علمِ حدیث میں خواتین کا کردار: ایک تحقیقی مطالعہ (قسط 7 - آخری حصہ)
موضوع: ڈاکٹر اکرم ندوی کی "الوفاء" اور نئی نسل کے لیے پیغام
اس تحقیقی سیریز کے اختتام پر ہم اس شاہکار کا ذکر کریں گے جس نے جدید دور میں علمِ حدیث کی تاریخ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک کھوئی ہوئی سلطنت کی دوبارہ دریافت ہے۔
1. 43 جلدیں اور 9,328 محدثات: ایک علمی دھماکہ
آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے جب اپنی تحقیق شروع کی، تو ان کا ارادہ صرف ایک چھوٹا سا رسالہ لکھنے کا تھا۔ لیکن جب انہوں نے قدیم مخطوطات (Manuscripts) کو کھولا، تو وہ حیران رہ گئے۔ انہیں ایسی ایسی خواتین کے نام ملے جن کا تذکرہ پچھلے 500 سال سے کسی کتاب میں نہیں ہوا تھا۔
15 سال کی محنت کے بعد انہوں نے "الوفاء بأسماء النساء" کے نام سے 43 جلدوں پر مشتمل ایک انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا جس میں 9,328 محدثات کے حالات درج ہیں۔ یہ کتاب اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کا علمِ حدیث میں حصہ محض "چند ناموں" تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ ایک پورا نظام تھا۔
2. وہ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے
ڈاکٹر ندوی کی تحقیق سے پتہ چلا کہ:
•
کئی خواتین ایسی تھیں جن کے پاس "صحیح بخاری" کے وہ نسخے تھے جو مردوں کے پاس موجود نسخوں سے زیادہ مستند تھے۔
•
دمشق کی جامع مسجد میں خواتین کے لیے باقاعدہ "مسندِ تدریس" مخصوص تھی جہاں وہ سینکڑوں مردوں کو حدیث پڑھاتی تھیں۔
•
بعض خواتین محدثات ایسی تھیں جنہوں نے شادی نہیں کی اور اپنی پوری زندگی صرف اور صرف حدیث کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
3. مستقبل کا لائحہ عمل: ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
یہ تحقیق ہمیں صرف ماضی پر فخر کرنے کے لیے نہیں دی گئی، بلکہ یہ ہمیں ایک راستہ دکھاتی ہے۔
•
نصاب کی تبدیلی: ہمارے مدارس کے نصاب میں "محدثات" کے تذکرے کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طالبات کو پتہ چلے کہ ان کی اسلاف خواتین کا مقام کیا تھا۔
•
تحقیقی مراکز: خواتین کے لیے ایسے تحقیقی مراکز (Research Centers) قائم کیے جائیں جہاں وہ حدیث کی اسناد اور متن پر کام کر سکیں۔
•
سماجی بیداری: ہمیں اس غلط فہمی کو دور کرنا ہوگا کہ علمِ حدیث صرف مردوں کا میدان ہے۔
حاصلِ کلام:
علمِ حدیث کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس میں خواتین کے سنہری کردار کو شامل نہ کیا جائے۔ یہ 9,000 محدثات ہمیں پکار رہی ہیں کہ ہم ان کی چھوڑی ہوئی وراثت کو سنبھالیں اور دوبارہ اس علمی مقام کو حاصل کریں جہاں عورت "امت کی معلمہ" تھی۔
(ختم شد)
تحقیق و ترتیب: ایک محقق