• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ضعیف و منکر روایت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر رافضی اعتراض کا علمی محاسبہ شیخ شعیب الأرناؤوط کی تحقیق کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
888
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
ضعیف و منکر روایت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر رافضی اعتراض کا علمی محاسبہ شیخ شعیب الأرناؤوط کی تحقیق کی روشنی میں

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِي شَأْنِهَا: {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ، وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} [الحجر: ٢٤] "


عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ:«ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو“ (سورۃ الحجر: ۲۴) نازل فرمائی۔

[مسند الإمام أحمد بن حنبل، حدیث: ٢٧٨٣]

ایک رافضی نے اس روایت کو جس کی سند میں کلام اور متن میں نکارت ہے، اپنے مذہبی تعصب کا سہارا بنا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر زبان درازی کی جسارت کی اور یہ طعن کیا کہ "صحابہ کرام حالت نماز میں بھی اپنی شہوت کو قابو نہ کر سکے۔" حالانکہ یہاں کسی صحابی کا ذکر نہیں۔

صحابہ کرام پر ایسا گھٹیا طعن صرف وہی زبان نکال سکتی ہے جس میں نفاق کی جڑیں گہری ہوں، یا جو بغض صحابہ کے زہر سے سیراب ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض انسان کو کہاں تک گرا دیتا ہے! ایک ضعیف و منکر روایت ہاتھ لگی، نہ سند کی تحقیق کی، نہ متن کے اضطراب کو دیکھا، نہ یہ معلوم کرنے کی زحمت کی کہ اس میں کسی صحابی کا ذکر بھی ہے یا نہیں؛ بس اپنی زبان کو بےلگام کیا اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن شروع کردیا۔

اس روایت کی تحقیق میں شیخ شعیب ارناؤوط لکھتے ہیں :

"إسناده ضعيف ومتنه منكر، عمرو بن مالك النُّكري لا يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان فقد ذكره في "الثقات" وقال: يخطىء ويغرب، وقال الحافظ في "التقريب": صدوق له أوهام..."

اس روایت کی سند ضعیف اور متن منکر ہے۔ عمرو بن مالک النکری کی توثیق بھی ایسی نہیں کہ اس روایت کو صحیح قرار دے دیا جائے، کیونکہ ابن حبان نے اسے اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ غلطیاں کرتا ہے اور غریب روایات بیان کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں اسے صدوق، مگر اوہام رکھنے والا قرار دیا ہے۔

"وأخطأ الذهبي في "الميزان" و"الضعفاء" فوثق عمرو بن مالك النكري مع إنه ذكره في "الكاشف" ولم يوثقه، وإنما اقتصر على قوله: وُثِّق، وهو يُطلِق هذه اللفظة على من انفرد ابن حبان بتوثيقه."

یعنی امام ذہبی رحمہ اللہ سے بھی اس راوی کے بارے میں توثیق میں خطا ہوئی، کیونکہ انہوں نے "الکاشف" میں اسے مستقل طور پر ثقہ قرار نہیں دیا بلکہ صرف یہ کہا کہ "اس کی توثیق کی گئی ہے"، اور یہ تعبیر وہ ایسے راوی کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جس کی توثیق میں ابن حبان منفرد ہوں۔

"وأخرجه الطيالسي (٢٧١٢) ، وابن ماجه (١٠٤٦) ، والترمذي (٣١٢٢) ... من طرق عن نوح بن قيس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: وروى جعفر بن سليمان هذا الحديث عن عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء نحوه، ولم يذكر فيه ابنَ عباس، وهذا أشبه أن يكون أصح من حديث نوح."

یہ روایت طیالسی، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی، طبری، ابن حبان، طبرانی، حاکم اور بیہقی وغیرہ نے مختلف طرق سے نقل کی ہے، لیکن خود امام ترمذی رحمہ اللہ نے نہایت اہم بات فرمائی کہ جعفر بن سلیمان نے یہی روایت عمرو بن مالک سے، ابوالجوزاء کے واسطے سے بیان کی، مگر اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا؛ اور ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک یہی روایت نوح والی روایت سے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

"وذكره ابن كثير في "تفسيره" ٤/٤٥٠ من تفسير الطبري بإسناده، ثم نسبه لأحمد وابن أبي حاتم والترمذي والنسائي في التفسير من سننيهما وابن ماجه، وقال: حديث غريب جداً، وفيه نكارة شديدة، ثم رجح أن يكون من كلام أبي الجوزاء."

ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اسے "حدیث غریب جداً" یعنی انتہائی غریب حدیث قرار دیا اور فرمایا کہ اس میں شدید نکارت ہے، پھر یہ احتمال بھی ذکر کیا کہ یہ دراصل ابوالجوزاء کا اپنا کلام ہو سکتا ہے۔

شیخ شعیب ارناؤوط آخر میں تنبیہ فرماتے ہیں کہ

"تنبيه: قد سبق لنا أن حسَّنا إسناد هذا الحديث في تعليقنا على "صحيح ابن حبان"، وقد تبين لنا هنا أنه ضعيف لا يستحق التحسين، فاقتضى التنبيه، والله وليّ التوفيق."

ہم اس سے پہلے "صحیح ابن حبان" پر اپنے تعلیقی کام میں اس حدیث کی سند کو حسن قرار دے چکے تھے، لیکن یہاں تحقیق کرنے کے بعد ہمارے لیے واضح ہوگیا کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور تحسین کے لائق نہیں؛ اس لیے ہم نے اس کی تنبیہ ضروری سمجھی۔

[مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط، ج : ٥، ص : ٥-٦]

11717.jpg

11719.jpg

11721.jpg

پس جس روایت کو رافضی بڑے وثوق سے پیش کرکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز، تقویٰ اور عفت پر حملہ کر رہے ہیں، وہ روایت ہی ضعیف ہے اور اس کا متن منکر ہے۔ جب عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نماز میں باپردہ اور چادر اوڑھے ہوتی تھیں تو جو عورت پردے میں ہو اس کی خوبصورتی کو دیکھنا ہی ممکن نہیں جبکہ روایت میں "امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ" کے الفاظ ہیں۔

ایسی روایت جس کے بارے میں شیخ شعیب ارناؤوط نے "إسناده ضعيف ومتنه منكر" کہا، اور جس کے بارے میں ابن کثیر رحمہ اللہ نے "فيه نكارة شديدة" کہا ہے، اسے اٹھا کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف استعمال کرنا تعصب کی انتہا اور علمی بےبسی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، ان کے مقام کی معرفت، اور حق و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان روافض کے شر سے محفوظ رکھے جو ضعیف روایات اور باطل شبہات کو اہل اسلام کے بہترین طبقے کے خلاف فتنہ و طعن کا ذریعہ بناتے ہیں۔

وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
 
Top