• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقيقہ ميں بکرا ذبح کرنا جائز ہے يا نہیں؟

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,003
ری ایکشن اسکور
9,808
پوائنٹ
773
جزاک الله خیر کفایت الله بھائی جان.

بہت آسان سے لفظوں میں آپ نے پورا مسلہ واضح کر دیا
بھائی یہ مسئلہ بہت آسان ہی ہے مگر غلط فہمی کی وجہ غلط تعبیرہے ۔
چنانچہ اکثر قربانی کے موقع پر لوگ یہی کہتے ہیں کہ اس بار قربانی فلاں کے نام پر ہوگی ، یا بعض مولوی جو دوسروں کا جانور ذبح کرنے جاتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ کس کے نام سے قربانی کرنا ہے۔
حالانکہ یہ تعبیرغلط ہونے کے ساتھ ساتھ گمراہ کن بھی ہے ، ایسا کہنے کے بجائے یوں کہنا چاہئے کہ فلاں کی طرف سے قربانی ہوگی ، یا کس کی طرف سے قربانی کرنی ہے، اگر لوگ اس سلسلے میں غلط تعبیر کو چھوڑ کر صحیح تعبیر استعمال کریں تو ساری غلط فہمی خود بخود دور ہوجائے گی۔

سب نے ایک روایت سنی ہوگی کی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی طرف سے قربانی کی ۔
یہاں پر کوئی نہیں کہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے نام پر قربانی کی ، یہی تعبیر ہرجگہ استعمال کرنی چاہئے۔

اسی طرح قربانی کے دنوں میں ایک سوال بار بار اٹھتا ہے کہ میت کی طرف سے قربانی جائز ہے کہ نہیں ۔
یہاں پر بھی کوئی نہیں کہتا ہے کہ میت کے نام پر قربانی جائز ہے یا نہیں ۔

الغرض ان دو مثالوں میں ہم جو تعبیر استعمال کرتے ہیں اگر یہی تعبیر ہرجگہ استعمال کریں تو غلط فہمیاں پیدا ہی نہ ہوں گی ۔
 

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
آپ عقیقہ کی بات کرتے ہیں کہ حالانکہ اہل بدعت قربانی سے متعلق بھی کہا کرتے ہیں کہ قربانی میں بھی جانور فلاں کے نام سے ذبح کئے جاتے ہیں ، چنانچہ جب قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لئے کسی مولوی کو بلایا جاتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ کس کے نام سے ذبح کرنا ہے ۔۔۔

لہٰذا جب قربانی ہما شما کے نام پر ہوسکتی ہے تو غوث پاک کا بکرا غوث پاک کے نام پر کیوں نہیں ہوسکتا۔

جوابا عرض ہے کہ:

ایک چیز ہے کسی کے نام پر ذبح کرنا۔
اورایک چیز ہے کسی کی طرف سے ذبح کرنا۔


دونوں میں بڑا فرق ہے ، قربانی کا جانور مخلوق میں کسی کے نام پر نہیں بلکہ کسی کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے ، چنانچہ دعائے قربانی میں جہاں نام پڑھا جاتا ہے وہاں کے الفاظ ہوتے ہیں:

اللھم تقبل من۔۔۔۔۔فلان۔۔۔۔۔

’’من فلان ‘‘ یعنی فلاں کی طرف سے قربانی قبول فرما۔


رہی بات کسی کے نام پر قربانی کرنے کی تو قربانی صرف اور صرف اللہ کے نام پر ہی ہوتی ہے چنانچہ دعائے قربانی میں اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہوئے یہ الفاظ پڑھے جاتے ہیں:

باسم اللہ ، اللہ اکبر۔

’’بسم اللہ ‘‘ یعنی اللہ کے نام پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عقیقہ کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ عقیقہ بھی صرف اللہ ہی کے نام پر ہوتا ہے اوربچے کی طرف سے ہوتا ہے نہ کہ بچے کے نام پر ۔




اب آتے ہیں مشرکین واہل بدعت کے ذبیحہ کی طرف:

مشرکین واہل بدعت کے ذبیحہ کی حرمت دو وجوہات کی بناپر ہے:

پہلی وجہ:
غیراللہ کے نام پرذبح کرنا۔

یعنی بوقت ذبح اللہ کانام لینے کے بجائے کسی اور کا نام لینا۔

دوسری وجہ :
بوقت ذبح اللہ کے نام سے تو ذبح کیا جائے مگر اللہ کے لئے ذبح نہ کیا جائے:
یعنی ذبیحہ پیش کرنے کا مقصد اللہ کی خوشنودی کے بجائے کسی غیراللہ کی خوشنودی مطلوب ہو، یا اللہ کے ساتھ ساتھ غیراللہ کی بھی خوشنودی مقصود ہو۔

یہ صورت بھی حرام ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ،[صحيح مسلم 1978]۔
اللہ کی لعنت ہو جو غیراللہ کی لئے جانور ذبح کرے۔


غوث پاک(شیخ جیلانی رحمہ اللہ) وغیرہ کی طرف منسوب جو ذبیحہ پیش کیا جاتاہے اس کے حرام ہونے کی یہی وجہ ہے کہ وہ گرچہ بوقت ذبح اللہ کے نام پر ہی ذبح کیا جاتا ہے مگر اس کا مقصد غوث پاک(شیخ جیلانی رحمہ اللہ) کی خوشنودی ہوتی ہے، یا اللہ کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ غوث پاک(شیخ جیلانی رحمہ اللہ) کی خوشنودی بھی مقصود ہوتی ہے۔


جبکہ قربانی و عقیقہ کے جانور میں یہ بات نہیں ہوتی یعنی قربانی و عقیقہ کا جانور اللہ کے نام پر ذبح ہونے کے ساتھ ساتھ صرف اور صرف اللہ کے لئے ہی ذبح ہوتاہے۔


نوٹ: شیخ جیلانی رحمہ اللہ کو غوث پا ک کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔
جزاک الله خیرا کفایت اللہ بھائی
 
Top