقرَأْ آيةَ الْكُرْسيِّ مِنْ أَوَّلها حَتَّى تَخْتِمَ الآيةَ: اللَّه لاَ إِلهَ إِلاَّ هُو الحيُّ الْقَيُّومُ [البقرة:255] وقال لِي: لاَ يَزَال علَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلَنْ يقْربَكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَمَا إِنَّه قَدْ صَدقكَ وَهُو كَذوبٌ، تَعْلَم مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذ ثَلاثٍ يَا أَبا هُريْرَة؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْطَانٌ" ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رمضان کی زکوٰۃ کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ (رات میں) ایک شخص اچانک میرے پاس آیا اور غلہ میں سے لپ بھربھر کر اٹھانے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ قسم اللہ کی! میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے چلوں گا۔ اس پر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں بہت محتاج ہوں۔ میرے بال بچے ہیں اور میں سخت ضرورت مند ہوں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (اس کے اظہار معذرت پر) میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا،:"اے ابوہریرہ! گذشتہ رات تمہارے قیدی نے کیا کیا تھا؟ " میں نے کہا یا رسول اللہ! اس نے سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا، اس لیے مجھے اس پر رحم آ گیا۔ اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :" وہ تم سے جھوٹ بول کر گیا ہے۔ اور وہ پھر آئے گا" ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے کی وجہ سے مجھ کو یقین تھا کہ وہ پھر ضرور آئے گا۔ اس لیے میں اس کی تاک میں لگا رہا۔ اور جب وہ دوسری رات آ کے پھر غلہ اٹھانے لگا تو میں نے اسے پھر پکڑا اور کہا کہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کروں گا، لیکن اب بھی اس کی وہی التجا تھی کہ مجھے چھوڑ دے، میں محتاج ہوں۔ بال بچوں کا بوجھ میرے سر پر ہے۔ اب میں کبھی نہ آؤں گا۔ مجھے رحم آ گیا اور میں نے اسے پھر چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اے ابوہریرہ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ " میں نے کہا یا رسول اللہ! اس نے پھر اسی سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا۔ جس پر مجھے رحم آ گیا۔ اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ:" وہ تم سے جھوٹ بول کر گیا ہے اور وہ پھر آئے گا"۔ تیسری مرتبہ میں پھر اس کے انتظار میں تھا کہ اس نے پھر تیسری رات آ کر غلہ اٹھانا شروع کیا، تو میں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا کہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچانا اب ضروری ہو گیا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے۔ ہر مرتبہ تم یقین دلاتے رہے کہ پھر نہیں آؤ گے۔ لیکن تم باز نہیں آئے۔ اس نے کہا کہ اس مرتبہ مجھے چھوڑ دے تو میں تمہیں ایسے چند کلمات سکھا دوں گا جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں فائدہ پہنچائے گا۔ میں نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں؟ اس نے کہا، جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو تو آیت الکرسی (الله لا إله إلا هو الحي القيوم) پوری پڑھ لیا کرو۔ ایک نگراں فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر تمہاری حفاظت کرتا رہے گا۔ اور صبح تک شیطان تمہارے پاس کبھی نہیں آ سکے گا۔ اس مرتبہ بھی پھر میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا،:"گذشتہ رات تمہارے قیدی نے تم سے کیا معاملہ کیا؟ " میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے مجھے چند کلمات سکھائے اور یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے گا۔ اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے دریافت کیا کہ:" وہ کلمات کیا ہیں؟ " میں نے عرض کیا کہ اس نے بتایا تھا کہ جب بستر پر لیٹو تو آیت الکرسی پڑھ لو، شروع (الله لا إله إلا هو الحي القيوم) سے آخر تک۔ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر (اس کے پڑھنے سے) ایک نگراں فرشتہ مقرر رہے گا۔ اور صبح تک شیطان تمہارے قریب بھی نہیں آ سکے گا۔ صحابہ خیر کو سب سے آگے بڑھ کر لینے والے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی یہ بات سن کر) فرمایا کہ:" اگرچہ وہ جھوٹا تھا۔ لیکن تم سے یہ بات سچ کہہ گیا ہے۔ اے ابوہریرہ! تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ تین راتوں سے تمہارا معاملہ کس سے تھا؟ ا" نہوں نے کہا نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "وہ شیطان تھا"۔(صحیح البخاری/٢٣١١)۔
اس روایت کے مطابق ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کم از کم عیدکے دن سے تین روز قبل سے زکاة الفطر کے مال کی نگرانی کر رہے تھے، جس سے پتہ چلتاہے کہ علی الاقل عید سے تین روز قبل ہی لوگ صدقۃ الفطرنکال چکے تھے۔ والله أعلم بالصواب۔
اگر کوئی عید سے قبل نہ نکال سکے:
صدقۃ الفطرنکالنے کا آخری وقت بنص صریح لوگوں کے عیدگاہ کےلئے نکلنے سے قبل ہے ، اب اگر کوئی آدمی جان بوجھ کریا تساہلی کی وجہ سے وقت مقررہ تک نہ نکال کر بعد نماز عید ادا کرتاہے تو اس سے وجوب کی قضاء تو ہوجائےگی لیکن چونکہ وہ ایک واجب کے ترک کا گنہ گار ہوا اس لئے اس پر توبہ لازم ہوگا۔ البتہ تاخیر کسی شرعی عذرکی بنیاد پر ہے ، جیسے نسیان وغیرہ تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے، اورجب عذرزائل ہوجائے تو اسے ادا کردے۔(ابن باز رحمہ اللہ )۔
صدقۃ الفطرکی مقدار:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "فرض النبي -صلى الله عليه وسلم- صدقة الفطر - أو قال: رمضان - على الذَّكرِوالأنثى، والحرِّوالمملوك، والصغيروالكبير من المسلمين، صاعًا من تمر، أو صاعًا من شعير، فجعل الناس عدله مدين من حنطة "۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کی زکوٰۃ فطر دینے کا حکم فرمایا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر لوگوں نے اسی کے برابر دو مد( آدھا صاع) گیہوں کر لیا تھا"۔(صحیح بخاری /1507، صحیح مسلم/984)۔
صدقۃ الفطر کے اصناف :
عام طور پر جو غلہ جات بطور خوراک جس علاقے میں مستعمل ہوں نکالناجائزہے ، کیونکہ حدیث میں غلہ جات کے نام کے ساتھ ساتھ"طعام " کا لفظ واردہے ،جیساکہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے : "أنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَرَضَ زَكَاةَ الفِطرِ صَاعًا مِن تَمرٍ، أوْ صَاعًا مِن شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أو عَبدٍ ذَكَرٍ أو أُنثَى مِنَ المُسلِمِينَ "۔
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوٰۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔ غلام ‘ آزاد ‘ مرد ‘ عورت ‘ چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر "۔(صحیح بخاری/1504 ، صحیح مسلم /984)۔
اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے :"كُنَّا نُخرِجُ فِي عَهدِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَومَ الفِطرِ صَاعًا مِن طَعَامٍ. وَقَالَ أبُو سَعيدٍ: وَكَانَ طَعَامُنَا الشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالأقِطُ وَالتَّمرُ"۔ "ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیدالفطر کے دن کھانے کے غلہ سے ایک صاع نکالتے تھے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارا کھانا ان دنوں جَو، کشمش، پنیر اور کھجور تھا"۔ (صحیح البخاری/1510) ۔
کیلوگرام میں وزن :
چونکہ صاع نبوی غلہ جات کا ناپنے کا آلہ تھا اوربدلتے وقت کے ساتھ ناپنے کے آلہ جات وزن کے آلہ جات میں تبدیل ہوچکے ہیں، اس لئے موجودہ دور میں ایک صاع کا وزن کتنا ہوگا علماء نے اس سلسلے میں مختلف باتیں لکھی ہیں ، کسی نے2:36 (دوکیلو چھتیس گرام ) کسی نے 2:26 (دوکیلوچھبیس گرام) ، کسی نے تین کیلو، اور کسی نے کچھ اور لکھاہے ۔
یہ سارے اوزان اندازے کی بنیاد پر بیان کئے گئے ہیں کیونکہ غلہ کی نوعیت کی بنیادپر وزن بھی مختلف ہوتارہتاہے جیسے چاول ، گیہوں ، جو ، مکا، کھجور اور کشمش وغیرہ ناپ میں برابر ہونے کے باوجود وزن میں مختلف ہوتے ہیں ،چنانچہ ایک عام رائے درمیان کی ہے اور وہ ہے تقریبا ڈھائی کیلو وزن کا غلہ نکالاجائے ۔ ان شاء اللہ اس سے واجب کی ادائیگی ہوجائےگی ۔
صدقہ فطرمیں نقد کی ادائیگی :
اس سلسلے میں تین اقوال ہیں :
پہلا قول : صدقہ فطرمیں قیمت نکالنا جائز نہیں ہے:یہ مالکیہ کا قول ہے ، اوراسی کےقائل شوافع اور حنابلہ کاہے ۔ (دیکھئے: الكافي في فقہ أهل المدينۃ لابن عَبدِ البَرِّ :1/323، التاج والإكليل للمواق:2/366 ، المجموع للنووي :6/144، مغني المحتاج للشربيني :1/407، كشاف القناع للبهوتي :2/254 ، نیز دیکھئے : المغني لابن قدامۃ:3/87) ۔
اسی قول کو ابن حزم نےبھی اختیار کیاہے ۔( المحلى:4/259)۔
عصرحاضرمیں علامہ ابن بازو اور بہت سارے دیگر علماء کابھی یہی فتوی ہے۔
دلائل : ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں :"كنَّا نُخرِجُها على عَهدِ رَسولِ الله صلَّى الله عليه وسلَّم صاعًا مِن طعامٍ، وكان طعامُنا التَّمرَ والشَّعيرَ، والزَّبيبَ والأقِط " . " ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیدالفطر کے دن کھانے کے غلہ سے ایک صاع نکالتے تھے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارا کھانا ان دنوں جَو، کشمش، پنیر اور کھجور تھا "۔( صحیح بخاری /1510، صحیح مسلم /985)۔
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے :" فرَضَ رسولُ اللهِ صلَّى الله عليه وسلَّم زكاةَ الفِطرِ؛ طُهرةً للصَّائِمِ مِنَ اللَّغوِ والرَّفَثِ، وطُعمةً للمساكينِ"۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے "۔(ابوداوود/1609، وابن ماجۃ /1827، والدارقطني /2/138 ، والحاكم /1/568, شیخ البانی نے حسن قراردیاہے)۔
تعیین پر دلالت کی وجہ : ان روایات سے استدال کرتےہوئے کہتے ہیں :
1 - ان روایات میں کھانوں کا ذکرہے ،لہذا ان کی قیمت نکالنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت ہوگی۔
2 - صدقہ فطر ایک فرض عبادت ہے جو متعین جنس سے ہی ہے اس لئے غیرمتعین جنس سے نکالنا جائز نہیں ہے ۔ٹھیک اسی طرح جیسے اسے ایک متعین وقت پر نکالنا واجب ہے ، اس لئے اگر کوئی متعین وقت کے علاوہ نکالتاہے تو یہ جائز نہیں ہے ۔
3 - اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اجناس میں سے ایک متعین مقدار کا حکم دیاہے ، اوروہ ہے ایک صاع ، اگر کوئی ان کی قیمت نکالتاہے تو ہر جنس کی قیمت الگ الگ ہونے کی وجہ سے کسی جنس کی قیمت دوسرے جنس کی قیمت سے مختلف ہوجائےگی ، لہذا اگر قیمت کا اعتبار ہوتاتو جنس کی مقدار میں اختلاف معتبر ہوتا ۔
اس کے علاوہ بھی بہت ساری وجہیں ذ کر کی گئیں ہیں ۔(دیکھئے : مجموع فتاوى ورسائل العُثيمين:18/284،المغني لابن قدامۃ :3/88، مجموع فتاوى ورسائل العُثيمين:20/394) ۔
دوسرا قول : صدقہ فطرمیں قیمت نکالنا مطلقا جائزہے، یہ قول امام ابو حنیفہ ، بعض ائمہ سلف جیسے سفیان ثوری ، عمربن عبدالعزیز، حسن بصری ،اسحاق بن راھویہ اور ابوثور وغیرہ کا ہے ۔صحیح کےاندرامام بخاری کابھی موقف یہی ہے، ابن رشد کہتے ہیں :"وافق البخاري في هذه المسألة الحنفية مع كثرة مخالفته لهم لكن قاده إلى ذلك الدليل" (فتح الباري 5/57)۔ " امام بخاری نے حنفیہ کےسے بہت زیادہ اختلاف کے باوجوداس مسئلہ میں ان کی موافقت کی ہے ، اس کی وجہ ان کی دلیل کی رہنمائی ہے"۔
ائمہ تابعین میں سے ایک ابواسحاق سبیعی کہتےہیں :" أدركتهم وهم يؤدون في صدقة رمضان الدراهم بقيمة الطعام " (مصنف ابن أبي شيبۃ/10467: 3/65) ۔ "میں نے لوگوں کو رمضان کے صدقے میں کھانے کی قیمت اداکرتے ہوئے پایا"۔
نیز عہد حاضرکے بڑے علماء میں سے شيخ عبدالله المطلق( عضو هيئۃ كبار العلماء، والمستشار بالديوان الملكي), شیخ عبدالوهاب أبو سليمان(عضو هيئۃ كبار العلماء)، اور شيخ قيس المبارك، (سابق عضو هيئۃ كبار العلماء ) نے بھی اسی رائے کو اختیار کیاہے۔
دلائل : اس سلسلے میں یہ مختلف دلائل پیش کرتےہیں :
1 - اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے قیمت کی حرمت کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔
2- نصوص میں وارد متعین اجناس کے ذکر کےباوجود دوسری جنسوں کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی ،خاص طور سے جب صحابہ کرام سے ان اجناس میں سے صدقہ فطر ثابت ہے جن کا ذکر ان احادیث میں نہیں ہے ۔
3- مختلف صحابہ کرام عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں ایک صاع کھجور کے بدلے نصف صاع شامی گندم نکالنے کے قائل تھے ، اس سلسلے میں انہوں نے دونوں کی قیمت کا اعتبار کیاتھا۔(دیکھئے :فتح الباري 5/144)۔
4 - صدقہ فطرکا مقصد فقراء کی مدد اور ان کو اس دن مانگنے سے بے نیاز کرنا او ران کوبھی اس خوشی میں شریک کرناہے، لہذا علاقہ اور ملک کے اعتبار سے نقدیا غلہ جو بھی ان کے لئے مناسب اور نفع بخش ہو نکالنا جائزہے۔بہت سارے فقراء کودیکھاجاتاہے کہ وہ غلہ لے کر بعدمیں نہایت ہی کم دام میں بیچ دیتےہیں ،ایسی صورت میں نہ وہ غلہ سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں غلہ کے مطابق پیسہ ہی ملتاہے ۔ چنانچہ اگر ان کوغلہ کےبدلے نقد دی جائے تویہ ان کے لئے زیادہ نفع بخش اور فائدہ مندہے ۔
تیسرا قول : شیخ الاسلام ابن تیمیہ صدقہ فطرمیں حاجت و مقصدکے پیش نظر نقدی کےجواز کے قائل ہیں، وہ فرماتےہیں : "وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعاً مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعاً مِنْ شَعِيرٍ؛ لِأَنَّ هَذَا كَانَ قُوتَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَلَوْ كَانَ هَذَا لَيْسَ قُوتَهُمْ بَلْ يَقْتَاتُونَ غَيْرَهُ لَمْ يُكَلِّفْهُمْ أَنْ يُخْرِجُوا مِمَّا لَا يَقْتَاتُونَهُ، كَمَا لَمْ يَأْمُر اللَّهُ بِذَلِكَ فِي الْكَفَّارَاتِ وصدقة الفطر من جنس الكفارات"۔ " اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطرایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیاہے،کیونکہ یہ اہل مدینہ کا کھاناتھا، ،اگریہ ان کا کھانا نہ ہوتا،بلکہ اس کےعلاوہ ہوتاتوآپ ان کوایسی چیز کو نکالنے کا مکلف نہیں کرتے جو ان کا کھانا نہ ہوتا، جیساکہ اللہ تعالی نے کفارات میں اس کا حکم نہیں دیاہے ،اور صدقہ فطر کفارات کی جنس سے ہے"۔(مجموع الفتاوى (25/68)۔
امام نووی نے المجموع (6/112) کےاندر لکھاہے کہ اسحاق اورابوثور کہتے ہیں :"لاتجوز إلا عند الضرورة" "نقدی صرف ضرورت کے وقت ہی جائزہے "۔
ناگفتہ بہ حالات جیسےلاک ڈاؤن وغیرہ کی صورت میں غلہ یا نقدی :
موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے یا بسا اوقات بعض مقامات پر حالات نامناسب ہوجاتے ہیں ، ایسی صورت میں کہیں تو فقراء ومساکین کی ایک بہت بڑی تعداد ملے گی ،جو کھانے کی چیزوں کے سخت محتاج ہوتے ہیں ۔ اور کہیں اونچی سوسائیٹیوں میں یا پردیس میں ڈھونڈھنے سے بھی ایسے لوگ نہیں ملیں گے، کیونکہ ہر جگہ نقل وحرکت بند ہوتی ہے ، یا بسا اوقات نقل حرکت میں بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے ، ایسی صورت میں جہاں مساکین ہیں روایتوں میں موجود شرائط کے مطابق غلہ کی صورت میں صدقۃ الفطرنکالنا کوئی مشکل نہیں ہے ،بلکہ ایسی حالت میں غلے کا نکالنا متعین ہوجاتاہے ، چنانچہ ایسی صورت میں تکلفات اختیار کرتے ہوئے یا دوسری جگہ بھیجنے کے لئے غلہ کے بدلے جس کی اس علاقہ کو اشد ضرورت ہے نقد ی نکالنا سنت سے اعراض کے ضمن میں آئےگا۔
لیکن دوسری صورت میں لامحالہ کہنا پڑےگا کہ نقدی کی صورت میں ہی نکالنا نہ یہ کہ زیادہ مناسب ہے بلکہ بسا اوقات اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے ،خاص طور سے جب کہ نقدی کے جواز سے متعلق کبار تابعین اور فقہاء اور عہد قدیم وجدید کے بڑے علماء کے اقوال موجود ہیں ۔
بسا اوقات کئی جگہوں پر یہ بھی دیکھنے کو ملتاہے کہ کسی مناسب انتظام کے فقدان اور کم علمی کی بنیادپر لوگ صدقۃ الفطر کے نکالنے میں تساہل سے کام لیتے ہیں ، جس کی وجہ سے بسااوقات لوگ عیدگاہ میں پہنچ کر کمیٹی یا امام وخطیب کے اعلان کے بعد اداکرتےہیں ، اوروہ بھی نقدی کی صورت میں ، ایسی صورت میں ایک تو حدیث کی مخالفت لازم آتی ہے جس میں لوگوں کے عیدگاہ کےلئے نکلنے سے قبل نکالنے کا حکم دیاہے ، دوسرے صدقۃ الفطرکا جوبنیادی مقصد فقراء ومساکین کو بے نیاز کرناہے ، وہ پورا نہیں ہوپاتا۔
یہا ں اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :
اول :جیسے کسی کو جو ایسے علاقے میں موجود ہو جہاں فقراء ومساکین ہو ں(اوراس سے انکار نہیں کیاجا سکتا کہ ان حالات میں انہیں کھانے پینے کی چیز وں کی سخت ضرورت اور محتاجی ہے) پیسہ ٹرانسفر کرکے اسے مکلف کردے کہ غلہ خرید کر ان میں تقسیم کردے ۔
دوم : اگر ایسی صورت نہیں بنتی کہ غلہ خرید کر ان میں تقسیم کرنا ممکن ہو ، اورکچھ فقراء ان کے صدقے کا انتظار کررہے ہوں تو ایسی صورت میں ان کے بینک اکاونٹ میں پیسہ ٹرانسفرکردیاجائے یا کوئی ایسی صورت پیداکی جائے کہ ان تک وہ پیسہ وقت پر پہنچ جائے۔
صدقۃ الفطرکن لوگوں پرواجب ہے؟ :
صدقۃالفطرہر صاحب استطاعت مسلمان پر واجب ہے جو اسے ادا کرنے کی قوت رکھتاہو ، علماء نے لکھاہے کہ جو اپنی ایک دن اور ایک رات کے خرچےسے زائدکا مالک ہو اس کے اوپر صدقۃ الفطر واجب ہے ۔(الروضۃ النديۃ لصديق حسن خان:1/519)۔
صدقۃ الفطرکن کی طرف سے واجب ہے :
ہر مسلمان پراپنی طرف سے اورہر اس فردکی طرف سے جس کانان ونفقہ اس پر واجب ہے ۔
جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہے اس کی طرف سے صدقہ فطر نہیں ہے ، البتہ اگرکوئی استحبابا نکالنا چاہے تو نکال سکتاہے ،جیساکہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہے ۔(دیکھئے:المغنی لابن قدامہ :4/316 ، فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء : 9/ 366)۔
صدقۃ الفطرکا وجوب رمضان سے متعلق ہے جیساکہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:" فَرَضَ زَكَاةَ الفِطرِ مِن رَمَضَانَ" ۔ لہذا اگرکوئی بچہ مغرب کے بعدپیداہوتاہے تو اس پر صدقہ واجب نہیں ہے ، اسی طرح اگر کوئی مغرب بعد مسلمان ہوتاہے تو اس پر بھی صدقہ فطر واجب نہیں ہے ۔
اسی طرح اگر بعدالمغرب شادی کرتاہے تواس کے اوپر اس کی بیوی کا فطرانہ واجب نہیں ہے ۔ اس کی مکلف خود بیوی ہے ۔
صدقۃ الفطرکی تقسیم کا طریقہ :
آدمی خود سے فقراء ومساکین تک پہونچائے یا کسی قابل بھروسہ فرد کو وکیل بنائے۔
اگر کہیں کمیٹیاں ہوں جولوگوں کے صدقات کو محتاجین تک پہونچانے کی ذمہ داری نبھاتی ہوں تو وہاں جمع کرنابھی جائزہے۔
لیکن خیال رہے کہ ایسی کمیٹیاں اپنی ذمہ داری کو مکمل اور صحیح طریقے سے ادا کرتی ہوں ۔
صدقۃ الفطرکہاں نکالے؟ :
بہتر ہے کہ آدمی جہا ں ہے وہی نکال کروہاں کے محتاجین پر تقسیم کردے ، لیکن اگر کسی وجہ سے وہاں نہ نکال سکتاہو جیسے وہاں کوئی محتاج اور مسکین نہ مل سکے یا کہیں ایسے ملک میں موجود ہےجہاں نکالنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں کسی دوسری جگہ کسی کو وکیل بناکر وہاں ادا کردے ۔
نوٹ : یہاں یہ خیال رہے کہ جہاں کہیں بھی کسی کو مکلف کرے تویہ ضرور تاکید کردے کہ جہاں وہ ہے اس کے عید کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کردیاجائے ۔
صدقۃالفطرکے مستحقین :
صحیح قول کے مطابق صدقۃالفطرکے مستحقین صرف فقراء ومساکین ہیں۔
رشتہ داروں کو دینا :
قریبی رشتہ داروں کو جن کا نان ونفقہ اس پرواجب نہیں صدقۃ الفطر دیناجائز ہے ، بلکہ علماء نے اسے دوسروں کو دینے سے ان کو دینا اولی بتایاہے ، کیونکہ دوسروں کو دینا صرف صدقہ ہوگا جبکہ قریبی رشتہ داروں کو دینا صدقہ کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ صلہ رحمی بھی ہے ، جیساکہ سلمان بن عامر الضبی کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "الصَّدقةُ على المسْكينِ صدقةٌ، وعلى ذي القرابةِ اثنتان: صدقةٌ وصلةٌ" "مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے جبکہ رشتہ داروں کو دینا صدقہ اور صلہ رحمی دونوں ہے ۔ ( سنن الترمذی /658 ، سنن ابن ماجہ /1844، مسند احمد/16279 ، شیخ البانی نے صحیح سنن ابن ماجہ کے اندر"صحيح لغيره " قراردیاہے۔) ۔
البتہ یہ خیال رہے کہ ایسانہ ہوکہ صرف رشتہ داروں کو ہی دینے کے چکر میں دیگر آس پاس کے مساکین کو بھول جائیں ۔
اللہ رب العزت ہمارے اعمال کو قبول فرمائے ، اور مزید نیکیوں کی توفیق بخشے۔ وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم ۔ آمین۔
*********