• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ضعیف اور موضوع احادیث

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
۱۔ضعیف روایات کئی قسمیں ہیں بعض نے سترہ اور بعض نے ۵۱ تک بھی بیان کی ہیں اور ہر ایک کے ضعف میں فرق ہوتا ہے۔ لہذا ضعیف روایات کے بارے یہ بات کہنا درست نہیں ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان ہیں بلکہ محدثین کے صحیح اور راجح قول کے مطابق ضعیف روایات میں صحت کا امکان موجود ہوتا ہے لیکن یہ پہلو مرجوح ہوتا ہے اور ضعف کا پہلو راجح ہونے کی وجہ سے ضعیف کا حکم لگایا جاتا ہے۔اس کو آپ سادہ سی مثال سے یوں سمجھیں کہ ہر خبر میں سچ اور جھوٹ دونوں امکانات موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے سچ کا پہلو راجح ہو تو وہ خبر سچی اور جھوٹ کا پہلو راجح ہو تو خبر جھوٹی کہلاتی ہے۔
۲۔موضوع روایات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان ہیں اور بعض محدثین نے انہیں حدیث کہنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ موضوع روایت میں یہ بات قطعیت یعنی ۱۰۰ فی صد ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی ہے لہذا یہ بہتان ہے جبکہ ضعیف روایت میں اس روایت کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ ہونے کی نسبت ۱۰۰ فی صد قطعیت سے ثابت نہیں ہوتی ہے بلکہ ۵۰ سے ۱۰۰ فی صد کے مابین روایت کے ضعف کے اعتبار سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
 
Top