• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیدہ وحدت الوجود کیا ہے اور اس کی اصل تعریف کیا ہے؟

عزمی

رکن
شمولیت
جون 30، 2013
پیغامات
190
ری ایکشن اسکور
304
پوائنٹ
43
بھیا میں نے اس زمن میں ملا علی قاری کا فتویٰ پیش کر دیا - اگراس کو نبی کریم صل الله علیہ وسلم کے اس قول کے تناظر میں دیکھا جائے - تو بات بڑی گمبھیر ہوجاتی ہے - جس میں آپ صل الله علیہ وسلم نے فرمایا " کہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو بلا دلیل کافر کہے - جس کو کافر کہا گیا ہے اگر وہ حقیقت میں کافر نہیں تو کافر کہنے والے پر کفر واپس پلٹتا ہے" (متفق علیہ) -

اب اگر ملا علی قاری نے دلیل کے ساتھ (جیسا کہ ظاہر ہو رہا ہے) ابن عربی اور ان کے ماننے والوں کو کافر کہا ہے تو اس صوررت میں تو ابن عربی اور ان کے ماننے والے کافر قرار پاتے ہیں ورنہ دوسری صورت میں اگر ملا علی قاری کا ابن عربی اور ان کا ماننے والوں پر کفر کا فتویٰ بلا دلیل ہے تو اس صورت میں ملا علی قاری خود کافر ہو جاتے ہیں -

اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیجیے- آپ کے جید علماء حق پر ہیں یا باطل عقیدے پر ہیں ؟؟
اس بات کا جواب آپکی پوسٹ میں موجود ہے
ملا علی قاری کہتے ہیں :
'' جان رکھو ! جو ابن عربی کے عقیدے کے صحیح ہونے کا قائل و معتقد ہے وہ بالاجماع کافر ہے ، اس میں کوئی نزاع نہیں ـ ہاں ، اس میں نزاع ہے کہ اس کے کلام کی تاویل کر لی جائے ـ''
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
اس بات کا جواب آپکی پوسٹ میں موجود ہے
ملا علی قاری کہتے ہیں :
'' جان رکھو ! جو ابن عربی کے عقیدے کے صحیح ہونے کا قائل و معتقد ہے وہ بالاجماع کافر ہے ، اس میں کوئی نزاع نہیں ـ ہاں ، اس میں نزاع ہے کہ اس کے کلام کی تاویل کر لی جائے ـ''
بھیا آپ نے اگلا جملہ شائد نہیں پڑھا

اس میں نزاع ہے کہ اس کے کلام کی تاویل کر لی جائے ـ''
اور تاویلات کا جواب خود علامہ علی قاری نے دیا ہے ـ اپنی اس کتاب (الرد علی القائلین بوحدتہ والجود) میں -
علامہ ابن مقری نے کہا ہے :
'' جو شخص یہود و نصاریٰ اور ابن عربی کے کفر میں شک کرے تو وہ کافر ہے ـ '(ص :154،155،س: 1 تا 5)-

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ قرون اولیٰ میں جتنے بھی فرقے ہوے - مثال کے طور پر جہمیہ ، قدریہ ، مرجیہ ، معتزلہ حتیٰ کہ دور حاضر میں مرزائی وغیرہ - یہ سب فرقے قرانی آیات کے انکار پر کافر قرار نہیں پاے - بلکہ قرانی آیات کی غلط تاویلات کی وجہ سے کافر قرار پا ے -

اور ملا علی قاری یہ فرما چکے ہیں کہ جو ابن عربی کی تاویلات پر ایمان لاتا ہے -وہ باجماع علماء کافر ہے- ( ص :49 ، س:7،ص :17، س :9)

یہ بھی ذہن میں رکھ لیں کہ ملا علی قاری احناف کے بڑے جید عالموں میں شمار کیے جاتے ہیں -لیکن افسوس ناک بات یہ کہ دور حاضر میں یہ احناف ہی ہیں جو تصوف اور وحدت الوجود و وحدت الشہود جسے کفریہ عقائد اور ان کفریہ عقائد کے بانی ابن عربی کا دم بھرتے اور ان عقائد کا بڑے زور و شور سے د فاع کرتے نظر آتے ہیں -
 
Top