ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 938
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
عدت کے دوران نکاح کا پیغام دینے اور غیر محرم سے گفتگو کرنے کا حکم
فتاوى عبر الأثير (( 31 ))
السؤال: امرأة معتدة ولها ثلاثة أولاد، وهناك رجل يتكلم معها بشأن زواجه بها، وذلك لعدم وجود محرم، فهل يأثم الرجل بكلامه معها؟ وهل عليها شيء؟ مع العلم أن إحدى النساء قالت لها إن هذا الرجل صار محرماً لك لأنك تكلمت معه، فهل هذا الكلام صحيح؟
سوال: ایک عورت عدت گزار رہی ہے اور اس کے تین بچے ہیں۔ ایک مرد اس سے اس بارے میں گفتگو کرتا ہے کہ وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اس عورت کا کوئی محرم موجود نہیں۔ کیا اس مرد کا عورت سے اس طرح گفتگو کرنا گناہ ہے؟ اور کیا اس عورت پر بھی کوئی گناہ ہوگا؟ واضح رہے کہ ایک عورت نے اس بیوہ سے کہا ہے کہ چونکہ تم نے اس مرد سے گفتگو کی ہے، اس لیے اب وہ تمہارا محرم بن گیا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
الجواب: هذا الكلام ليس بصحيح، بل هو باطل، وهو تقول على الله تعالى بغير علم، قال الله تعالى: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾.
جواب: یہ بات درست نہیں، بلکہ باطل ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف بغیر علم کے بات منسوب کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔ بے شک کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘
وأما ما فعله هذا الرجل المسؤول عنه فهو محرم من وجهين:
جہاں تک اس مرد کے عمل کا تعلق ہے جس کے بارے میں سوال کیا گیا ہے، تو اس کا یہ عمل دو وجوہ سے حرام ہے۔
الوجه الأول: أنه صرح بخطبتها في أثناء عدتها، وهذا مخالف لكلام الله تعالى: ﴿وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾.
پہلی وجہ: اس مرد نے عورت کی عدت کے دوران اسے واضح طور پر نکاح کا پیغام دیا، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف ہے: ’’اور نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرو، یہاں تک کہ مقررہ مدت پوری ہو جائے۔‘‘
والوجه الثاني: أنه يكلمها بغير واسطة، فالأصل أن لم يكن لها محرم يخطبها منه فعليه حينها أن يرسل امرأة من محارمه تخطبها له متى ما انتهت عدتها، ويتولى القاضي تزويجها إن لم يكن لها ولي… والله أعلم.
دوسری وجہ: وہ مرد کسی واسطے کے بغیر براہ راست اس عورت سے گفتگو کرتا ہے۔ اصولی طور پر، اگر عورت کا کوئی محرم موجود نہ ہو جس کے ذریعے وہ نکاح کا پیغام دے سکے، تو اسے چاہیے کہ اپنے محارم میں سے کسی عورت کو بھیجے، جو عورت کی عدت ختم ہونے کے بعد اس کے لیے نکاح کا پیغام دے۔ اور اگر اس عورت کا کوئی ولی نہ ہو تو قاضی اس کے نکاح کا انتظام کرے گا۔
واللہ اعلم بالصواب۔