کلیم حیدر
ناظم خاص
- شمولیت
- فروری 14، 2011
- پیغامات
- 9,747
- ری ایکشن اسکور
- 26,385
- پوائنٹ
- 995
علامہ ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر
جو بھلائے نہ جاسکیں گے!!
خالد سیال
17؍ مارچ 2012ء کی شام میں بچوں کے ہمراہ اسلام آباد کے معروف کا روباری مرکز کراچی کمپنی میں داخل ہی ہوا تھا کہ موبائل فون پر ایک دوست نے اطلاع دی کہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہرکو شہید کر دیا گیا۔ ........بلا اختیار پاؤں بریک پر جالگا اور میں ڈاکٹر صاحب کے موبائل پر فون کرنے لگا مگر ان کا موبائل پہلی بار بند پایا.....سفر و حضر میں ڈاکٹر صاحب کا فون بند نہ ہوتا تھا، میں نے فوراً گھر کے PTCLنمبر پر رابطہ کیا تو ان کے بیٹے سعد کے منہ سے روتے ہوئے صرف یہ الفاظ نکل پائے :’’خالد بھائی، کوئی ابّو کو شہید کر گیا ہے۔‘‘
میں سعد بھائی کو صرف اتنا کہہ پایا کہ میں آ رہا ہوں اور پھر آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا، کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا..... میں نے بچوں کو گھر چھوڑا اور ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچ گیا ۔ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر اپنے ڈرائنگ روم میں ابدی نیند سو رہے تھے ، بخاری شریف اُن کے بستر پر ہی تھی..... یوں لگ رہا تھا وہ گہری نیند سوئے ہیں اور ابھی اُٹھ جائیں گے۔ وہ سب غموں ، سب مصیبتوں اور سب دُکھوں سے آزاد ہو چکے تھے ، وہ خود مطمئن اور مسرور دکھائی دے رہے تھے مگر ان کے چاہنے والے دکھوں، غموں اور پریشانیوں میں گھر چکے تھے .....دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہو گئے۔ اکثر کی آنکھیں اشک بار اور دِل غم گسار تھے......مِری آنکھیں ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر جمی تھیں اور ذہن ماضی میں کھو گیا۔
یہ1988ء کی ایک سرد رات تھی....وفاقی دارالحکومت کے پوش سیکٹر ایف 7کے ایک بڑے مکان کی بالائی منزل کے ایک کمرے میں ، میں اپنے ایک دوست حافظ رضا ء اللہ جو آج کل ایک بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہیں، کے پاس بیٹھا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کُھلا اور ایک دراز قامت نوجوان اندر داخل ہوئے جن کے نورانی چہرے پر سیاہ داڑھی بڑی خوبصورت لگ رہی تھی....’’یہ ہیں حافظ عبدالرشید اظہر، معروف عالم دین ہیں ، مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور بڑے زندہ دل انسان ہیں اور حافظ صاحب یہ ہیں میرے دوست خالد سیال۔‘‘ حافظ رضاء اللہ نے ایک ہی سانس میں ہم دونوں کا تعارف کروا کر ہمیں آمنے سامنے کر دیا اور خود قہوہ پیالیوں میں اُنڈیلنے لگے ۔
اس پہلی ملاقات میں حافظ عبدالرشید اظہر کی شخصیت کا جو تاثر قائم ہوا، وہ آخر تک نہ صرف قائم رہا بلکہ ان کی شخصیت اور کردار کی خوبیاں ہر ملاقات کے بعد کھلتی چلی گئیں۔ ایف 7 کے اس کمرے میں حافظ رضاء اللہ کی وساطت سے ڈاکٹر صاحب سے کئی ملاقاتیں ہوئیں ، اُن کے ساتھ طویل بحث مباحثے ہوئے ،دینی، معاشرتی اور سیاسی موضوعات پر اکثر اُن سے تبادلہ خیال ہوتا رہتا، وہ ہر موضوع پر بڑی صائب اور نپی تُلی رائے رکھتے تھے ۔ حافظ صاحب بہت خوش خوراک اور ہنس مکھ تھے..... متعدد بار ایسا ہوا کہ ہم ایف 7سے پیدل نکلتے، بلیو ایریا میں عثمانیہ یا کسی دوسرے ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے اور پھر پیدل ہی واپس چل دیتے۔ راستے میں حافظ صاحب کبھی لطیفے سنا کر ہنساتے اور کبھی لا حول ولا قوة إلا بالله کہتے ہوئے آخرت کی یاد دلاتے..... لاحول ولا قوة إلا بالله کے جملہ سے حافظ صاحب کی زبان اکثر تر رہتی تھی۔ نجی ملاقاتوں کے دوران تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد لاحول ولا قوة إلا بالله پڑھنا اُن کی عادت سی بن گئی تھی۔’’کیا حال ہے خالد صاحب‘‘! ......یہ تھا وہ پہلا جملہ جو حافظ صاحب نے مجھے مخاطب کر کے کہا اور وہ اتنے مستقل مزاج تھے کہ جب ان سے ملاقات یا ٹیلیفون پر گفتگو ہوتی تو ادھر سے پہلا جملہ یہی سنائی دیتا کہ ’’کیا حال ہے خالد صاحب‘‘ !
حافظ عبدالرشید اظہر بلا شبہ علم کا سمندر تھے ۔آپ پی ایچ ڈی ڈگری لے کر ڈاکٹر بھی بن گئے تھے لیکن درحقیقت وہ کسی ڈگری کے محتاج نہ تھے ۔ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر عالم دین بھی تھے ،ادیب بھی، خطیب بھی، صاحبِ قلم بھی اور دعوت و تبلیغ کا علَم بھی تھامے ہوئے تھے ۔پورے ملک میں ہی نہیں بیرون ملک بھی ان کے چاہنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔اور یہ سب کچھ اُنہیں اللہ کے دین کی خدمت کے صلے میں حاصل ہوا۔تحصیل علم کےلئے حافظ صاحب جب گھر سے نکلے تھے تو خالی ہاتھ تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو علم، شہرت، دولت، ہر چیز سے نوازا۔ ایک اَن پڑھ خاندان کا یہ چشم و چراغ اب ہزاروں لوگوں کو علم کی روشنی پہنچا رہا تھا، اُن کی زندگیاں سنوار رہا تھا۔