• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ظلم کے نقصانات قرآن و حدیث کی روشنی میں

شمولیت
ستمبر 13، 2026
پیغامات
14
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
6
ظلم کے نقصانات قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر ! شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری

ظلم ایک ایسا بھیانک گناہ ہے جو انسان کی دنیا و آخرت دونوں کو تباہ کرسکتا ہے۔ ظلم کے ذریعے انسان دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، معاشرے میں فساد پھیلاتا ہے، کمزوروں کو دباتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے۔
اسلام عدل و انصاف کا دین ہے۔ وہ کسی انسان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی طاقت، دولت، عہدے، علم، خاندان یا اقتدار کے نشے میں دوسروں کے حقوق پامال کرے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
ترجمہ: بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
(سورۃ النحل: 90)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عدل اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، جبکہ ظلم و سرکشی اس کی نافرمانی ہے۔

آئیے! قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں ظلم کے خطرناک نقصانات کا مطالعہ کرتے ہیں۔


1۔ ظلم اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے
ظلم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس کی ناراضی کے خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔
(سورۃ آل عمران: 57)
یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔
جب انسان کسی پر ظلم کرتا ہے تو وہ صرف ایک انسان کے حق پر حملہ نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکمِ عدل کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے۔
مثلاً:
والدین کا اولاد پر ناحق ظلم کرنا۔
شوہر کا بیوی کے حقوق پامال کرنا۔
بیوی کا شوہر کے جائز حقوق سے ناحق انکار کرنا۔
مال دار کا غریب کا حق دبانا۔
حاکم کا اپنی رعایا پر زیادتی کرنا۔
استاد کا طالب علم پر ظلم کرنا۔
کسی شخص کی عزت کو جھوٹے الزامات کے ذریعے نقصان پہنچانا۔
یہ تمام صورتیں اپنی نوعیت اور تفصیلات کے اعتبار سے ظلم میں داخل ہوسکتی ہیں۔
سبق: کسی انسان کو اپنے عہدے، طاقت یا تعلقات پر غرور کرکے دوسروں کے حقوق پامال نہیں کرنے چاہییں۔


2۔ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2578۔
یہ حدیث ظلم کے خطرناک انجام کو واضح کرتی ہے۔
دنیا میں ظالم اپنے مال، عہدے، طاقت اور تعلقات کے ذریعے مظلوم کو دبا سکتا ہے، لیکن قیامت کے دن دنیاوی اقتدار اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔
دنیا میں ظالم کے لیے ممکن ہے کہ وہ عدالت سے بچ جائے، گواہوں کو خرید لے یا اپنے جرم کو چھپا لے، لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ
ترجمہ: اور ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں۔
(سورۃ ابراہیم: 42)
غور طلب بات
ظلم کا شکار ہونے والا شخص اگر دنیا میں اپنا حق حاصل نہ کرسکے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں مکمل انصاف ہوگا۔


3۔ ظلم اللہ تعالیٰ کی لعنت کا سبب بن سکتا ہے
اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا انکار کرنے اور اس کی راہ سے روکنے والوں کے متعلق فرمایا:
أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
ترجمہ: خبردار! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
(سورۃ ہود: 18)
اس آیت میں ظالموں کے لیے سخت وعید بیان ہوئی ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اس کی آیات کے متعلق باطل دعوے کرتے ہیں۔
اس سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ ظلم اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی کا سبب ہے۔
البتہ کسی خاص فرد کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہوچکی ہے، ایک الگ معاملہ ہے جس میں شرعی حدود اور تفصیلات کا لحاظ ضروری ہے۔
سبق: انسان کو ظلم کے ہر راستے سے بچنا چاہیے اور اگر اس سے کسی کا حق ضائع ہوا ہو تو اس کی تلافی کرنی چاہیے۔


4۔ ظلم معاشروں کی تباہی کا سبب بنتا ہے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے بار بار ان کے ظلم کا تذکرہ کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ
ترجمہ: اور ہم نے کتنی ہی ایسی بستیوں کو ہلاک کردیا جو ظالم تھیں، اور ان کے بعد دوسری قوموں کو پیدا کیا۔
(سورۃ الأنبیاء: 11)
اسی طرح فرمایا:
وَتِلْكَ الْقُرَىٰ أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَوْعِدًا
ترجمہ: اور یہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے اس وقت ہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا۔
(سورۃ الکہف: 59)
تاریخ کا سبق
جب کسی معاشرے میں:
انصاف ختم ہوجائے،
طاقت ور کمزوروں کو کچلنے لگیں،
رشوت اور بدعنوانی عام ہوجائے،
لوگوں کے حقوق پامال کیے جائیں،
حق بات کہنے والوں کو دبایا جائے،
تو وہ معاشرہ اندرونی طور پر کمزور ہونے لگتا ہے۔
قرآن مجید کی مذکورہ آیات بتاتی ہیں کہ سابقہ قوموں کا ظلم ان کی تباہی کے اسباب میں شامل تھا۔
تاہم کسی موجودہ حادثے یا مصیبت کو بلا دلیل کسی خاص گناہ کی سزا قرار دینا درست نہیں، کیونکہ مصیبت کبھی آزمائش بھی ہوتی ہے۔


5۔ ظلم مظلوم کی دعا کا مستحق بناتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت نصیحت فرمائی:
وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
ترجمہ: مظلوم کی دعا سے بچنا، کیونکہ اس کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 1496؛ صحیح مسلم، حدیث: 19 میں بھی اس مفہوم کی روایت موجود ہے۔
یہ حدیث ظالموں کے لیے سخت تنبیہ ہے۔
مظلوم کے پاس بسا اوقات نہ مال ہوتا ہے، نہ طاقت، نہ کوئی مضبوط سہارا۔ لیکن وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کی فریاد سنتا ہے۔
ایک اہم نصیحت
اگر کسی نے کسی کا مال دبایا ہو، کسی کمزور کو ناحق سزا دی ہو، کسی کی عزت پامال کی ہو یا کسی کا جائز حق روکا ہو تو اسے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ مظلوم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
اسے فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہیے اور جس شخص پر ظلم کیا ہے، اس کا حق واپس کرنا چاہیے۔
یاد رکھیے: مظلوم کی دعا سے متعلق یہ وعید ہمیں ظلم سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے؛ کسی خاص دعا کے نتیجے یا وقت کے متعلق اپنی طرف سے قطعی پیش گوئی نہیں کرنی چاہیے۔


6۔ ظلم قیامت کے دن نیکیوں سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے
یہ ظلم کے سب سے خطرناک نتائج میں سے ایک ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا:
أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟
ترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار اور سامان نہ ہو۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔ اگر اس کے ذمے حقوق باقی رہ گئے اور نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2581۔
اس حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق
صرف عبادات کی کثرت کافی نہیں؛ لوگوں کے حقوق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
گالی، تہمت، ناحق مال کھانا اور جسمانی زیادتی قیامت کے دن سخت نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
مظلوموں کے حقوق ادا کیے بغیر اپنی نیکیوں پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔
دنیا ہی میں لوگوں سے معافی مانگنا اور ان کے حقوق واپس کرنا ضروری ہے۔
غور کیجیے!
ایک شخص سالوں تک نماز پڑھتا رہا، روزے رکھتا رہا اور صدقہ کرتا رہا، لیکن اپنی زبان اور ہاتھ سے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا رہا۔ اگر اس نے ان حقوق کی تلافی نہ کی تو قیامت کے دن اس کی نیکیاں دوسروں کو دی جاسکتی ہیں۔
اس لیے مسلمان کو عبادت کے ساتھ اپنے اخلاق اور معاملات کی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔


7۔ ظلم مال و دولت میں بے برکتی کا سبب بن سکتا ہے
اسلام میں مال کمانے اور استعمال کرنے کے لیے عدل و انصاف کی پابندی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ
ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔
(سورۃ البقرۃ: 188)
اس آیت میں ناجائز طریقے سے دوسروں کا مال کھانے سے منع کیا گیا ہے۔
اس میں رشوت، دھوکا دہی، ناحق قبضہ اور دوسرے ناجائز مالی معاملات کی ممانعت کی دلیل موجود ہے، اگرچہ ہر معاملے کی تفصیلات اس کی نوعیت کے مطابق دیکھی جائیں گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
ترجمہ: جس شخص نے قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق ناحق لے لیا، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کردی اور اس پر جنت حرام کردی۔
ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ چیز معمولی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگرچہ پیلو کے درخت کی ایک ٹہنی ہی ہو۔
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 137۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ کسی کا حق معمولی سمجھ کر دبانا بھی انتہائی خطرناک ہے۔
عملی مثالیں
وراثت میں بہنوں یا دوسرے وارثوں کا حق کھانا۔
مزدور کی اجرت روکنا۔
کاروبار میں دھوکا دینا۔
قرض واپس کرنے کی قدرت کے باوجود ناحق ٹال مٹول کرنا۔
یتیم کا مال ناجائز طور پر استعمال کرنا۔
ایسے تمام معاملات سے بچنا ضروری ہے۔
وضاحت: کسی خاص شخص کی مالی تنگی کو لازماً ظلم کی سزا کہنا درست نہیں۔ البتہ ناجائز کمائی اور حقوق کی پامالی انسان کو شرعی گرفت اور مال کے حقیقی فائدے و برکت سے محرومی کے خطرے میں ڈالتی ہے۔


8۔ ظلم خاندانوں میں نفرت اور انتشار پیدا کرتا ہے
اسلام نے خاندانی تعلقات کو محبت، رحمت، عدل اور حسنِ سلوک پر قائم کرنے کی تعلیم دی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ
ترجمہ: اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔
(سورۃ النساء: 19)
یہ حکم شوہروں کو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تعلیم دیتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام بیان کرکے مختلف وارثوں کے حقوق متعین فرمائے ہیں۔ (سورۃ النساء: 7، 11-12)
خاندانی ظلم کی چند صورتیں
شوہر کا بیوی کو ناحق مارنا یا اس کے حقوق ادا نہ کرنا۔
بیوی کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرنا۔
والدین کا اولاد کے درمیان ناحق جانبداری کرنا۔
بھائیوں کا بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا۔
خاندان کے طاقت ور افراد کا کمزور رشتہ داروں کا حق دبانا۔
کسی کی عزت کو جھوٹے الزامات کے ذریعے نقصان پہنچانا۔
ان رویوں کے نتیجے میں محبت کی جگہ نفرت، اعتماد کی جگہ بدگمانی اور صلہ رحمی کی جگہ قطع رحمی پیدا ہوسکتی ہے۔
اصلاح کا راستہ
خاندان کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، دوسرے کے حقوق ادا کرے اور اختلاف کی صورت میں عدل و انصاف کو اختیار کرے۔
خاندان کا بڑا ہونا یا مالی طور پر مضبوط ہونا کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسروں کے حقوق پامال کرے۔


9۔ ظلم معاشرے میں فساد اور بدامنی پیدا کرتا ہے
جب لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام نہیں کرتے تو معاشرے میں بے اعتمادی، دشمنی، انتقام اور فساد جنم لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
ترجمہ: اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(سورۃ القصص: 77)
ظلم اور فساد ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں طاقت ور لوگ کمزوروں کو ان کے حقوق سے محروم کرتے ہیں تو اجتماعی زندگی کا امن متاثر ہوتا ہے۔
مثلاً:
رشوت عدالتی اور انتظامی انصاف کو نقصان پہنچاتی ہے۔
دھوکا کاروباری اعتماد ختم کرتا ہے۔
جھوٹی تہمتیں معاشرتی تعلقات خراب کرتی ہیں۔
ناحق تشدد انتقام اور دشمنی کو بڑھا سکتا ہے۔
عوامی حقوق کی پامالی معاشرتی بے چینی پیدا کرتی ہے۔
اسلام ان تمام رویوں کی اصلاح چاہتا ہے۔
سبق: ایک صالح معاشرہ اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب ہر فرد اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔


10۔ ظلم آخرت کے عذاب کا سبب بن سکتا ہے
قرآن مجید میں ظالموں کے لیے آخرت کی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ
ترجمہ: اور کاش تم دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو۔
(سورۃ الأنعام: 93)
یہ آیت ان ظالموں کے بارے میں ہے جن کا سیاق میں ذکر ہے، خصوصاً وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور اس کی آیات کے مقابلے میں تکبر کرتے ہیں۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
ترجمہ: بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔
(سورۃ الأنعام: 21)
دنیا میں کسی ظالم کو وقتی کامیابی حاصل ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی کامیاب ہو۔
حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے، اس کے احکام کی پابندی کرے اور قیامت کے دن اس کی گرفت سے محفوظ رہے۔


ظلم کی مختلف اقسام
ظلم کے نقصانات کو سمجھنے کے لیے اس کی بنیادی اقسام جاننا بھی ضروری ہے۔

پہلی قسم: اللہ تعالیٰ کے حق میں ظلم
اللہ تعالیٰ کے حق میں سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
ترجمہ: بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
(سورۃ لقمان: 13)
اس آیت میں حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت بیان ہوئی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

دوسری قسم: انسان کا اپنے نفس پر ظلم
گناہوں کے ذریعے انسان اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے خطرے میں ڈالتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا
ترجمہ: اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا پائے گا۔
(سورۃ النساء: 110)
یہ آیت گناہ کے بعد توبہ اور استغفار کی اہمیت واضح کرتی ہے۔

تیسری قسم: بندوں پر ظلم
اس میں لوگوں کی جان، مال، عزت اور حقوق پر ناحق دست درازی شامل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حدیثِ قدسی میں ارشاد فرمایا:
يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَىٰ نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا
ترجمہ: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2577۔
یہ حدیث ظلم کی حرمت پر نہایت واضح دلیل ہے۔


ظالم کے لیے توبہ اور اصلاح کا راستہ
اگر کسی شخص سے ظلم سرزد ہوگیا ہو تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فوراً اصلاح کی طرف آنا چاہیے۔

1۔ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے
اپنے گناہ کا اعتراف کرے، اس پر نادم ہو اور دوبارہ ظلم نہ کرنے کا عزم کرے۔

2۔ مظلوم کا حق واپس کرے
اگر کسی کا مال لیا ہے تو اسے واپس کرے۔ اگر کسی کا کوئی دوسرا حق پامال کیا ہے تو اس کی تلافی کی کوشش کرے۔

3۔ جہاں مناسب ہو، معافی مانگے
اگر کسی کو نقصان پہنچایا ہے تو مناسب طریقے سے اس سے معافی مانگے اور اپنے رویے کی اصلاح کرے۔

4۔ ظلم کے تمام اسباب ترک کرے
طاقت، غصہ، لالچ، حسد یا تکبر اگر ظلم کا سبب بن رہے ہوں تو ان کی اصلاح کرے۔

5۔ نیکیوں میں اضافہ کرے
نماز، صدقہ، استغفار اور دوسرے نیک اعمال کا اہتمام کرے، لیکن یہ نہ سمجھے کہ نفلی عبادات ادا کرنے سے بندوں کے حقوق خود بخود ساقط ہوجاتے ہیں۔

6۔ مظلوم کی مدد کرے
اگر اس کے ظلم سے کسی کو نقصان پہنچا ہے تو جہاں ممکن ہو، اس نقصان کو دور کرنے کی کوشش کرے۔


اختتامی نصیحت
محترم قارئین!
ظلم ایسا گناہ ہے جس کے اثرات صرف ظالم تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس سے مظلوم کی زندگی، خاندان کا سکون اور معاشرے کا امن بھی متاثر ہوتا ہے۔
دنیا میں طاقت ور شخص اپنے مخالف کو دبا سکتا ہے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے علم اور عدل سے نہیں بچ سکتا۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں۔ اگر ہم کسی کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں تو فوراً رک جائیں۔ اگر کسی کا حق دبایا ہے تو اسے واپس کریں۔ اگر کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو اس کی تلافی کریں۔ اگر ہمارے اختیار میں کوئی کمزور ہے تو اس کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ
ترجمہ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2564۔
یہی اسلامی اخوت کی حقیقی روح ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کی جان، مال، عزت اور حقوق کا احترام کرے۔
دعا
اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الظُّلْمِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَظْلِمَ أَحَدًا أَوْ نُظْلَمَ، وَأَصْلِحْ قُلُوبَنَا وَأَعْمَالَنَا، وَأَدِّ عَنَّا حُقُوقَ عِبَادِكَ۔
ترجمہ: اے اللہ! ہم ظلم سے تیری پناہ مانگتے ہیں، اور اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم کسی پر ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دلوں اور اعمال کی اصلاح فرما، اور ہمیں اپنے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین!
 
Top