• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ضعیف اور موضوع احادیث کی نشاندہی مطلوب ہے ۔ دوسرا حصہ

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
ضمیمہ۔۲ ....کتب:۱۔ الطہارت ۲۔الصلوٰة، ۳۔الزکوٰة ۴۔الصوم، ۵۔الحج
۱۔طہارت و پاکیزگی جزو ایمان ہے۔ (صحیح مسلم)۔۲۔ کلمہ الحمدﷲ میزان عمل کو بھردیتا ہے۔ (صحیح مسلم)۔
۳۔سبحان اﷲ والحمدﷲ آسمان کو اور زمین کو بھر دیتے ہیں۔ (صحیح مسلم)۔۴۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل و برہان ہے اور صبر اُجالا ہے۔ (صحیح مسلم)۔۵۔رفع حاجت کے لےے قبلہ کی طرف منہ یا پُشت کرکے نہ بیٹھو۔( ابن ماجہ و دارمی)۔۶۔ استنجے کے لئے تین پتھروں کو استعمال کرو۔( ابن ماجہ و دارمی)۔۷۔استنجے میں لیدیا ہڈی استعمال نہ کرو نہ ہی داہنے ہاتھ سے استنجا کرو۔ ( ابن ماجہ و دارمی)۔۸۔تم میں سے کوئی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ (سنن ابی داو¿د و سنن نسائی)۔۹۔بیت الخلاءجانے کی دُعا: میں اﷲ کی پناہ لیتا ہوں نر و مادہ خبیث مخلوقات سے۔ ( ابی داو¿د و ابن ماجہ)۔۰۱۔ بیت الخلاءسے باہر آکر پڑھو "اَلحَمدُ ﷲِ الَّذِی" ۔(سنن نسائی)۔۱۱۔ وضو سے فارغ ہونے والا گناہوں سے بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم)۔۲۱۔ جو کوئی مکمل وضو کرے، پھر کہے"اَشھَدُاَن لَّا اِلٰہَ الاﷲُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہ' وَرَسُو لُہ" تو لازمی طور پر۔ اُس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جائیں گے(صحیح مسلم)۔ ۳۱۔ تکلیف اور ناگواری کے باوجود پوری طرح کامل وضو کرنا،مسجدوں کی طرف قدم زیادہ پڑنااور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا منتظر رہنا ،گناہوں کو مٹانے والے اعمال ہیں۔(صحیح مسلم)۔ ۴۱۔ سب سے بہتر عمل نماز ہے ۔وضو کی پوری نگہداشت بس مومن ہی کرسکتا ہے۔ (مو¿طا امام مالک)۔۵۱۔ جبرئیل ؑ نے ہر ملاقات میںنبی ﷺکو مسواک کے لئے ضرور کہا۔(مسند احمد، سنن ابی داو¿د)۔۶۱۔نبی ﷺ جب بھی سوکراٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک ضرور فرماتے ۔ (مسند احمد، سنن ابی داو¿د)۔۷۱۔حیاء، خوشبو،،مسواک اورنکاح پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں۔ (جامع ترمذی)۔۸۱۔مونچھوں کو ترشوانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر صفائی کرنا، ناخن ترشوانا، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا، بغل اور زیر ناف بالوںکی صفائی اور پانی سے استنجا کرنا امور فطرت میںسے ہیں ۔(مسلم)۔۹۱۔وہ نماز جس کے لےے مسواک کی جائے، بلا مسواک نماز کے مقابلہ میںستر گنی فضیلت رکھتی ہے۔ (بیہقی)۔۰۲۔ جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور یعنی وضو ہے۔ (مسند احمد)۔۱۲۔جب تم وضو کرو تو"بسم اﷲ و الحمدﷲ" کہہ لیا کرو ۔(معجم سغیر طبرانی)

۲۲۔جب لباس پہنو یا وضو کرو تو اپنے داہنے اعضاءسے ابتداءکرو۔ (مسند احمد، سنن ابی داو¿د)۔۳۲۔ اﷲ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا۔ (سنن ابن ماجہ)۔۴۲۔ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی تو اس کے بارے میں وہ ذمہ داری ختم ہوگئی جو اﷲ کی طرف سے صاحب ایمان بندوں کے لئے ہے۔(سنن ابن ماجہ)۔۵۲۔ خبردار شراب کبھی نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)۔ ۶۲۔ تین کام ایسے ہیں جن میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ نماز جب اس کا وقت آجائے۔ جنازہ جب تیار ہوکر آجائے اور بے شوہر والی کا نکاح جب اس کے لےے مناسب جوڑ مل جائے۔ (جامع ترمذی)۔ ۷۲۔اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کردیا کرو اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو۔(جامع ترمذی)۔

۸۲۔ اذان دیتے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دے لیا کرو۔(سنن ابن ماجہ)۔۹۲۔قاعدہ یہ ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داو¿د، سنن ابن ماجہ)۔۰۳۔اﷲاور اپنے آقا کا حق ادا کرنے والا نیک غلام،کسی جماعت کا وہ امام جس سے لوگ خوش رہے اور پانچوں وقت اذان دینے والا قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر ٹھہرائے جائیں گے۔ (جامع ترمذی)۔۱۳۔جس نے سات سال تک اﷲ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لےے آتش دوزخ سے برا¿ت لکھ دی جاتی ہے ۔(جامع ترمذی، سنن ابی داو¿د، سنن ابن ماجہ)۔۲۳۔مسلمان یہود و نصاریٰ کی طرح مسجدوں کی آرائش و زیبائش کرنے لگیںگے ۔(سنن ابی داو¿د)۔۳۳۔ گھر کے اندرونی حصے میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، اُس نماز سے بہتر ہے جو بیرونی دالان یا صحن میںپڑھی جائے۔ گھر میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، مسجدمیں پڑھی جانے والی نماز سے بہتر ہے ۔( مسند احمد)۔ ۴۳۔ اگرنبی ﷺ عورتوں کی موجودہ حالت دیکھ لیتے توانہیں مسجدوں میں جانے سے روک دیا جاتا جیسے سابق انبیاؑ نے بنی اسرائیل کی عورتوں کو عبادت گاہوں میں جانے سے روک دیا تھا، حضرت عائشہ ؓ ۔ ( مسلم)۔۵۳۔بستی میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز باجماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقینا قابو پالے گا۔ (مسند احمد)۔ ۶۳۔ جس کی چالیس دن تک ہربا جماعت نماز کی تکبیر اولیٰ فوت نہ ہو تو اس کے لئے دو برا¿ تیں لکھ دی جاتی ہیں(ترمذی)۔۷۳۔کھاناسامنے ہوتو نماز کا حکم نہیں ہے اور نہ ایسی حالت میں کہ پائخانے یا پیشاب کا تقاضا ہو۔ (مسلم)۔۸۳۔حضرت انسؓ اور اُن کے بھائی نے رسول اﷲ ﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں اس طرح نماز پڑھی کہ اُن کی والدہ اُم سلیم اُن دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (صحیح مسلم)۔۹۳۔ جب تم نماز کو آو¿ اورامام سجدے میں ہو تو تم سجدے میں شریک ہوجاو¿ اور اس کو کچھ شمار نہ کرو۔ جس نے امام کے ساتھ رکوع پالیااُس نے نماز کی وہ رکعت پالی۔ (سنن ابی داو¿د)۔۰۴۔ نبی دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغفِرلِی(اے اﷲ!میری مغفرت فرما) کہا کرتے تھے(نسائی)۔۱۴۔ آخری تشہد پڑھ کر جہنم و قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور دجال کے شر سے پناہ مانگو ( مسلم)۔ ۲۴۔جوفرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کےلئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا۔ ۴ رکعات ظہر سے پہلے، ۲ رکعات ظہر کے بعد، ۲ رکعات مغرب کے بعد، ۲رکعات عشاءکے بعد اور ۲رکعات فجر سے پہلے۔ ( ترمذی)۔۳۴۔نماز و ترحق ہے۔ جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داو¿د)۔۴۴۔ تم تہجدضرور پڑھا کرو۔ (جامع ترمذی)۔۵۴۔کوئی گناہ سر زد ہوجائے تو وضو کرکے نمازپڑھو اور معافی مانگو ۔ اﷲ معاف فرمادیتا ہے۔( ترمذی)۔۶۴۔ تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو۔ (بہیقی)۔۷۴۔ جمعہ کی باجماعت نماز غلام، عورت، کمسن اور بیمار کے علاوہ ہر مسلمان پر لازم ہے۔ (ابو داو¿د) ۔۸۴۔عیدالفطر کی نماز کےلئے کچھ کھاکے جانااور عیدالاضحی کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہ کھانا ۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)۔ ۹۴۔عیدالاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اﷲ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں۔(جامع ترمذی)۔۰۵۔ قربانی کرنے والا یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے۔ (صحیح مسلم)۔۱۵۔ موت مومن کا تحفہ ہے۔ (بیہقی)۔ ۲۵۔مرنے والوں کو کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کی تلقین کیا کرو۔ (صحیح مسلم) ۔۳۵۔تم اپنے مرنے والوں پر سورة یٰسین پڑھا کرو۔ (مسند احمد، سنن ابو داو¿د، سنن ابن ماجہ)۔ ۴۵۔جب کسی کابچہ انتقال کر جاتا ہے ا ور وہ بندہ اللہ کی حمد بیان کرکے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اﷲ اس کے لئے جنت میں بیت الحمد نامی ایک عالیشان گھر تیار کرواتا ہے ۔ (مسند احمد، ترمذی)۔۵۵۔ جس مسلمان کی نماز جنازہ چالیس ایسے آدمی پڑھیں جن کی زندگی شرک سے پاک ہو اور وہ نماز میں اس میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں تو اﷲان کی دعاضرور قبول فرماتا ہے۔ (مسلم) ۔ ۶۵۔ کسی مسلم میت کی نماز جنازہ میں تین صفیں ہوںتو اﷲ اس کی مغفرت اور جنت واجب کردیتا ہے۔ (ابی داو¿د)۔ ۷۵۔ قبروں کو پختہ کر نے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر بیٹھنے کی ممانعت ہے ۔ (مسلم)۔۸۵۔ نہ تو قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو۔ ( مسلم)۔۹۵۔ گھوڑوں اور غلاموں پر زکوٰة واجب نہیں ہے ۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داو¿د)۔۰۶۔ دو سودرہم پورے ہوجائیں تو چاندی کی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم زکوٰةادا کرو ۔ (ترمذی، ابی داو¿د)۔۱۶۔ہر اس چیز میں زکوٰة نکالیں جو تجارت کے لےے مہیا ہو۔ (سنن ابی داو¿د)۔۲۶۔ زکوٰة اس وقت تک واجب نہ ہوگی جب تک مال پر سال نہ گزر جائے۔ ( ترمذی)۔۳۶۔ غنی آدمی کو اور توانا و تندرست آدمی کوسوال کرنا جائز نہیں ہے۔ (ترمذی)۔۴۶۔ اُسے سوال کرنا جائز ہے جو افلاس زدہ ہو یا قرض و تاوان وغیرہ کا کوئی بوجھ پڑگیا ہو۔(ترمذی)۔۵۶۔ ممکنہ حد تک سوال نہ کرو۔ اگر مجبور ہی ہوجاو¿ تو اﷲ کے نیک بندوں سے سوال کرو ( ابی داو¿د، نسائی)۔۶۶۔جو اﷲ کے بندوں سے اپنی کوئی حاجت نہ مانگنے کا عہد کرے تو اس کے لئے جنت کی ضمانت ہے۔( ابی داو¿د)۔۷۶۔ ضرورت سے فاضل دولت کو راہِ خدا میں صرف کرنا بہتر اور روکنا برا ہے۔البتہ گزارے کے بقدر رکھنے پر کوئی ملامت نہیں اور سب سے پہلے ان پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہے۔ (صحیح مسلم)۔۸۶۔ صدقہ اﷲ کی غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے۔ (جامع ترمذی)۔۹۶۔ قیامت کے دن مومن پر اس کے صدقہ کا سایہ ہوگا۔ (مسند احمد)۔۰۷۔ صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی اور قصور معاف کردینے سے آدمی نیچا نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم)۔۱۷۔ ضرورت مندمسلمان بھائی کو کپڑا پہنانے والے کو اﷲ جنت کا سبز لباس پہنائے گا( ابی داو¿د ، ترمذی)۔ ۲۷۔بھوکے مسلمان بھائی کوکھانا کھلا نے والے کو اﷲ جنت کے پھل ومیوے کھلائے گا۔( ابی داو¿د ، ترمذی)۔۳۷۔پیاسے مسلمان کو پانی پلانے والے کواﷲ جنت کی سر بمہر شراب طہور پلائے گا۔ ( ابی داو¿د ، ترمذی)۔ ۴۷۔پہلے اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پر خرچ کرو،پھرملازمین پر پھر مستحق اہل قرابت پر۔ (ابی داو¿د، نسائی)۔۵۷۔ قریبی عزیز کوکچھ دینے میںدو طرح کا ثواب ہے۔ ایک صدقہ ہے اور دوسرے صلہ رحمی۔ (ترمذی)۔۶۷۔ معتکف نہ تو مریض کی عیادت کو جائے اور نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے باہر نکلے۔ (ابی داو¿د)۔۷۷۔معتکف عورت سے صحبت کرے نہ بوس و کنار۔(سنن ابی داو¿د)۔ ۸۷۔ رفع حاجت وغیرہ کے علاوہ معتکف اپنی دیگر ضرورتوں کے لئے بھی مسجد سے باہر نہ جائے۔( ابی داو¿د)۔۹۷۔ اعتکاف روزہ کے ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں ہوتا۔ (سنن ابی داو¿د)۔۰۸۔ رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھو۔ ۹۲ شعبان کو چاند دکھائی نہ دے تو ۰۳ دن کا شمار پورا کرو۔(ابی داو¿د)۔ ۱۸۔اﷲ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ کے افطار میں جلدی کرے۔ ( ترمذی)۔ ۲۸۔ کھجور سے افطار کرو ، کھجور نہ ملے تو پھر پانی ہی سے افطار کرو۔(مسند احمد، ابی داو¿د، ترمذی، ابن ماجہ) ۔۳۸۔روزہ دار کو افطار کرانے اور مجاہد کو جہادی سامان دینے سے روزہ دار اور مجاہد کے مثل ہی ثواب ملے گا۔ (بیہقی )۔۴۸۔حیض کے دنوں کے قضا شدہ روزے رکھنے کاحکم ہے لیکن قضا نماز پڑھنے کا حکم نہیں۔ (صحیح مسلم)۔۵۸۔روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لیااپنا روزہ پورا کروکیونکہ اﷲ نے کھلایا پلایا ہے ۔ ( صحیح مسلم)۔۶۸۔ پچھنے لگوانے، قے ہوجانے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ( ترمذی)۔۷۸۔روزہ کی حالت میں سرمہ لگا یا جاسکتا ہے۔(جامع ترمذی)۔۸۸۔روزے کی حالت میں پیاس یا گرمی کی شدت کی و جہ سے نہانا جائز ہے (مو¿طا امام مالک ، ابی داو¿د)۔۹۸۔روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روزہ میںکوئی فرق نہیں آئے گا۔ (سنن ابی داو¿د)۔۰۹۔ہر چیز کی زکوٰة ہے اور جسم کی زکوٰة روزہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ)۔۱۹۔ رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے بھی رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے ( مسلم)۔۲۹۔عاشورہ کا روزہ،یکم تا نو ذی الحجہ کے روزے، ہر مہینے کے تین روزے نبی ﷺ کا معمول تھا۔(نسائی)۔۳۹۔ ایام بیض یعنی ہر ماہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کو روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے (ابی داو¿د) ۔۴۹ شعبان کی پندرھویں رات میں اﷲ کے حضور میں نوافل پڑھو اور اس دن کو روزہ رکھو۔ ( ابن ماجہ)۔۵۹۔جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان اور بیت اللہ تک پہنچنے کی سواری میسر ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر۔(جامع ترمذی)۔ ۶۹۔ حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقرو محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور رکردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کردیتی ہے ۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)۔ ۷۹۔حاجی کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام و مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لئے کہو۔کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔(مسند احمد)۔ ۸۹۔حالت احرام میں قمیض، پاجامہ، عمامہ اورموزے نہ پہنو۔ حرام میںخوشبو بھی نہ لگا ہو۔ (صحیح مسلم)۔

۹۹۔عورتوں کو احرام کی حالت میں دستانے ، نقاب اور خوشبو کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ جو وہ چاہیں ۔پہن سکتی ہیں۔ وہ زیور، شلوار، قمیض اور موزے بھی پہن سکتی ہیں۔ (سنن ابی داو¿د)۔۰۰۱۔بیت اﷲ کا طواف نماز جیسی عبادت ہے البتہ طواف میں باتیں کرنے کی اجازت ہے۔ جو کوئی طواف کی حالت میں کسی سے بات کرے تو نیکی اور بھلائی کی بات کرے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)۔۱۰۱۔ حجر اسود اور رکن یمانی ان دونوں پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کے کفار ہ کا ذریعہ ہے۔(ترمذی)۔۲۰۱حالتِ طواف میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَّفِی الا خِٰرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (سنن ابی داو¿د)۔۳۰۱۔حج وقوف عرفہ ہے۔ جو حاجی مزدلفہ والی رات یعنی ۹اور۰۱ ذی الحجہ کی درمیانی شب میں بھی صبح صادق سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے تو اس نے حج پالیا اور اس کا حج ہوگیا۔۴۰۱۔منیٰ میں قیام کے تین دنوں ( ۱۱، ۲۱، ۳۱ ذی الحجہ کوجمرات کی رمی کی جاتی ہے) میں اگر کوئی صرف دو دن یعنی۱۱، ۲۱ ذی الحجہ کو رمی کرکے منیٰ سے چل دے تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ ( ترمذی، ابی داو¿د، نسائی)۔۵۰۱۔اﷲ تعالیٰ عرفہ کے دن سب سے زیادہ بندوں کے لئے جہنم سے آزادی کا فیصلہ کرتا ہو۔ (مسلم)۔۶۰۱۔ اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن۰۱ ذی الحجہ (عید الاضحیٰ) کا دن ہے۔ (مسند احمد)۔۷۰۱۔ طواف زیارت کو دسویں ذی الحجہ کی رات تک موخر کرنے کی اجازت ہے۔ (مسند احمد)۔۸۰۱ ۔حج یا عمرہ کرنے والے کی آخری حاضری بیت اﷲ پر ہو اور آخری عمل طواف ہو۔ (مسند احمد)۔۹۰۱۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (صحیح مسلم)۔۰۱۱۔ مدینہ کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے۔ اس میں خوں ریزی کرونہ ہتھیاراٹھاؤ۔ چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑو۔ ( مسلم)۔۱۱۱۔جو اس کی کوشش کرسکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ مدینہ میں مرے میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے ۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)۔۲۱۱۔روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اپنی قبرکا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔(موطا امام مالک)۔ ۳۱۱۔مسجد نبوی میں مسلسل ۰۴ نمازیں پڑھنے پر دوزخ سے نجات اور نفاق سے برا¿ت لکھ دی جائے گی(مسند احمد)۔۴۱۱۔ جس نے حج کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (بیہقی )۔ ۵۱۱۔ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔(دار قطنی ، بیہقی)۔
 
Top