• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علل کا لغوی معنیٰ

شمولیت
اگست 31، 2016
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
42
[ع ل ل] کا مادہ عربی زبان میں کسی فعل کے تکرار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
ایک دفعہ سیر ہونے کے بعد دوسری دفعہ پینے/تناول کرنے کے لئے عَلَلٌ بعد نَهَلٍ [1] کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ امام اصمعی فرماتے ہیں کہ اونٹ جب پہلی دفعہ پانی پیتا ہے ہے تو اس کو نھل کہتے ہیں جبکہ دوسری دفعہ کے پانی پینے کو علل کہتے ہیں[2]۔
ابن منظور فرماتے ہیں کہ جس طرح پانی پر وارد ہونے میں نھل اور علل کا لفظ مستعمل ہو اسی طرح رضاعت میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شاہد کے طور پر وہ ابن مقبل کا شعر پیش کرتے ہیں۔
غَزَال خَلاء تَصَدَّى لَهُ، ... فتُرْضِعُه دِرَّةً أَو عِلالا[3]
یکے بعد دیگرے پھلوں کے توڑنے/چننے کے لئے اور پے در پے مارنے کے لئے بھی اسی مادہ[ع ل ل] کا استعمال کیا جاتا ہے۔ صاحب الصحاح فرماتے ہیں: التَعْليلُ: سقيٌ بعد سقي، وجَنْيُ الثمرة مرّة بعد أخرى. وعلَّ الضاربُ المضروبَ، إذا تابعَ عليه الضربَ[4]
عبدالرزاق الصنعانی ﷫اپنے مصنَف میں فرماتے ہیں:
عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَضْرِبُ الرَّجُلَ بِالْعَصَا قَالَ: «شِبْهُ الْعَمْدِ فَإِنْ أَعَلَّ مَثْنَى وَثُلَاثَ فَفِيهِ الْقَوَدُ»[5]
یہاں بھی أَعَلَّ فعل ضرب کے دوبارہ اعادہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔
علی ﷜ فرماتے ہیں: عَظِيمِ جَزَائِكَ الْمَعْلُولِ[6] اس قول میں معلول کی وضاحت کرتے ہوئے ابن الاثير فرماتے ہیں: مَرَّةً بَعْد أخْرى[7]
بنو العلات (باپ شریک اولاد) کا لفظ بھی اس معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے ۔علۃ کا لفظ سوکن کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے یعنی شوہر ایک بیوی سے ضرورت پورے کرنے کے بعد دوسرے کے پاس آتا ہے[8]۔ بنو العلات کی وضاحت میں زین الدین الرازی فرماتے ہیں: بَنُو (الْعَلَّاتِ) أَوْلَادُ الرَّجُلِ مِنْ نِسْوَةٍ شَتَّى. سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِأَنَّ الَّذِي تَزَوَّجَ أُخْرَى عَلَى أُولَى قَدْ كَانَتْ قَبْلَهَا نَاهِلٌ ثُمَّ (عَلَّ) مِنْ هَذِه[9] اسی طرح صاحب قاموس المحیط فرماتے ہیں: والعَلَّةُ: الضَّرَّةُ. وبَنُو العَلَاّتِ: بَنو أُمَّهاتٍ شَتَّى من رَجُلٍ واحِدٍ، لأنَّ التي تَزَوَّجَها عَلَى أُولَى قد كانت قَبْلَها ناهِلٌ، ثم عَلَّ من هذِه.[10]
رسول اللہ ﷑ فرماتے ہیں: الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ[11] یعنی ایک ہی باپ کے اولاد ہیں۔
ایک فعل کے بعد دوسرے فعل کا آغاز پہلے سے جاری فعل کے ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے اس لئے [ع ل ل] کا مادہ کسی چیز سے منع کرنے ،چھڑوانے ، بہلانے یا مجازاً عذر، حجت ، سبب اور بقیۃ الشئی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
ابو ہریرہ ﷜فرماتے ہیں: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي مَجْهُودٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، فَقَالَ: «مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللهُ؟»، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي، قَالَ: فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئِ السِّرَاجَ، وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ، فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ، قَالَ: فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «قَدْ عَجِبَ اللهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ»[12] اس حدیث مبارکہ میں علل بہلانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
اسی طرح مرضعہ بچے کو دودھ سے چھڑانے کے لئے دوسری کسی خوراک سے بہلاتی ہے تو اس کے لئے بھی علل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اموی دور کے مشہور عرب شاعر جریر بن عطیہ کہتے ہیں۔
تُعَلِّلُ وَهْيَ ساغِبَةٌ بَنيها ... بأنْفاسٍ منَ الشَّبِمِ القَرَاحِ[13]
اسی طرح مسند حمیدی میں جابر ﷜ سے روایت ہے کہ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرَشَّتْ لَهُ صُورًا لَهَا، وَالصُّورُ النَّخْلَاتُ الْمُجْتَمِعَاتُ، وَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، فَأَكَلَ مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أُتِيَ بِعُلَالَةِ الشَّاةِ، فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْعَصْرِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ[14]
یہاں علالۃ الشاۃ سے مراد بقیۃ الحم کا تناول کرنا مراد ہے۔
بیماری [ مصروفیت ثانی]کی وجہ سے روزمرہ کے کاموں[ مصروفیت اول] میں خلل اور رکاوٹ واقع ہوتی ہے اس لئے اسی مانع کے سبب مرض کو بھی علت کہا جاتا ہے۔ صاحب الصحاح فرماتے ہیں: العِلَّةُ: المرض، وحدثٌ يشغل صاحبه عن وجهه، كأنَّ تلك العلَّةَ صارت شُغلاً ثانياً منَعَه شُغله الأول[15]
جابر بن عبداللہ﷜ فرماتے ہیں:
غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا، وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: «مَا لِبَعِيرِكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: عَلِيلٌ، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ[16]
اسی طرح ابو نعيم الاصبہاني نے حلیۃ الاولیاء میں عاصم بن ثابت کا شعر نقل کیا ہے ۔
ما علتى وأنا جلد نابل … والقوس فيها وتر عنابل
إن لم أقاتلكم فأمي هابل … الموت حق والحياة باطل
وكل ما حم الإله نازل … بالمرء والمرء اليه آيل [17]

یہاں پر [ع ل ل] عذر اور حجت کے معنیٰ میں آیا ہے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ علل کا غالباً استعمال تین معانیٰ میں ہوتا ہے ۔ تکرار، رکاوٹ اور مانع ، ضعف اور بیماری ۔
ابن فارس فرماتے ہیں کہ:
(عَلَّ) الْعَيْنُ وَاللَّامُ أُصُولٌ ثَلَاثَةٌ صَحِيحَةٌ: أَحَدُهَا تَكَرُّرٌ أَوْ تِكْرِيرٌ، وَالْآخَرُ عَائِقٌ يَعُوقُ، وَالثَّالِثُ ضَعْفٌ فِي الشَّيْءِ [18]
علم اصول حدیث میں لفظ علل بمعنی عیب کے مستعمل ہے۔ علامہ زرکشی فرماتے ہیں۔
وَأما قَول الْمُحدثين علله فلَان بِكَذَا فَهُوَ غير مَوْجُود فِي اللُّغَة وَإِنَّمَا هُوَ مَشْهُور عِنْدهم بِمَعْنى ألهاه بالشَّيْء وشغله من تَعْلِيل الصَّبِي بِالطَّعَامِ لَكِن اسْتِعْمَال الْمُحدثين لَهُ فِي هَذَا الْمَعْنى على سَبِيل الِاسْتِعَارَة[19]
ابن سیدہ فرماتے ہیں: والعِلَّة: الْمَرَض. عَلَّ يَعِلُّ واعْتَلّ، وأعلَّه الله، وَرجل عليل.[20]
عَلَّ: فعل لازم اور متعدی دونوں سے مستعمل ہے۔ واعتلَّ، أي مرض، فهو عَليلٌ. ولا أعَلَّكَ اللّٰه
عَلَّ یَعُلُّ اور عَلَّ یَعِلُّ دونوں ابواب سے مستعمل ہے اور اس کا مصدر عل علل ہے۔ جیسے کہ اعل الله یعنی اللہ نے اس کو بیمار کردیا۔




[1] [الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية (5/ 1773)]
[2] [تهذيب اللغة (1/ 79)]
[3] [لسان العرب (11/ 467)]
[4] [الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية (5/ 1773)]
[5] [مصنف عبد الرزاق (9/ 276 ت الأعظمي)]
[6] [مصنف ابن أبي شيبة (16/ 249 ت الشثري)]
[7] [النهاية في غريب الحديث والأثر (3/ 291)]
[8] [تاج العروس من جواهر القاموس (30/ 47)]
[9] [مختار الصحاح (ص216)]
[10] [القاموس المحيط (ص1035)]
[11] [صحيح مسلم (7/ 96)]
[12] [صحيح مسلم (6/ 127)]
[13] [تاج العروس من جواهر القاموس (30/ 45)]
[14] [مسند الحميدي (2/ 342)]
[15] [الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية (5/ 1773)]
[16] [صحيح مسلم (5/ 52)]
[17] [حلية الأولياء لأبي نعيم الأصبهاني (دار الكتاب العربي - بيروت): ج1ص111]
[18] [مقاييس اللغة (4/ 12)]
[19] [النكت على مقدمة ابن الصلاح للزركشي (2/ 206)]
[20] [المحكم والمحيط الأعظم (1/ 94)]
[المعجم الاشتقاقي المؤصل (3/ 1507)]

 
Top