• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم کے دو برتن کیا ہیں؟

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
علم کے دو برتن کیا ہیں؟

محمد رفیق طاھر​

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے فرمان " میں نے علم کے دو برتن یاد کیے ہیں "سے کیا مراد ہے ؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب واليه المرجع والمآب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ پہلے اچھی طرح سے سمجھ لیں ' وہ فرماتے ہیں :
" حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ: فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا البُلْعُومُ "
میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے علم کے دو برتن یاد کیے ہیں جن میں سے ایک تو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا ایسا ہے کہ اگر میں اسے پھیلاؤں تو یہ شہ رگ کاٹ دی جائے ۔ [صحیح بخاری کتاب العلم باب حفظ العلم (۱۲۰)]
اس حدیث کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے علم کے دونوں برتن ظاہر کیے ہیں ۔ ہاں ایک کو پھیلایا ہے اور دوسرے کو پھیلایا نہیں ہے ۔
اس دوسرے برتن کو وہ تلمیحات واشارات کے ذریعہ ظاہر کرتے رہے ہیں ۔ اور یہ علم خلافت وامارت اور فتن کے متعلق تھا ۔ جسے انہوں نے واضح لفظوں میں صرف اس لیے بیان نہیں کیا کہ انہیں قتل کا خدشہ تھا ۔
مثلا فرماتے ہیں :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَمِنْ إِمْرَةِ الصِّبْيَانِ»
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن ستر (۷۰) کے اوائل اور بچوں کی امارت سے پناہ مانگو ۔ [مصنف ابن أبی شیبہ ج ۷ ص 461 ح 37235]
تنبیہ بلیغ :
بعض لوگ اس روایت سے یزید بن معاویہ کا دور حکومت لیتے ہیں لیکن اس سے وہ قطعا مراد نہیں !
کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں سن ہجری کا آغاز نہیں ہوا تھا اور اس حدیث سے مراد نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ستر سال ہے ۔ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف تین سال قبل مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں ۔ اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وفات ہجری سن کے اعتبار سے ۱۱ ہجری کو ہے ۔ تو اس ستر سےمراد ۸۰ ہجری بنتا ہے ۔ گویا نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے ۸۰ ہجری کے اوائل سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے ۔
لہذا یزید بن معاویہ اسکا مصداق نہیں ہوسکتا کیونکہ اسکی وفات اس سے سولہ سال قبل ۶۴ ہجری کو ہوئی ہے۔
اور اگر اس سے سن ہجری بھی مراد لے لیا جائے تب بھی یزید بن معاویہ اسکا مصداق نہیں بنتا کیونکہ اسکی وفات چھ سال قبل بنتی ہے ۔
الغرض کسی بھی طور اس حدیث کا مصداق یزید بن معاویہ نہیں !
یاد رہے کہ جن روایات میں سن ساٹھ یا اسکے اوائل سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے وہ تمام تر ثابت نہیں !
اور بچوں کی امارت سے کون سا دور مراد ہے ۔ اسکی تحدید وتعیین کسی حدیث میں وارد نہیں ہوئی ۔ یعنی جو بھی دور بچوں کی امارت کا دور ہوگا اس سے پناہ مانگنی چاہیے
اور حدیث کے یہ الفاظ بھی یزید بن معاویہ پر صادق نہیں آتے کیونکہ جب یزید کو امارت ملی اسوقت وہ بچے نہیں تھے کہ انہیں صبی کہا جاسکے !!!
اسی طرح فرماتے ہیں :
سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقُ يَقُولُ هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ مَرْوَانُ غِلْمَةٌ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُسَمِّيَهُمْ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ
[صحیح بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الإسلام (۳6۰۵)]
میں نے صادق ومصدوق یعنی نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ میری امت کی ہلاکت قریش کے بچوں کے ہاتھوں ہوگی ۔ تو مروان نے کہا بچے ؟ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو چاہے تو میں انکے نام لے سکتا ہوں بنی فلاں اور بنی فلاں۔
یعنی یہ وعاء فتن اور امور حکومت سے متعلق تھی ۔ جسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے لیکن اسے پھیلایا نہیں ہے ۔
جسکی مثال مذکورہ بالااور اس طرح کی بہت سی دیگر احادیث ہیں ۔
تنبیہ بلیغ :
بعض صوفیاء اس روایت سے یہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ علم جو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے چھپا کر رکھا تھا وہ باطنی یا طریقت کا علم ہے ۔
حاشا وکلا ! ہرگز ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس قسم کی کوئی بات بھی منقول نہیں ہے ۔
اور اگر وہ کہیں کہ انہوں نے بیان ہی نہیں کی تو منقول کیسے ہوسکتی ہے ۔ تو ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے بیان ہی نہیں کی تو تمہیں کہاں سے معلوم ہوگئی ؟! ۔
تنبیہ ثانی :
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی بھی بات چھپائی نہیں ہے ۔ بلکہ سب کچھ بیان کر دیا ہے ۔ ہاں کچھ باتیں سب کے سامنے بیان کی ہیں اور کچھ خاص خاص لوگوں کو بتائی ہیں ۔ اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کر لیا کرتے تھے ۔ الغرض جو کچھ بھی انہوں نے سنا ہے وہ بیان فرمایا ہے ۔
کیونکہ اللہ تعالى کا فرمان ہے :
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ (البقرة : 159)
یقینا وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ آیات بینات اور ہدایت کو چھپاتے ہیں حالانکہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر دیا ہے تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالى اور لعنت کرنے والے سبھی لعنت کرتے ہیں ۔
اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کتمان علم کریں ۔
لنک
 
Top