• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء اور علم نفسیات

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,434
پوائنٹ
964
’’ ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ‘‘
بالا جملہ شاید آپ کے لائٹر کی روشنی کے نیچے نہیں آسکا ۔
(مسکراہٹ )
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,434
پوائنٹ
964
اور علماء کے ساتھ دیگر افراد کو جوڑنا کا مقصد یہ تھا کہ یہ ’’ علم دین ‘‘ کی برکت یا ’’ مولویت ‘‘ کا کرشمہ نہیں بلکہ یہ ایک انسانی کمزوری ہے جو دیگر لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ لہذا مولویوں کو خاص نہیں کرنا چاہیے ۔
جیساکہ اس تھریڈ کی ابتداء ہوئی ہے ۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ چیزیں بعض علماء میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔
لیکن یہ معاملہ صرف ’’ علماء ‘‘ کے ساتھ خاص نہیں ، کسی ایسے پیشے سےمنسلک افراد اور ملازمین کے رویے پر نظر دوڑائیں جنہیں عوام الناس سے کثرت سے واسطہ رہتا ہے ۔ مثلا سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین ، نادرہ دفتر میں کام کرنے والے ، پاسپورٹ دفتر کے اہلکار ، ان سب جگہوں پر آپ کو بعض ایسے افراد ملیں گے ، جو عوام کے گریبان تک بھی پہنچ جاتے ہیں ۔
ہماری دلیل قرآن و سنت سے ہونی چاہیئے۔لہذا خضر بھائی ، اس طرح کی مثالیں دینے سے گریز کریں ، پاکستان کے بعض عالم دین بھی ایسی مثالیں دینے لگے ہیں ، جس پر جب لوگوں کو سمجھ آئی تو انھوں نے خوب مسئلہ اٹھایا کہ آپ دنیا کے کاموں کی مثالیں دین میں کیوں دیتے ہیں۔ثبوت کے ساتھ اور باوثوق ذریعے سے یہ بات لکھ رہی ہوں۔برا نہ محسوس کیجیئے گا۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,434
پوائنٹ
964
ہماری دلیل قرآن و سنت سے ہونی چاہیئے۔لہذا خضر بھائی ، اس طرح کی مثالیں دینے سے گریز کریں ، پاکستان کے بعض عالم دین بھی ایسی مثالیں دینے لگے ہیں ، جس پر جب لوگوں کو سمجھ آئی تو انھوں نے خوب مسئلہ اٹھایا کہ آپ دنیا کے کاموں کی مثالیں دین میں کیوں دیتے ہیں۔ثبوت کے ساتھ اور باوثوق ذریعے سے یہ بات لکھ رہی ہوں۔برا نہ محسوس کیجیئے گا۔
کیا مطلب بہن ؟
میں نے کسی چیز کے جواز کی بات کی ہے ۔؟ جس پر مجھ سے دلیل کا مطالبہ کیا گیا ۔
 
  • پسند
Reactions: Dua

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جہاں پر علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ بات کو احسن انداز میں سمجھائیں(عوام کی ذہنی استعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے) تو دوسری طرف عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ دین کو سمجھنے میں غوروفکر وتدبر کو ملحوظ خاطر رکھیں کیونکہ دین میں تفقہ عوام پر بھی فرض ہے
اور جو دین کو سمجھنا چاہے تو اُس کے لیے اس دین کی راتیں بھی دن کی طرح روشن وچمکدار ہیں ، شرط ہے کہ وہ دل کا اندھا نہ ہو ۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
کیا مطلب بہن ؟
میں نے کسی چیز کے جواز کی بات کی ہے ۔؟ جس پر مجھ سے دلیل کا مطالبہ کیا گیا ۔
میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ چیزیں بعض علماء میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔
لیکن یہ معاملہ صرف ’’ علماء ‘‘ کے ساتھ خاص نہیں ، کسی ایسے پیشے سےمنسلک افراد اور ملازمین کے رویے پر نظر دوڑائیں جنہیں عوام الناس سے کثرت سے واسطہ رہتا ہے ۔ مثلا سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین ، نادرہ دفتر میں کام کرنے والے ، پاسپورٹ دفتر کے اہلکار ، ان سب جگہوں پر آپ کو بعض ایسے افراد ملیں گے ، جو عوام کے گریبان تک بھی پہنچ جاتے ہیں ۔
محترم بھیا! میرا مطلب آپ کی اس جوابی "پوسٹ" سے تھا۔اول تو اسلام پیشہ نہیں ہے۔اور دوسری بات موضوع پر پوچھے گئے سوال یعنی نفسیات ، تو وہ اسلام میں موجود ہے۔ ہم کیسے اس کا دنیا کے لوگوں سے تقابلی جائزہ لے سکتے ہیں ، یعنی کچھ علماء بعض چیزوں میں بشری کوتاہی کر رہیں ہوں ، تو ہم یہ کہہ دیں کہ دوسرے لوگ بھی ایسا کرتے ہیں۔حالانکہ ہماری دلیل قرآن و سنت ہونی چاہیئے۔مثالیں سمجھانے کے لیے ہوتی ہیں ، علما کرام یا اہل علم کے قول وعمل کے جواز کے لیے نہیں محترم بھائی۔
 
Top