• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عصر پرویز اور برصغیر کے حالات

حافظ محمد عمر

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
427
ری ایکشن اسکور
1,543
پوائنٹ
109
عصر پرویز اور برصغیر کے حالات

یہ ایم فل مقالہ پنجاب یونیورسٹی میں پیش کیا گیا ٰہے۔ مقالہ نگار: حافظ محمد ارشد
جناب غلام احمد پرویزصاحب نے جس دور میں نشو ونما پائی تھی وہ مسلمانوں کے انحطاط کا دور تھا۔ مسلمان سیاسی معاشرتی، معاشی اور دینی لحاظ سے اپنی اہمیت کھو چکے تھے ۔ کفار اپنا تسلط برصغیر پر جما چکے تھے ۔ اور مسلمان اس تسلط تلے پس رہے تھے ۔ کفار مسلمانوں سے اس لحاظ سے ہمہ وقت خائف تھے کہ کہیں ان میں دینی جذبہ بیدار نہ ہو جائے ۔ اس لیے انہوں نے مدارس کا خاتمہ کرنا ضروری سمجھا۔ علماء کرام کو افلاس اور غربت کی گہرائیوں میں دھکیل دیا گیا۔ عربی وفارسی زبان کا خاتمہ کر کے انگریزی زبان کو لازمی قرار دے دیا گیا۔ حتی کہ ملازمت کے حصول کے لیے انگریزی زبان پر عبور ضروری قرار دے دیا گیا اور پھر اس سے بھی بڑھ کر تہذیب وثقافت کو یکسر بدل دیا گیا پہلے جہاں اسلامی تہذیب وثقافت تھی وہاں انگریزی اور یورپی ثقافت کو متعارف کروایا گیا ایسے حالات میں کہ جب مسلمانوں پر سارے راستے مسدود کر دیئے گیے ۔ تو انگریز سرکار کو مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہوا چنانچہ اس خطرہ سے بچنے کے لیے انگریز سرکار نے چند افراد کو اپنا ہمنوا بنایا جن کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کروانا چاہتا تھا۔ ان افر ادمیں سرِفہرست سرسید احمد خان صاحب ہیں ۔ انگریز سرکار نے سرسید احمد خان کو خوب استعمال کیا چنانچہ سرسید احمد خان نے اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ سرسید احمد خان نے قرآن مجید کی من مانی تفسیر کرنے کے ساتھ ساتھ معجزات فرشتوں اور عذاب قبر جیسے مسلماتِ اسلام کا انکار کر دیا۔ سرسید احمد خان نے اس فتنہ کا آغاز کیا ہی تھا کہ بہت سارے دیگر افراد بھی ان کے ہمنوا ہو گئے اور پھر فتنہ انکار حدیث کا ایک تسلسل چل پڑا جو تا حال جاری ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب ایک طرف تو کفار کے حملے تھے اور دوسری طرف مسلمانوں میں ہی ایک گروہ ایسا تھا جو ظاہر میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کا ہی حلیہ بگاڑنے پر تلا ہوا تھا اور یہ ملت کے زوال وپستی کا انتہائی دور تھا۔
چنانچہ ملت اسلامیہ کے اس زوال پر حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ یوں فکر مندی کا اظہار کیا کرتے تھے :
’’اگر کفار کا غلبہ معاذ اللہ، اسی طرح باقی رہا تو مسلمان، اسلام سے بیگانہ ہو جائیں گے، اور زمانہ زیادہ نہیں گزرے گا کہ وہ ایسی قوم بن کر رہ جائیں گے جو نہ اسلام کو جانتے ہونگے اور نہ ہی کفر کو، یہ بڑی مصیبت ہو گی۔ ‘‘ ( شاہ ولی اللہ سیاسی مکتوبات ، خلیق نظامی : ص45)
مسلمانوں کی زبوں حالی
کفا ر کے تسلط سے قبل مسلمان اسلام سے اتنے بھی دور نہ تھے کہ ان میں کوئی فکری آگاہی نہ ہو اور وہ اپنا کوئی ملی واسلامی تشخص نہ رکھتے ہوں مگر کفار کے تسلط کے بعد ان کی حالت بگڑتی گئی اور وہ اسلامی تہذیب وثقافت سے دور ہوتے چلے گئے تھے ۔ چنانچہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد دین قاسمی حفظہ اللہ رقمطرا ہیں:
’’مسلمانانِ ہند، اگرچہ فکرو نظر، اور سیرت وکردار کے اعتبار سے بہت بلند پایہ مسلمان نہ تھے، مگر برطانوی اقتدار سے قبل تک، وہ ایسے بھی گئے گزرے نہ تھے کہ کفر، ان سے راضی ہو، اور بت ان سے خوش ہوں ۔ انہوں نے اپنے دین سے وابستگی کی بناء پر، اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھا، ایک ایسے ملک میں، جس میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہوں اور جس میں مخلوط ومشترک معاشرت کی بناء پر، باہمی اخذو قبول کے راستے بھی کھلے ہوں، اس میں مسلمانوں کا اپنی تہذیبی اقدارو روایات سے یوں وابستہ رہنا کہ ان کی دینی انفرادیت اور اسلامی تشخص مٹنے نہ پائے، ایک ایساہی امر تھا جو انگریزوں اور ہندوؤں دونوں کے لیے وجۂ پریشانی تھا۔ چنانچہ انہوں نے پوری جدوجہد کی کہ مذہبی طو پر مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ کے ذریعہ، اور تہذیبی طور پر، مغربی ثقافت کی یلغار کے ذریعہ، اہلِ اسلام کی انفرادیت کو ختم کیا جائے ۔ مغربی تعلیم، مغربی طور طریقے، مغربی آدابِ اکل وشرب، مغربی لباس ومعاشرت اور مغربی طرز کے اداروں کا قیام، یہ سب کچھ اسی مقصد ہی کے پیش نظر تھا۔ تمدنی اور ثقافتی دائرئے میں تویہ سب کچھ کیا جا رہا تھا مگر دینی عقائد کی شکست وریخت کے لیے، مسیحی مشزیوں کے ذریعہ جارحانہ تبلیغ کے ذرائع اختیار کیے گئے ۔ پادریوں کی کھیپ کو وسیع پیمانہ پر درآمد کیا گیا، جگہ جگہ یہ پادری مجمع قائم کر کے وعظ کرتے، اور مسلمانوں و غیر مسلموں کو قبول مسحیت پر آمادہ کرتے ۔ ‘‘( تفسیر مطالب الفرقان علمی وتحقیقی جائزہ، قاسمی، محمد دین، پروفیسر : 1/ 12-13)
کفار کی آمد سے قبل مسلمانوں کا برصغیر میں نظام تعلیم کیسا تھا۔ اس کا نقشہ پروفیسر محمد سلیم بایں الفاظ پیش کرتے ہیں کہ
’’انگریزوں کی آمد کے وقت، اسلامی نظام تعلیم، سارے ملک میں سرگرم عمل تھا، ہر قسم کے مردان کا ر، یہی نظام تعلیم مہیا کر رہا تھا، یہ ایک خود کار نظام تعلیم تھا، امراء اور صاحب ثروت اور صاحب خیر حضرات، جائیدادیں معافیاں اور اوقاف تعلیم کے لیئے وقف کر دیتے تھے، جن کی آمدنی سے مدارس چلتے تھے، علماء فقہاء اور مشائخ، معاش کی جانب سے یکسو ہو کر تعلیم، تبلیغ اور اشاعت علم میں مشغول رہتے تھے، خانوادے نسلاً بعد نسل، یہی مشغلہ جاری رکھتے تھے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ ملک کے چپے چپے پر مدارس کا جال پھیلا ہوا تھا، تعلیم کے لیے کوئی فیس نہ تھی، تعلیم حاصل کرنا نہایت آسان تھا، کمپنی کی حکومت کے آغاز میں میکس مولر(Max Mullar) نے سرکاری ریکاڑاورمسیحی مشزیوں کی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر تخمینہ لگایا تھا کہ بنگال میں اسی ہزار مدارس قائم ہیں گویا ہر چار سو کی آبادی پر ایک مدرسہ قائم ہے اور یہ اچھی شرح ہے ۔ ‘‘( مغربی زبانوں کے ماہر علماء، سید محمد سلیم، پروفیسر : ص10)
مذکورہ اقتباس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمان کسی حد تک اپنے ملی تشخص، تہذیبی ورثہ اور اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور تھے مگر کفار کے تسلط کے بعد ان کے نظام تعلیم پر کیا گزری اور انہیں تعلیمات اسلامی سے دور کرنے کے لیے کفار نے کیا کیا اقدامات کیے اس کے متعلق پروفیسر محمد سلیم لکھتے ہیں:
’’ایسی تعلیم پرور قوم کو، انگریز، جاہل اور ناخواندہ بنائے بغیر اپنے مقاصد مذمومہ حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے انگریزی تدابیر کا اولین ہدف مسلمانوں کو جاہل بنانا قرار پایا، اس کے لے ضروری سمجھا گیا کہ پہلے فیض رسانی کے سوتے خشک کر دیئے جائیں جن سے یہ مدارس سیراب ہو رہے ہیں، دوسرے گورنر جنرل لارڈ کارنوالس نے اوقاف اور معافیوں پر حملہ کیا اس نے 1793ء میں قانون بازیافت (Resumption Act 111 of 1093) بنایا جو اس سے زیادہ سخت تھا جس نے ضبطیوں کا دائرہ وسیع کر دیا تھا۔ پھر اوقاف پر لارڈ ہیسنگز نے حملہ کیا اور نیا قانون بازیافت Resumption Act 111 of 1818-1819)) بنایا جس نے ضبطیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا، آخری مرتبہ ولیم بینٹینگ نے ایک ا نتہائی سخت قانون بنایا۔ قانون بازیافت Resumption Act 111 of 1828)) نافذ کیا اس کو نافذ العمل بہ ماضی(1765ء) قرار دیا،د اس وقت کمپنی کی حکومت، بنگال سے لے کر پنجاب میں چناب تک وسیع تھی، ایک نیا محکمہ بازیافت کھول کرسارے ملک کے اوقات، معدنیات اورلاخراج زمینات کو تلاش کر کے بحق سرکار ضبط کر ڈالا۔ ‘‘( ایضا)
یہ تھے اس دور کے تعلیمی حالات، اس کے ساتھ ساتھ کفار نے مسلمانوں میں لادینیت کا فروغ، دینے کے لیے ملحد اور زندیق قسم کے لوگ پیدا کئے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان سرفہرست ہیں ۔ کفار کی یہ خواہش تھی کہ ایسے ملحد لوگوں کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو گی چنانچہ کفار نے اپنی تہذیب اپنی زبان، اپنے قوانین اور اپنے اجتماعی وسیاسی اور معاشی نظریات کو مسلط کرنے کے لیے مذکورہ اشخاص جیسے لوگوں کو خریدا چنانچہ انگریزوں کی مذکورہ اشخاص کو خریدنے سے متعلق کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مفتی عاشق الہی بلند شہری لکھتے ہیں:
’’انگریزوں نے جب غیر منقسم ہندوستان میں حکومت کی بنیاد ڈالی تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایسے افرادبنائے جو اسلام کے مدعی ہوتے ہوئے اسلام سے منحرف ہوں ۔ اس طرح کے لوگوں نے تفسیر کے نام سے کتابیں لکھیں معجزات کا انکار کیا، آیات قرآنیہ کی تحریف کی۔ بہت سے لوگوں کو انگلینڈ کی ڈگریاں لینے کے لیے بھیجا گیا، وہاں سے وہ گمراہی، الحاد، زندیقیت لے کر آئے ۔ مستشرقین نے ان کو اسلام سے منحرف کر دیا۔ اسلام پر اعتراضات کیے جو انکے نفوس پر اثر کرگئے اور علماء سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے مستشرقین سے متأثر ہو کر ایمان کھو بیٹھے ۔ انگریزوں نے سکول اور کالجوں میں الحاد اور زندقہ کی جو تخم ریزی کی تھی اس کے درخت مضبوط اور بار آور ہو گئے اور ان درختوں کی قلم جہاں لگتی چلی گئی، وہیں ملحدین اور زندیق پیدا ہوتے چلے گئے ۔ ‘‘( فتنہ انکار حدیث اور اسکا پس منظر، عاشق الہی، بلند شہری، مفتی: 7)
انگریزوں نے ایسی شخصیات کو ہرقسم کی سہولت فراہم کی اور پھر من پسند نظریات کے فروغ کے لیے ان کی خدمات حاصل کیں جس کا تذکرہ انعام اللہ جان بایں الفاظ کرتے ہیں :
’’ان مقاصد کے حصول کے لیے (نظام تعلیم کے ذریعے ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہیے جو ہمارے اور ہماری رعایا کے درمیان ترجمان کا کام کرے اور وہ ایک ایسی جماعت ہو، جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو وہ ہندوستانی ہو مگر مذاق رائے الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو) انگریز مکار نے، اسلام نما دشمنوں کا انتخاب کیا جو اسلام کا ظاہری لیبل لگائے منافقانہ اور عیارانہ طریقوں سے اسلام کے بارے میں بد گمانی پھیلاتے رہے ان لوگوں میں سے انگریزوں کو ایک سرکردہ لیڈر سرسید احمد خان ملا جس نے حدیث رسول کا انکار کر کے قرآنی تعلیمات کے خلاف عیسائی اور انگریزی سازشوں کی تائید کی۔ ‘‘( یہودی سازشیں اور فتنہ انکار حدیث، جان، انعام اللہ: 47)
اسلام کا ظاہری لیبل لگانے والوں کا سرسید احمد خان کے بعد ایک نہ ختم ہونے والا تسلسل جاری ہے جو تاحال اسلام کا حلیہ بگاڑنے پر تلا ہوا ہے مگر اس کے سرخیل وبانی سرسید احمد خان ہی ہیں ۔ جنہوں نے اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ ایسے اشخاص پر نقد کرتے ہوئے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں ۔
’’تیرھویں صدی ہجری میں یہ حملہ اس وقت ہوا جب کہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تھی۔ ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا اور ان کو معاشی حیثیت سے کچل ڈالا گیا تھا۔ ان کا نظام تعلیم درہم برہم کر دیا گیا تھا اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین اور اپنے اجتماعی وسیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کر دیا تھا۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحین کے فلسفہ وسائنس اور ان کے قوانین اور تہذیبی اصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پیدا ہونے لگے ۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جوا فکار وتخیلات، جو اصول تہذیب وتمدن اور جو قوانین حیات آ رہے ہیں سراسر معقول ہیں ان پر اسلام کے نقطہ نظر سے تنقید کر کے حق وباطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے ۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اسلام کو کسی نہ کسی طرح انکے مطابق ڈھال دیا جائے ۔ ‘‘( سنت کی آئینی حیثیت، مودودی، سید، ابو الاعلیٰ، مولانا: 17)
سرسید احمد خان کے بعد ان کے کئی ہم خیال پیدا ہو گئے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے جھوٹی نبوت کا دعویٰ تک کر دیا۔ بعض نے اہل قرآن کا لیبل لگا کرا سلام کے چہرے کو مسخ کرنا شروع کر دیا اوراپنی خواہشات کے مطابق آیات قرآنی کے مفاہیم بیان کیئے اور تاویلات کیں ۔ سرسید احمد خان کے ہم نواؤں میں سے ایک شخصیت عبداللہ چکڑالوی کی ہے جن کا اصل نام غلام نبی تھا مگر حدیث نبوی ﷺسے نفرت کی بناء پر اس نے خود کو عبداللہ بن سبا کی طرف منسوب کرتے ہوئے اپنا نام عبداللہ چکڑالوی رکھا یہ وہ شخص تھا جو حدیث کا واضح لفظوں میں انکا رکیا کرتا تھا۔
احمد الدین امرتسری
عبداللہ چکڑالوی کے بعد اس گروہ کے ایک رکن احمد الدین امرتسری ہیں جن کے متعلق انعام اللہ جان لکھتے ہیں :
’’عبداللہ چکڑالوی کے بعد سرسید کے سب سے بڑے سرگرم رکن احمد الدین امرتسری نے تمام اسلامی عبادات کو بیک جنبش قلم مٹا دیا۔ ‘‘( یہودی سازشیں اور فتنہ انکار حدیث:ص 45)
نیاز فتح پوری
اس تحریک کے ایک سرگرم رکن نیاز فتح پوری بھی ہیں ۔ آ پ کا نام منکرین حدیث میں ہی نہیں بلکہ منکر قرآن واسلام میں شمار کیا جاتا ہے ۔ جس کی ترجمانی آپ کی کتاب بھی کرتی ہے ۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
’’عام مسلمانوں اور مولویوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قران اپنے الفاظ اور اپنی ترتیب کے لحاظ سے مکمل طور پر پہلے لوح محفوظ میں منقوش وموجود تھا اور فرشتہ (جبرئیل) ہی محفوظ ومنقوش کلام رسول ا للہﷺ کو آ کر سناتا تھا اور رسول اللہﷺ انہی آسمانی الفاظ کو دہرا دیتے تھے، حد درجہ مضحکہ خیز ہے اگر قرآن کی زبان عربی نہ ہوتی بلکہ کوئی نئی زبان ہوتی تو بھی خیر کچھ کہا جا سکتا تھا لیکن جبکہ وہ اسی زبان میں نازل ہوئی جو عام طور پر رائج تھی تو اس کے الفاظ کو کیونکر خدائی الفاظ کہا جاسکتا ہے ۔ بہرحال قرآن کو خدا کا کلام اس حیثیت سے تسلیم کرنا کہ اس کا ایک ایک لفظ خدا کا بتایا ہوا ہے اور خود رسول اللہ کے عقل ودماغ کوا س سے کوئی تعلق نہ تھا، خدا کو اس کے منصب سے گرا کر انسان کی حد تک کھینچ لانا ہے اور رسول اللہﷺ کو سطح انسانیت سے بھی نیچے گرا دینا ہے ۔ ‘‘( من ویزداں، حصہ اول:ص 552)
نیاز فتح پوری کے متعلق انعام اللہ جان رقمطراز ہیں کہ
’’منکرین حدیث کا ایک سرگرم رکن نیاز فتح پوری قرآن کے متعلق لکھتا ہے کہ قرآن مجید کو میں کلام خداوندی سمجھتا ہوں نہ الہامِ ربانی بلکہ اسے ایک انسان کا کلام جانتا ہوں ۔ ‘‘( )
مذکورہ اقتباسات سے منکرین حدیث کی اسلام دشمنی خوب اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے چنانچہ منکرین حدیث کا یہ دعویٰ کہ وہ ہر اس حدیث کو حجت تسلیم کرتے ہیں جو قرآن کے خلاف نہ ہو۔ خود بخود باطل ہو جاتا ہے ۔ منکرین حدیث کا یہ رٹ لگانا کہ وہ اہل قرآن ہیں در حقیقت مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا ایک طریقہ ہے جس کا سہارا لے کر وہ خود کو مسلمانوں کی صف میں شامل کرتے ہیں اور پھر ہر اس حدیث کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں جو بظاہر قرآن سے متعارض نظر آتی ہے ۔ جبکہ امر واقع یہ ہے کہ کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہے ۔
عنایت اللہ مشرقی
منکرین حدیث کے ایک سرگرم رکن عنایت اللہ مشرقی بھی ہیں جو کہ تحریک سرسید کی ہی ایک کڑی ہیں ان کے انکار حدیث کی ایک جھلک انہی کے الفاظ میں پیش کی جاتی ہے:
’’تعجب ہے کہ مذہب کی طرف اس عام میلان کے باوجود ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ قطعی فیصلہ نہ ہو سکا کہ کونسا مذہب سچاہے ؟ کونسا شارع کائنات اللہ تعالیٰ کے منشاء کے عین مطابق ہے ؟ مذہب کی سچائی کا معیار کیا ہے ؟ نہیں بلکہ خود مذہب کیا شئے ہے ؟۔ اور اس کا مقصود بالذات بعینہ کیا ہے ؟ خود خدا کی ہستی اور اس کے صحیح منشاء کے متعلق آج تک کوئی حتمی اور متفق علیہ دلیل نہیں مل سکی۔ ‘‘( یہودی سازشیں اور فتنہ انکار حدیث: ص 632)
حافظ اسلم جیراجپوری
حافظ اسلم جیراجپوری بھی اسی فتنہ انکار حدیث کی ایک کڑی ہے ان کا نام منکرین میں بعض وجوہات کی بناء پر بلند ہے ۔ انہوں نے حدیث کا انکار جس انداز سے کیا وہ بہت ہی انوکھا ہے ۔ ان کے بقول حدیث کی اہمیت تاریخ سے زیادہ نہیں ۔ (تفصیلی گفتگو اپنے مقام پر آئے گی کہ حدیث کی ا ہمیت تاریخ سے زیادہ ہے کہ نہیں ) جناب غلام احمد پرویز بھی اسی شخصیت سے متأثر ہیں اور انہی کے نظریات کو آگے لے کربڑے ہیں ۔ اور انہی کے شاگرد بھی ہیں ۔
یہ تھیں وہ چیدہ چیدہ شخصیات جنہوں نے مختلف روپوں میں فتنہ انکار حدیث کو پروان چڑھایا۔ کسی نے نماز، زکوٰۃ اور جہاد کا انکار کیا اور کسی نے معجزات کا اور عقل محض کا نعرہ لگایا کہ جو چیز عقل میں آ سکتی ہے اسی کو تسلیم کیا جائے گا کیونکہ دین اسلام عقل کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک فطری دین ہے اور فطرت عقل کے مطابق ہوتی ہے ۔
مذکورہ تمام شخصیات مغربی ثقافت سے متاثر ہو کر ایک نئے اسلام کو پیش کرنا چاہتی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے اسلام پر اعتراضات کا اگر گہری نظر مطالعہ کیا جائے تو ہمیں واضح ہو جائے گا کہ مستشرقین کے پیش کردہ اعتراضات اور مذکورہ اشخاص کے اعتراضات میں کچھ فرق نہیں اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر عبدالغنی لکھتے ہیں :
’’ان لوگوں کے اکثر اعتراضات مستشرقین یورپ ہی کے اسلام پر اعتراضات سے براہ راست ماخوذ ہیں مثلا حدیث کے متعلق اگر گولڈ زیہر(Gold Ziher) سپرنگر(Sprenger) اور ڈوزی(Dozy) کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو آپ فوراً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منکرین حدیث کی طرف سے کیے جانے والے بڑے بڑے اعتراضات من وعن وہی ہیں جو ان مستشرقین نے کیے ہیں۔‘‘ (دیباچہ تذکرہ، قول فیصل: ص6)
اسی حقیقت کو مفتی ولی حسن ٹونکی بایں الفاظ بیان کرتے ہیں:
’’اور عجیب بات ہے کہ موجودہ دور میں منکرین حدیث نے بھی اپنا ماخذو مرجع انہی دشمنانِ اسلام، مستشرقین کوبنایا ہے اور یہ حضرات انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں اور جو اعتراضات وشبہات ان مستشرقین نے اسلام کے بارے میں پیش کیے ہیں، وہی عتراضات وشبہات یہ منکرین حدیث بھی پیش کرتے ہیں ۔ ‘‘( قادری، عبدالغنی،پروفیسر، ریاض الحدیث، لا ہور، 1969:ص 1959)
مذکورہ تمام شخصیات کا دور
مذکورہ تمام شخصیات کا دور تیرہویں صدی اور اٹھارویں صدی عیسوی کا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ شبیر احمد عثمانی ؒرقمطراز ہیں :
’’ہنگامہ 1857ء کے بعد، ایسی بری طرح ہم کو کچلا گیا کہ مدت تک موت سی بیہوشی سارے ملک پر طاری رہی، کچھ افاقہ ہواتو چاروں طرف مایوسی کی گھٹا چھائی ہوئی دیکھی۔ مایوسی کے بعد حکومت کے سامنے چاپلوسی اور خوشامد کا دور آیا۔ پھر مدت کے دبے جذبات کچھ ابھرنے لگے ۔ یہاں کے حاکموں نے جب دیکھا کہ مدت کی نیند سونے والے کچھ کروٹیں بدلنے اور جھرجھری لینے لگے ہیں تو انہوں نے معروضات اورگزارشات پیش کرنے کا راستہ سجھا دیا۔ مبادا یہ تازہ حرکت اٹھے ہوئے جذبات اور بیدار کن احساسات کے نکلنے کاکوئی خطر ناک راستہ اختیار کرلے، معروضات کی منزل سے گزر کر، پھر نرم اور پھر گرم لہجہ میں مطالبات کا آغاز ہوا۔ ‘‘ خطبات عثمانی، عثمانی، شبیر احمد، علامہ،ہاشمی، بک ڈپو، لا ہور، 1946ء: ص 19
یہی وہ دور تھا جس کے قرب اختتام پر جناب غلام احمد پرویز صاحب بھی پیدا ہوئے اور یہی وہ حالات تھے جن کے اثرات پرویز صاحب پر نمایاں تھے انہی اثرات کی بناء پر پرویز صاحب نے بھی اپنے پیشروؤں کی تقلید کی اور فتنہ انکار حدیث کی صف میں جگہ بنائی اور اپنا خوب کردار آدا کیا حتی کہ فروری 1985ء کو اس عالم فانی سے راہی عالم آخرت ہوئے ۔
 
Top