ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 823
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
علامہ ابن حزم اندلسیؒ کے نزدیک دینِ محمدی ﷺ کے مبدلین و محرفین کا حکم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وحدہ، والصلوٰة والسلام علی من لا نبی بعدہ، وعلی آلہ و صحبہ ومن تبعہ بإحسان إلی یوم الدین۔
اے مسلمانو! جان لو کہ اللہ کی شریعت کامل ہے، جو اس میں اضافہ کرے، کمی کرے، حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرے وہ دراصل اللہ کی ربوبیت میں شریک ہے۔ یہی وہ جرم ہے جس کے مرتکب یہود و نصاریٰ ہوئے، اور آج انہی کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہمارے زمانے کے طاغوتی حکمران اور جمہوری قانون ساز ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے دین کو پسِ پشت ڈال کر جمہوری آئین گھڑ لئے، شرعی حدود کو ساقط کر دیا، سود کو مباح کر دیا، شراب و زنا کو آزادی بنا دیا، اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہشات کے مطابق تبدیل کر دیا۔
ایسے لوگوں کے بارے میں علامہ ابن حزم الاندلسی (ت ٤٥٦هـ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إحداث الأحكام لا يخلو من أحد أربعة أوجه إما إسقاط فرض لازم كإسقاط بعض الصلاة أو بعض الصيام أو بعض الزكاة أو بعض الحج أو بعد حد الزنى أو حد القذف أو إسقاط جميع ذلك وإما زيادة في شيء منها أو إحداث فرض جديد وإما إحلال محرم كتحليل لحم الخنزير والخمر والميتة وإما تحريم محلل كتحريم لحم الكبش وما أشبه ذلك وأي هذه الوجوه كان فالقائل به مشرك لاحق باليهود والنصارى والفرض على كل مسلم قتل من أجاز شيئا من هذا دون استتابة ولا قبول توبة إن تاب واستصفاء ماله لبيت مال المسلمين لأنه مبدل لدينه وقد قال صلى الله عليه وسلم من بدل دينه فاقتلوه
احکام چار طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ سے بنائے جاتے ہیں : کسی لازم فرض کو ساقط کر دیا جائے مثلاً نماز، زکاۃ، یا روزہ، حج یا زنا کی حد یا قذف حد سے کچھ حصہ کو یا مکمل طور پر ساقط کر دیا جائے۔ یا ان فرائض میں سے کسی فرض میں اضافہ کر دیا جائے یا کوئی نیا فرض ایجاد کر لیا جائے۔ یا کسی حرام کو حلال کر لیا جائے جیسے خنزیر، شراب، یا مردار کو۔ یا حلال کو حرام کر لیا جائے جیسے بکری وغیرہ کا گوشت حرام قرار دیا جائے۔ ان طریقوں میں سے جو بھی طریقہ اپنایا جائے اس کا قائل کافر مشرک ہے یہود و نصاری کے حکم میں ہے۔ ان میں سے کسی بھی طریقے کو جائز قرار دینے والے کو بغیر توبہ کروائے قتل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہ کی جائے اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال کے حوالے کیا جائے اس لیے کہ اس نے اپنا دین بدل دیا ہے جبکہ نبی صلی علیم کا فرمان ہے جس نے دین بدل دیا اسے قتل کر دو۔
[الإحكام في أصول الأحكام، ج : ٦، ص : ١١٠]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کی اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ «إحداث الأحكام لا يخلو من أحد أربعة أوجه» یعنی دین میں قانون سازی چار ہی صورتوں پر ہوتی ہے۔ جو بھی شخص شریعتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شریعت کو اختیار کرے یا نئی شریعت گھڑے تو وہ انہی چار دروازوں سے گھسے گا :
«إما إسقاط فرض لازم كإسقاط بعض الصلاة أو بعض الصيام أو بعض الزكاة أو بعض الحج أو بعد حد الزنى أو حد القذف أو إسقاط جميع ذلك» یعنی نماز، روزہ، حج یا زکاۃ جیسے فرائض کو ختم کرنا، یا شرعی حدود کو ساقط کرنا۔
جو لوگ ان فرائض کو جزوی یا کلی طور پر ختم کر دیتے ہیں، یا شرعی حدود جیسے زنا و قذف کی حد کو ساقط کر دیتے ہیں وہ عین اسی زمرے میں ہیں۔ آج کے طواغیت نے یہی جرم انجام دیا ہے یعنی شرعی حدود کو معطل کر دیا، سودی نظام قائم کیا، عورت و مرد کی عریانی کو ثقافت و آزادی قرار دیا۔
«وإما زيادة في شيء منها أو إحداث فرض جديد» جو فرائض میں اضافہ کرے یا نیا فرض گھڑ لے وہ بھی دین بدلنے والا ہے۔ یہ آج کے آئین پرست منافقین ہیں جو دین میں نئے "حقوق" گھڑتے ہیں، "جمہوری اقدار" کو واجب مانتے ہیں، "قومی ترانہ" اور "وطن پرستی" کو فرض عین کی طرح پیش کرتے ہیں۔ یہ سب دین بدلنے کے مترادف ہے۔
«وإما إحلال محرم كتحليل لحم الخنزير والخمر والميتة» یعنی حرام کو حلال قرار دینا۔ جو حرام کو حلال کرے وہ بھی کفر کا مرتکب ہے۔ آج سودی بینکاری کو "معاشی ضرورت" کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے، شراب کی دکانوں کے باقاعدہ "لائسنس" دئے جاتے ہیں، فحاشی کو "ثقافت" و آزادی کہہ کر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سب حرام کو حلال قرار دینا ہے اور جو ایسا کرے وہ یہود و نصاریٰ کی راہ پر چلنے والا مشرک ہے۔
«وإما تحريم محلل كتحريم لحم الكبش وما أشبه ذلك» یعنی حلال کو حرام کرنا۔ جو حلال کو حرام ٹھہراتا ہے وہ بھی کفر کا مرتکب ہے۔ آج کے منافق حکمران کبھی پردہ پر پابندی لگاتے ہیں، کبھی داڑھی رکھنے پر پابندی لگاتے ہیں، کبھی اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح کرنے کو جرم قرار دیتے ہیں۔ یہ سب حلال کو حرام کرنے والے مجرم ہیں۔
علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ نے یہاں جو اصول بتایا ہے وہی اصل میں طاغوتی قوانین کے باطل ہونے اور ان کے قائلین کے کفر اکبر پر نص ہے۔ کہ شریعتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فرض کو ساقط کرنا، کسی زائد فرض کا گھڑنا، کسی حرام کو حلال کرنا یا کسی حلال کو حرام ٹھہرانا یہ چاروں طریقے تحریفِ دین اور تشریعِ باطل ہیں۔
اس کے بعد علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں «وأي هذه الوجوه كان فالقائل به مشرك لاحق باليهود والنصارى» ان چاروں میں سے کسی بھی دروازے سے جو شخص داخل ہو وہ مشرک ہے، یہود و نصاریٰ کے حکم میں ہے۔ پس آج کے تمام جمہوری، سیکولر، لبرل قوانین گھڑنے والے اور ان کے قائل و راضی سب مشرک ہیں۔
یہ دراصل وہی جرم ہے جو یہود و نصاری نے کیا۔ انہوں نے اپنے احبار و رہبان کو رب بنا لیا کیونکہ وہ اللہ کی شریعت کو بدلتے اور لوگ ان کی اطاعت کرتے۔ پس جو آج کے دور کے مشرک حکمران اور پارلیمنٹ میں بیٹھے طواغیت، کفریہ دساتیر و قوانین بناتے ہیں اور عوام کو ان پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ نے اس قسم کے لوگوں کا حکمِ شرعی پہلے ہی بیان کرتے ہوئے فرمایا :
«والفرض على كل مسلم قتل من أجاز شيئا من هذا دون استتابة ولا قبول توبة إن تاب» یعنی ایسے لوگوں کو بغیر توبہ کرائے قتل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور اگر وہ توبہ بھی کریں تو قبول نہ کی جائے۔ ان سے نہ کوئی حجت قائم کی جائے، نہ انہیں توبہ کا موقع دیا جائے بلکہ "ولا قبول توبة إن تاب" یعنی اگر وہ توبہ بھی کریں تو قبول نہ کی جائے۔ یہ ہے اصل اسلام کا حکم! پس جو لوگ آج کے طاغوتی حکمرانوں کی حمایت کرتے ہیں یا ان کی پارلیمان کا حصہ ہیں ان سے ہر مسلمان کو قتال کرنا واجب ہے۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے مزید فرمایا: «واستصفاء ماله لبيت مال المسلمين لأنه مبدل لدينه» ان کے قتل کے بعد ان کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں داخل ہوگا کیونکہ وہ اپنے دین کو بدل چکے ہیں۔ یہی آج کے سیکولر طاغوتی حکمرانوں اور قانون سازوں کا حکم ہے کہ قتل کر کے ان کا مال غنیمت کی طرح مسلمانوں میں لوٹایا جائے۔
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے یہ فتویٰ محض رائے سے نہیں دیا بلکہ حدیثِ صحیح سے اخذ کیا: «وقد قال صلى الله عليه وسلم من بدل دينه فاقتلوه» " یعنی جس نے دین بدلا اسے قتل کر دو"۔ لہذا جو کوئی کہے کہ "یہ بات بہت سخت ہے" وہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا پر اعتراض اٹھا رہا ہے۔
پس واضح ہوگیا کہ آج پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قوانین بناتے والے یہ طواغیت بدترین مشرک ہیں۔ جو ان کفریہ قوانین پر راضی ہیں وہ بھی مشرک ہیں۔ ان سب کا وہی حکم ہے جو علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے تحریفِ دین اور تشریعِ باطل کے مرتکب کا بیان کیا۔
جو لوگ اللہ کے دین میں کمی یا زیادتی کرتے ہیں، حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہراتے ہیں، وہ عین کفر و شرک میں ہیں، یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے ان کے قتل، ان کی توبہ کے رد اور ان کے اموال کے استیفاء کا حکم دیا ہے۔
اے مسلمانو! اب تمہارے لئے کوئی عذر باقی نہیں۔ تم اللہ کی شریعت کو تھام کر ان طاغوتی حکمرانوں کے دساتیر کو پاش پاش کر دو۔ ان جمہوری مشرک قانون سازوں سے قتال کرو، ان کے اموال کو بیت المالِ مسلمین میں لوٹا دو۔
واللہ اعلم بالصواب، وإلیہ المرجع والمآب۔