ابوزینب
رکن
- شمولیت
- جولائی 25، 2013
- پیغامات
- 445
- ری ایکشن اسکور
- 339
- پوائنٹ
- 65
عرض مؤلف
زیرِ نظر کتاب '' مرجئۃ العصر کی تلبیسات کا علمی محاکمہ'' جماعۃ الدعوۃ کے مفتی مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کی مشہور تقریر '' فتنۂ تکفیر '' بمقام سیالکوٹ اور''سوال و جواب کی نشست''بمقام مرکز طیبہ مریدکے کا علمی محاکمہ ، رد اور جواب ہے۔ مفتی صاحب نے اپنی اس تقریر اور سوال و جواب کی نشست میں پاکستان کے طاغوتی، قبوری اور حربی کافروں کے فرنٹ لائن اتحادی پاکستانی حکمرانوں کا تلبیس اور تدلیس کے ساتھ دفاع کرتے ہوئے القاعدہ اور طالبان کے مجاہدین کے خلاف خوب زہریلا پراپیگنڈہ کیا ہے اور ان کو تکفیری اور خارجی ثابت کرنے کے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے، حتی کہ بعض نصوص کے ترجموں میں تحریف کی جسارت بھی کی ہے۔[1]
ہم اس کو مفتی صاحب کی بد نصیبی کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ ان کی تقاریر میں پاکستان کے طاغوتی، پوجی جانے والی قبروں کے مجاور، شرک کے اڈوں کے محافظ ، شیعیت اور رافضیت کے علمبردار، حقِّ تشریع اور قانون سازی جیسے الٰہی اختیارات رکھنے والے، اللہ کی شریعت کو معطل و تبدیل کرکے عباد اور بلاد پر انگریزی اور وضعی قوانین نافذ کرنے والے، متعدد و متنوع نواقضِ اسلام کے مرتکب، عصرِ حاضر کی صلیبی جنگ میں صلیبیوں اور حربی کافروں کے صفِ اول کے اتحادی اور نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرنے والے مسلمانوں سے جنگ کرنے والے حکمرانوں کا رد نہ ہونے کے برابر ہے!![2] بلکہ مفتی صاحب نے ان حکمرانوں کے کفر و شرک اور ظلم و طغیان پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے.........جبکہ دوسری طرف القاعدہ اور طالبان کے مجاہدین کے خلاف جگہ جگہ تقریریں کرتے پھر رہے ہیں اور بزعم خود ''فتنہ''سے خبردار کرنے کے فرض سے عہدہ برآ ہونے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں.........گویا پاکستان میں باقی سارے فتنے نابود ہوچکے ہیں اورمحض القاعدہ اور طالبان کا ''فتنہ''باقی رہ گیا ہے.........![3]
ان حالات میں پاکستان کے ان طاغوتی، قبوری اور رافضی حکمرانوں کے لیے مفتی صاحب کی یہ تقریریں ایک نعمتِ غیر مترقبہ اور من و سلویٰ کی حیثیت رکھتی ہیں ! کیونکہ ارجاء حکمرانوں کا پسندیدہ دین ہے۔ وہ اس کے ذریعے اپنی دنیا کماتے ہیں اور اپنے دین کو ناکارہ کرتے ہیں۔
یہ کتاب، جواس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے، خالص کتاب وسنت اور علمائے سلف کے اقوال سے مزین ہے۔ اس میں حق کو آشکارا کیاگیا ہے ۔ فقہ الواقع پر خوب زور دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں کوئی مداہنت برتی گئی ہے نہ کسی کو خاطر میں لایا گیا ہے۔اس میں حق اور اہلِ حق کے معاملے میں پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا بھر پور رد کیاگیا ہے۔ حق کے معاملے میں کی جانی والی تلبیسات، تاویلات، تدلیسات اور اختراعات کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے۔والحمد للہ
اس کتاب میں اس حقیقت کی خوب ترجمانی کی گئی ہے کہ حق کا معیار افراد،ذاتی افکاروآراء، تنظیمیں اور جماعتیں نہیں بلکہ محض کتاب وسنت ہے۔ سیدنا علی کا قول ہے:
(اِنَّ الْحَقَّ لَا یُعْرَفُ بِالرِّجَالِ، اِعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَھْلَہٗ)
''بے شک حق شخصیتوں کے ذریعے سے نہیں پہچانا جاتا۔ حق کو پہچان، توحق والوں کو بھی پہچان لے گا۔''[4]
امام ابن حزم نے کیا خوب فرمایاہے:
"حق کے ساتھ اپنے دل میں کوئی وحشت اور گھبراہٹ محسوس نہ کرو،اس لیے کہ جس کے ساتھ حق ہے ،اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔اور اپنے مخالفین کی کثرتِ تعداد کی پرواہ مت کرو اورنہ یہ کہ ان کازمانہ قدیم ہے اور لوگوں کے نزدیک ان کا بڑا مقام ہے ۔پس حق ان سے تعداد میں بھی زیادہ ہے اور ہر ایک سے قدیم ہے ۔وہ سب سے زیادہ معزز اور محترم ہے اور تعظیم کے زیادہ لائق ہے۔"[5]
جماعۃ الدعوۃ میں بعض مخلص لوگ بھی ہیں، خصوصاً کارکنان کی سطح پر قربانیاں دینے والے جہادی نوجوان تو کافی تعداد میں موجود ہیں ۔ ہماری ان سب سے پُر خلوص گزارش ہے کہ جماعتی و تنظیمی تعصب اور جمود سے بالاترہو کر اس کتاب کا مطالعہ اور تحقیق کریں۔ اپنے علماء و مفتیان اور قائدین سے ان سوالوں کے جواب لیں اور طاغوت کے زیر سایہ چلنے والی جہادی تنظیموں کی بجائے ایسے مجاہدین کے ساتھ شامل ہو جائیں جن کا جہاد ایجنسیوں کی دست وبرد سے محفوظ ہو ،جن کے منصوبے طاغوتی ایجنسیوں کے دفاتر میں نہ طے پاتے ہوں اور جن کے جہاد کا اساسی مقصد اعلائے کلمۃ اللہ،شریعتِ محمدی کا نفاذ، کفر و شرک کا خاتمہ اور کفر پر مبنی نظام ہائے حکومت کی بربادی ہو۔ ایسے مجاہدین کے ساتھ شامل ہو جائیں جو کفر کی کسی مصنوعی سرحد کے پابند ہوں نہ وطنیت کے بت ہی کی پوجا کرتے ہوں، جو طاغوت سے قطعی بیزار ہوں اور اس کے وفادار اور تابع نہ ہوں، جو طاغوت کی آنکھوں کا تارا بننے کی بجائے طاغوت کی آنکھوں کا کانٹا بنے ہوئے ہوں اور ایسے مجاہدین ہوں جو اپنی دوستی اور دشمنی کا معیار اپنی تنظیم اور جماعت کی بجائے عقیدۂ توحید کو بناتے ہوں۔
نیز ہم مفتی صاحب سے بھی یہی گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہماری معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں اور اپنے ارجائی مذہب پر نظرِ ثانی فرماتے ہوئے اس سے اعلانیہ رجوع کریں۔خصوصاً ایمان و کفر کے مسئلے میں مرجئہ اور جہمیہ جیسے بدعتی اور گمراہ فرقوں کی موافقت کی بجائے اہل سنت اور سلف صالحین کے منہج کو اختیار کریں۔ نیز عقیدے اور ایمان و کفر کے باب میں علماء کے مرجوح اقوال اور اُن کی زلّات وخطاؤں کو اپنے ارجائی مذہب کے لیے دلیل مت بنائیں، اس لیے کہ سچا عالمِ ربانی وہ ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرنے والا اور حق کو قبول کرنے والا ہو، خواہ حق بتانے والا کوئی بھی ہو۔ جب اس کے سامنے قرآن و سنت پر مبنی دلائل و براہین پیش کیے جائیں تو اس کا علمی قد کاٹھ اس کے حق کو قبول کرنے میں مانع نہ ہو ۔ یہی ہمارے سلف صالحین کا وطیرہ رہا ہے ۔ امیر المؤمنین عمر بن خطابنے ابو موسیٰ اشعری کو ایک خط میں حق کی طرف رجوع کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا:
(لَایَمنَعُکَ قَضَاءٌ قَضَیتَہٗ بِالأَمسِ رَاجَعتَ فِیہِ نَفسَکَ وَھُدَیتَ فِیہِ لِرُشدِکَ أَن تُرَاجِعَ الحَقَّ ،فَاِنَّ الْحَقَّ قَدِیمٌ لَّا یُبْطِلُ الْحَقَّ شَيْئٌ ،وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَیْرٌ مِّنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ)
"تم نے کل جو فیصلہ کیا تھا،اگر(آج)اس میں نظرثانی کرلی اور صحیح بات کی طرف تمہاری راہنمائی ہوگئی تو وہ فیصلہ تمھیں حق کی طرف رجوع کرنے سے نہ روکے،اس لیے کہ بے شک حق قدیم ہے ۔ حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرسکتی۔ حق کی طرف رجوع کرلینا باطل میں جھگڑنے سے بہترہے۔''[6]
ہم یہاں مفتی صاحب کے سامنے حق کی طرف رجوع کرنے کا ایک واقعہ رکھتے ہیں،جلیل القدر امام مجتہد حافظ ابن حزم الاندلسی فرماتے ہیں:
"ایک مرتبہ میرا ایک آدمی سے کسی مسئلے میں مناظرہ ہوا۔اس آدمی کی زبان میں کچھ لکنت تھی جس کی وجہ سے میں اس پر غالب آگیا۔چنانچہ مجلس اس پر برخاست ہوئی کہ میں جیت گیا ہوں ۔جب میں اپنے گھر پہنچا تو اس مسئلے کے متعلق میرے دل میں ایک چیز کھٹکی ۔چنانچہ میں نے اسے بعض کتابوں میں تلاش کیا تو میں نے ایک ایسی صحیح دلیل کو پالیا جو کہ میری بات کا باطل ہونا اور میرے مخالف کی بات کا صحیح ہونا واضح کرتی تھی ۔اس مجلس میں ہمارا ایک ساتھی بھی میرے ساتھ شریک تھا ۔میں نے اسے یہ بات بتادی ۔پھر اس نے مجھے دیکھا کہ میں نے کتاب میں اس جگہ نشان لگادیاہے ۔وہ مجھے کہنے لگا :آپ کا کیا ارادہ ہے ؟میں نے کہا :میں اس آدمی کے پاس یہ کتاب لے کرجانا چاہتا ہوں اور اسے بتانا چاہتا ہوں کہ وہ حق پر ہے اور میں باطل پر ہوں ،اور میں اپنی اس بات سے رجوع کرتا ہوں۔وہ میری یہ بات سن کر حیران اور ششدر رہ گیا اور مجھے کہنے لگا :آپ اس بات کو اپنے لیے کیسے گوارا کرسکتے ہیں؟!میں نے اسے کہا:جی ہاں!اگر میرے لیے اسی وقت یہ ممکن ہو تو میں اسے کل تک بھی مؤخر نہ کروں۔[7]
ہم نے اس کتاب کا عربی نام اَلْاِنْتِصَارُ لِلْمُجَاھِدِینَ وَالرَّدُّ عَلٰی مَنْ جَادَلَ عَنِ الطَّوَاغِیتِ وَالْمُرْتَدِّینَ الظَّالِمِین رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس کاوش کو احقاقِ حق اور ابطال ِ باطل کااہم ذریعہ بنائے ۔ ہماری غلطیوں کو معاف فرما کرہمیں طائفہ منصورہ اور سچے مجاہدین کی صف میں شامل فرمائے اور مجاہدین ِاسلام کو کفار و مرتدین پر فتح و کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین یَا رَبَّ الْعَالَمِین!
خادم المجاہدین
محمد خبیب صدیقی
[1] دیکھیے صفحہ نمبر :74,73[2] مفتی صاحب آگے اشکال :5کے تحت ایک حدیث لائے ہیں جو سراسر حکمرانوں کے خلاف جاتی ہے ،مگر انھوں نے اسے بھی اُلٹا مجاہدین کے خلاف فِٹ کرنے کی جسارت کی ہے اور حکمرانوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
[3] یہ سلسلہ رکنے اور تھمنے کے بجائے دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ نیز مفتی صاحب کی طرح جماعۃ الدعوۃ کے باقی رہنما اور ذمہ داران بھی یہی بھیانک کردار ادا کررہے ہیں۔ ایک طرف تو وہ اپنی تقریروں اور جلسوں میں مجاہدین کے خلاف خوب زبان درازی اور الزام تراشی کررہے ہیں۔ عوام کو ان سے بد ظن اور متنفر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ دوسری طرف کبار علماء سے کمرہ بند ملاقاتیں کر کے یا علماء اور طلباء وغیرہ کے کنونشن منعقد کرکے ان کو اپنا ہم خیال بنانے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے جماعۃ الدعوۃ نے مرید کے میں علماء کنونشن اور تقریب بخاری کا انعقاد کیا۔ اس میں مفتی مبشر ربانی صاحب نے حق کی طرف رجوع کرنے کی بجائے دوبارہ پھر''فتنہ تکفیر ''کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے القاعدہ اور طالبان کے مجاہدین کے خلاف خوب زہر اگلاکیونکہ ان کو یہی مشن سونپا گیا ہے۔ ان کی باتوں کا ردآپ اس کتاب میں پڑھ لیں گے۔ ان کے علاوہ دیگر مقررین بالخصوص حافظ سعیداور عبد الرحمان مکی نے بھی اپنی تقریروں میں فتنہ تکفیر کا تذکرہ کیا۔ اسی طرح حافظ عبد السلام بھٹوی صاحب سے بھی نہیں رہا گیا۔ انھوں نے صحیح بخاری کی آخری حدیث پر درس دیتے دیتے تکفیریوں اور خوارج(دراصل القاعدہ اور طالبان کے مجاہدین) پر تیر برسانے شروع کردیے۔ وہ ان پر الزام تراشی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے کہ ''ان کے نزدیک حکمران اور پاکستانی عوام سب کافر ہیں۔''(جماعۃ الدعوۃ کا مجلہ الحرمین، شعبان/1432جولائی 2011 ء) حالانکہ مجاہدین نے کبھی اس طرح پاکستانی عوام کو کافر قرار نہیں دیا۔ وہ کسی کو کافر کہتے بھی ہیں تو دلائل کی روشنی میں اس کے متعلق پوری وضاحت کرتے ہیں۔جماعت الدعوۃ کے ذمہ داران اور رہنماؤں کا یہی وہ مذموم کردار ہے جس نے ہمیں ان کے خلاف قلم اٹھانے اور حقائق کا پردہ چاک کرنے پر مجبور کیا ہے تاکہ ہم انھیں آئینہ دکھائیں اور لوگوں کو ان کے پروپیگنڈے سے خبردار کریں ؎
نہ تم ایذا ہمیں دیتے نہ ہم رسوا تمھیں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
[4] تفسیر القرطبي، البقرة42:2.
[5] التقریب لحدّ المنطق،ص:193,194، دوسرا نسخہ ،ص:598.
[6] سنن الدارقطنی :202/4،حدیث:4426،أخبار القضاة لمحمد بن خلف بن حیان:72,71/1،بحوالہ تحقیقی مقالات:150/2از حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ
[7] التقریب لحدّ المنطق، والمدخل الیہ بالألفاظ العالمیة والأمثلة الفقھیة،ص:193,194، دوسرا نسخہ ،ص:599.