• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم صلح حدیبیہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس معاہدے کی دفعات کا حاصل:
یہ ہے صلح حدیبیہ۔ جو شخص اس کی دفعات کا ان کے پس منظر سمیت جائزہ لے گا اسے کوئی شبہ نہ رہے گا کہ یہ مسلمانوں کی فتح عظیم تھی۔ کیونکہ قریش نے اب تک مسلمانوں کا وجود تسلیم نہیں کیا تھا اور انہیں نیست و نابود کرنے کا تہیہ کیے بیٹھے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ قوت دم توڑ دے گی۔ اس کے علاوہ قریش جزیرۃ العرب کے دینی پیشوا اور دنیاوی صدر نشین ہونے کی حیثیت سے اسلامی دعوت اور عام لوگوں کے درمیان پوری قوت کے ساتھ حائل رہنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ اس پس منظر میں دیکھئے تو صلح کی جانب محض جھک جانا ہی مسلمانوں کی قوت کا اعتراف اور اس بات کا اعلان تھا کہ اب قریش اس قوت کو کچلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر تیسری دفعہ کے پیچھے صاف طور پر یہ نفسیاتی کیفیت کارفرما نظر آتی ہے کہ قریش کو دنیاوی صدر نشینی اور دینی پیشوائی کا جو منصب حاصل تھا اسے انہوں نے بالکل بھُلا دیا تھا۔ اور اب انہیں صرف اپنی پڑی تھی۔ ان کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ بقیہ لوگوں کا کیا بنتا ہے۔ یعنی اگر سارے کا سارا جزیرۃ العرب حلقہ بگوش اسلام ہو جائے تو قریش کو اس کی کوئی پروا نہیں اور وہ اس میں کسی طرح کی مداخلت نہ کریں گے۔ کیا قریش کے عزائم اور مقاصد کے لحاظ سے یہ ان کی شکستِ فاش نہیں ہے؟ اور مسلمانوں کے مقاصد کے لحاظ سے یہ فتحِ مبین نہیں ہے؟ آخر اہلِ اسلام اور اعدائے اسلام کے درمیان جو خونریز جنگیں پیش آئی تھیں ان کا منشاء اور مقصد اس کے سوا کیا تھا کہ عقیدے اور دین کے بارے میں لوگوں کو مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل ہو جائے۔ یعنی اپنی آزاد مرضی سے جو شخص چاہے مسلمان ہو اور جو چاہے کافر رہے۔ کوئی طاقت ان کی مرضی اور ارادے کے سامنے روڑا بن کر کھڑی نہ ہو۔ مسلمانوں کا یہ مقصد تو ہرگز نہ تھا کہ دشمن کے مال ضبط کیے جائیں۔ انہیں موت کے گھاٹ اتارا جائے۔ اور انہیں زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ یعنی مسلمانوں کا مقصود صرف وہی تھا جسے علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی!
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس صلح کے ذریعے مسلمانوں کا مذکورہ مقصد اپنے تمام اجزا اور لوازم سمیت حاصل ہو گیا اور اس طرح حاصل ہو گیا کہ بسا اوقات جنگ میں فتح مبین سے ہمکنار ہونے کے باوجود حاصل نہیں ہو پاتا۔ پھر اس آزادی کی وجہ سے مسلمانوں نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں نہایت زبردست کامیابی حاصل کی، چنانچہ مسلمان افواج کی تعداد جو اس صلح سے پہلے تین ہزار سے زائد کبھی نہ ہوسکی تھی وہ محض دو سال کے اندر فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار ہو گئی۔
دفعہ نمبر ۲ بھی درحقیقت اس فتح مبین کا ایک جزو ہے کیونکہ جنگ کی ابتدا مسلمانوں نے نہیں بلکہ مشرکین نے کی تھی۔ اللہ کا ارشاد ہے:
وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ ۚ (۹: ۱۳)
''یعنی پہلی بار ان ہی لوگوں نے تم لوگوں سے ابتداء کی۔''
جہاں تک مسلمانوں کی طلایہ گردیوں اور فوجی گشتوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کا مقصود ان سے صرف یہ تھا کہ قریش اپنے احمقانہ غرور میں اللہ کی راہ روکنے سے باز آ جائیں اور مساویانہ بنیاد پر معاملہ کر لیں۔ یعنی ہر فریق اپنی اپنی ڈگر پر گامزن رہنے کے لیے آزاد رہے۔ اب غور کیجیے کہ دس سالہ جنگ بند رکھنے کا معاہدہ آخر اس غرور اور اللہ کی راہ میں رکاوٹ سے باز آنے ہی کا تو عہد ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ جنگ کا آغاز کرنے والا کمزور اور بے دست و پا ہو کر اپنے مقصد میں ناکام ہو گیا۔
جہاں تک پہلی دفعہ کا تعلق ہے تو یہ بھی درحقیقت مسلمانوں کی ناکامی کے بجائے کامیابی کی علامت ہے کیونکہ یہ دفعہ درحقیقت اس پابندی کے خاتمے کا اعلان ہے جسے قریش نے مسلمانوں پر مسجد حرام میں داخلے سے متعلق عائد کر رکھی تھی۔ البتہ اس دفعہ میں قریش کے لیے بھی تشفی کی اتنی سی بات تھی کہ وہ اس ایک سال مسلمانوں کو روکنے میں کامیاب رہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ وقتی اور بے حیثیت فائدہ تھا۔
اس کے بعد اس صلح کے سلسلے میں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ قریش نے مسلمانوں کو یہ تین رعائتیں دے کر صرف ایک رعایت حاصل کی جو دفعہ ۴ میں مذکور ہے، لیکن یہ رعایت حد درجہ معمولی اور بے وقعت تھی اور اس میں مسلمانوں کا کوئی نقصان نہ تھا۔ کیونکہ یہ معلوم تھا کہ جب تک مسلمان رہے گا۔ اللہ، رسول اور مدینۃ الاسلام سے بھاگ نہیں سکتا۔ اس کے بھاگنے کی صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ مرتد ہو جائے۔ خواہ ظاہراً خواہ درپردہ۔ اور ظاہر ہے کہ جب مُرتد ہو جائے تو مسلمانوں کو اس کی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی معاشرے میں اس کی موجودگی سے کہیں بہتر ہے کہ وہ الگ ہو جائے اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا تھا: إنہ من ذہب منا إلیہم فأبعدہ اللہ
''جو ہمیں چھوڑ کر ان مشرکین کی طرف بھاگا اسے اللہ نے دور (یا برباد) کر دیا۔'' (صحیح مسلم باب صلح الحدیبیہ ۲/۱۰۵)
باقی رہے مکے کے وہ باشندے جو مسلمان ہو چکے تھے یا مسلمان ہونے والے تھے تو ان کے لیے اگرچہ اس معاہدے کی رو سے مدینہ میں پناہ گزین ہونے کی گنجائش نہ تھی لیکن اللہ کی زمین تو بہر حال کشادہ تھی۔ کیا حبشہ کی زمین نے ایسے نازک وقت میں مسلمانوں کے لیے اپنی آغوش وانہیں کر دی تھی، جب مدینہ کے باشندے اسلام کا نام بھی نہ جانتے تھے؟ اسی طرح آج بھی زمین کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کے لیے اپنی آغوش کھول سکتا تھا، اور یہی بات
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تھی جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا تھا: ومن جاء نا منہم سیجعل اللہ لہ فرجاً ومخرجاً
''ان کا جو آدمی ہمارے پاس آئے گا۔ اللہ اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کی جگہ بنا دے گا۔'' (ایضًا صحیح مسلم ۲/۱۰۵)
پھر اس قسم کے تحفظات سے اگرچہ نظر بظاہر قریش نے عزّ و وقار حاصل کیا تھا مگر یہ درحقیقت قریش کی سخت نفسیاتی گھبراہٹ، پریشانی، اعصابی دباؤ اور شکستگی کی علامت ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اپنے بُت پرست سماج کے بارے میں سخت خوف لاحق تھا اور وہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کا یہ سماجی گھروندا ایک کھائی کے ایسے کھوکھلے اور اندر سے کٹے ہوئے کنارے پر کھڑا ہے جو کسی بھی دم ٹوٹ گرنے والا ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت کے لیے اس طرح کے تحفظات حاصل کر لینا ضروری ہیں۔ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ نے جس فراخ دلی کے ساتھ یہ شرط منظور کی کہ قریش کے یہاں پناہ لینے والے کسی مسلمان کو واپس نہ طلب کریں گے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اپنے سماج کی ثابت قدمی اور پختگی پر پورا پورا اعتماد تھا اور اس قسم کی شرط آپ کے لیے قطعا کسی اندیشے کا سبب نہ تھی۔
مسلمانوں کا غم اور حضرت عمرؓ کا مناقشہ:
یہ ہے معاہدۂ صلح کی دفعات کی حقیقت لیکن ان دفعات میں دو باتیں بظاہر اس قسم کی تھیں کہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت غم والم لاحق ہوا۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ نے بتایا تھا کہ آپ بیت اللہ تشریف لے جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے، لیکن آپ ﷺ طواف کیے بغیر واپس ہو رہے تھے۔ دوسرے یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور حق پر ہیں۔ اور اللہ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا وعدہ کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے قریش کا دباؤ قبول کیا۔ اور دب کر صلح کی؟ یہ دونوں باتیں طرح طرح کے شکوک و شبہات اور گمان و وسوسے پیدا کر رہی تھیں۔ ادھر مسلمانوں کے احساسات اس قدر مجروح تھے کہ وہ صلح کی دفعات کی گہرائیوں اور مآل پر غور کرنے کے بجائے حُزن و غم سے نڈھال تھے۔ اور غالباً سب سے زیادہ غم حضرت عمر بن خطابؓ کو تھا۔ چنانچہ انہوں نے خدمتِ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کیوں ہم اپنے دین کے بارے میں دباؤ قبول کریں؟ اور ایسی حالت میں پلٹیں کہ ابھی اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خطاب کے صاحبزادے! میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ اور مجھے ہرگز ضائع نہ کرے گا، انہوں نے کہا: کیا آپ ﷺ نے ہم سے یہ بیان نہیں کیا تھا کہ آپ ﷺ بیت اللہ کے پاس تشریف لائیں گے اور اس کا طواف
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کریں گے؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ لیکن کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال آئیں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو بہرحال تم بیت اللہ کے پاس آؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔
اس کے بعد حضرت عمرؓ غصے سے بپھرے ہوئے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس پہنچے۔ اور ان سے وہی بات کہی جو رسول اللہ ﷺ سے کہی تھیں۔ اور انہوں نے بھی ٹھیک وہی جواب دیا جو رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا۔ اور اخیر میں اتنا اور اضافہ کیا کہ آپ ﷺ کی رکاب تھامے رہو یہاں تک کہ موت آ جائے کیونکہ اللہ کی قسم آپ حق پر ہیں۔
اس کے بعد إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (۴۸: ۱) کی آیات نازل ہوئیں۔ جس میں اس صلح کو فتح مبین قرار دیا گیا ہے۔ اس کا نزول ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو بلایا اور پڑھ کر سنایا۔ وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! یہ فتح ہے؟ فرمایا: ہاں۔ اس سے ان کے دل کو سکون ہو گیا۔ اور واپس چلے گئے۔
بعد میں حضرت عمرؓ کو اپنی تقصیر کا احساس ہوا تو سخت نادم ہوئے۔ خود ان کا بیان ہے کہ میں نے اس روز جو غلطی کی تھی اور جو بات کہہ دی تھی اس سے ڈر کر میں نے بہت سے اعمال کیے۔ برابر صدقہ و خیرات کرتا رہا۔ روزے رکھتا اور نماز پڑھتا رہا۔ اور غلام آزاد کرتا رہا، یہاں تک کہ اب مجھے خیر کی امید ہے۔ (صلح حدیبیہ کی تفصیلات کے مآخذ یہ ہیں: فتح الباری ۷/۴۳۹ تا ۴۵۸ صحیح بخای ۱/۳۷۸ تا ۳۸۱، ۲/۵۹۸، ۶۰۰ ،۷۱۷ صحیح مسلم ۲/۱۰۴، ۱۰۵، ۱۰۶ ابن ہشام ۲/۳۰۸ تا ۳۲۲ زادا لمعاد ۲/۱۲۲ تا ۱۲۷، تاریخ عمر بن الخطاب لابن الجوزی ص ۳۹، ۴۰)
کمزور مسلمانوں کا مسئلہ حل ہو گیا:
رسول اللہ ﷺ مدینہ واپس تشریف لا کر مطمئن ہو چکے تو ایک مسلمان جسے مکہ میں اذیتیں دی جا رہی تھیں چھوٹ کر بھاگ آیا۔ ان کا نام ابو بصیر تھا۔ وہ قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتے تھے۔ اور قریش کے حلیف تھے۔ قریش نے ان کی واپسی کے لیے دو آدمی بھیجے اور یہ کہلوایا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان جو عہد و پیمان ہے اس کی تعمیل کیجیے۔ نبی ﷺ نے ابو بصیر کو ان دونوں کے حوالے کر دیا۔ یہ دونوں انہیں ہمراہ لے کر روانہ ہوئے۔ اور ذُو الحلیفہ پہنچ کر اترے، اور کھجور کھانے لگے۔ ابو بصیر نے ایک شخص سے کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم! میں دیکھتا ہوں کہ تمہاری یہ تلوار بڑی عمدہ ہے۔ اس شخص نے اسے نیام سے نکال کر کہا: ہاں ہاں! واللہ یہ بہت عمدہ ہے۔ میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ہے۔ ابو بصیر نے کہا: ذرا مجھے دکھلاؤ، میں بھی دیکھوں۔ اس شخص نے ابو بصیر کو تلوار دے دی۔ اور ابو بصیر نے تلوار لیتے ہی اسے مار کر ڈھیر کر دیا۔
دوسرا شخص بھاگ کر مدینہ آیا اور دوڑتا ہوا مسجد نبوی میں گھس گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا: اس نے خطرہ دیکھا ہے۔ وہ شخص نبی ﷺ کے پاس پہنچ کر بولا: میرا ساتھی اللہ کی قسم قتل کر دیا گیا۔ اور میں بھی قتل
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ہی کیا جانے والا ہوں۔ اتنے میں ابو بصیر آ گئے۔ اور بولے: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کا عہد پورا کر دیا۔ آپ نے مجھے ان کی طرف پلٹا دیا۔ پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی ماں کی بربادی ہو۔ اسے کوئی ساتھی مل جائے تو یہ تو جنگ کی آگ بھڑکا دے گا۔ یہ بات سن کر ابو بصیر سمجھ گئے کہ اب انہیں پھر کافروں کے حوالے کیا جائے گا۔ اس لیے وہ مدینہ سے نکل کر ساحل سمندر پر آ گئے۔ ادھر ابو جندل بن سہیل بھی چھوٹ بھاگے اور ابو بصیر سے آ ملے۔ اب قریش کا جو آدمی بھی اسلام لا کر بھاگتا وہ ابو بصیر سے آ ملتا۔ یہاں تک کہ ان کی ایک جماعت اکٹھی ہو گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کو ملک شام آنے جانے والے کسی بھی قریشی قافلے کا پتہ چلتا تو وہ اس سے ضرور چھیڑ چھاڑ کرتے اور قافلے والوں کو مار کر ان کا مال لوٹ لیتے۔ قریش نے تنگ آ کر نبی ﷺ کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ آپ انہیں اپنے پاس بلا لیں۔ اور اب جو بھی آپ کے پاس جائے گا مامون رہے گا۔
اس کے بعد نبی ﷺ نے انھیں بلوا لیا اور وہ مدینہ آ گئے۔ (سابقہ مآخذ)
کبار قریش کا قبولِ اسلام:
اس معاہدہ صلح کے بعد ۷ھ کے اوائل میں حضرت عَمرو بن عاص، خالد بن ولید اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم مسلمان ہو گئے۔ جب یہ لوگ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: مکہ نے اپنے جگر گوشو ں کو ہمارے حوالے کر دیا ہے۔ (اس بارے میں سخت اختلاف ہے کہ ہے کہ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کس سنہ میں اسلام لائے۔ اسماء الرجال کی عام کتابوں میں اسے ۸ھ کا واقعہ بتایا گیا ہے، لیکن نجاشی کے پاس حضرت عمرو بن عاصؓ کے اسلام لانے کا واقعہ معروف ہے جو ۷ھ کا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ حضرت خالد اور عثمان بن طلحہ اس وقت مسلمان ہوئے تھے جب عمرو بن عاص حبشہ سے واپس آئے تھے کیونکہ انہوں نے حبشہ سے واپس آ کر مدینہ کا قصد کیا تو راستے میں ان دونوں سے ملاقات ہوئی۔ اور تینوں حضرات نے ایک ساتھ خدمت نبوی میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سبھی حضرات ۷ھ کے اوائل میں مسلمان ہوئے۔ واللہ اعلم)
****​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دوسرا مرحلہ:

نئی تبدیلی
صلح حدیبیہ درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کی زندگی میں ایک نئی تبدیلی کا آغاز تھا۔ کیونکہ اسلام کی عداوت و دشمنی میں قریش سب سے زیادہ مضبوط، ہٹ دھرم اور لڑاکا قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس لیے جب وہ جنگ کے میدان میں پسپا ہو کر امن و سلامتی کی طرف آ گئے تو احزاب کے تین بازوؤں- قریش، غطفان اور یہود - میں سب سے مضبوط بازو ٹوٹ گیا۔ اور چونکہ قریش ہی پورے جزیرۃ العرب میں بت پرستی کے نمائندے اور سربراہ تھے، اس لیے میدان جنگ سے ان کے ہٹتے ہی بت پرستوں کے جذبات سرد پڑ گئے اور دشمنانہ روش میں بڑی حد تک تبدیلی آ گئی، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس صلح کے بعد غطفان کی طرف سے بھی کسی بڑی تگ و دو اور شور و شر کا مظاہرہ نہیں ہوا بلکہ انہوں نے کچھ کیا بھی تو یہود کے بھڑکانے پر۔
جہاں تک یہود کا تعلق ہے تو وہ یثرب سے جلا وطنی کے بعد خیبر کو اپنی دسیسہ کاریوں اور سازشوں کا اڈہ بنا چکے تھے وہاں ان کے شیطان انڈے بچے دے رہے تھے۔ اور فتنے کی آگ بھڑکانے میں مصروف تھے۔ وہ مدینہ کے گرد و پیش آباد بدوؤں کو بھڑکاتے رہتے تھے اور نبی ﷺ اور مسلمانوں کے خاتمے یا کم از کم انہیں بڑے پیمانے پر زک پہنچانے کی تدبیریں سوچتے رہتے تھے۔ اس لیے صلح حدیبیہ کے بعد نبی ﷺ نے سب سے پہلا اور فیصلہ کن راست اقدام اسی مرکز شر و فساد کے خلاف کیا۔
بہرحال امن کے اس مرحلے پر جو صلح حدیبیہ کے بعد شروع ہوا تھا مسلمانوں کو اسلامی دعوت پھیلانے اور تبلیغ کرنے کا اہم موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ اس لیے اس میدان میں ان کی سرگرمیاں تیز تر ہو گئیں جو جنگی سرگرمیوں پر غالب رہیں، لہٰذا مناسب ہو گا کہ اس دور کی دو قسمیں کر دی جائیں:
تبلیغی سرگرمیاں، اور بادشاہوں اور سربراہوں کے نام خُطوط
جنگی سرگرمیاں
پھر بے جا نہ ہو گا کہ اس مرحلے کی جنگی سرگرمیاں پیش کرنے سے پہلے بادشاہوں اور سربراہوں کے نام خطوط کی تفصیلات پیش کر دی جائیں کیونکہ طبعی طور پر اسلامی دعوت مقدم ہے بلکہ یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے مسلمانوں نے طرح طرح کی مشکلات و مصائب، جنگ اور فتنے، ہنگامے اور اضطرابات برداشت کیے تھے۔

****​
 
Top