• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء کی گواہی کہ مردے نہیں سنتے

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
919
ری ایکشن اسکور
261
پوائنٹ
142
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

علماء کی گواہی کہ مردے نہیں سنتے


اس تحریر کو رومن انگلش میں پڑھنے اور اسکین پیجیس کے لئے کلک کریں

https://ahlehadithhaq.wordpress.com/category/aqeedah-hayat-un-nabi-wa-sama-mauta/page/2/

۱- امام ابن جریر الطبری رح

اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے

إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

کہ جواب تو وہی دیتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالی (قیامت کے روز) زندہ کرے گا،پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گےـ (سورہ نمل آیت ۳۶)

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن جریر الطبری رح (متوفی ۳۱۰ ھ) فرماتے ہیں

والموتى يبعثهم الله”، يقول: والكفارُ يبعثهم الله مع الموتى، فجعلهم تعالى ذكره في عداد الموتى الذين لا يسمعون صوتًا، ولا يعقلون دعاء، ولا يفقهون قولا

کہ "والموتى يبعثهم الله" یعنی "اور مردوں کو تو اللہ تعالی (روز قیامت) زندہ کرے گا" اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کفار کو اللہ تعالی مردوں کے ساتھ ہی زندہ کرے گا،یوں اللہ تعالی نے انھیں (زندہ ہوتے ہوئے بھی) ان مردوں میں شامل کر دیا ہے جو نہ کسی آواز کو سن سکتے ہیں،نہ کسی پکار کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ کسی بات کا انہیں شعور ہوتا ہے ـ (تفسیر الطبری ج ۱۱ ص ۳۴۱)

۲ - رشید احمد گنگوہی حنفی

اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں

إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى وَلا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ إِذا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ

کہ (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) یقیناً نہ آپ کسی مردے کو سنا سکتے ہیں،نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جب وہ اعراض کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں ـ (سورہ نمل آیت ۸۰)

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رشید احمد گنگوہی حنفی فرماتے ہیں

واستدل المنكرون ومنهم عائشة وابن عباس ومنهم الامام،بقوله تعالى: (إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى) فإنه لما شبه الكفار بالأموات في عدم سماع،علم أن الأموات لا يسمعون والا لم يصح التشبيه

کہ جو لوگ (مردے کے سننے) کے انکاری ہیں ان میں عائشہ رضی اللہ عنہا،ابن عباس رضی اللہ عنہ اور امام (ابو حنیفہ) رح شامل ہیں ـ ان کا استدلال اس فرمان باری تعالی سے ہے “إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى” کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً آپ مردوں کو نہیں سنا سکتےـ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کفار کو نہ سن سکنے میں مردوں سے تشبیہ دی ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ مردے نہیں سنتے ورنہ تشبیہ ہی درست نہیں رہتی ـ (الکوکب الدری علی جامع الترمذی ج ۲ ص ۱۹۷)

۳ - مسعود بن عمر تفتازانی حنفی رح

اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں

وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ

کہ اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے،اللہ تعالی جسکو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں ـ (سورہ فاطر آیت ۲۲)

مسعود بن عمر تفتازانی ماتریدی حنفی (متوفی ۷۹۳ ھ) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وأما قوله تعالى: (وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ) فتمثل بحال الكفرة بحال الموتي ،ولا نزاع في أن الميت لا يسمع

کہ اپنے اس فرمان گرامی "وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ " کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر والوں کو نہیں سنا سکتے میں اللہ تعالی نے کافروں کی حالت کو مردوں کی حالت سے تشبیہ دی ہے اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ مردے نہیں سنتے ـ (شرح المقاصد ج ۵ ص ۱۱۶)

۴ - امام ابن ھمام حنفی رح

امام ابن ھمام حنفی رح (متوفی ۸۶۱ ھ) دو آیت نقل کرتے ہیں

وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ

کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں ـ (سورہ فاطر آیت ۲۲)

إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى

کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً آپ مردوں کو نہیں سنا سکتےـ (سورہ نمل آیت ۸۰)

ان دونوں آیات کو نقل کرنے کے بعد امام ابن ھمام حنفی رح فرماتے ہیں

فَإِنَّهُمَا يُفِيدَانِ تَحْقِيقَ عَدَمِ سَمَاعِهِمْ، فَإِنَّهُ تَعَالَى شَبَّهَ الْكُفَّارَ بِالْمَوْتَى لِإِفَادَةِ تَعَذُّرِ سَمَاعِهِمْ وَهُوَ فَرْعُ عَدَمِ سَمَاعِ الْمَوْتَى،

کہ ان دونوں آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے قطعاً نہیں سن سکتے،اللہ تعالی نے کفار کو مردوں سے تشبیہ دی ہے تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ وہ سن نہیں سکتے، کفار کا حق کو نہ سن سکنا،عدم سماع موتی کی فرع ہے ـ (شرح فتح القدیر ج ۲ ص ۱۰۷)
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
919
ری ایکشن اسکور
261
پوائنٹ
142
۵ - علامہ ابو محمد عبدالواحد ابن تَیٌِن رح

شارح بخاری علامہ ابو محمد عبدالواحد ابن تَیٌِن رح (متوفی ۶۱۱ ھ) فرماتے ہیں


إن الموتى لا يسمعون بلا شك


کہ یقیناً مردے نہیں سنتے ـ (فتح الباری شرح صحیح بخاری لابن حجر ج ۳ ص ۲۳۵)

۶ - امام مہلب بن احمد بن اسید التمیمی رح

شارح بخاری امام مہلب بن احمد بن اسید التمیمی رح (متوفی ۴۳۵ ھ) فرماتے ہیں


: لا يسمعون، كما قال تعالى: (إنك لا تسمع الموتى) [النمل: 80] ،) وما أنت بمسمع من فى القبور

کہ مردے نہیں سنتے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے (سورہ نمل آیت ۸۰) نیز فرمایا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ قبروں میں موجود لوگوں کو نہیں سنا سکتے (سورہ فاطر آیت ۲۲) ـ ( شرح صحیح بخاری لابن بطال ج ۳ ص ۳۲۰)

۷ -امام ابن حجر عسقلانی رح

مردوں کو سلام کرنے سے متعلق امام ابن حجر عسقلانی رح (متوفی ۸۵۲ ھ) فرماتے ہیں

وَاسْتدلَّ جمَاعَة مِنْهُم عبد الْحق على حُصُول الِاسْتِمَاع من الْمَيِّت بمشروعية السَّلَام على الْمَوْتَى فَقَالُوا لَو لم يسمعوا السَّلَام لَكَانَ خطابهم بِهِ عَبَثا وَهُوَ بحث ضَعِيف لِأَنَّهُ يحْتَمل خلاف ذَلِك فقد ثَبت فِي التَّشَهُّد مُخَاطبَة النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ لَا يسمع جَمِيع ذَلِك قطعا فخطاب الْمَوْتَى بِالسَّلَامِ فِي قَول الَّذِي يدْخل الْمقْبرَة السَّلَام عَلَيْكُم أهل الْقُبُور من الْمُؤمنِينَ لَا يسْتَلْزم أَنهم يسمعُونَ ذَلِك بل هُوَ بِمَعْنى الدُّعَاء فالتقدير اللَّهُمَّ اجْعَل السَّلَام عَلَيْكُم كَمَا تقدر فِي قَوْلنَا الصَّلَاة وَالسَّلَام عَلَيْك يَا رَسُول الله فَإِن الْمَعْنى اللَّهُمَّ اجْعَل الصَّلَاة وَالسَّلَام على رَسُول الله فقد ثَبت فِي الحَدِيث الصَّحِيح فِي أَن العَبْد إِذا قَالَ السَّلَام علينا وعَلى عباد الله الصَّالِحين أصَاب كل عبد صَالح // صَحِيح // فَهُوَ خبر بِمَعْنى الطّلب فالتقدير اللَّهُمَّ سلم عَلَيْهِم وَالله أعلم

کہ ایک جماعت،جن میں عبدالحق (الشبلی) بھی شامل ہیں،نے مردوں کو سلام کرنے کی مشروعیت سے سماع موتیٰ پر استدلال کیا ہےـان کا کہنا ہے کہ مردے سلام نہیں سنتے تو انکو مخاطب کرنا فضول ہےـ...لیکن یہ کمزور موقف ہے،کیونکہ مردوں کو سلام کہنے میں اس (خطاب) کے برعکس اور احتمال بھی ہے،وہ یہ کہ تشہد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے سلام کہنا ثابت ہےـلیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں سب لوگوں کی طرف سے کہے گئے سلام قطعاً نہیں سنتےـاسی طرح قبرستان میں داخل ہونے والے شخص کا مؤمن مردوں کو سلام کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے اللہ! ان پر سلامتی نازل فرما،جیسا کہ الصلاة والسلام عليك يا رسول الله مطلب ہے کہ اے اللہ! تو اپنے رسول پر رحمت اور سلامتی نازل فرماـصحیح حدیث میں ثابت ہے کہ جب بندہ تشہد میں کہتا ہے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین کہ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی تو ہر نیک شخص تک یہ دعا پہنچ جاتی ہےـیوں یہ خبر بمعنی انشاء ہوئیـاسکا معنی یہ ہوا کہ اے اللہ! تو تمام نیک لوگوں پر سلامتی نازل فرما واللہ اعلمـ (الامتاع بالاربعين المتباينة السماع لابن حجر ص ۵۲،دوسرا نسخہ ص ۸۶)

۸ - امام ابو حنیفہ رح

فقہ حنفی سے منسلک لوگوں کو اپنے امام کے اس فتوے پر عمل کرنا چاہئے

رأى الامام ابو حنيفة من ياتى القبور لاهل الصلاح فيسلم ويخاطب ويتكلم ويقول يا أهل القبور هل لكم من خبر وهل عندكم من اثر انى اتيتكم من شهور وليس سؤلى الاالدعافهل دريتم ام غفلتم فسمع ابوحنيفة بقول يخاطبه بهم فقال هل اجابولك قال لافقال له سحقا لك وتربت يداك كيف تكلم اجسادا لايستطيعون جوابا ولايملكون شياء ولا يسمعون صوتا وقراوما انت بمسمع من فى القبور


امام ابو حنیفہ سے مروی ہے کہ امام ابو حنیفہ نے ایک شخص کو کچھ نیک لوگوں کی قبروں کے پاس آکر سلام کر کے یہ کہتے سنا کہ اے قبر والو! تم کو کچھ خبر بھی ہے اور کیا تم پر اس کا کچھ اثر بھی ہے کہ میں تمہارے پاس مہینوں سے آرہا ہوں اور تم سے میرا سوال صرف یہ ہے کہ میرے حق میں دعا کر دو - بتاؤ! تمہیں میرے حال کی کچھ خبر بھی ہے یا تم بلکل غافل ہو - ابو حنیفہ نے اس کا یہ قول سن کر اس سے دریافت کیا کہ کیا قبر والوں نے کچھ جواب دیا؟ وہ بولا نہیں دیا - امام ابو حنیفہ نے یہ سن کر کہا کہ تجھ پر پھٹکار - تیرے دونوں ہاتھ گرد آلود ہو جائیں تو ایسے جسموں سے کلام کرتا ہے جو نہ جواب ہی دے سکتے ہیں اور وہ نہ کسی چیز کے مالک ہی ہیں اور نہ آواز ہی سن سکتے ہیں - پھر امام ابو حنیفہ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ "اے نبی صلی الله علیہ وسلم تم ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں کچھ نہیں سنا سکتے - الفاطر:٢٢". (شفاء الصدور للنيلوي ص ٤٤،احكام الموتي والقبور ص ٩٢،غرائب فی تحقیق المذاہب و تفہیم المسائل ، صفحہ ٩١ صفحہ ١٧٢ ، محمد بشیر الدین قنوجی بحوالة جهود العلماء الحنفية ص ٨٦٨)

کنٹینیو ان شاء اللہ
 
شمولیت
مئی 09، 2014
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
48
کچھ لوگ ایک حدیث بیان کرتےہیں (مجھے حدیث ٹھیک سے یاد نہیں) کہ مردہ اس کو دفنا کر واپس جانے والوں کے قدموں کی آواز سنتا ہے، اور اسی حدیث کو بنیاد بنا کر وہ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,454
پوائنٹ
964
کچھ لوگ ایک حدیث بیان کرتےہیں (مجھے حدیث ٹھیک سے یاد نہیں) کہ مردہ اس کو دفنا کر واپس جانے والوں کے قدموں کی آواز سنتا ہے، اور اسی حدیث کو بنیاد بنا کر وہ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں۔
جی ایسی اور بھی احادیث ہیں ۔
لیکن جہاں جہاں سننے کی نفی آئی ہے مطلقا ہے ، اور جہاں اثبات ہے ، وہاں مخصوص حالات ہیں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل یہی ہے کہ مردے سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، لیکن جہاں اللہ تعالی سنوانا چاہتے ہیں سنتے ہیں ۔
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
919
ری ایکشن اسکور
261
پوائنٹ
142
کچھ لوگ ایک حدیث بیان کرتےہیں (مجھے حدیث ٹھیک سے یاد نہیں) کہ مردہ اس کو دفنا کر واپس جانے والوں کے قدموں کی آواز سنتا ہے، اور اسی حدیث کو بنیاد بنا کر وہ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بھائی بہت سی روایت میں میت کے جوتوں کی آواز سننے کا ذکر ہے۔ یہ ایک استثناء ہےـ ان احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مردے سن نہیں سکتےـ مردوں کے نہ سن سکنے کا قانون اپنی جگہ مستقل ہےـ اگر وہ ہر وقت سن سکتے ہوتے تو "حین یولون عنه" (جب لوگ میت کو دفنا کر واپس ہو رہے ہوتے ہیں) اور "إذا انصرفوا" (جب لوگ لوٹتے ہیں) کی قید لگا کر مخصوص وقت بیان کرنے کا کیا فائدہ تھا؟ مطلب یہ ہے کہ قانون اور اصول تو یہی ہے کہ مردہ نہیں سنتا، تاہم اس حدیث نے ایک موقع خاص کر دیا کہ دفن کے وقت جو لوگ موجود ہوتے ہیں،ان کی واپسی کے وقت میت ان لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنتی ہے ـ
پھر عربی گرائمر کا اصول ہے کہ جب فعل مضارع پر لام داخل ہو تو معنی حال کے ساتھ خاص ہو جاتا ہے یعنی
"لیسمع" وہ خاص اس حال میں سنتے ہیںـ
اس تحقیق کی تائید اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوتی ہے جس کو امام طحاوی حنفی رح نے نقل کیا ہے

والذى نفسي بيده! انه ليسمع خفق نعالهم،حين تولون عنه مدبرين

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً جب لوگ میت کو دفن کر کے واپس جا رہے ہوتے ہو تو وہ ان جوتوں کی آواز سنتی ہے ـ (شرح معانی الآثار للطحاوی ج ۱ ص ۵۱۰ وسند حسن)

مشہور عرب،اہل حدیث عالم شیخ محمد بن صالح العثیمین رح (متوفی ۱۴۲۱ ھ) فرماتے ہیں

فهو وارد في وقت خاص،وهو انصراف المشيعين بعد الدفن

کہ مردوں کا یہ سننا ایک خاص وقت میں ہوتا ہے اور وہ دفن کرنے والوں کا تدفین کے بعد واپس لوٹنے کا وقت ہے ـ (القول المفید علی کتاب التوحید ج ۱ ص ۲۸۹)
 
شمولیت
مئی 09، 2014
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
48
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم : (٣٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٠) (صحیح)
وضاحت: ١؎ : مردہ واپس لوٹنے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کیونکہ وہ نیچے زمین میں ہے اور چلنے والے اوپر چل رہے ہوتے ہیں، ان کی بات چیت نہیں سنتا کیونکہ قبر پر آواز جانے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس سے سماع موتیٰ پر استدلال کرنا محض غلط ہے، کیونکہ لوٹنے والوں کی بات سننے کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے، لہذا جوتیوں کی دھمک سننے سے بات چیت کے سننے کا اثبات غلط ہے، نیز حدیث میں اس خاص موقع پر مردوں کے سننے کی یہ بات آئی ہے، جیسے غزوہ بدر میں قریش کے مقتولین جو بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے تھے، اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مخاطب کیا تھا یہ بھی مخصوص صورت حال تھی، اس طرح کے واقعات سے مردوں کے عمومی طور پر سننے پر استدلال صحیح نہیں ہے، دلائل کی روشنی میں صحیح بات یہی ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں، (ملاحظہ ہو علامہ آلوسی کی کتاب: ’’ کیا مردے سنتے ہیں ؟ ‘‘ نیز مولانا عبداللہ بھاولپوری کا رسالہ ’’ سماع موتی ‘‘ )۔
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
919
ری ایکشن اسکور
261
پوائنٹ
142
۹- امام فخر الدین الرازی رح

اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں

إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

کہ جواب تو وہی دیتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالی (قیامت کے روز) زندہ کرے گا،پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گےـ (سورہ انعام آیت ۳۶)

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام فخرالدین الرازی رح (متوفی ۶۰۴ ھ) فرماتے ہیں


أَنَّ الَّذِينَ تَحْرِصُ عَلَى أَنْ يُصَدِّقُوكَ بِمَنْزِلَةِ الْمَوْتَى الَّذِينَ لَا يَسْمَعُونَ

کہ جن کے بارے میں آپ سے حرص کرتے ہیں کہ وہ آپکی تصدیق کریں گے وہ تو مردوں کی طرح ہیں جو نہیں سنتے ـ (تفسیر الرازی ج ۱۲ ص ۲۱۹)

۱۰- امام عبداللہ بن عمر بن محمد الشیرازی البیضاوی رح

اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں

إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

کہ جواب تو وہی دیتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالی (قیامت کے روز) زندہ کرے گا،پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گےـ(سورہ انعام آیت ۳۶)

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام عبداللہ بن عمر بن محمد الشیرازی البیضاوی رح (متوفی ۶۸۵ ھ) فرماتے ہیں

وهؤلاء كالموتى الذين لا يسمعون

کہ اور وہ مردوں کے جیسے ہیں جو نہیں سنتےـ (تفسیر البیضاوی ج ۲ ص ۱۶۰)

۱۱- امام محمد بن ابراھیم الخازن رح

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام محمد بن ابراھیم الخازن رح (متوفی ۷۴۵ ھ) فرماتے ہیں

الموتي يعني الكفار الذين لا يسمعون ولا يستجيبون

کہ اس لئے کفار کو مردوں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ مردہ یقیناً نہیں سنتا اور نہ ہی جواب دیتا ہےـ (تفسیر الخازن ج ۲ ص ۱۱۰)

۱۲- امام احمد بن محمود النسفی رح

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام احمد بن محمود النسفی رح (متوفی ۷۱۰ ھ) فرماتے ہیں

{يَبْعَثُهُمُ الله ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ} فحينئذ يسمعون وأما قبل ذلك فلا

کہ مردوں کو اللہ تعالی قیامت کے دن زندہ کر کے اٹھائے گا۔۔۔ تب وہ سنیں گے اس سے پہلے نہیں ـ (تفسیر النسفی مدارک التنزیل ج ۱ ص ۵۰۲)
 
Last edited:
Top