• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عریبین گلف اور خدامہ

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,440
پوائنٹ
463
السلام علیکم



ہر معاشرہ میں اچھے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ھے اور چند ایک جو اچھے نہیں سمجھے جاتے وقت کے ساتھ اچھے ہو جاتے ہیں یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ھے، جس معاشرہ پر برائیوں میں آپ کو خوشی محسوس ہو رہی ھے آپ بھی اسی سعودی معاشرہ کا حصہ ہیں، خود کو اچھا بنائیں دوسرے خودبخود اچھے لگنے لگیں گے۔

۔



۔
۔

۔

۔

۔

۔

۔
میں نے اپنی رائے اور آنکھوں دیکھا حال بیان کر دیا۔آپ کی بھی رائے موصول ہو گئی۔ اب ضد اور اصرار کی ضرورت نہیں کیونکہ نہ تو آپ سعودیہ رہتے ہیں اور نہ یہاں کا کچھ بھی جانتے ہیں۔آپ نے صرف "قانون " رٹے ہیں، لہذا یہ آپ کو ہی مبارک ہوں!
 
شمولیت
ستمبر 01، 2014
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
57
پوائنٹ
54
اللہ اعلم۔
ہم نے اپنی پیدائش کے بعد سے آج تک کوئی ایسا واقعہ نہ دیکھا نہ سنا۔ جن سے اب تک ہم ملے ہیں ان کو نہایت رحمدل، محبت کرنے والے پایا ہے، ھند سے تعلق رکھنے کی بنا پر کچھ زیادہ توجہ ملتی ہے، چاہے وہ مدرسہ کی کوئی معلمہ ہو یا مسجد میں یا پارک میں ملی کوئی ماڈرن لڑکی۔ ہم نے آج تک اپنے ساتھ یا اپنے والدین کے ساتھ کسی امتیازی سلوک کو ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور الحمدللہ ائر پورٹ پر تو بہت ہی اکرام کے ساتھ معاملات کیے جاتے ہیں۔ عربی کسی عجمی کے ساتھ امتیازی سلوک برتتا ہے تضحیک ، استہزاء یا توہین کرتا ہے، کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا نہ ہی کبھی دیکھا نا ہی کبھی سنا۔
اللہ بہتر جانتا ہے، ہوسکتا ہے کہیں ایسے لوگ بھی موجود ہوں، کیونکہ ہر قوم میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,440
پوائنٹ
463
جدہ (نیوز ڈیسک) گھریلو ملازمین کے بارے میں کئے گئے حالیہ سروے نے سعودی معاشرے کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ کنگ سعود یونیورسٹی کے طلباءکی جانب سے کئے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 58 فیصد خواتین ملازمائیں، کسی نہ کسی طریقے سے نامعلوم لوگوں کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرلیتی ہیں، اسی طرح 34 فیصد خواتین ملازمین کا گھر کے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق موجود ہوتا ہے جبکہ 4 فیصد خواتین گھر کے مرد ملازمین کے ساتھ تعلق استوار کرلیتی ہیں۔ تحقیقی سروے کرنے والے تحقیق کار فہد الغامدی کا کہنا ہے کہ سروے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ سعودی گھروں میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کس طرح کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق بہت ہی خوفناک ہے اور اس میں کئی باتیں بے نقاب ہوئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواتین ملازمین کی شہریت نہیں بتائی گئی تاکہ مسائل پیدا نہ ہوں۔

لنک
اللہ یحفظک !
 
Top