- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
عبقریت بلا تقویٰ
اِس ذہانت سے کندذہنی اچھی!
امام ذھبی ؒ نے اپنی شاندار کتاب "سِيَر اَعلامِ النُبَلاء" میں ایک نہایت شاطرزندیق ابوالحسن الراوندی کا خاکہ تحریر کیا ہے جو پہلے عقلیت پسندی اور اس کے بعد اس سے بھی بدتر الحاد کا شکار ہوا۔ الراوندی کے خلاف بہت سی روایات اور واقعات تحریر کرنے کے بعد اور اسے اپنے دور کا سب سے ذہین دانشور ثابت کرنے کے بعد امام صاحب حاصلِ کلام کے طور پریوں تبصرہ کرتے ہیں کہ دراصل اس شخص کے پاس عقل کی نسبت علم زیادہ تھا جبکہ اللہ کے ہاں عقل بلا ایمان ملعون ہے جبکہ تقویٰ بلا ذہانت و فطانت مقبول ٹھہرتا ہے۔
گویا کہ کوئی انسان خواہ کتنا ہی عبقری و ذہین کیوں نہ ہو اگر اس کی ذہانت اسے قرآن و سنت کے دائرے سے باہر نکلنے پر اکسائے گی تو وہ ایمانی لحاظ سے گھاٹے میں رہے گا ۔ کیونکہ عقل بلا ایمان باللہ کا ٹھکانہ صرف اور صرف نارِ جہنم ہی ہے ۔ اپنے ذاتی خیالات و آرا کو خواہ وہ کتنے ہی مدلل و مسحور کن کیوں نہ دیکھ رہے ہوں ، قران و سنت کے احکامات پر مقدم جاننا اس آفاقی مذہب کی روح کے منافی ہیں جس کا نام ہی" اسلام" یعنی رضائے الہی پر سر تسلیم خم کرنا ہے ۔
مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے جب دورِ حاضر کے نام نہاد دانشور لفظ اسلام کے سب سے ٹھیٹھ مطلب 'اطاعت گزاری ' سے صرفِ نظر کرکے اس کا مطلب ' صرف سلامتی اور امن و آشتی کا دین ' ہونا بتاتے ہیں ۔ اسی ایک فعل سے ان کی ذہنیت اور اپنے مفاد کے لیے کلام اللہ میں ہیر پھیر کرنے کی عادت کا پتہ چلتا ہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ پھر یہ ' دانشواران' اپنی اسلام پسندی کے پرچار کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین پر شدت پسندی ، انسان دشمنی اور بے رحمی کا الزام لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ حالانکہ جس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے خود کو غفور و رحیم کہا ہے اسی میں اپنے کلام کا مطلب بدلنے والوں پر لعنت بھی فرمائی ہے ۔
امام ذھبیؒ جیسے علمائے سلف نے اپنی تحاریر میں قران و سنت کی تشریح کرتے ہوئے کبھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا کیونکہ ان کے نزدیک ذرا سی بے احتیاطی انہیں روزِ قیامت ذلیل و رسوا کرواسکتی تھی ۔ کاش کہ ہمارے آج کے دانشور وں کو بھی اس بات کی نزاکت کا احساس ہوتا۔
بلاشبہ اسلام علم و استدلال ، جستجو اور غور و خوض کی حوصلہ افزائی کرتا اور جہالت و دقیانوسیت کو نا پسند کرتا ہے ۔ تاہم ایسی سادہ لوحی اور بھولپن جس میں تقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ، نفس قابو میں رہے اور زبان اللہ کےذکر سے تر ہو، ایسی عبقریت سے ہزار درجے بہتر ہے جو انسان کو اسکے رب کی پہچان نہ کروا پائے۔ کیا خوش نصیب تھیں ہمارے پرانے وقتوں کی وہ بوڑھی مائیں جو بہت زیادہ علم نہ رکھنے کے باوجود خلوصِ نیت کے ساتھ توحید و عبادت پر کاربند رہیں۔
یہ مسئلہ حقیقتاً نہایت سنگین ہے ۔ آج کے پُرفتن دور میں کوئی بھی شخص بآسانی اپنی ذہانت کے زعم میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں کام کرنے والے مبلغین جن کی اکثریت نے کسی ثقہ عالم سے علم حاصل نہیں کیا ۔ اور وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اسلام کی تشریع و تبلیغ میں مشغول ہیں ۔ یہ لوگ چہار جانب سے غیر مسلموں میں گھرے ہوئے ہیں جو ان کے آگے نت نئےسوالات اٹھاتے، ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں پھر نہلے پر دہلا یہ کہ ان مبلغین کی اکثریت کسی نہ کسی مغربی یونیورسٹی کے شعبہ سائنس ، ادیان ، یا اسلامیات سے وابستہ ہے۔ عوام الناس سے خطاب کرنے کی خواہش ، میڈیا کا دباؤ ، احباب کی آراء و تبصرے ، عام سیکولر مزاج رکھنے والی عوام کی نکتہ چینیاں ، اکثر ہم لوگوں کو بڑے خطر ناک ، اہلِ سلف کی رائے سے مختلف اور بڑی حد تک ملحدانہ بیانات دینے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ اس فتنہ کا مقابلہ آسان ہے ۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ ہم اس بات کو فتنہ سمجھیں تو سہی!
اگر آپ بصارت کے ساتھ بصیرت بھی کھو بیٹھیں ، خود فریبی میں مبتلا ہو کر رضائے الہی پر دوستوں رشتہ داروں کی خوشنودی کو فوقیت دیں تو پھر تو وحدتِ ادیان کی بات کرنا ، حجاب کی فرضیت سے انکار کرنا ، اجماعِ امت والے معاملات میں شکوک پیدا کرنا ، ہم جنس پرستی کے کھلے عام مذمت سے اعتراض برتنا ... کچھ بھی تو مشکل نہیں رہتا!!! ایسے گمراہ شدہ و گمراہ کن انسان کے لیے قرآن مجید میں کوئی ہدایت نہیں رکھی جاتی ۔
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا ( سورہ بنی اسرائیل ۸۲)
یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی ۔
چنانچہ میں پھر اس بات کو دہراؤں گا جو آج سے چند روز قبل کہ چکا ہو ں کہ مبلغین کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ ہمہ وقت اپنے سے سینئر اور ثقہ علمائے کرام کے ساتھ رابطے میں رہیں ۔ کیونکہ انہیں ہماری طرح معاشرتی دباو کا سامنا نہیں اور نہ ہی وہ ہمارے ہر بیان کی تصدیق و توثیق کرنے پر محور ہیں ۔ اپنے آپ کو صراطِ مستقیم پر رکھنے کا یہ واحد راستہ ہے ۔
آج ہم سے کوئی بھی اس فتنے سے محفوظ نہیں ۔ بہت سے اس میں پڑ چکے ہیں ، اور بہت سوں کے پڑنے کا اندیشہ ہے ۔طارق فاتح، مجید نواز، امینہ ودود، اسامہ حسن، عنایت بینگلو ماضی میں اس کا شکار ہو چکے ہیں ، اور آج بھی ہمارے بہت سے ہر دلعزیز داعی اس فتنے کے گرداب میں پھنسنے اور نکلنے کی لیے ہاتھ پاوں مارتے نظر آرہے ہیں ۔
ہمیں چاہیے کی صورتحال کی سنگینی کا کو محسوس کریں ، اللہ سے گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگیں کہ وہ ہمیں اس مصیبت سے نکالے اور عام عوام کے لیے فتنہ نہ بنائے ۔کیونکہ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ اور اگر اسی حالتِ شک میں موت آگئی تو یہ آگ تا ابد مقدر بھی بن سکتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے علمائے کرام اور عام عوام سب کو اس فتنے سے محفوظ رکھے ۔یہ اقوام ِ مغرب کی جانب سے نظریات و اعتقادات پر حملہ کا ماحصل ہے ۔ اللہ ہمیں ان کے مقابلے میں ثابت قدم رکھے اور دِین پر وہ خالص اعتقاد عطا کرے جو کسی زمانے میں ہمارے آباء کا ہوا کرتا تھا ۔ آمین!
شیخ نعمت اللہ
اردو استفادہ عافیہ زینب
بشکریہ