• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبد العزيز بن ريس الريس کے باطل افکار پر کبار سلفی علماء کی تنبیہات

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
837
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
عبد العزيز بن ريس الريس کے باطل افکار پر کبار سلفی علماء کی تنبیہات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه ومن والاه، أما بعد:

موجودہ دور میں بعض مداخلہ عبد العزيز بن ريس الريس کو سلفیت کا نمائندہ بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس شخص کے افکار و نظریات کا متعدد سلفی علماء نے سختی سے رد کیا ہے حتی کہ جن علماء کو اس کے پیروکار اور حامی بھی مرجع علم تسلیم کرتے ہیں، انہی علماء نے واضح انداز میں عبد العزيز الريس کو مرجئی، کذاب، جاہل اور گمراہ قرار دے کر اس سے تحذیر فرمائی ہے۔

شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ نے اپنی ایک گفتگو میں عبد العزيز الريس کے متعلق کبار علماء کی بعض ایسی شہادتیں نقل کی ہیں جو ہر انصاف پسند شخص کے لیے کافی ہیں کہ وہ اس شخص کی حقیقت کو پہچان سکے کہ عبد العزيز الريس جہمی کی گمراہی کوئی پوشیدہ مسئلہ نہیں۔ شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ نے صرف چند علماء کی گواہی ذکر کی، ورنہ اس کی ضلالت کے بارے میں اہل علم کے اقوال اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

چنانچہ سعودیہ کے سابقہ مفتی اعظم اور ہیئت کبار العلماء کے رئيس شيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن محمد آل الشيخ نے عبد العزيز الريس کے متعلق فرمایا: "عنده إرجاء شديد" یعنی اس کے اندر شدید ارجاء موجود ہے۔

پھر صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا: "فيه إرجاء، ما يصلح" یعنی اس میں ارجاء ہے، یہ درست آدمی نہیں۔ نیز فرمایا: "هذا إرجائي، ما فيه فود ولا منه فائدة!" یہ مرجئ ہے، نہ اس میں کوئی فائدہ ہے اور نہ اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اور مزید فرمایا: "كذاب، كذاب" یہ جھوٹا ہے، جھوٹا ہے۔ نیز اسے "من الضلال" اور "الجهلة المغرورين" میں شمار کیا یعنی یہ گمراہ لوگوں میں سے ہے، جاہل اور دھوکے میں پڑا ہوا ہے۔

اسی طرح سعودیہ کے موجودہ مفتی اعظم شیخ صالح الفوزان نے بھی عبد العزيز الريس کے متعلق کوئی مبہم کلام نہیں کیا، بلکہ صاف الفاظ میں فرمایا: "اتركوه هذا من المتعالمين، اتركوه" اسے چھوڑ دو، یہ ان لوگوں میں سے ہے جو علم کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ اہل علم میں سے نہیں۔ اور فرمایا: "اتركه هذا مرجىء اتركه لا تعتبره شيئًا" اسے چھوڑ دو، یہ مرجئی ہے، اسے چھوڑ دو، اسے کسی شمار میں نہ لاؤ۔

اور شیخ صالح الفوزان نے اس کے بارے میں "كذاب" کا لفظ بھی استعمال کیا، جبکہ اس کی کتابوں کو "غثاء، وجهل" یعنی فضول مواد اور جہالت قرار دیا، بلکہ بعض کتابوں کے بارے میں فرمایا:"كتاب إرجاء" یہ ارجاء کی کتاب ہے۔

مزید برآں شیخ عبد اللہ بن محمد سعد آل خنين جو اللجنۃ الدائمۃ للإفتاء کے رکن ہیں، ان کا فیصلہ بھی نہایت صریح ہے۔ انہوں نے عبد العزيز الريس کے متعلق فرمایا: "كل شروح هذا الرجل اطرحها لا تقرأها، لأنه ماشي على منهج الإرجاء، والإرجاء المنفرد" یعنی اس شخص کی تمام شرحوں کو پھینک دو، انہیں مت پڑھو، کیونکہ یہ ارجاء کے منہج پر چلنے والا ہے بلکہ منفرد قسم کی ارجاء کا حامل ہے۔

[مداخلتي في الرد على الريس تعليقا وتغليقا للشيخ تركي بن مبارك البنعلي، ص : ٣]

8155.jpg

8153.jpg


حقیقت یہ ہے کہ عبد العزيز الريس ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے حکمرانوں کی اندھی اطاعت، طواغیت کے لیے عذر تراشی اور ایمان کے مسائل میں مرجئہ کے اصولوں کو فروغ دے کر سلفی منہج کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ کبار سلفی علماء نے بار بار اس سے خبردار کیا اور اس کے افکار کو گمراہ کن قرار دیا۔

لہٰذا جو دیسی مداخلہ آج بھی عبد العزيز الريس کو منہج سلف کا علم بردار ثابت کرنے یا اس کی مرجئانہ فکر کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ پہلے ان کبار سلفی علماء کے واضح اور صریح اقوال کا جواب دیں جنہوں نے اسے مرجئی، گمراہ، جھوٹا اور ارجاء کے منہج کا حامل قرار دیا ہے۔ محض حقائق کو چھپا کر اسے سلفیت کا نمائندہ ثابت نہیں کیا جا سکتا نہ ہی سعودی حکومت کی اندھ بھکتی کرنے سے مرجئانہ افکار سلفی منہج بن جاتے ہیں۔

عبد العزيز الريس جیسے مرجئہ اس دور میں منہج سلف کے نام کا سہارا لے کر اپنے باطل افکار کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن علماء کرام ان کے باطل کو بے نقاب کرتے رہے ہیں، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ارجاء کوئی معمولی لغزش نہیں بلکہ اہل سنت کے نزدیک ایک خطرناک بدعت ہے جس نے دین کے بنیادی مسائل، خصوصا ایمان، کفر اور ولاء و براء کے باب میں امت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لہٰذا جو شخص اس فکر کا داعی بنے یا اس کے اصولوں کا دفاع کرے، اس سے خبردار کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

والله المستعان، وعليه التكلان۔
 
Top