سوال 13:
موجودہ دورمیں جادو کا استعما ل اورجادوگروں کے پاس آنا جانا کثرت سے ہو رہا ہے ,اس کا کیا حکم ہے؟ اورسحرزدہ شخص کے علاج کا جائز طریقہ کیا ہے؟
جواب:
جادو, ہلاک کردینےوالے کبیرہ گناہوں میں سے ہے,بلکہ یہ نواقض اسلام میں سے ہے , جیساکہ اللہ تعالى نے اپنی مقدس کتاب میں ارشاد فرماتا ہے :
﴿وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيْاطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولاَ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَ تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ(102) وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُواْ واتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّه خَيْرٌ لَّوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ } (103) سورة البقرة
اورانہوں نے اس چیز کی پیروی کی جسے سلیمان کی بادشاہت میں شیطان پڑھا کرتے تھے , حالانکہ سلیما ن نے کفرنہیں کیا ,البتہ یہ شیاطین کافرتھےجولوگوں کو جادو سکھاتے تھے اوروہ باتیں جوشہربابل میں دوفرشتوں ہاروت اورماروت پراتاری گئی تھیں , اوروہ دونوں کسی کو جادو نہیں سکھلاتے تھے جب تک یہ نہیں کہ دیتے کہ ہم آزمائش ہیں ,تو تم کفرمت کرو,پھربھی لوگ ان دونوں سے ایسی باتیں سیکھتے تھے جس کے ذریعہ شوہراوربیوی میں جدائی کرادیں , حالانکہ اللہ کے حکم کے بغیروہ جادو سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے ,اورایسی باتیں سیکھتے تھے جن میں فائدہ کچہ نہیں ,نقصان ہی نقصان ہے, حالانکہ انہیں اسکا علم تھاکہ جوکوئی جادو خریدےگا اسکے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں, اوربہت ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلہ انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا, کاش کہ یہ لوگ جانتے, اوراگروہ ایمان لے آتے اوراللہ کا تقوى' اختیارکرتے تو اللہ کے پاس سےجوثواب ملتا وہ انکے حق میں بہترتھا , اگروہ یہ جانتے –
مذکورہ بالادونوں آیتوںمیں اللہ نے یہ خبردی ہے کہ شیطان لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے , اورلوگ اسے سیکھ کرکافرہوجاتے تھے , اوریہ بتایا ہے کہ دونوں فرشتے (ہاروت وماروت) جسے بھی جادو سکھلاتے تھے اسے پہلے یہ بتلادیتے تھے کہ ہم آزمائش ہیں ,اورہم جو سکھلاتے ہیں وہ کفرہے-
اوراللہ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جادو سیکھنےوالے ایسی چیز سیکھتے ہیں جن میں انکا کوئی فائدہ نہیں ,نقصان ہی نقصان ہے, اورانکے لئے اللہ کے یہاں آخرت میں خیر کا کوئی حصہ نہیں –
اوریہ بھی بیان کیا ہے کہ جادو گراپنے جادو سے میاں اوربیوی کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں اوروہ اللہ کے " اذن" (حکم) کے بغیرکسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے -
یہاں "اذن" سے مراد اذن شرعی نہیں بلکہ اذن کونی وقدری ہے, کیونکہ کائنات میں جتنی چیزیں واقع ہوتی ہیں وہ سب اللہ کے قدری اذن سے ہوتی ہے , اوراسکی بادشاہت میں کوئی ایسی چیز ہرگز واقع نہیں ہوسکتی جسے وہ کون وقدر کے لحاظ سے نہ چاہے-
اوراللہ تعالى نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جادوایمان اورتقوى' کی ضد ہے-
مذکورہ بیان سے معلوم ہواکہ جادو کفراور ضلالت ہے, اورجادو کرنے والا اگراسلام کا مدعی ہے تو وہ اسلام سے خارج ہے, چنانچہ صحیحین میں ابوہریرہ t سے مروی ہے کہ نبی r نے ارشاد فرمایا :
"سات مہلک گناہوں سے بچو,لوگوں نے کہا وہ کیا ہیں اے اللہ کے رسول r! آپ نے فرمایا :اللہ کے ساتہ شرک , جادو ,اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کاناحق قتل , سودخوری ,یتیم کا مال کھانا ,لشکرکشی کے دن پیٹہ پھیرکربھاگنا ,اورپاکدامن ,بھولی بھالی مومن عورتوں پرزناکی تہمت لگانا "
اس صحیح حدیث میں نبی r نے یہ بیان فرمایا ہے کہ شرک اورجادو سات مہلک گناہوں میں سے ہیں , اورشرک ان میں بڑا ہے ,کیونکہ یہ تما م گناہوں میں سب سے بڑا ہے , اورجادو بھی انہی میں سے ہے ,یہی وجہ ہے کہ رسول r نے اسے شرک کے ساتہ ذکر کیا ہے ,کیونکہ جادوگروں کی جادو تک جورسائی ہوتی ہے وہ شیطانوں کی عبادت ,نیز دعا , ذبح نذراوراستعانت وغیرہ جیسی عبادتوں کے ذریعہ ان کا تقرب حاصل کرنے سے ہی ہوتی ہے ,چنانچہ امام نسائی نے ابوہریرہ t سے روایت کیا ہے کہ نبی r نے ارشاد فرمایا :"جس نے کوئی گرہ لگائی پھر اس میں پھونکا اس نے جادو کیا , اورجس نے جادو کیا اسنے شرک کیا , اورجس نے کوئی ایسی چیز لٹکائی وہ اسی کے حوالے کردیاگیا "
یہ حدیث سورہ فلق میں اللہ کے قول : {وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ} (4) سورة الفلق کی تفسیرہے ,مفسرین کا کہنا ہے کہ "نفاثات " سے مراد وہ جادوگرنیاں ہیں جو لوگوں کو اپنے ظلم واذیت کا نشانہ بنانے کی غرض سے شیطانوں کا تقرب حاصل کرنے کے لئے گرہیں لگاتی اوران میں شرکیہ کلمات پڑہ کرپھونکتی ہیں –
جادوگر کے حکم کے بارے میں اہل علم کا یہ اختلاف ہے کہ اس سے توبہ کرواکے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی , یا جب اس کے سلسلہ میں جادو کا ثبوت مل جائے تو بغیرتوبہ کروائے ہرحال میں اسے قتل کردیا جائیگا . اوریہی دوسرا قول ہی درست ہے , کیونکہ جادوگرکا وجود اسلامی معاشرہ کے لئے ضرررساں ہے جبکہ وہ عموماً سچی توبہ نہیں کرتے , نیز اسکے باقی رہنے میں مسلمانوں کے لئے بہت بڑا خطرہے-
یہ قول اختیارکرنے والوں کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ عمرt جو خلفائے راشدین میں دوسرے خلیفہ ہیں , جن کی سنت کی اتباع کرنے کارسول r نے حکم دیا ہے انہوں نے بغیرتوبہ کروائے جادوگروں کوقتل کرنے کا حکم دیا تھا-
نیزوہ روایت بھی ہے جسے امام ترمذی نے جندب بن عبداللہ البجلی یا جندب الخیرازدی سے مرفوعا اورموقوفا روایت کیا ہے :"جادوگرکی سزا تلوار سے اسکی گردن ماردینا ہے"
مگرمحدثین کے نزدیک صحیح بات یہی ہے کہ یہ جندب پرموقوف ہے-
ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ثابت ہے کہ انہوں نے اپنی ایک لونڈی کوقتل کرنے کا حکم دےدیا جس نے ان پرجادو کردیا تھا – چنانچہ توبہ کروائے بغیرہی وہ قتل کردی گئی –
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توبہ کروائے بغیرجادوگرکوقتل کرنا نبی r کے تین صحابہ یعنی عمر, جندب اورحفصہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے-
مذکورہ بیان سے یہ معلوم ہواکہ جادوگرکے پاس جانا, ان سے کوئی چیز پوچھنا اوران کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق کرنا جائز نہیں , جس طرح کاہنوں اورنجومیوں کے پاس جانا جائزنہیں ,نیز جب کسی کے بارے میں جادو کا استعمال اس کے اقرار سے یاشرعی دلائل سے ثابت ہوجائے توتوبہ کروائے بغیر اسکا قتل کردینا واجب ہے-
رہا جادو کا علاج ,تویہ مشروع طورپر جھاڑپھونک اورجائز ونفع بخش دواؤں سے کیا جائیگا , اوراسکا ایک بہترین علاج یہ ہے کہ سحرزدہ شخص پرسورہ فاتحہ ,آیت الکرسی ,سورہ اعراف ,یونس اورطہ وغیرہ میں سحر سے متعلق وارد آیتوں ,نیز قل یا أیھا الکافرون ,قل ھواللہ أحد, قل أعوذ برب الفلق, اورقل أعوذبرب الناس وغیرہ پڑھ کردم کیا جائے, مستحب یہ ہے کہ آخرالذکر تین سورتیں درج ذیل صحیح ومشہوردعا کے ساتہ تین تین بارپڑھی جائیں , جسے نبی r مریضوں کے علاج کے لئے اپنی دعامیں پڑھا کرتے تھے ,اوروہ دعا یہ ہے:" اللہم َّربَّ الناسِ,اَذھب البأس َ,واشفِ أنتَ الشافیِ,لاشفاءَ إلا شفاؤک,شفاءً لایُغادرسُقماً"
اے اللہ!لوگوں کے مالک ,توبیماری دورکردے اورشفادیدے, توہی شفا دینے والا ہے , تیرے شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں , ایسی شفا جوکوئی بیماری نہ چھوڑے.
نیز وہ دعا پڑھے جس کے ذریعہ جبرئیل علیہ السلام نے نبی r پر دم کیا تھا, اوروہ دعا یہ ہے :"بسم اللہ أرقیک من کل شیئٍ یُوذیک ,ومن شرکل نفس أوعینٍ حاسدٍ اللہ ُیشفیکَ, بسم اللہ أرقیکَ"
اللہ کے نام کے ساتھ میں تم پردم کرتا ہوں ,اللہ تمہیں ہرتکلیف دہ چیز سے, اورہرمخلوق کے شرسے یا حاسد کی بری نظرسے شفادے ,اللہ کے نام کے ساتہ میں تم پردم کرتا ہوں-
یہ دعا اللہ کے حکم سے مفید ترین علاج ہے-
ایک علاج یہ بھی ہے کہ جس چیز کے بارے میں گمان ہوکہ اسی میں جادو کیا گیا ہے جیسے اون,گرہ لگے ہوئے دھاگے , اوراسکے علاوہ ہروہ چیز جس میں جادو کیا جاسکتا ہے اسے ختم کردیا جائے , اورسحرزدہ شخص شرعی دعاؤں کا بھی اہتمام کرے ,مثلا صبح اورشام تین تین مرتبہ اللہ کے کامل کلمات کے ذریعہ ہرمخلوق کے شرسے پناہ مانگے ,فجراورمغرب کی نمازوں کے بعد تین تین بارقل ھواللہ أحد ,قل أعوذبرب الفلق , اورقل أعوذبرب الناس پڑھے , اورہرفرض نماز کےبعد اورسونے کے وقت آیت الکرسی پڑھے-
اسی طرح صبح اورشام تین تین باریہ دعا پڑھنا بھی مستحب ہے :" بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیئ فی الأرض ولا فی السماء , وھو السمیع العلیم"
اللہ کے نام کے ساتہ (میں نے صبح اورشام کی ) جس کے نام کے ساتہ کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی نہ زمین میں اورنہ آسمان میں , اوروہ سننے والا , جاننے والا ہے-
یہ ساری دعائیں نبی r سے ثابت ہیں , ساتہ ہی وہ اللہ سے حسن ظن رکھے اوراس بات پرایمان رکھے کہ یہ دعائیں اوردوائیں محض اسباب ہیں , شفا دینا اللہ کے ہاتہ میں ہے , اللہ چاہے گا تو ان سے فائدہ پہنچائیگا , اورچاہےگا تو انہیں بے اثر کردیگا , کیونکہ ہرچیز میں اس کی زبردست حکمت ہے, وہ ہرچیز پرقادر اورہر چیز کا جاننے والا ہے , وہ اگر کچہ دے تو کوئی روکنے والا نہیں , اورجوروک لے اسے کوئی دینے والا نہیں , اورجو فیصلہ کردے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں , اسی کی بادشاہت ہے اوراسی کے لئے تعریف , اوروہی ہرچیز پر قادرہے , اورتوفیق دینا اسی کا کا م ہے –