• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم صلح حدیبیہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صلح حدیبیہ

(ذی قعدہ ۶ھ)​
عمرہ حدیبیہ کا سبب :
جب جزیرہ نمائے عرب میں حالات بڑی حد تک مسلمانوں کے موافق ہو گئے تو اسلامی دعوت کی کامیابی اور فتح اعظم کے آثار رفتہ رفتہ نمایاں ہونا شروع ہوئے۔ اور مسجدِ حرام میں جس کا دروازہ مشرکین نے مسلمانوں پر چھ برس سے بند کر رکھا تھا مسلمانوں کے لیے عبادت کا حق تسلیم کیے جانے کی تمہیدات شروع ہو گئیں۔
رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے اندر یہ خواب دکھلایا گیا کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کی کنجی لی۔ اور صحابہ سمیت بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کیا۔ پھر کچھ لوگوں نے سر کے بال منڈائے اور کچھ نے کٹوانے پر اکتفا کی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس خواب کی اطلاع دی تو انھیں بڑی مسرت ہوئی۔ اور انہوں نے یہ سمجھا کہ اس سال مکہ میں داخلہ نصیب ہو گا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو یہ بھی بتلایا کہ آپ ﷺ عمرہ ادا فرمائیں گے۔ لہٰذا صحابہ کرام بھی سفر کے لیے تیار ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مسلمانوں کی روانگی کا اعلان:
آپ ﷺ نے مدینہ اور گرد و پیش کی آبادیوں میں اعلان فرما دیا کہ لوگ آپ کے ہمراہ روانہ ہوں، لیکن بیشتر اعراب نے تاخیر کی۔ ادھر آپ ﷺ نے اپنے کپڑے دھوئے۔ مدینہ پر ابن اُم مکتوم یا نمیلہ لیثی کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ اور اپنی قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہو کر یکم ذی قعدہ ۶ھ روز دو شنبہ کو روانہ ہو گئے۔ آپ کے ہمراہ اُم المومنین حضرت ام سلمہ بھی تھیں۔ چودہ سو (اور کہا جاتا ہے کہ پندرہ سو) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمرکاب تھے۔ آپ ﷺ نے مسافرانہ ہتھیار یعنی میان کے اندر بند تلواروں کے سوا اور کسی قسم کا ہتھیار نہیں لیا تھا۔
مکہ کی جانب مسلمانوں کی حرکت:
آپ ﷺ کا رُخ مکہ کی جانب تھا۔ ذو الحلیفہ پہنچ کر آپ نے ہدی (ہدی، وہ جانورجسے حج وعمرہ کرنے والے مکہ یا منیٰ میں ذبح کرتے ہیں۔ دور جاہلیت میں عرب کا دستور تھا کہ ہَدْی کا جانور اگر بھیڑ بکری ہے تو علامت کے طور پر گلے میں قلادہ ڈال دیا جاتا تھا اور اگر اونٹ ہے تو کوہان چیر کر خون پوت دیا جاتا تھا۔ ایسے جانور سے کوئی شخص تعرض نہ کرتا تھا۔ شریعت نے اس دستور کو برقرار رکھا) کو قلا دے پہنائے۔ کوہان چیر کر نشان بنایا۔ اور عمرہ کا احرام باندھا تاکہ لوگوں کو اطمینان رہے کہ آپ جنگ نہیں کریں گے۔ آگے آگے قبیلہ خزاعہ کا ایک
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جاسوس بھیج دیا تاکہ وہ قریش کے عزائم کی خبر لائے۔ عسفان کے قریب پہنچے تو اس جاسوس نے آ کر اطلاع دی کہ میں کعب بن لوی کو اس حالت میں چھوڑ کر آ رہا ہوں کہ انھوں نے آپ سے مقابلہ کرنے کے لیے احابیش (یہ حبشی لوگ نہیں ہیں جیسا کہ بظاہر لفظ سے محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ بنو کنانہ اور دوسرے عرب قبائل کی چند شاخیں ہیں۔ یہ حبشی -ح کو پیش، ب ساکن ش کو زیر -پہاڑ کی طرف منسوب ہیں۔ جو وادی نعمان اراک سے نیچے واقع ہے۔ یہاں سے مکہ کا فاصلہ چھ میل ہے۔ اس پہاڑ کے دامن میں بنو حارث بن عبد مناۃ بن کنانہ، بنو مصطلق بن حیا بن سعد بن عمر اور بنو الہون بن خزیمہ نے اکٹھے ہو کر قریش سے عہد کیا تھا، اور سب نے مل کر اللہ کی قسم کھائی تھی کہ جب تک رات تاریک اور دن روشن ہے، اور حبشی پہاڑ اپنی جگہ برقرار ہے ہم سب دوسروں کے خلاف ایک ہاتھ ہوں گے۔ (معجم البلدان ۲/۲۱۴، المنمق ۵ ۷ ۲ ) (حلیف قبائل) کو جمع کر رکھا ہے۔ اور بھی جمعیتیں فراہم کی ہیں۔ اور وہ آپ سے لڑنے اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور فرمایا: کیا آپ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ لوگ جو قریش کی اعانت پر کمر بستہ ہیں ہم ان کے اہل و عیال پر ٹوٹ پڑیں اور قبضہ کر لیں؟ اس کے بعد اگر وہ خاموش بیٹھتے ہیں تو اس حالت میں خاموش بیٹھتے ہیں کہ جنگ کی مار اور غم و الم سے دوچار ہو چکے ہیں اور بھاگتے ہیں تو وہ بھی اس حالت میں کہ اللہ ایک گردن کاٹ چکا ہو گا۔ یا آپ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ہم خانہ کعبہ کا رُخ کریں۔ اور جو راہ میں حائل ہو اس سے لڑائی کریں؟ اس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ مگر ہم عمرہ ادا کرنے آئے ہیں۔ کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں۔ البتہ جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گا اس سے لڑائی کریں گے نبی ﷺ نے فرمایا: اچھا تب چلو۔ چنانچہ لوگوں نے سفر جاری رکھا۔
بیت اللہ سے مسلمانوں کو روکنے کی کوشش:
ادھر قریش کو رسول اللہ ﷺ کی روانگی کا عِلم ہوا تو اس نے ایک مجلس شوریٰ منعقد کی۔ اور طے کیا کہ جیسے بھی ممکن ہو مسلمانوں کو بیت اللہ سے دور رکھا جائے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے جب احابیش سے کترا کر اپنا سفر جاری رکھا تو بنی کعب کے ایک آدمی نے آ کر آپ کو اطلاع دی کہ قریش نے مقام ذی طویٰ میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے اور خالد بن ولید دو سو سواروں کا دستہ لے کر کُرَاع الغمیم میں تیار کھڑے ہیں (کُراع الغمیم، مکہ جانے والی مرکزی اور کاروانی شاہراہ پر واقع ہے) خالد نے مسلمانوں کو روکنے کی بھی کوشش کی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے سواروں کو ایسی جگہ تعینات کیا جہاں سے دونوں فریق ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ خالد نے ظہر کی نماز میں یہ بھی دیکھا کہ مسلمان رکوع اور سجدے کر رہے ہیں تو کہنے لگے کہ یہ لوگ غافل تھے۔ ہم نے حملہ کر دیا ہوتا تو انھیں مار لیا ہوتا۔ اس کے بعد طے کیا کہ عصر کی نماز میں مسلمانوں پر اچانک ٹوٹ پڑیں گے، لیکن اللہ نے اسی دوران صلوٰۃ خوف (حالت جنگ کی مخصوص نماز) کا حکم نازل کر دیا۔ اور خالد کے ہاتھ سے موقع جاتا رہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
خونریز ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش اور راستے کی تبدیلی:
ادھر رسول اللہ ﷺ کُراع الغمیم کا مرکزی راستہ چھوڑ کر ایک دوسرا پُر پیچ راستہ اختیار کیا جو پہاڑی گھاٹیوں کے درمیان سے ہو کر گزرتا تھا۔ یعنی آپ داہنے جانب کترا کر حمش کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک ایسے راستے پر چلے جو ثنیۃ المرار پر نکلتا تھا۔ ثنیۃالمرار سے حدیبیہ میں اترتے ہیں۔ اور حدیبیہ مکہ کے زیریں علاقہ میں واقع ہے۔ اس راستے کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ کُراع الغمیم کا وہ مرکزی راستہ جو تنعیم سے گزر کر حرم تک جاتا تھا، اور جس پر خالد بن ولید کا رسالہ تعینات تھا وہ بائیں جانب چھوٹ گیا۔ خالد نے مسلمانوں کے گرد و غبار کو دیکھ کر جب یہ محسوس کیا کہ انہوں نے راستہ تبدیل کر دیا ہے تو گھوڑے کو ایڑ لگائی اور قریش کو اس نئی صورت حال کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے بھاگم بھاگ مکہ پہنچے۔
ادھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سفر بدستور جاری رکھا، جب ثنیۃ المرار پہنچے تو اونٹنی بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا: حل حل، لیکن وہ بیٹھی ہی رہی۔ لوگوں نے کہا: قصواء اڑ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: قصواء اڑی نہیں ہے اور نہ اس کی یہ عادت ہے، لیکن اسے اس ہستی نے روک رکھا ہے جس نے ہاتھی کو روک دیا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ لوگ کسی بھی ایسے معاملے کا مطالبہ نہیں کریں گے جس میں اللہ کی حُرمتوں کی تعظیم کر رہے ہوں لیکن میں اسے ضرور تسلیم کر لوں گا۔ اس کے بعد آپ نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اچھل کر کھڑی ہو گئی، پھر آپ نے راستہ میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور اقصائے حدیبیہ میں ایک چشمہ پر نزول فرمایا۔ جس میں تھوڑا سا پانی تھا اور اسے لوگ ذرا ذرا سا لے رہے تھے، چنانچہ چند ہی لمحوں میں سارا پانی ختم ہو گیا۔ اب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پیاس کی شکایت کی۔ آپ نے ترکش سے ایک تیر نکالا۔ اور حکم دیا کہ چشمے میں ڈال دیں۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد واللہ! اس چشمے سے مسلسل پانی ابلتا رہا یہاں تک کہ تمام لوگ آسودہ ہو کر واپس ہو گئے۔
بدیل بن ورقاء کا توسط:
رسول اللہ ﷺ مطمئن ہو چکے تو بُدَیل بن ورقاء خزاعی اپنے قبیلہ خزاعہ کے چند افراد کی معیّت میں حاضر ہوا۔ تہامہ کے باشندوں میں یہی قبیلہ (خزاعہ) رسول اللہ ﷺ کا خیر خواہ تھا۔ بدیل نے کہا: میں کعب بن لؤی کو دیکھ کر آ رہا ہوں کہ وہ حدیبیہ کے فراواں پانی پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کے ہمراہ عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ وہ آپ سے لڑنے اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں۔ قریش کو لڑائیوں نے توڑ ڈالا ہے۔ اور سخت ضرر پہنچایا ہے اس لیے اگر وہ چاہیں تو ان سے ایک مدت طے کر لوں۔ اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ اور اگر وہ چاہیں تو جس چیز میں لوگ داخل ہوئے ہیں اس میں وہ بھی داخل ہو جائیں۔ ورنہ ان کو راحت تو حاصل ہی رہے گی۔
اور اگر انہیں لڑائی کے سوا کچھ منظور نہیں تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اپنے دین کے معاملے میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک کہ میری گردن جدا نہ ہو جائے یا جب تک اللہ اپنا امر نافذ نہ کر دے۔
بُدَیل نے کہا: آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں میں اسے قریش تک پہنچا دوں گا۔ اس کے بعد وہ قریش کے پاس پہنچا۔ اور بولا: میں ان صاحب کے پاس سے آ رہا ہوں میں نے ان سے ایک بات سنی ہے، اگر چاہو تو پیش کر دوں۔ اس پر بیوقوفوں نے کہا: ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہم سے ان کی کوئی بات بیان کرو۔ لیکن جو لوگ سوجھ بوجھ رکھتے تھے انہوں نے کہا: لاؤ سناؤ تم نے کیا سنا ہے؟ بدیل نے کہا: میں نے انہیں یہ اور یہ بات کہتے سنا ہے۔ اس پر قریش نے مکرز بن حفص کو بھیجا۔ اسے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بد عہد آدمی ہے، چنانچہ جب اس نے آپ کے پاس آ کر گفتگو کی تو آپ نے اس سے وہی بات کہی جو بدیل اور اس کے رفقاء سے کہی تھی۔ اس نے واپس پلٹ کر قریش کو پوری بات سے باخبر کیا۔
قریش کے ایلچی:
اس کے بعد حلیس بن علقمہ نامی بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: مجھے ان کے پاس جانے دو۔ لوگوں نے کہا: جاؤ۔ جب وہ نمودار ہوا تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: یہ فلاں شخص ہے۔ یہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جو ہَدْی کے جانوروں کا بہت احترام کرتی ہے۔لہٰذا جانوروں کو کھڑا کر دو۔ صحابہ نے جانوروں کو کھڑا کر دیا۔ اور خود بھی لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ اس شخص نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا: سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا ہرگز مناسب نہیں۔ اور وہیں سے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پلٹ گیا۔ اور بولا: میں نے ہدی کے جانور دیکھے ہیں جن کے گلوں میں قلادے ہیں۔ اور جن کی کوہان چیری ہوئی ہیں۔ اس لیے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ انہیں بیت اللہ سے روکا جائے۔ اس پر قریش اور اس شخص میں کچھ ایسی باتیں ہوئیں کہ وہ تاؤ میں آ گیا۔
اس موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی نے مداخلت کی اور بولا: اس شخص (محمد ﷺ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز پیش کی ہے۔ لہٰذا اسے قبول کر لو۔ اور مجھے ان کے پاس جانے دو۔ لوگوں نے کہا: جاؤ! چنانچہ وہ آپ کے پاس حاضر ہوا۔ اور گفتگو شروع کی۔ نبی ﷺ نے اس سے بھی وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی۔ اس پر عروہ نے کہا: اے محمد! یہ بتایئے کہ اگر آپ نے اپنی قوم کا صفایا بھی کر دیا تو کیا اپنے آپ سے پہلے کسی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا صفایا کر دیا ہو۔ اور اگر دوسری صورتِ حال پیش آئی تو اللہ کی قسم! میں ایسے چہرے اور ایسے اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی لائق ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا: لات کی شرمگاہ کا لٹکتا ہوا چمڑا چوس۔ ہم حضور کو چھوڑ کر بھاگیں گے؟ عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابو بکرؓ ہیں۔ اس نے حضرت ابو بکر کو مخاطب کر کے کہا: دیکھو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایسی بات نہ ہوتی کہ تم نے مجھ پر ایک احسان کیا تھا اور میں نے اس کا بدلہ نہیں دیا ہے، تو میں یقینا تمہاری اس بات کا جواب دیتا۔
اس کے بعد عروہ پھر نبی ﷺ سے گفتگو کرنے لگا۔ وہ جب گفتگو کرتا تو آپ کی ڈاڑھی پکڑ لیتا۔ مغیرہ بن شعبہؓ نبی ﷺ کے سر کے پاس ہی کھڑے تھے۔ ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خُود، عروہ جب نبی ﷺ کی داڑھی پر ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کے دستے سے اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ نبی ﷺ کی داڑھی سے پرے رکھ۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا، اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ اس پر اس نے کہا: ... او ...بدعہد .۔ ! کیا میں تیری بدعہدی کے سلسلے میں دوڑ دھوپ نہیں کر رہا ہوں؟ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ جاہلیت میں حضرت مغیرہ کچھ لوگوں کے ساتھ تھے۔ پھر انہیں قتل کر کے ان کا مال لے بھاگے تھے۔ اور آ کر مسلمان ہو گئے تھے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں اسلام تو قبول کر لیتا ہوں، لیکن مال سے میرا کوئی واسطہ نہیں (اس معاملے میں عروہ کے دوڑ دھوپ کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مغیرہ اس کے بھتیجے تھے)
اس کے بعد عروہ نبی ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کے تعلق خاطر کا منظر دیکھنے لگا۔ پھر اپنے رفقاء کے پاس واپس آیا اور بولا: اے قوم! واللہ میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس جا چکا ہوں۔ واللہ میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اُس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد کے ساتھی محمد ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ کھنکار بھی تھوکتے تھے تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا تھا۔ اور وہ شخص اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا تھا۔ اور جب وہ کوئی حکم دیتے تھے تو اس کی بجا آوری کے لیے سب دوڑ پڑتے تھے۔ اور جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے۔ اور جب کوئی بات بولتے تھے تو سب اپنی آوازیں پست کر لیتے تھے۔ اور فرطِ تعظیم کے سبب انہیں بھر پور نظر نہ دیکھتے تھے۔ اور انہوں نے تم پر ایک اچھی تجویز پیش کی ہے۔ لہٰذا اسے قبول کر لو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روکے:
جب قریش کے پُر جوش اور جنگ باز نوجوان نے دیکھا کہ ان کے سربر آوردہ حضرات صلح کے جویا ہیں تو انہوں نے صلح میں ایک رخنہ اندازی کا پروگرام بنایا۔ اور یہ طے کیا کہ رات میں یہاں سے نکل کر چپکے سے مسلمانوں کے کیمپ میں گھس جائیں اور ایسا ہنگامہ برپا کر دیں کہ جنگ کی آگ بھڑک اٹھے۔ پھر انہوں نے اس پروگرام کی تنفیذ کے لیے عملی قدم بھی اٹھایا۔ چنانچہ رات کی تاریکی میں ستر یا اسیّ نوجوانوں نے جبل تنعیم سے اتر کر مسلمانوں کے کیمپ میں چپکے سے گھسنے کی کوشش کی لیکن اسلامی پہرے داروں کے کمانڈر محمد بن مسلمہ نے ان سب کو گرفتار کر لیا پھر نبی ﷺ نے صلح کی خاطر ان سب کو معاف کرتے ہوئے آزاد کر دیا۔ اسی کے بارے میں اللہ کا یہ ارشاد نازل ہوا:
وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَ‌كُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرً‌ا (۴۸: ۲۴)
''وہی ہے جس نے بطن مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے روکے۔ اور تمہارے ہاتھ ان سے روکے۔ اس کے بعد کہ تم کو ان پر قابو دے چکا تھا۔''
حضرت عثمانؓ کی سفارت:
اب رسول اللہ ﷺ نے سوچا کہ ایک سفیر روانہ فرمائیں جو قریش کے سامنے مؤکد طریقے پر آپ کے موجودہ سفر کے مقصد و موقف کی وضاحت کر دے۔ اس کام کے لیے آپ ﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو بلایا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ اے اللہ کے رسول! اگر مجھے اذّیت دی گئی تو مکہ میں بنی کعب کا ایک فرد بھی ایسا نہیں جو میری حمایت میں بگڑ سکتا ہو۔ آپ ﷺ حضرت عثمان بن عفانؓ کو بھیج دیں۔ ان کا کنبہ قبیلہ مکہ ہی میں ہے۔ وہ آپ ﷺ کا پیغام اچھی طرح پہنچا دیں گے۔ آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کو بلایا۔ اور قریش کے پاس روانگی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: انہیں بتلا دو کہ ہم لڑنے نہیں آئے ہیں۔ عمرہ کرنے آئے ہیں۔ انہیں اسلام کی دعوت بھی دو۔ آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ مکہ میں اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے پاس جا کر انہیں فتح کی بشارت سنا دیں۔ اور یہ بتلا دیں کہ اللہ عزوجل اب اپنے دین کو مکہ میں ظاہر و غالب کرنے والا ہے۔ یہاں تک کہ ایمان کی وجہ سے کسی کو یہاں روپوش ہونے کی ضرورت نہ ہو گی۔
حضرت عثمانؓ آپ ﷺ کا پیغام لے کر روانہ ہوئے۔ مقام بلدح میں قریش کے پاس سے گذرے تو انہوں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہ اور یہ پیغام دے کر بھیجا ہے۔ قریش نے کہا: ہم نے آپ کی بات سن لی۔ آپ اپنے کام پر جایئے۔ ادھر سعید بن عاص نے اُٹھ کر حضرت عثمانؓ کو مرحبا کہا۔ اور اپنے گھوڑے پر زین کس کر آپ کو سوار کیا۔ اور ساتھ بٹھا کر اپنی پناہ میں مکہ لے گیا، وہاں جا کر حضرت عثمانؓ نے سربراہان قریش کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام سنایا۔ اس سے فارغ ہو چکے تو قریش نے پیشکش کی کہ آپ بیت اللہ کا طواف کر لیں۔ مگر آپ نے یہ پیش کش مسترد کر دی اور یہ گورا نہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے طواف کرنے سے پہلے خود طواف کر لیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ اور بیعت رضوان:
حضرت عثمانؓ اپنی سفارت کی مہم پوری کر چکے تھے، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ غالباً وہ چاہتے تھے کہ پیش آمدہ صورتِ حال پر باہم مشورہ کر کے کوئی قطعی فیصلہ کر لیں اور حضرت عثمانؓ کو ان کے لائے ہوئے پیغام کا جواب دے کر واپس کریں، مگر حضرت عثمانؓ کے دیر تک رُکے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہم اس جگہ سے ٹل نہیں سکتے یہاں تک کہ لوگوں سے معرکہ آرائی کر لیں۔ پھر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیعت کی دعوت دی۔ صحابہ کرام ٹوٹ پڑے۔ اور اس پر بیعت کی کہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتے۔ ایک جماعت نے موت پر بیعت کی۔ یعنی مر جائیں گے مگر میدان جنگ نہ چھوڑیں گے۔ سب سے پہلے ابو سنان اسدی نے بیعت کی۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے تین بار بیعت کی۔ شروع میں، درمیان میں اور اخیر میں۔ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے، پھر جب بیعت مکمل ہو چکی تو حضرت عثمانؓ بھی آگئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔ اس بیعت میں صرف ایک آدمی نے جو منافق تھا شرکت نہیں کی، اس کا نام جد بن قیس تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی۔ حضرت عمرؓ دست مبارک تھامے ہوئے تھے۔ اور حضرت معقل بن یسارؓ نے درخت کی بعض ٹہنیاں پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے اوپر سے ہٹا رکھی تھیں۔ اسی بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے:
لَّقَدْ رَ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَ‌ةِ (۴۸: ۱۸)
''اللہ مومنین سے راضی ہوا۔ جب کہ وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صلح اور دفعات صلح:
بہر حال قریش نے صورتِ حال کی نزاکت محسوس کر لی۔ لہٰذا جھٹ سُہیل بن عَمرو کو معاملات صلح طے کرنے کے لیے روانہ کیا۔ اور یہ تاکید کر دی کہ صلح میں لازما یہ بات طے کی جائے کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ عرب یہ کہیں کہ آپ ﷺ ہمارے شہر میں جبراً داخل ہو گئے۔ ان ہدایات کو لے کر سہیل بن عمرو آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ نبی ﷺ نے اسے آتا دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا۔ تمہارا کام تمہارے لیے سہل کر دیا گیا۔ اس شخص کو بھیجنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ قریش صلح چاہتے ہیں۔ سُہیل نے آپ ﷺ کے پاس پہنچ کر دیر تک گفتگو کی۔ اور بالآخر طَرفَین میں صلح کی دفعات طے ہو گئیں جو یہ تھیں:
رسول اللہ ﷺ اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس جائیں گے۔ اگلے سال مسلمان مکہ آئیں گے۔ اور تین روز قیام کریں گے۔ ان کے ساتھ سوار کا ہتھیار ہو گا۔ میانوں میں تلواریں ہوں گی۔ اور ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جائے گا۔
دس سال تک فریقین جنگ بند رکھیں گے۔ اس عرصے میں لوگ مامون رہیں گے۔ کوئی کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھائے گا۔
جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہو سکے گا۔ اور جو قریش کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہو سکے گا۔ جو قبیلہ جس فریق میں شامل ہو گا اس فریق کا ایک جزو سمجھا جائے گا۔ لہٰذا ایسے کسی قبیلے پر زیادتی ہوئی تو خود اس فریق پر زیادتی متصور ہو گی۔
قریش کا جو آدمی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر - یعنی بھاگ کر- محمد ﷺ کے پاس جائے گا محمد ﷺ اسے واپس کر دیں گے، لیکن محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے جو شخص - پناہ کی غرض سے بھاگ کر - قریش کے پاس آئے گا قریش اسے واپس نہ کریں گے۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا کہ تحریر لکھ دیں۔ اور یہ املا کرایا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اس پر سہیل نے کہا: ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہے؟ آپ یوں لکھئے : باِسْمِک اللہمَّ (اے اللہ تیرے نام سے) نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ یہی لکھو۔ اس کے بعد آپ نے یہ املا کرایا۔ یہ وہ بات ہے جس پر محمد رسول اللہ نے مصالحت کی۔ اس پر سہیل نے کہا: اگر ہم جانتے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو پھر ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے، اور نہ جنگ کرتے، لیکن آپ ﷺ محمد بن عبد اللہ لکھوایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم لوگ جھٹلاؤ۔ پھر حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ محمد بن عبد اللہ لکھیں۔ اور لفظ ''رسول اللہ '' مٹا دیں، لیکن حضرت علیؓ نے گوارا نہ کیا کہ اس لفظ کو مٹائیں۔ لہٰذا نبی ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔ اس کے بعد پوری دستاویز لکھی گئی۔
پھر جب صلح مکمل ہو چکی تو بنو خُزاعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد و پیمان میں داخل ہو گئے۔ یہ لوگ درحقیقت عبد المطلب کے زمانے ہی سے بنو ہاشم کے حلیف تھے جیسا کہ آغازِ کتاب میں گزر چکا ہے۔ اس لیے اس عہد و پیمان میں داخلہ درحقیقت اسی قدیم حلف کی تاکید اور پختگی تھی۔ دوسری طرف بنو بکر قریش کے عہد و پیمان میں داخل ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ابو جَندل کی واپسی:
نوشتہ صلح ابھی لکھا ہی جا رہا تھا کہ سہیل کے بیٹے ابو جندل اپنی بیڑیاں گھسیٹتے آ پہنچے۔ وہ زیریں مکہ سے نکل کر آئے تھے۔ انہوں نے یہاں پہنچ کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان ڈال دیا۔ سہیل نے کہا: یہ پہلا شخص ہے جس کے متعلق میں آپ سے معاملہ کرتا ہوں کہ آپ اسے واپس کر دیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ابھی تو ہم نے نوشتہ مکمل نہیں کیا ہے۔ اس نے کہا: تب میں آپ سے کسی بات پر صلح کا کوئی معاملہ ہی نہ کروں گا۔نبی ﷺ نے فرمایا: اچھا تو تم اس کو میری خاطر چھوڑ دو۔ اس نے کہا: میں آپ کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ آپ نے فرمایا: نہیں نہیں اتنا تو کر ہی دو۔ اس نے کہا نہیں میں نہیں کر سکتا۔ پھر سہیل نے ابو جند ل کے چہرے پر چانٹا رسید کیا۔ اور مشرکین کی طرف واپس کرنے کے لیے ان کے کرتے کا گلا پکڑ کر گھسیٹا۔ ابو جندل زور زور سے چیخ کر کہنے لگے: مسلمانو! کیا میں مشرکین کی طرف واپس کیا جاؤں گا کہ وہ مجھے میرے دین کے متعلق فتنے میں ڈالیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابو جندل! صبر کرو۔ اور اسے باعث ثواب سمجھو۔ اللہ تمہارے لیے اور تمہارے ساتھ جو دوسرے کمزور مسلمان ہیں ان سب کے لیے کشادگی اور پناہ کی جگہ بنائے گا۔ ہم نے قریش سے صلح کر لی ہے۔ اور ہم نے ان کو اور انہوں نے ہم کو اس پر اللہ کا عہد دے رکھا ہے۔ اس لیے ہم بد عہدی نہیں کر سکتے۔
اس کے بعد حضرت عمرؓ اچھل کر ابو جندل کے پاس پہنچے۔ وہ ان کے پہلو میں چلتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ابو جندل! صبر کرو۔ یہ لوگ مشرک ہیں۔ ان کا خون تو بس کتے کا خون ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی تلوار کا دستہ بھی ان کے قریب کرتے جا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ مجھے امید تھی کہ وہ تلوار لے کر اپنے باپ (سہیل) کو اڑا دیں گے، لیکن انہوں نے اپنے باپ کے بارے میں بخل سے کام لیا۔ اور معاہدۂ صلح نافذ ہو گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عمرہ سے حلال ہونے کے لیے قربانی اور بالوں کی کٹائی:
رسول اللہ ﷺ معاہدہ صلح لکھوا کر فارغ ہو چکے تو فرمایا: اٹھو! اور اپنے اپنے جانور قربان کر دو، لیکن واللہ کوئی بھی نہ اٹھا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ مگر پھر بھی کوئی نہ اٹھا تو آپ اُم سلمہ ؓ کے پاس گئے۔ اور لوگوں کے اس پیش آمدہ طرزِ عمل کا ذکر کیا۔ ام المومنین نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ ﷺ ایسا چاہتے ہیں؟ تو پھر آپ ﷺ تشریف لے جایئے اور کسی سے کچھ کہے بغیر چُپ چاپ اپنا جانور ذبح کر دیجیے۔ اور اپنے حجام کو بلا کر سر منڈا لیجئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے۔ اور کسی سے کچھ کہے بغیر یہی کیا۔ یعنی اپنا ہَدی کا جانور ذبح کر دیا۔ اور حجام بلا کر سر منڈا لیا۔ جب لوگوں نے دیکھا تو خود بھی اٹھ کر اپنے اپنے جانور ذبح کر دیے۔ اور اس کے بعد باہم ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ کیفیت یہ تھی کہ معلوم ہوتا تھا فرطِ غم کے سبب ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے۔ اس موقعہ پر گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہل کا ایک اونٹ ذبح کیا۔ جس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مشرکین جل بھن کر رہ جائیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار مغفرت کی دعا کی۔ اور قینچی سے کٹانے والوں کے لیے ایک بار۔ اسی سفر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت کعب بن عجرہ کے سلسلے میں یہ حکم بھی نازل فرمایا کہ جو شخص اذّیت کے سبب اپنا سر (حالت احرام میں) منڈا لے وہ روزے یا صدقے یا ذبیحے کی شکل میں فدیہ دے۔
مہاجرہ عورتوں کی واپسی سے انکار:
اس کے بعد کچھ مومنہ عورتیں آ گئیں۔ ان کے اولیاء نے مطالبہ کیا کہ حدیبیہ میں جو صلح مکمل ہو چکی ہے اس کی رو سے انہیں واپس کیا جائے، لیکن آپ نے یہ مطالبہ اس دلیل کی بنا پر مسترد کر دیا کہ اس دفعہ کے متعلق معاہدے میں جو لفظ لکھا گیا تھا وہ یہ تھا: وعلی أن لا یأتیک منا رجل وإن کان علی دینک إلا رددتہ علینا (صحیح بخاری۱/۳۸۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
''اور (یہ معاہدہ اس شرط پر کیا جا رہا ہے کہ) ہمارا جو آدمی آپ کے پاس جائے گا آپ اسے لازما واپس کر دیں گے، خواہ وہ آپ ہی کے دین پر کیوں نہ ہو۔''
لہٰذا عورتیں اس معاہدے میں سرے سے داخل ہی نہ تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَ‌اتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ ۖ اللَّـهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ ۖ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْ‌جِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ‌ ۖ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ۖ وَآتُوهُم مَّا أَنفَقُوا ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ ۚ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ‌ (۶۰: ۱۰ )
یعنی ''اے اہل ایمان جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو۔ اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے۔ پس اگر انہیں مومنہ جانو تو کفار کی طرف نہ پلٹاؤ۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں۔ البتہ ان کے کافر شوہروں نے جو مہر ان کو دیے تھے اسے واپس دے دو۔ (پھر) تم پر کوئی حرج نہیں کہ ان سے نکاح کر لو جب کہ انہیں ان کے مہر ادا کرو۔ اور کافرہ عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو۔''
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جب کوئی مومنہ عورت ہجرت کرکے آتی تو رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں اس کا امتحان لیتے کہ
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِ‌كْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِ‌قْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِ‌ينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْ‌جُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُ‌وفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ‌ لَهُنَّ اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ (۶۰: ۱۲)
یعنی''اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں آئیں اور اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنانہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان سے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی معروف بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لے لو۔ اور ان کے لیے اللہ سے دعائے مغفرت کرو۔ یقینا اللہ غفور رحیم ہے''
چنانچہ جو عورتیں اس آیت میں ذکر کی ہوئی شرائط کی پابندی کا عہد کرتیں۔ آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے بیعت کر لی، پھر انہیں واپس نہ پلٹاتے۔
اس حکم کے مطابق مسلمانوں نے اپنی کافرہ بیویوں کو طلاق دے دی۔ اس وقت حضرت عمر کی زوجیت میں دو عورتیں تھیں جو شرک پر قائم تھیں۔ آپ نے ان دونوں کو طلاق دے دی، پھر ایک سے معاویہ نے شادی کر لی اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔
 
Top