• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم اور منطق

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
139
پوائنٹ
118
جب انسان اصول فقہ و فقہ کا یا عقیدہ و علم الکلام کا طالب علم ہو تو اس کا ذہن منطقی ہوجاتا ہے. وہ معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا شروع ہوجاتا ہے مختلف اقوال میں جو احتمالات ہوتے ہیں اس پر اس کی نظر جانی شروع ہوجاتی ہے. ان احتمالات میں سے صائب کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہونا شروع ہوجاتی اور بقیہ کے جوابات پر قدرت آنا شروع ہوجاتی ہے.

یہ صلاحیتیں جو اللہ تعالی انسان کو عطا کرتا ہے یہ دو دھاری تلوار ہیں. جس انسان کو ان صلاحیتوں میں سے جتنا حصہ ملتا ہے اتنی اس کی ذمہ داری بڑھتی ہے.

ہر انسان سے زندگی میں خطا ہوتی ہے وہ کسی سے محبت کرتا ہے کسی سے نفرت کرتا ہے. عام انسان کا معاملہ آسان ہوتا ہے. وہ ایسے کہ اس کا ذہن اس کے لیے logical fallacies نہی گھڑتا. اگر گھڑتا بھی ہے تو وہ اتنی مضبوط نہی ہوتیں اور سمجھانے والا اس کو سمجھائے تو وہ سمجھ سکتا ہے (اگر وہ مخلص ہو). عالم کا معاملہ سخت ہے. اول تو اس کا دماغ چونکہ عالی ہوتا ہے شیطان اس کے ذریعہ کافی مضبوط تاویلیں گھڑتا ہے. دوم چونکہ وہ دین کا علم رکھتا ہوتا ہے تو اس کے استدلالات دینی نصوص پر مبنی ہوتے ہیں. اگر وہ درست منھج پر بھی ہو شیطان اس درست موقف کو غلط محل پر رکھوانے کی کوشش کرتا ہے. اور ایسے مواقع پر سب سے بڑی آفت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اخلاص کے ساتھ حق پر سمجھ رہا ہوتا ہے. یا اگر متفق علیہ گناہ ہو تو شیطان انسان کی اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اس کا گناہ اس کے سامنے چھوٹا بنانے کی کوشش کرتا ہے.

لہذا ہم میں سے ہر ایک کو اپنا بے لاگ محاسبہ و اصلاح کرتے رہنا چاہئیے. اور اللہ تعالی کے سامنے ہدایت کے لیے اور توبہ و استغفار کے لیے دامن پھیلائے رکھنے چاہئیں.
 

سید طہ عارف

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 18، 2016
پیغامات
737
ری ایکشن اسکور
139
پوائنٹ
118
*علم اور منطق*

(مندرجہ ذیل چشتی صاحب کی اصلاحات و اضافوں کے ساتھ ہے)

جب انسان اصول فقہ اور علم فقہ کا ، یا علم الکلام اور عقیدے کا طالب علم ہوجائے تو اس کا ذہن منطقی ہوجاتا ہے. وہ معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ مختلف اقوال میں جو احتمالات ہوتے ہیں اس پر اس کی نظر جانی شروع ہوجاتی ہے. ان احتمالات میں سے صائب کو پہچاننے کی صلاحیت کا آغاز ہو جاتا اور بقیہ کے جوابات پر قدرت آنا شروع ہوجاتی ہے.

جب یہ صلاحیتیں اللہ تعالی کسی انسان کو عطا کرتا ہے تو یہ دو دھاری تلوار بھی بن سکتی ہیں. جس انسان کو ان صلاحیتوں میں سے جتنا زیادہ حصہ ملتا ہے ، اتنی ہی اس کی ذمہ داری بھی بڑھتی جاتی ہے.

ہر انسان سے زندگی میں خطائیں ہوتی ہیں لیکن عالم اور فقیہ کا معاملہ عام آدمی سے مختلف ہوتا ہے۔ عام آدمی بھی کسی سے بے حد محبت کرنے لگتا ہے اور کسی سے شدید نفرت کرنے لگتا ہے.

عالم کے مقابلے میں عام انسان کا معاملہ آسان ہوتا ہے. عام آدمی کا ذہن اس کے لیے logical fallacies نہی گھڑتا. بالفرض کبھی گھڑ بھی لے تو وہ اتنی مضبوط نہی ہوتیں ۔ کوئی معقول مخلص سمجھانے والا اسے سمجھائے تو وہ سمجھ لیتا ہے (اگر وہ مخلص ہو).
اس کے بر خلاف عالم کا معاملہ بہت سخت ہوتا ہے.
اولا شیطان اس کے عالی دماغ کے لیے نہایت قوی اور مضبوط تاویلیں گھڑتا ہے.
ثانیا دینی علم کی وجہ سے اس کے استدلالات دینی نصوص پر مبنی ہوتے ہیں. جب وہ درست منھج پر ہوں تب بھی شیطان اس درست موقف کو غلط محل پر رکھواتا ہے پھر اس کے بعد سب سے بڑی آفت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو پیغمبر اور نبی کی طرح حق پر سمجھتا ہے، جس سے سہو کا امکان ہی خارج ہو۔۔ کبھی کوئی مسئلہ متفق علیہ بڑا گناہ ہو تو شیطان انسان کے سامنے اس کا گناہ چھوٹا کرکے دکھاتا ہے.

شیطان چاہتا ہے کہ عالم دوسرے عالم میں کوئی صواب ہی نہ دیکھے۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے عالم کی زیادہ سے زیادہ غلطیاں نمایاں ہوجائیں۔ اپنی غلطیاں خفیف سمجھنے لگے۔ اس کیفیت میں وہ اپنے اپ کو زیادہ ذہین ، زیادہ فقیہ ، زیادہ علیم ، زیادہ مخلص اور امت کا زیادہ ہم درد اور بہت بڑا مصلح گرداننے لگتا ہے ۔ اسے اپنی ذات اور اپنی فکر کے علاؤہ ہر جگہ فساد ہی فساد اور شر ہی شر نظر آتا ہے۔ وہ اپنے لیے رخصتیں تلاش کرلیتا ہے۔ دوسرے عالم کو ذبح کرکے بلائے عظیم میں سرخرو ہونے پر خوشی سے سرشار ہو جاتا ہے۔

لہذا ہم میں سے ہر ایک کو اپنا اپنا بے لاگ محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اصلاح کی مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہئیے. اور اللہ تعالی کے سامنے ہدایت کے لیے اور توبہ و استغفار کے لیے دامن پھیلائے رکھنے چاہئیے۔
مخالف کی نیت پر شبہ کا اظہار نہ کیا جائے۔
دوسرے کے ناسخ و منسوخ اور ابتدائی اور انتہائی کلام کو سامنے رکھنا چاہیے۔
اچھا عالم اسی وقت پڑھا اور سنا جاتا ہے جب وہ اپنے مخالف کی تعریف کرکے کمزور پہلوؤں کی نشان دہی کرتا ہے۔ کافر کے خیالات اور عقیدے کو غلط ثابت کرکے اس کی نیک طینی سے امید رکھتا ہے کہ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو سکتا ہے۔
اپنے غلط ہونے کے امکان کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔
دوسرے کے صحیح ہونے کے احتمال پر بھی یقین ہو۔
تکبر اور عجب انسان کو کہیں کا نہیں رکھتا۔
اعاذنا اللہ
ہر تقریر اور ہر تحریر کے بعد اللہ اعلم بالصواب کا الفاظ دل کی گہرائیوں سے شعوری طور پر ادا کرنا چاہیے۔
 
Top